کام کی باتیں

(ترتیب: یوسف حسین عاقلی پاروی)

تجربہ گواہ ہے اور تاریخ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے کہ وہ لوگ جو دینی ومذہبی رسوم وآداب سے جذباتی اور قلبی تعلق رکھتے ہیں، جو اہلِ بیتِ اطہار ؑ سے محبت و عقیدت کے جذبات کے مالک ہیں اور جو مذہبی احکام اور دینی شعائر کے پابند ہیں، وہ (دوسروں کی نسبت) بہت کم گمراہی، گناہ اور اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہوتے ہیں یا بہت دیر میں خرابیوں اور برائیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔

اہلِ بیتِ رسول ؑ اور معصومین ؑ کے لئے پاک اور مقدس جذبات، دینداری کی راہ میں زیادہ سے زیادہ ثابت قدمی کا سبب اور اہلِ بیت ؑ سے عشق و محبت لوگوں کو بڑی حد تک گناہ اور گمراہی سے دور رکھنے کا ضامن ہےبشرطیکہ یہ محبت اور دوستی گہری ہو، اسکی جڑیں مضبوط ہوں، بصیرت و معرفت کی بنیاد پر ہو اور درست رہنمائی کے ذریعے انسان کو عمل پر آمادہ کرتی ہو۔

دوسری طرف اگرجوانوں اور نوجوانوں میں عقیدے کی بنیادیں مضبوط نہ ہوں اور اُن کی صحیح دینی تربیت نہ ہوئی ہو، تومعاشرے کا یہ طبقہ گناہ اور اجتماعی و اخلاقی گمراہیوں کی لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

اسلام اور اسلامی انقلاب کے دشمنوں نے بھی ”ثقافتی یلغار“ کے منصوبے بنائے اوراُن کے لئے خطیر رقوم مختص کی ہیں اور وہ نوجوانوں کو اسلام کی مقدس تحریک اور انقلاب سے دور کرنے کی خاطر خود ہمارے ملک سمیت عالمی سطح پر بھرپور وسائل اور ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔

آج جو لوگ دینی ثقافت اور ہماری اخلاقی وانقلابی اقدارکے خلاف دشمن کی منظم کوششوں کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں، یہ ان لوگوں کی بے خبری، غفلت اور سادگی کی علامت ہےجوانوں کے سامنے نا مناسب آئیڈیلز پیش کرنا، انہیں بازاری اورگھٹیا عشق ومحبت کی وادی میں دھکیلنا اور اس روحانی ضرورت اور خلا کی گناہ آلود انحرافی تسکین اسلام دشمن طاقتوں کے ہتھکنڈوں اور پروگراموں کا حصہ ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے پیارے بچوں اور جوانوں کو ان لغزشوں اور سازشوں سے بچانے کی خاطر ان کے بچپنے اور نوجوانی کی عمر ہی سے ان کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے اور انہیں فکری، روحانی اور جذباتی غذا فراہم کرنے اور قرآن و عترت کی بنیاد پر صراطِ مستقیم کی جانب ان کی رہنمائی کے لئے منظم اور جچی تلی کوششوں کی ضرورت ہے

صلہ رحمی:
صلہ رحمی اور وحدت یقیناً ایک اچھا عمل ہے جس کےلئے تمام مسلمانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن صلہ رحمی اور وحدت کے لئے بھی کچھ شرائط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیزو !!!!!چونکہ وحدت اور صلہ رحمی ایک الہی دستور ہے: واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولا تفرقوا۔۔۔۔۔۔ اور تم سب اللہ کی رسی کو مصبوطی سے تھامے رکھو اور ایک دوسرےسے جدا نہ ہو ۔جس حبل اللہ کی قرآن نے تصریح کی ہے اس کی وضاحت ائمہ علیہم السلام نے کی ہے: نحن حبل اللہ: یعنی ہم ہی حبل اللہ ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ثقلین سےمتمسک ہونے کی تاکید کی جس کا مصداق اتم قرآن اور اہلبیت پیامبر علہیم السلام ہیں۔
آج بعض عناصر وحدت اور صلہ رحمی کو صرف وقت کی ضرورت سمجھتے ہیں یا بعض عناصر اپنے اپنے مفادات کی خاطر اتحاد اور صلہ رحمی کا نعرہ لگاتےہیں درحالیکہ مسلمانوں کے درمیان صلہ رحمی اور وحدت قائم کرنا ایک انفرادی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ سب کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے.

