فخر مریمّ سیدہ النسا العالمین دختر رسول ص اللہ سیدہ فاطمہ الزھرا الصلوۃ و السلام علیہا

(مؤلف: قمر بخاری)

ایک عیسیٰ پہ بھلا ناز کریں کیا مریم
رشتے سب حضرت زہرا کے ہیں عصمت والے

ذاتی طور پر تمام فضل و کمال ذات اقدس الہٰی سے مخصوص ہے اور ماسوا اللہ جو بھی ہے اور جو کچھ بھی ہے، خداوند قدوس سے نسبت اور انتساب کی بنیاد پر ہی الہی تجلیوں کا مصدر و مرکز قرار پاتا ہے چنانچہ اشرف مخلوق اور احسن تقویم کے مصداق انسانوں کے درمیان مردوں میں ختمی مرتبت ، سید الانبیاء و المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عورتوں کے درمیان خاتون محشر سیدۃ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا وہ بلندترین و مقدس ترین ہستیاں ہیں جن کو خداوند عالم نے حدیث قدسی میں مقصود کائنات قراردیاہے ۔” لَو لَاکَ لَمَا خَلَقتُ الاَفلَاک ” اور ” لَو لَا فَاطمَة لَمَا خَلَقتُکُمَا "اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ پوری دنیا ان ہی دونوں کے صدقےمیں خلق ہوئی ہے ۔
ان دنوں چونکہ پورے عالم اسلام میں دختر رسول اعظم ، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کےایام ولادت کا جشن برپا ہے ہم بھی اپنے کرمفرماؤں کو تہنیت و تبریک پیش کرتے ہوئے ، معصومۂ عالم (ع) کے شرف و مقام کا ایک رخ آپ کی نذر کررہے ہيں ۔
قرآنی آیات اور خود مرسل اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی سیرت و گفتار میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نسبت رمزوں اور کنایوں میں جوکچھ کہا گیا ہے اور معصومین علیہم السلام نے اپنے اقوال و ارشادات میں ان کی جو تشریح و توضیح کی ہے وہ اس مقدس ذات کےعرفان کے لئے کافی ہے ۔قرآن کریم میں خدا کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مادر گرامی حضرت مریم (ع) کے تقدس میں جن صفات و خصوصیات کا ذکر ہے اگر ان کے ساتھ نبی اکرم (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے صفات و خصوصیات کا ایک سرسری مواز نہ کیا جائے تو یقیناًآپ کے فضل و شرف کو سمجھنے میں بڑی آسانی ہوجائے گی اور صاف طور پر معلوم ہوجائے گا کہ حضرت زہرا (ع) کی شان و عظمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام اوران کی ماں حضرت مریم علیہا السلام سے بھی بالا و برتر ہے ، قرآن کریم میں حضرت مریم (ع) کی تقریباًبیس خصوصیات ذکر ہوئی ہیں اور اسلامی روایات میں جن خصوصیات کی طرف اشارہ ہے اگر وہ بھی شامل کرلیں تو جناب مریم (ع) کی تقریباًچالیس خصوصیات وہ ہیں جو ان کو دنیا کی دوسری خواتین سے ممتاز و مقدس قراردیتی ہیں لیکن اسلامی دنیا کے لئے کس قدر افتخار کا مقام ہے کہ قرآن و روایات میں یہ تمام خصوصیات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لئے اور زیادہ بہتر انداز میں بیان ہوئی ہیں ۔
