امام جعفر صادق علیہ السلام کی فرمائشات

(مؤلف: مظفرحسین بٹ)

بنی نوع انسان، انسان کی سعادت اور نیک بختی کے فقط قرآن اور اہل بیت ہی ضامن ہیں اور ان دوگرانقدرچیزوں کے بغیرانسان کی کامیابی اور کامرانی محال ہے۔ اگرانسان دیناوآخرت کاخواہاں ہے تواس کوچاہئے کہ ان دوسے متمسک رکھے۔
عظیم مفکر، عارف اور فیلسوف صدرالمتالہین فرماتے ہیں کہ معارف الہی اور سعادت عظمی اور رسول اکرم اور ان کے اہل بیت کی تعالیم کے علاوہ جوکہ حجج الہی، معدن رحمت اور محال برکات خدائے متعال ہیں اور کہیں نہیں مل سکتی اور نہ ہی ملنے کاامکان ہے 1
الحمدللہ کہ ہمارے مکتب میں معارف الہی کے ذخائربہت زیادہ ہیں اور کسی بھی قسم کی کمی قابل تصورنہیں ہے، لیکن ہم نے ان معارف الہی کوکس حدتک مور استفادہ قراردیاہے اور کس قدراس کوبرؤے کارلائے ہیں شہیدمطہری اس کے بارے میں اپنی گرانقدرکتاب ”سیری در نہج البلاغہ“ میں فرماتے ہیں کہ ہم شیعوں کواس بات کااعتراف ہونا چاہئے کہ ہم جن کی پیروی کادم بھرتے ہیں ان پردوسروں سے زیادہ ظلم یاکم ازکم کوتاہی ہم نے توضرورکی ہے، بنیادی طور پرہماری کوتاہیاں ہی ظلم ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کوہم نے یاتوپہچاناہی نہیں یاپہچاننے کی کوشش نہیں کی۔ ہماری زیادہ ترکوششیں حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نبی اکرم (ص) کے اقوال کی تحقیق یاپھرجن لوگوں نے ان کے اقوال سے چشم پوشی کی ہے، پرسب وستم اور برابھلاکہنے میں صرف ہوتی ہے۔ خودحضرت کی واقعی اور عینی شخصیت کے بارے میں ہم نے کوئی کام نہیں کیاہے اور اسی طرح باقی آئمہ معصومین کی شخصیات کواور ان کی تعلیمات کواب تک نہیں پہچاناہے کب تک ہم خواب غفلت میں رہیں گے؟ کب ہم بیدارہوجائیں گے؟ کیاہماری کامیابی اسی میں ہے کہ جس طرح ہم ہیں؟ ہرگزنہیں کیوں کہ ہم تعلیمات اسلامی سے بہت دورہیں۔
جمال الدین افغانی فرماتے ہیں ”اگرہم مغرب کواسلام سے آشنا کرواناچاہتے ہیں توہم ان کوبتادیں کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں، ہم جغرافیائی مسلمان ہیں تاکہ وہ لوگ ہمارے گھروں اور شہروں میں آکریہ ظلم وستم ناانصافیاں، فحشاء اور منکرات دیکھ کراسلام سے متنفر نہ ہوجائیں“ اگرہمیں حقیقی زندگی گزارنی ہے توہم پریہ فرض عائدہوتاہے کہ ہم اسلامی تعلیمات اور اہل بیت کی فرمائشات پرعمل پیراہوجائیں اور اسی میں ہماری نیک بختی اور سعادت پوشیدہ ہے حقیقتاً آئمہ معصومین کی تعلیمات اور فرمائشات میں حیات ہے۔ اس حیات کاحصول اسی وقت ممکن ہے جب ہم فرمائشات معصومین کو قولًا و فعلاً اپنائیں گے ان ہی کے ذریعہ سے ہم صراط مستقیم پرگامزن ہوسکتے ہیں۔
ہمارے رئیس مذہب امام جعفر صادق علیہ السلام کی فرمائشات بہت زیادہ ہیں لیکن میں صرف چندفرمائشوں پراکتفاکروں گااور جو روایت میں لکھنے جارہاہوں اس کے ہرجملے میں دریائے بیکراں سمویاہواہے، اس روایت کازیادہ تعلق ان افرادکے ساتھ ہے جودرحال حاضرعلوم دین اور معارف اہل بیت کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں کیونکہ وہ ایسے ہدف کے متلاشی ہیں جس کے حصول میں زیادہ ذمہ داریاں ہیں اگرچہ روایت ایک خاص شخص کے بارے میں ہے لیکن امام صادق علیہ السلام کے فرامین اور احکام کسی خاص شخص کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ احکام وفرامین سب کے لئے ہیں جن پرعمل پیراہوناسب پرواجب ہے خاص کرطلاب علوم دینی پرجومعارف الہی کے حصول میں مشغول ہیں۔