دین کی باتیں:
عن جابر بن عبد الله الأنصاري أنه قال: سمعت حبيبي رسول الله يقول: من أحب قوماً حشر معهم، ومن أحب عمل قوم أشرك في عملهم
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :
جو کوئی کسی بھی قوم سے محبت رکھیں اللہ اس کو اسی کے ساتہ محشور فرمائیگا اور اگر کسی کی عمل سے محبت کریں تو اللہ اس کو اس کے عمل میں شریک کریگا.
معصوم کا ایک اورفرمان : اگر کوئی کسی پتھر سے محبت کرے تو کل قیامت کے دن وہ اسی پتھر کے ساتھ محشور ہو گا .
امام جعفرصادق علیہ السلام نے (اپنے ایک صحابی) مفضل سے گفتگو کے دوران محبتِ اہلِ بیت ؑ کے حوالے سے شیعوں کی گروہ بندی کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ محبتِ اہلِ بیت ؑ کے سلسلے میں لوگوں کے محرکات بھی مختلف ہوتے ہیں، اہلِ بیت ؑ کے حقیقی محب گروہ کا تعارف کرایا ہے، فرماتے ہیں:
وَفِرقَةٌ اَحَبُّوناوحَفِظُواقولَنٰا وَاطاعُوااَمْرَناوَلَمْ یُخالِفوا فِعْلَنا، فَاولئک منّاونَحْنُ منهم
۔ ۔ ایک گروہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہمارے کلام کی حفاظت کرتا ہے، ہمارے فرمان کی پیروی کرتا ہے، اپنے عمل سے ہماری مخالفت نہیں کرتایہی لوگ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں(تحف العقولص ۵۱۴)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے محبتِ خدا کے دعوے کے بارے میں فرمایاہے:
تَعْصِی الالٰهَ وَاَنْتَ تُظهِرُحُبَّهُ ہذا مَحالٌ فی الفِعالِ بَدیعٌ
لَوْکانَ حُبُّکَ صادِقاً لَأَ طَعْتَهُ اِنَّ المُحِبَّ لِمَنْ یُحِبُّ مُطیعٌ
خدا کی نافرمانی کرتے ہواور اس سے اظہارِ محبت بھی کرتے ہویہ محال ہے اورایک نئی بات ہےاگر تمہاری محبت سچی ہوتی، تو اُس کی اطاعت کرتےکیونکہ عاشق اپنے معشوق کا اطاعت گزار ہوتا ہے(بحارالانوارج ۷۰ص ۱۵)
خدا سے اظہارِ محبت اسکی اطاعت اور اسکے احکام کی پیروی کے ساتھ ہونا چاہئے نہ کہ اس کی نافرمانی اور اس کے فرامین کی مخالفت کے ساتھکیونکہ سچی محبت کا نتیجہ محبوب کی اطاعت ہوا کرتا ہےاہلِ بیت ؑ سے محبت کا دعویٰ اور گناہوں اور نا فرمانیوں کا ارتکاب ایک دوسرے سے متضاد باتیں ہیںلہٰذایہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اگرچہ ہمارا دین حب اور محبت کا دین ہے لیکن سچی محبت ہمرنگی اور ہم آہنگی کا باعث ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے جب دو افراد میں محبت ہوتی ہے، تو اس محبت کی بنیاد پر وہ دونوں ایک دوسرے کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں، ایک دوسرے کو رنجیدہ کرنے اور ایک دوسرے کی مخالفت سے پرہیز کرتے ہیں تا کہ ان کے درمیان قائم محبت اور دوستی کا رشتہ ٹوٹنے نہ پائے۔
امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث، اسی نکتے کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ محبتِ اہلِ بیت ؑ کے بھروسے پر عملِ صالح کو ترک نہیں کرنا چاہئےایسا نہ ہو کہ ہم ”جب علی ہیں تو کیا غم“جیسے الفاظ منہ سے نکالنے لگیں۔
لا تَدَعُواالعَمَلَ الصّالحَ والأجتهادَ فی العبادةِ اِتّکالاً عَلیٰ حُبّ آلِ محمّدٍ ولا تَدَعُواحُبَّ آلِ محمّدٍ والتسلیمَ لِأ مرِهِمْ اِتّکالاً عَلَی العبادة، فاِنّهُ لایُقْبَلُ أحَدُ هُمادونَ الآخَرِ