دراصل صدر اسلام میں کچھ ایسے حالات سامنے آئے کہ رسول اعظم(ص) کی رسالت ، امیرالمومنین (ع) کی ولایت اور قرآن و سنت کی حفاظت و صیانت کا دفاع کرنے کے باعث ایک افسوسناک مہم کےتحت رسول اسلام (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) کے مقام قدس پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی اور نہ صرف یہ کہ آپ کی عصمت و طہارت کے ذکر سے اجتناب کیا گیا بلکہ ان کے حقیقی مقام اور منزلت کوبھی چھپانے اور انکار کرنے کی کوشش ہوئی اور عرصے تک جہالت و تعصب کا یہ سلسلہ جاری رہا اور بات یہاں تک پہنچی کہ موت کے بعد آپ (ع) کی قبر اطہر کو بھی مخفی رکھنا پڑا جس کی کوئی دلیل پیش نہ کرسکنے کے سبب بعض مسلمانوں نے ، سیرت پیغمبر (ص) کے خلاف ، کلی طور پر مومن و مومنہ کے احترام اور قبروں کی زيارت کو شرک قرار دے کر مزاروں کے انہدام کو اسلام کا ایک حصہ بنادیا اور سرزمین اسلام سے بے شمار مقدس مقامات کے نشانات مٹا دئے گئے ۔
اب چونکہ صاحبان علم و تحقیق کے درمیان خصوصاًتاریخی شخصیتوں کے تعارف اور پہچان کے لئے تاریخ کی مقبول و محترم مشہور شخصیتوں کے ساتھ ، عظمت و احترام کے اعتبار سے مشترک ہستیوں کا تقابلی مطالعہ ایک اچھا اور موثر طریقہ سمجھا جاتا ہے اور علمی دنیا میں اپنے اور پرائے سبھی کے یہاں یہ روش رائج ہے ہم نے بھی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان کو سمجھنے کےلئے آپ کی شخصیت کا جناب مریم کے صفات و خصوصیات کےپس منظر میں جائزہ لیاہے ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال (رح) نے بھی اپنی مشہور عالم نظم میں اسی روش سے استفادہ کرتے ہوئے کہا تھا :

مریم ازیک نسبت عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
یعنی :
ایک نسبت عیسیٰ سے عزيز تھیں مریم ، اور تین رشتوں سے فاطمہ ہوئیں اکرم
بانوئے شہ مرداں دختر مرسل اعظم، لہراتا ہے ہر سوجن کے فضل کا پرچم
جن کے گیت گلشن میں باد صبا گاتی ہے خانۂ محمّد میں زيست مسکراتی ہے
تیسری جو نسبت ہے وہ نسبت اعلیٰ ہیں حسن حسین کی ماں جو جناں کے ہیں آقا
صلح و امن کی منزل بن گیا حسن جادہ ہے حسین میر حق اہل درد کا مولا
جن کی یاد کے مشعل آگہی جلاتی ہے خانۂ محمّد (ص) میں زيست مسکراتی ہے
رشک مریم و حوا فخر آسیہ زہرا خامشی کے صحرا میں حق کا مدعا زہرا
معنی صدائے کن شرح انما زہرا ظلم کے اندھیرے میں شمع کبریا زہرا
جشن جن کی آمد کا زندگی مناتی ہے خانۂ محمّد میں زيست مسکراتی ہے
اسلامی روایات کا اگر جائزہ لیں تو رسول اعظم اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام نے بھی مختلف مناسبتوں سے تاريخ اسلام کی ان دو منتخب خواتین کے درمیان موازنہ کرتے ہوئےحضرت زہرا (س) کے فضائل بیان فرمائے ہیں :ایک موقع پر خود حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے کسی کو قانع کرنے کے لئے مرسل اعظم (ص) سے سوال کیا تھا : بابا ! میں بہتر ہوں یا مریم ؟ تو جواب میں رسول اکرم (ص) نے فرمایا تھا :
"انت فی قومک و مریم فی قومها ”