عنوان بصری جومالک بن انس کے پاس آتاجاتاتھا،کہتاہے کہ جب امام صادق علیہ السلام ہمارے شہرمیں آئے تومیں آپ کی خدمت میں حاضرہواکرتاتھا کیونکہ میں دوست رکھتاتھا کہ کسب فیص کروں، ایک دن آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں ایساشخص ہوں جس کے پاس لوگوں کی آمدورفت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجودمیں دن رات میں خاص ورداور اذکاربجالاتاہوں تم میرے اس کام میں رکاوٹ بنتے ہو، تم پہلے کی طرح مالک بن انس کے پاس جایاکرو، میں آپ کی اس طرح کی گفتگوسے افسردہ اور غمگین ہوااور آپ کے یہاں سے چلاگیااور اپنے دل میں کہاکہ اگرامام مجھ میں کوئی خیردیکھتے تومجھے اپنے پاس بلاتے اور اپنے آپ سے محروم نہ کرتے۔ میں رسول کی مسجدمیں گیا، اور آپ پرسلام کہا، دوسرے دن بھی رسول کے روضے پرگیا،دورکعت نماز پڑھی اور دعاکے لئے ہاتھ اٹھائے اور کہاکہ اے میرے خدا، میرے لئے امام صادق علیہ السلام کادل نرم کرے اور اس کے علم سے مجھے وہ عطاکرکہ جس کے ذریعہ میں صراط مستقیم کی طرف ہدایت پاؤں۔ اس کے بعداس غمگین اور اندوہ ناک حالت میں گھرلوٹ آیا اور مالک بن انس کے یہاں نہیں گیاکیونکہ میرے دل میں امام صادق علیہ السلام کی محبت پیداہوچکی تھی بہت مدت سوائے نمازکے میں اپنے گھرسے باہرنہیں نکلتاتھا یہاں تک کہ میراصبرختم ہوچکااور ایک دن امام صادق علیہ السلام کے دروازے پرگیااور اندرجانے کی اجازت طلب کی، آپ کاخادم باہر آیا اور پوچھاکہ تجھے کیاکام ہے؟ میں نے کہاکہ میں امام کی خدمت میں حاضرہوناچاہتاہوں اور سلام کرناچاہتاہوں، خادم نے جواب دیاکہ آقامحراب عبادت میں نمازمیں مشغول ہیں اور وہ واپس گھرکے اندر چلاگیااور میں آپ کے گھرکے دروازے پربیٹھ گیا۔ زیادہ دیرنہیں ہوئی تھی کہ وہ خادم دوبارہ لوٹ آیااور کہاکہ اندرآجاؤ، میں گھرمیں داخل ہوااور آنحضرت پرسلام کیااور آپ نے میرے سلام کاجواب دیااور فرمایاکہ بیٹھ جاؤ، خداتجھے موردمغفرت قراردے، میں آپ کی خدمت میں بیٹھ گیا، آپ نے اپناسرمبارک جھکایا اور بہت دیرکے بعداپناسربلندکیا اور فرمایا: تمہاری کنیت کیاہے؟ میں نے عرض کی ابوعبداللہ، آپ نے فرمایا: خداتجھے اس کنیت پرثابت رکھے اور توفیق عنایت کرے۔ تم کیاچاہتے ہو؟ میں نے کہاکہ اگراس ملاقات میں سوائے اس دعاکے جوآپ نے فرمائی ہے اور کچھ فائدہ بھی حاصل نہ ہوتویہ بھی میرے لئے بہت قیمتی اور ارزش مندہے ،میں نے عرض کی کہ میں نے خداسے طلب کیاہے کہ خداآپ کے دل کومیرے لئے مہربان کردے اور میں آپ کے علم سے فائدہ حاصل کروں کہ خداوندنے میری یہ دعاقبول کرلی ہوگی۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : ”اے ابوعبداللہ ! علم پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتاہے بلکہ علم ایک نورہے جس کے دل میں چاہتاہے ڈال دیتاہے، پھرفرمایاپس اگرتم علم حاصل کرناچاہوتوپہلے اپنے اندرحقیقت بندگی طلب کرواور علم کواس لئے سکیھو کہ اس سے کام لواور اللہ سے سمجھ کی دعاکروتاکہ وہ حقائق کوتم پرظاہرکرے۔ حقیقت عبودیت کی تفسیرمیں تین صورتوں کے تصورکوامکان میں لایاجاسکتاہے:

