ur

فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

(آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای دامت برکاتہ)

حضرت فاطمہ علیھا السلام نے اپنے بچپن سے لیکر شہادت تک کی مختصر زندگی کس طرح بسر کی ہے؟
اپنی شادی سے قبل کہ جب وہ ایک چھوٹی سی لڑکی تھیں تو انہوں نے نور و رحمت کے پیغمبر، دنیائے نور کو متعارف کرانے والی عظیم شخصیت اور عظیم عالمی انقلاب کے رہبر و منتظم کے ساتھ کہ جن کا انقلاب تاقیامت باقی رہے گا کہ جس دن سے اُنہوں نے اس پرچم توحید کو بلند کیا، حضرت زہرا علیھا السلام نے ایسا برتاؤ کیا کہ اُن کی کنیت ’’اُمّ اَبِیھَا‘‘ ، ’’اپنے والد کی ماں ‘‘رکھی گئی۔یہ تھی اُن کی خدمت ،کام، محنت و مشقت اور جدوجہد۔ بغیر کسی وجہ کے تو اُن کو ’’اُمّ اَبِیھَا‘‘ نہیں کہا جاتا ہے۔ خواہ وہ مکے کے شب و روز ہوں یا شعب ابی طالب کے اقتصادی و معاشی محاصر ے کے سخت ترین دن و رات یا وہ وقت کہ جب آپ کی والدہ حضرت خدیجہ، رسول اکرم ﷺکو تنہا چھوڑ گئیں اور پیغمبرؐکے قلب مبارک کو مختصر عرصے میں دو صدمے اٹھانے پڑے ، یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالبؑ کی پے در پے وفات۔ ایسے کڑے و مشکل وقت میں حضرت زہرا علیھا السلام آگے بڑھیںاور اپنے ننھے ہاتھوں سے رسول اکرمؐ کے چہرہ مبارک پر پڑئے ہوئے غم و اندوہ کے گرد وغبار کو صاف کیا اور اپنے والد کی تسلی کا سبب بنیں۔ حضرت زہرا علیھا السلام کی جدوجہد یہاں سے شروع ہوئی۔ آپ دیکھئے کہ حضرت زہرا علیھا السلام کی شخصیت اور جدوجہد کا یہ بحر بیکراں کتنا عظیم ہے!

طلوع اسلام کے بعد علی و فاطمہ علیھا السلام کی خدمات
اس کے بعد اسلام کا آفتاب طلوع ہوتا ہے اور اس کے بعد آپ حضرت علی مرتضی ؑسے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجاتی ہیں۔ حضرت علی ابن ابی طالب ایک فداکار اورانقلابی رضاکار کا مصداق کامل ہیں۔یعنی اُن کا پور ا وجود اسلام کی تبلیغ اور اُسے مضبوط بنانے اور خدا اور رسولؐکی خوشنودی و رضا کے حصول کیلئے وقف تھا۔حضرت امیر المومنین نے اپنی ذات کیلئے کوئی سرمایہ نہیں چھوڑا۔ حضرت ختمی مرتبت کی حیات مبارکہ کے آخری دس سالوںمیں امیر المومنین نے جو کام بھی انجام دیا وہ صرف اسلام کی پیشرفت کیلئے تھا۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا علیھا السلام ، امیرالمومنین اور اُن کے بچے کئی کئی دن بھوکے رہتے تھے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ سب راہ خدا میں نئے مسلمان ہونے والوں کیلئے وقف کردیا تھا ۔ ورنہ تو اگر یہ جوان تجارت اور کمانے کی فکر کرتا تو سب لوگوں سے زیادہ کماسکتا تھا۔ یہ وہی علی ہیں کہ جو آنے والے زمانے میں کنویں کھودتے تھے اور جب پانی تیزی سے ابلنے لگتا تو باہر تشریف لاتے اور مٹیالے پانی میں آلودہ اپنے ہاتھ و پیر کو دھوئے بغیر بیٹھ کر کنویں کو وقف کرنے کا حکم تحریر فرماتے۔ امیر المومنین نے اس قسم کے کام بہت زیادہ انجام دیئے ہیں، کتنے ہی نخلستانوں کو آپ نے خود آباد و سرسبز و شاداب بنا یاہے، یہ وہی مدینہ ہے تو امیر المومنین اس مدینے میں بھوکے کیوں رہیں؟ حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ علیھا السلام خدمت رسول اکرم ؐمیں تشریف لے گئیں تو فاقوں کی وجہ سے آپ کا رنگ زرد ہوگیا تھا۔ جب حضرت ختمی مرتبتؐنے حضرت فاطمہ علیھا السلام کی اس حالت کا مشاہدہ کیا تو اُن کا دل بہت بیقرار ہوا اور انہوں نے حضرت زہرا علیھا السلام کیلئے دعا کی۔

حضرت امیرالمومنین کی تمام جدوجہد کا ہدف، خوشنودی خدا کا حصول اور اسلام کی پیشرفت تھی، انہوں نے اپنے لیے کوئی ایک کام بھی انجام نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک رضاکار کا مصداق کامل ہیں۔میں علی و فاطمہ علیھا السلام کے نام نامی سے منسوب اس ملک کے تمام رضاکاروں (بسیجیوں) کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ حضرت امیر المومنین کو اپنے لیے اسوئہ عمل قراردیں۔ اس لیے کہ پوری دنیا میں مسلمان رضاکاروں کیلئے سب سے بہترین اور بزرگترین اسوہ، حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔

علی سے شادی کیلئے خدا کاانتخاب
حضرت زہرا علیھا السلام سے شادی کے بہت سے طلبگار تھے ۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے اس لئے کہ آپ عالم اسلام کے عظیم رہبر اور حاکم ِوقت کی صاحبزادی تھیں۔ رشتے کے طلبگاروں میں بڑے بڑے افراد، صاحب مقام و حیثیت اور ثروت مند افراد شامل تھے۔ لیکن حضرت زہرا علیھا السلام نے راہِ الٰہی میں اپنی پوری دنیا کو وقف کردینے والے پاکیزہ نوجوان ، جو ہمیشہ میدان جنگ کا شہسوار تھا، کا انتخاب کیا۔ یعنی یہ انتخاب خدا نے کیا تھا اور وہ بھی خدا کے انتخاب سے راضی اور خوشحال تھیں۔
رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد حضرت زہرا علیھا السلام نے حضرت علی کے ساتھ اس طرح زندگی بسر کی کہ امیر المومنین اُن سے پوری طرح سے راضی تھے۔ اپنی عمر کے آخری ایام میں حضرت زہرا علیھا السلام نے حضرت علی سے جو الفاظ اد اکیے وہ اسی چیز کی عکاسی کرتے ہیں کہ میں آج عید کے دن اُن (مصائب کے) جملوں کو دہرانا نہیں چاہتا۔ انہوں نے صبر سے کام لیا، بچوں کی صحیح تربیت کی اور ولایت کے دفاع کیلئے تن من دھن ،سب کچھ قربان کردیا۔ اس راہ میں تما صعوبتوں کو برداشت کیا اور اُس کے بعد خندہ پیشانی سے شہادت کااستقبال کیا او ر اُسے خوشی خوشی گلے لگایا ۔