تم اپنی قوم (ملت اسلامیہ ) کے درمیان اور مریم اپنی قوم (ملت عیسیٰ کے درمیان ) بہتر ہیں ۔
ام المومنین جناب ام سلمہ (رض)نے جس وقت مسجد النبی(ص) میں اٹھ کر جناب فاطمہ زہرا(ع) کی حمایت کی تھی تو کہا تھا :
"فاطمہ بہترین و منتخب ترین خاتون ، جوانان اہل بہشت کے سرداروں کی ماں ، عدیلہ اور مثیل مریم ہیں ”
حضور اکرم (ص) کے مشہور صحابی ، شاعر اسلام حضرت حسان ابن ثابت انصاری (رض) نے بھی ایک شعر میں کہا ہے :

وَ انّ مَریَمَ اُحصَنَت فَرجَها وَ جَائَت بعیسیٰ کَبَدر الدّجیٰ
فَقَد اَحصَنَت فَاطمَة بَعدها وَجَائَت بسبطی نَبیّ الهدیٰ

بے شک مریم (ع) ایک باعفت ، پاکدامن خاتون ہیں جنہوں نے بدرالدجی کی مانند عیسیٰ مسیح (ع) کو جنم دیا لیکن فاطمہ(ع) وہ با عفت بیوی ہیں جنہوں نے ان کے بعد مجسّمۂ ہدایت نبی اکرم (ص) کے دو بیٹے ہمارے حوالے کئے ہیں ۔
سبطین رسول (ص) کی ماں ہونے سے قطع نظر، مرسل اعظم (ص) نے اپنی اس بیٹی کو ” امّ ابیہا ” ( اپنے باپ کی ماں ) کا خطاب بھی عطا کیا ہے جو دنیا میں کبھی کسی باپ نے اپنی بیٹی کو عطا نہ کیا ہوگا اور ان سب سے بالاتر خداوند عالم نے ” آیۂ مباہلہ ” میں رسول اسلام (ص) کی نسبت حضرت فاطمہ زہرا (س) کے لئے ” نسائنا ” کی عجیب و غریب تعبیر استعمال کی ہے جو تمام مورخین ، محدثین اورمفسرین کی نگاہ میں متفقہ طور پر صرف اور صرف جناب فاطمہ (س) سے مخصوص ہے اور تمام خواتین عالم پر ان کی فضیلت و صداقت کی بہترین دلیل ہے ۔
اب اگر مسلمانوں نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اس تقدس اوراحترام کو باقی رکھا ہوتا اور عیسائیوں کے درمیان جناب مریم (ع) کاجو احترام ہے مسلمانوں میں اس سے بھی بالاتر حضرت فاطمہ (س) کا جو مقام ہے دنیا کے سامنے پیش کیا ہوتا اور عالم اسلام میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تعظیم و تقدیس مسلّم و مرسوم ہوتی تو اسلام میں عورت کے اعلیٰ ترین وقار و احترام پر مبنی واضح ترین و ناقابل انکار ترین دلیل مسلمانوں کے اختیار میں ہوتی اورمغربی دنیا اسلام میں "عورتوں کے حقوق کی پامالی ” سے متعلق سفید جھوٹ بولنے کی کبھی جرأت نہ کرتی ۔
کس قدر تعجب خیز ہے کہ آج دنیامیں شاید ہی کوئی ایسا دیندار عیسائی ملے جو حضرت مریم (ع) کے تقدس اور احترام کا قائل نہ ہو مگر عالم اسلام میں سینکڑوں مسلمان یا تو رسول اسلام (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) کے مقام و منزلت کا علم نہیں رکھتے یا جانتے بھی ہیں تو مصلحتوں کےتحت اس کے اعلان و اظہار سے کتراتے ہیں حتی حج اکبر کے عظيم اجتماع میں بھی بعض اوقات ایسے سیدھے سادھے مسلمان مل جاتے ہیں جو دختر رسول (ص) کے نام و مقام سے بالکل واقفیت نہيں رکھتے ۔