عملِ صالح اور بندگئ رب میں کوشش کو اہلِ بیت کی محبت کے بھروسے پر ترک نہ کرنا اور اہلِ بیت کی محبت اور ان کی اطاعت کو عبادت کے بھروسے پر نہ چھوڑناکیونکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسرے کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا(بحارالانوارج ۷۵ص ۳۴۷)
جی ہاں، محبتِ اہلِ بیت ؑ کے موثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ عملِ صالح اور خدا کی بندگی کے ہمراہ ہو)
اہلِ بیت ؑ سے عشق نیکیوں اور نیکوکار افراد، عملِ صالح اور صالحین کے ساتھ محبت کے ہمراہ ہونا چاہئےیہ سچی محبت کی نشانی ہےامام علی ابن الحسین زین العابدین علیہ السلام، مناجاتِ محبین میں خداوند عالم سے خدا کی محبت، خدا کے محبوں کی محبت اور ہر اس عمل سے محبت کی درخواست کرتے ہیں جو بندے کے لئے قربِ الٰہی کا باعث ہو۔
اَسْئلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ وَحُبَّ کلّ عَمَلٍ یُوصِلُنی اِلیٰ قُرْبِکَ ((مناجاتِ خمس عشره مفاتیح الجنان)
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری محبت کا اورجو تجھ سے محبت کرتا ہے اُسکی محبت کا اور ہر اُس عمل سے محبت کاجو مجھے تیرے قرب سے ملادے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
مَنْ اَحَبّنافَلْیَعْمَلْ بِعَمَلِناوَلْیَتَجَلْبَبِ الوَرَع
جو کوئی ہم سے محبت کرتا ہے، اُسے چاہئے کہ ہماری طرح عمل کرے اور پرہیز گاری کواپنا لباس قرار دے
(تنبیہ الخواطرج ۲ص ۱۷۶)
محبت اور شیعیت کے ثبوت کے لئے عملی اتباع اور پیروی ضروری ہے اور شیعہ کے تو معنی ہی ہیں پیروکار اور نقشِ قدم پر چلنے والا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ:
اِنَّ شیعَتَنامَنْ شَیَّعَناوتَبِعَنٰا فی اَعْمالِنا
یقیناًہمارے شیعہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے اعمال میں ہماری اتباع اور پیروی کرتے ہیں(میزان الحکمۃج ۵ص ۲۳۲)
امامِ زمانہ علیہ السلام سے بھی روایت ہے کہ :
فَلْیَعْمَلْ کُلُّ امْرِءٍ مِنکم مایَقْرُبُ به مِنْ مَحبّتِناوَلْیَتَجَنَّبْ مٰا یُدْنیه مِنْ کَراهَتِناوسَخَطِنا
تم میں سے ہر ایک وہ عمل انجام دے جو اسے ہماری محبت سے نزدیک کرے، اور ہر اس چیز سے گریز کرے جو ہماری ناراضگی اور غضب کا موجب ہو۔ ۔ (احتجاجِ طبرسی ج۲ص ۵۹۹) ۔
مختلف ممالک میں بسنے والے عوام کو اپنے ” عمل ” کے ذریعے بتا رہی ہے کہ ہمارے سامنے عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے – پھر بھی کارکنان کو ہوش نہ آئے تو، یا تو یہ لوگ دماغی توازن کھو بیٹھا ہے یا پھر اپنے آپ کو ان کی دلالی کے لئے فیملی لمیٹڈ پارٹی کے لئے وقف کر دی ہوئی ہے –
میرا کسی عزیز سے کوئی جھگڑا نہیں، یہ اہل علم محترم ہیں
تشیع کے وسیع تر مفاد کی خاطر صفوں میں اتحاد اور صلہ رحمی ضروری ہے،
اورشہداء کے راستہ کو زندہ رکھنے کیلئے ہمیں نفسانی خواہشات اور جزبات کی قربانی دینا ہوگی مگر یاد رکہیں اس سیاست معاویہ کی وجہ سے صلہ رحمی اور اتحاد پارہ پارہ نہ ہوں