علیؑ، صاحبانِ ایمان کے سرپرست اور مولا و آقا

(مفتی امجد عباس)

سورہ احزاب، آیت 6 میں ارشادِ ربانی ہے
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ کہ پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں، وہ اُن کے رہبر، سرپرست، مولا و آقا ہیں۔

محدثین کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے کہ آخری حج سے لوٹتے وقت نبی گرامی قدر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خُم نامی مقام پر، پانی کے تالاب کے پاس سبھی حجاجِ کرام کو روک کا خطبہ دیا، درمیان میں پوچھا کہ أتعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ کیا تمھیں معلوم ہے کہ میں مومنوں پر اُن کی اپنی نسبت، زیادہ حق رکھتا ہوں۔ سب نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول۔ تب آپ نے علیؑ کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا

"من كنت مولاه، فعلي مولاه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه”

جس جس پر میں "اولیٰ” ہوں، جس جس کا میں مولا، آقا، رہبر و سرپرست ہوں، علیؑ کو بھی اُس پر اولویت حاصل ہے، علیؑ اُس کے مولا، آقا و سرپرست ہیں۔ اے اللہ! تُو اُس سے دوستی رکھ، جو علیؑ سے دوستی رکھے اور اُس سے عداوت رکھ جو علیؑ سے دشمنی کرے۔

عصرِ حاضر کے بہت بڑے محدث علامہ البانی نے ضخیم کتاب "سلسلة الأحاديث الصحيحة” کی چوتھی جلد میں اِس حدیث مبارک کے متعلق 14 صفحوں پر مشتمل علمی بحث کی ہے، اِس کے کئی طُرُق لکھ کر اُن کا جائزہ لیا ہے، اپنی تحقیق کا نچوڑ یوں پیش کرتے ہیں
حدیث مبارکہ "من کنت مولاہ۔۔۔” بہت زیادہ طُرُق سے مروی ہے، علامہ ہیثمی نے بڑی تعداد میں اِس کے طُرُق اپنی کتاب میں جمع کیے ہیں۔ میں نے ایک حد تک اِس کے طرق کو نقل کیا اور اُن کی تخریج کی ہے، جس سے اِن طرق کی سندوں کو دیکھ کر، ایک صاحبِ علم کو اِس حدیث کے صحیح ہوجانے کا یقین ہوجاتا ہے۔۔۔ اِس حدیث کے طُرُق بہت زیادہ ہیں، علامہ ابن عقدہ نے اِن طرق کو الگ ایک کتاب میں جمع کیا، جس کے متعلق حافظ ابن حجر نے لکھا کہ اِس میں کئی طرق صحیح اور حسن درجے کے ہیں۔

اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے لکھتے ہیں

وجملة القول أن حديث الترجمة (من كنت مولاه، فعلي مولاه، اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه) حديث صحيح بشطريه، بل الأول منه متواتر عنه صلى الله عليه وسلم
كما ظهر لمن تتبع أسانيده وطرقه، وما ذكرت منها كفاية۔

کہ حدیث "من کنت مولاہ۔۔۔” اپنے دونوں جملوں (من كنت مولاه، فعلي مولاه اور اللهم وال من والاه، وعاد من عاداه) کے ساتھ صحیح ہے، بلکہ اِس حدیث کا پہلا جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر نقل ہوا ہے، جیسا کہ اِس حدیث کی سندوں اور طُرُق کی چھان پھٹک کرنے والے کے لیے یہ بات واضح ہے۔ اِس حدیث کے متعلق یہی کافی ہے۔

تحقیق کرنے کی وجہ خود ہی بتاتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حافظ ابن تیمیہ نے اِس حدیث کے پہلے (متواتر) جملے (من کنت مولاہ۔۔۔) کو ضعیف جبکہ دوسرے جملے (اللهم وال من والاه۔۔۔) کو جھوٹ قرار دیا، تب میں نے اِس بابت چھان پھٹک کی۔۔۔ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ حافظ ابن تیمیہ سے یہ غلطی اِس لیے ہوئی کہ وہ احادیث کے مکمل طُرُق کو جمع کرنے ، (مناسب تحقیق) اور دقت کرنے سے پہلے ہی جھٹ سے اُنھیں ضعیف کہہ دہا کرتے تھے۔

(حافظ ابن تیمیہ نے اپنے مقابل عالم، حسن بن یوسُف حلیؒ کےاِس حدیث سے کیے گئے استدلال کا جواب نہ بننے پر، اِسے ضعیف قرار دے دیا، اُنھوں نے "منھاج السنہ” میں حضرت علیؑ کی توہین سے بھی گُریز نھیں کیا۔ علامہ البانی اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے اُن کے متعلق ایسی آراء دی ہیں)

ملاحظہ ہو:
سلسلة الأحاديث الصحيحة: أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدين البانی، جلد 4، صفحہ 330 تا 344، حدیث نمبر 1750، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، سعودی عرب۔

نوٹ: علامہ طبری، علامہ ابن عقدہ، حافظ ذہبی، حافظ ابن حجر عسقلانی، حافظ کتانی، علامہ سیوطی اور بہت سے دیگر جلیل القدر علماء و محدثینِ اہلِ سنت نے اِس حدیث مبارکہ کو متواتر و مشہور قرار دیا ہے۔ اہلِ علم کی نظر میں یہ حدیث مبارکہ یقینی طور پر درست ہے۔ حضرت علیؑ نے رحبہ نامی مقام پر اِسی حدیث کو اپنے حق میں پیش کیا تو 12 بدری صحابہ کرام نے آپؑ کی تصدیق کی (مسند امام احمد میں بسندِ صحیح یہ واقعہ مذکور ہے)۔ اِس حدیث مبارکہ سے بعد از نبی گرامی قدر، امام علی کا سب سے افضل ہونا ثابت ہوتا ہے، دیگر امور پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نھیں (جیسے کہ آپؑ سے محبت کرنے والا، محبوبِ خدا اور آپؑ کا دشمن، دشمنِ خدا ہے وغیرہ)