نظریاتی اختلافات کہاں نہیں ہیں ؟ عیسائیوں کے درمیان کیتھولکس اور پروٹسٹینٹس کے درمیان اختلافات اتنے گہرے ہیں کہ ان میں جنگ و خونریزی کے سینکڑوں واقعات ہوچکے ہیں مگر کوئی حضرت عیسیٰ (ع) یا حضرت مریم (ع) کے تقدس کوپامال نہیں کرتا۔ پروٹسٹینٹس کے رہنما مارٹن لوتھر بھی اپنی بغاوت کے باوجود حضرت مریم (ع) کے احترام کے قائل تھے ، اورتمام عیسائی حضرت مریم (ع) کے تقدس پر متفق ہیں اور اپنی مشکلوں میں ” اے مریم مقدس ” کہہ کر آواز لگاتے ہیں ،ایسے میں کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ بہت سے مسلمان اب بھی حضرت فاطمہ زہرا(س) کی صحیح شناخت و معرفت سے محروم ہیں جبکہ آپ (ع)کی حضرت مریم (ع) پر فضیلت وبرتری قرآن و روایات کی روشنی میں مسلم ہے ۔
قرآن حکیم نے حضرت عیسیٰ (ع) کی ماں حضرت مریم(ع) کے تقدس اورفضيلت و برتری کی ایک وجہ ان کی خاندانی نجابت کو قرار دیا ہے اوران کے خاندان کا منتخب خاندانوں کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔
"ان الله اصطفی آدم و نوحا´و آلَ ابراهیم و آلَ عمران علی العالمین ” ( آل عمران / 33)
بے شک اللہ نے آدم و نوح کو اورآل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین کے درمیان منتخب قراردیا ہے ۔
خداوند عالم نے اپنی اس عظیم کتاب قرآن کا ایک پورا سورہ جناب مریم (ع) کے نام سے اور ایک سورہ آل عمران سے منسوب کیا ہے چنانچہ تاریخ کی روشنی میں جناب مریم (ع) کا سلسلہ آل ابراہیم (ع) اور آل عمران (ع) دونوں سے منسلک ہے جناب مریم (ع)ماثان کے خاندان سے تھیں جو حضرت داود (ع) کے فرزندوں میں سے ہیں اور جناب داود کا آل اسحق کے ذریعے آل ابراہیم (ع) میں شمار ہوتا ہے ۔جناب عمران خود جناب مریم (ع) کے والد تھے اور ہیراڈوس کے زمانۂ حکومت میں ،خاندان نبوت و دیانت کے بزرگوں میں شمار ہوتے تھے ۔اس کے مقابلے میں رسول اعظم (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا (س) کی خاندانی نجابت تمام مسلمانوں پرروشن و واضح ہے ،مذکورہ آيت کی ہی روشنی میں ، جناب اسمعیل ذبیح اللہ(ع) کے ذریعے آپ کا سلسلۂ نسب جناب ابراہیم (ع) سے ملتا ہے اور خدا کی منتخب ” آل ابراہیم ” میں ہونے کے علاوہ آپ (ع) خدا کے منتخب ترین ” اہلبیت اطہار ” کا مرکز و محور بھی ہیں اور آیۂ تطہیر کے ذیل میں تمام مفسرین نے بالاتفاق لکھا ہے کہ چادر تطہیر میں جمع پنجتن پاک (ع) کا تعارف کرتے وقت اللہ نے جناب فاطمہ (س) کوہی مرکز قرار دیا تھا اور فرمایا تھا :
” هم فاطمة و ابوها و بعلها و بنوها ”
(وہ فاطمہ اوران کے باپ ،ان کے شوہر اور ان کے بچے ہیں۔)
اس کے علاوہ سورۂ ابراہیم (ع) میں "شجرۂ طیبہ ” سے مراد (آیت /24 ) جناب فاطمہ زہرا (ع) کا خاندان ہے اور سورۂ نور میں "بیوت ” سےمراد (آيت /36 ) جناب فاطمہ زہرا(ع) کا گھر ہے ۔