۱۔ ممکن ہے کہ جملے کامفہوم یہ ہوکہ علم کی فکرسے پہلے بندگی کی فکرمیں رہو۔
۲۔ عبودیت کی حقیقت کواپنے اندرتلاش کرویہ مفہوم بہت غور طلب، اور امیرالمومنین سے منسوب شعرکی طرف توجہ دلاتاہے جس میں آپ فرماتے ہیں ”دواؤک فیک و ما تشعر و دائک منک وما تبصر“۔
بہرحال بنی نوع انسان فطرتاًکمال کی دلدادہ ہے اور اسے محبوب کی تلاش رہتی ہے عبودیت کاخمیرانسان کے وجودمیں مخفی ومستورہے حضرت سیدالساجدین علیہ السلام ”صحیفہ سجادیہ“ کی پہلی دعامیں ارشادفرماتے ہیں ”خداوندنے بندوں کواپنی محبت عطاکی ہے“ یعنی بندے فطری طورپرخدادوست ہیں ،جہاں تک ہوسکے ہوا وہوس کودوررکھو، نفس امارہ کی مخالفت کروتاکہ گوہرمخفی (حب الہی) فعلیت میں آئے اور تمہارے اندرتشنگی میں حقیقت ظہورپیداہو۔
عنوان بصری کہتاہے کہ اے شریف! توآپ نے فرمایا: اے ابوعبداللہ، کہو، میں نے کہا: ماالحقیقۃ العبودیۃ؟ بندگی کی حقیقت کیاہے ؟ آپ نے فرمایا بندگی کی حقیقت تین چیزوں میں ہے۔
۱۔ بندہ اس چیزکو کہ جوخداوندعالم نے اسے دیاہے اپنی ملکیت نہ سمجھے کیونکہ بندہ کسی چیزکامالک نہیں ہواکرتابلکہ مال کواللہ تعالی کامال سمجھے اور اسی راستے میں کہ جس کاخدانے حکم دیاہے خرچ کرے۔

۲۔ اپنے امورکی تدبیرمیں اپنے آپ کوناتوان اور ضعیف سمجھے۔
۳۔ اپنے آپ کواللہ تعالی کے اوامربجالانے میں مشغول رکھے
اگربندہ اپنے آپ کومال کامالک نہ سمجھے توپھراس کے لئے اپنے مال کو اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرناآسان ہوجائے گااور اپنے کاموں اور امورکی تدبیرونگہداری خداکے سپردکردے تواس کے لئے مصائب کاتحمل کرناآسان ہوجائے گااور اگربندہ خداکے احکام کی بجااور ی میں مشغول رہے تواپنے قیمتی اور گرانقدروقت کوفخرومباہات اورریاکاری میں خرچ نہیں کرے گا،اگرخدااپنے بندوں کوان تین چیزوں سے نوازدے تواس کے لئے دنیااور شیطان اور مخلوق آسان ہوجائے گی اور وہ اس صورت میں مال کوزیادہ کرنے اور فخرومباہات کے لئے طلب نہیں کرے گااور جو چیزلوگوں کے نزدیک عزت اور برترشمارہوتی ہے اسے طلب نہیں کرے گااور یہ تقوی کاپہلادرجہ ہے، میں نے عرض کیاکہ اے امام مجھے کوئی وظیفہ اور دستورعنایت فرمائیں توآپ نے فرمایا”میں تجھے نوچیزوں کی وصیت کرتاہوں اور یہ میری وصیت اور دستورالعمل ہراس شخص کے لئے ہے جوحق کاراستہ طے کرناچاہتاہے اور میں خداسے سوال کرتاہوں کہ خداتجھے ان پرعمل کرنے کی توفیق دے۔ تین چیزیں نفس کی ریاضت کے لئے ہیں اور تین دستورالعمل بردباری کے لئے اور تین دستورالعمل علم کے بارے میں ہیں۔ تم انہیں حفظ کرلواور خبرداران کے بارے میں سستی نہ کرو“
عنوان بصری کہتاہے کہ میری تمام توجہ آپ کی فرمایشات کی طرف تھی آپ نے فرمایا:
”وہ تین چیزیں جونفس کی ریاضت کے لئے ہیں:

۱۔ خبرداررہوکہ جس چیزکی طلب اور اشتہانہ ہواسے مت کھاؤ۔

۲۔ جب تک بھوک نہ لگے کھانانہ کھاؤ۔
۳۔ جب کھاناکھاؤ تو حلال کھاناکھاؤ اور کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھو۔ آپ نے اس کے بعدرسول اللہ کی حدیث نقل کی اور فرمایا کہ انسان برتن کوپرنہیں کرتامگرشکم پرکرنااس سے بدترہوتاہے اور اگرکھانے کی ضرورت ہوتوکاایک حصہ کھانے کے لئے اور ایک حصہ پانی کے لئے اور ایک حصہ سانس لینے کے لئے قراردے۔

1. وہ تین دستورالعمل جوحلم کے بارے میں ہیں وہ یہ ہیں۔
۱۔ جوشخص تجھ سے کہے کہ اگرتونے ایک کلمہ مجھے سے کہاتومیں تیرے جواب میں دس کلمے کہوں گاتواس کے جواب میں اگرتونے دس کلمے مجھے کہے تواس کے جواب میں مجھ سے ایک کلمہ نہیں سنے گا۔
۲۔ جوشخص تجھے برابھلاکہے تواس کے جواب میں کہہ دے، کہ اگرتم سچ کہتے ہوتوخدامجھے معاف کردے اور اگرجھوٹ بول رہے توخداتجھے معاف کردے۔
جوشخص گالیاں دینے کی دھمکی دے توتم اسے نصیحت اور دعاکاوعدہ کرو۔

2. وہ تین دستورالعمل جوعلم کے بارے میں ہیں وہ یہ ہیں۔
الف) جوکچھ نہیں جانتے ہواس کاعلماء سے سوال کرولیکن توجہ رہے کہ تیراسوال کرناامتحان اور اذیت دینے کے لئے نہیں ہوناچاہئے۔
ب) اپنی رائے پرعمل کرنے سے پرہیزکرواور جتناکرسکتاہے احتیاط کواپنے ہاتھ سے نہ جانے دو۔
ج)۔ اپنی رائے سے (بغیرکسی مدرک شرعی کے) فتوی دینے سے پرہیزکرواور اس سے اس طرح بچو کہ جیسے پھاڑدینے والے شیرسے بچتاہے اپنی گردن کولوگوں کے لئے پل قرارنہ دے۔
اس کے بعدآپ نے فرمایا کہ اب اٹھ کرچلے جاؤ، بہت مقدارمیں، میں نے تجھے نصیحت کی ہے اور میرے ذکرکے بجالانے میں زیادہ مزاحم اور رکاوٹ نہ بنوکیونکہ میں اپنی جان کی قیمت کاقائل ہوں اور سلام ہواس پرجوہدایت کی پیروی کرتاہے 2
علامہ وعارف کامل قاضی طباطبائی فرماتے ہیں کہ حدیث عنوان بصری کولکھے اور اس پرعمل کریں اور ہمیشہ اس کوساتھ رکھیں اور ہفتہ میں ایک دوباراس کامطالعہ کریں۔
——-
1. شرح اصول کافی درمقدمہ
2. بحارالانوار، علامہ مجلسی ج۱ ص۲۲۴۔۲۲۶