خداوند عالم نے سورۂ دہر یا سورۂ ” انسان ” میں ہل اتی کا مصداق اہلبیت رسول (ع) کو قرار دیاہے اورسورۂ شوریٰ کی آیۂ مودت (آیۃ /23 ) میں نیز سورۂ اسراء کی آیت ” وآت ذی القربی ” میں بھی ” قربیٰ ” کا مصداق اہلبیت رسول (ع) ہیں (آيت / 26 ) اوران تینوں آیتوں میں جناب فاطمہ (ع) مرکزي کردار کی حامل ہیں چنانچہ اس سلسلے میں صاحب الغدیر علامہ امینی (رح) نے نوطریقوں سے اہلسنت کی روایات نقل کی ہیں جو بتاتی ہیں کہ قربیٰ سے مراد اہلبیت رسول (ع) ہیں ۔اہلسنت کی روایات میں اس بات کا بھی اعتراف موجود ہے کہ قرآن حکیم کے سورۂ توبہ کی 119 ویں آیت میں ” صادقین ” سے مراد اہلبیت (ع) ہیں جناب فاطمہ (ع) جن کی ایک فرد ہیں سورۂ واقعہ کی 11 ویں آیت میں ” السابقون ” اور” المقربون ” سے مراد اہلبیت رسول (ع) ہیں، جناب فاطمہ (ع) جن کی ایک فردہیں اور سورۂ حمد کی چھٹی آیت میں صراط مستقیم سے بھی مراد اہلبیت (ع) نبوت و رسالت ہیں جن میں جناب فاطمہ (ع) شامل ہیں ۔
جہاں تک والدین کا سوال ہے جناب مریم (ع) کے والد جناب عمران کا سلسلۂ نسب مشہور مورخ ابن اسحاق کے مطابق 14 واسطوں سے جناب داود (ع) تک پہنچتا ہے ، قرآن حکیم نے جناب عمران کو بنی اسرائیل کے ” اہل صلواۃ ” میں شمار کیا ہے وہ خدا کے مومن اورپاکیزہ بندہ تھے ۔مورخین نے ان کو اپنے زمانے کے بڑے علماء اور کاہنوں میں شمار کیا ہے لیکن قرآن کی روشنی میں ان پر خدا کی طرف سے وحی ہوئی ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایت اور امام محمد باقر علیہ السلام کی صراحت کے مطابق جناب عمران بھی اپنی قوم کے درمیان نبی تھے ۔
دوسری طرف جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پدر گرامی حضرت محمد ابن عبداللہ (ص) ، خدا کے آخری رسول ہیں جو تمام دنیا کے سردار اور افضل الاولین و الآخرین ہیں ۔
جناب مریم (ع) کی ماں حنہ تھیں جن کو قرآن نے ” اذ قالت امراتُ عمرانَ ” سے یاد کرتے ہوئے ایک عبادت گزار، بزرگ و پارسا عورت قرار دیا ہے ۔ جن کے یہاں جناب عمران سے شادی کے 35 سال بعد تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ، دعا و نذر کے بعد جناب مریم (ع) پیدا ہوئیں اور چونکہ پیدائش سے قبل ہی جناب عمران انتقال فرماگئے جناب حنہ نے اپنی نذر پوری کرتے ہوئے بیٹی کو بیت المقدس میں معتکف کردیا اور خدا نے ان کی کفالت اپنے نبی جناب زکریا(ع) کےسپرد کردی جو جناب مریم (ع) کے حقیقی خالو تھے ۔
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مادر گرامی ام المومنین حضرت خدیجۂ طاہرہ (ع) تھیں جو سب سے پہلے رسول اعظم (ص) کی رسالت پر ایمان لائیں اورزندگی کی آخری سانسوں تک حضوراکرم (ص) کی ” رفیقۂ مقصد ” بنی رہیں ۔ شادی سے قبل بھی اپنی بے نظیر تجارت کے باعث مال و دولت کی کثرت اور داد و دہش کی شہرت کے ساتھ عزت و وقار کی حامل ” ملیکۃ العرب ” کہی جاتی تھیں اور نبی اکرم (ص) کی بعثت کے بعد جب ایک دنیا اسلام اورپیغمبر اسلام کی مخالف ہوگئی تھی آپ (ع) نے اپنا پورا سرمایہ اسلام کی نصرت اور مسلمانوں کی کفالت کے لئے وقف کردیا قرآن نے جس کا ذکر سورۂ ضحیٰ کی آٹھویں آیت میں رسول اکرم (ص) کو خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں کیا ہے کہ : ” وَوَجدکَ عائلا´ فَاَغنیٰ ” یعنی تم کو تنگ دست پایاتو (مال خدیجہ کے ذریعہ) غنی کردیا ۔
چنانچہ مشہور مفسر ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ : خداوند عالم نے جب لوگوں کویہ کہتے دیکھا کہ پیغمبر (ص) فقیر ہیں اور ان کے پاس مال و دولت نہیں ہے تو خدیجہ (ع) کےمال کے ذریعے ان کو غنی اور بے نیاز کردیا ۔
رسول اسلام (ص) نےبھی ایک حدیث میں فرمایا ہے: دین اسلام دو چیزوں سے محکم و استوار ہوا ہے ایک علی ابن ابی طالب (ع)کی شمشیر تھی اور دوسری خدیجہ(ع) کی دولت و ثروت تھی ۔
اسلامی روایات میں ہے کہ جناب خدیجہ (ع) ان چار منتخب خواتین میں سے ہیں کہ جنت جن کی مشتاق و متمنی ہے ۔مرنے کے بعد وہ جناب مریم (ع) او جناب آسیہ کی ہمدم قرارپائی ہیں ۔ام المومنین خدیجۂ طاہرہ (ع) کا یہ مقام ہے کہ وہ جناب فاطمہ زہرا (س) کےحمل کے دوران نبی اکرم (ص) سے فرماتی تھیں کہ فاطمہ بطن میں ان سے باتیں کرتی ہیں اور تسکین کا سامان فراہم کرتی ہیں ۔
جس وقت جناب مریم (ع) کی ولادت ہوئی ان کی ماں حنہ کے پاس دایہ کے فرائض جناب زکریا کی بیوی ” ایشاع ” یا الیزبت نے انجام دئے اور اسلام کی معتبر روایات کی روشنی میں سنہ 5 بعثت میں جناب فاطمہ (س) کی ولادت کے وقت چونکہ قریش کی عورتوں نے آپ کا بائیکاٹ کررکھا تھا ۔جناب خدیجہ (ع) کی زچگی کے فرائض انجام دینے کے لئےخداوند عالم نے بہشت بریں سے حضرت آدم (ع) کی بیوی حوا، زن فرعون حضرت آسیہ ، حضرت موسیٰ (ع) کی بہن کلثوم اور حضرت عیسیٰ (ع) کی ماں حضرت مریم (ع) کو زمین پر بھیجا اور خانۂ نبوت و رسالت میں گوہر عصمت کا ظہور ہوا ۔
جناب مریم کے لئے جیسا کہ قرآن کہتا ہے ان کی ماں نے کہا تھا :” انّي سَمّیتُها مَریََم ” (آل عمران / 36 )
یعنی : میں نے ان کا نام مریم رکھا ، مریم کے معنی عابدہ اور خدمتگار کے ہیں ۔
تو رسول اعظم (ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا(ع) کانام خود خداوند متعال نے فاطمہ قراردیا ہے اور بڑے بڑے علمائے اہلسنت قسطلانی ، زرقانی ، غسانی ، خطیب بغدادی ، اور حافظ دمشقی نے اپنی کتابوں میں روایات نقل کی ہیں کہ جناب فاطمہ (ع) کانام خدا کی جانب سے معین ہوا ہے ۔صادق آل محمد(ص) فرماتے ہیں ” خدا کے نزدیک حضرت فاطمہ (س) کے نو نام ہیں : فاطمہ ، صدیقہ ، مبارکہ ، طاہرہ ، زکیہ ، راضيہ ، مرضيہ ، محدثہ اور زہرا ” جناب فاطمہ (ع) کی پرورش ام المومنین خدیجہ (ع)اورفخر انبیا حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی آغوش میں ہوئی ، جناب مریم (ع) نے بیت المقدس میں زندگی گزاری اور حضرت زہرا (ع) نے کاشانۂ رسالت میں زندگی بسر کی جس کے لئے خدانے سورۂ نور میں فرمایا ہے :
"فی بُیُوت اَذنَ اللّه اَن تُرفَعَ وَ یُذکَرَ فیها اسمُه ” (نور/ 36 )
یہ ان گھروں میں ہے جن کے لئے خداکا حکم ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اوران میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے ۔
جناب مریم (ع)نے بیت المقدس کی ایک محراب کو عبادت کےلئے مخصوص کیا تھا جس کے لئے قرآن کہتا ہے :
” کُلّمَا دَخَلَ عَلَیها زکَریّا اَلمحراب ، وَجدَ عندَها رزقا´۔۔۔ ”
جب زکریا ان کی محراب عبادت میں داخل ہوتے تو مریم کے پاس رزق دیکھتے ، پوچھتے یہ کہاں سے آیا تو وہ جواب دیتی تھیں یہ سب خدا کی طرف سے ہے ۔
جناب فاطمہ زہرا (ع)نے بھی ایک محراب خدا کی عبادت کے لئے مخصوص کررکھی تھی جس کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ” اذا قامت فی محرابها زَهر نورُها لاَهل السماء ”
(جس وقت جناب فاطمہ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو ان کے نور کی تابندگي اہل آسمان کو خیرہ کردیتی تھی ۔)ایک اور روایت میں نبی اکرم (ص)نے فرمایا ہے کہ جب وہ محراب میں کھڑی ہوتی تھیں تو ستر ہزار فرشتے ان کو سلام کرتے تھے اور مریم (ع) کی طرح انہیں بھی آواز دیتے تھے کہ اے فاطمہ خدا نے تم کو منتخب قراردیا ہے تم صاحب تطہیر ہو اور دنیا کی تمام عورتوں سے افضل ہو ۔ جہاں تک آسمانی غذاؤں کے نزول کا سوال ہے تاریخ اسلام میں کئی مواقع پر آپ (ع) کے لئے اور آپ (ع) کے بچوں کے لئے بہشت سے غذا نازل ہوئی ہے اورجیسا کہ سورۂ دہر کی آیتوں سے پتہ چلتا ہے حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے ہاتھوں کی پکائي ہوئی روٹیاں ، خدا کے فرشتے سائل بن کر لے گئے ہیں جو آپ کے بلند مرتبہ کی دلیل ہے ۔
جناب مریم کے لئے قرآن کہتا ہے : ” وَ انبَتَها نَبَاتا´حَسنا´۔ (آل عمران / 37 )
جس سے مراد یہ ہے کہ خدانے ان کے” نشوو نما ” کے لئے پاکیزہ ماحول کا انتظام کیا کہ ان کے وجود کی شاخیں محکم و استوار ہوں اور شیطانی وسوسوں سے طیب و طاہر رہیں ۔تو جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خدانے کوثر قراردیا اور دشمنان اسلام کے جواب میں ، جو نبی اکرم کو ” ابتر ” یعنی مقطوع النسل کہتے تھے ، خدا نے انہیں فاطمہ (ع) کے ذریعے "خیر کثیر ” کا مصدر اور فاطمہ(ع) کونسل کثیر کی مادر قرار دیا اور اس شجر عصمت کے آخری پھول امام مہدی موعود (عج) ہیں جو آج بھی زندہ ہیں ، اور جب غیبت کا پردہ چاک ہوگا مریم (ع) کے بیٹے حضرت عیسیٰ (ع) بھی چرخ چہارم سے آئیں گے اور فرزند فاطمہ (س) کی امامت میں نماز ادا کریں گے ۔
جئے جاتے ہیں اسی ایک تمنا میں مسیح اک نماز ایسی بھی پڑھ لیں جوفرادیٰ نہ رہے
جناب مریم (ع) کی طہارت کےلئے خدا نے فرمایا ہے :” یَا مَریَم ان الله اصطَفاک و طَهک”
( اے مریم اللہ نے تم کو منتخب اور پاک و طاہر بنایا ہے) اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اوران کے اہل خاندان کے لئے خدانے آیۂ تطہیر نازل کی ہے اور کم ازکم اہلسنت کے بیس بڑے بڑے محدثین ومفسرین نے لکھا ہے کہ آیۂ تطہیر ، اہلبیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئي ہے اور ان میں نمایاں تریں فرد جناب فاطمہ زہرا(ع) ہیں۔

ہے وہاں "طهرک ” اور یہاں تطہیرا کہاں مریم کومیسر یہ طہارت کا مزاج
آئي ہے چادر زہرا میں سکوں لینے کو ہے عیاں آیۂ تطہیر سے عصمت کا مزاج