ہمارا طرز زندگی

( سید حسن بخاری )

کیا انسان اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہے؟ بہت سارے لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ زندگی گزارنے میں آزاد ہیں، وہ جیسے چاہتے ہیں زندگی گزارتے ہیں جو سوچتے ہیں ویسا کرتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اپنی زندگی گزارنے کے طور طریقے وہ خود بناتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ ان کی زندگی کے اصول اپنے ہی ہوتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے، انسان معاشرے میں ایک ایسے حصار میں پھنسا ہوا ہے جہاں مختلف اطراف سے بہت سارے عناصر اس کی زندگی پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں اور انسان کی زندگی تشکیل دے رہے ہوتے ہیں۔ انسان کی زندگی پر کونسے عناصر اثر انداز ہوتے ہیں اس بارے سماجیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ چار عناصر انسان کی زندگی میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا عنصر جغرافیہ ہے۔ انسان کی زندگی میں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ وہ کہاں زندگی گزارتا ہے، دوسرا عنصر وہ زمانہ ہے جس میں انسان زندگی گزار رہا ہوتا ہے، ہمارا معاشرہ زمانے کے لحاظ سے کئی نشیب و فراز کا شاہد ہے، تیسرا عنصر مذہب ہے ، تاریخ میں مذہب نے معاشرے کے عروج و زوال میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، ماہرین سماجیات زبان کو انسان کی زندگی تشکیل دینے والا چوتھا اہم عنصر قرار دیتے ہیں ۔

انسان کی زندگی پر اثرانداز ہونے والے ان عناصر کو سامنے رکھ کر اگر ہم اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالیں تو ہم بخوبی آگاہ ہو جائیں گے کہ ان میں سے کوئی عنصر بھی ہمارے معاشرے کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے، ہمارے معاشرے میں پروان چڑھنے والا انسان کسی اور کے رحم و کرم پر ہے۔ اگر ہم جغرافیہ کی بات کریں تو معاشرے کے حاکم طبقے سے لے کر عام شہری تک یہ بات بڑی عام ہے کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے بڑے اہم مقام پر واقع ہے، ہم مشرق و مغرب کو آپس میں ملانے والی ایک گذرگاہ پر واقع ہیں، اس گذرگاہ سے جہاں انواع و اقسام کی اشیاء کی تجارت ہوتی ہے وہاں ہم مغربی معاشرے کی تیار کردہ ثقافتی مصنوعات سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ میں مغربی ثقافت کی سب سے بڑی منڈی بھی ہماری نوجوان نسل کی خریدار ہے، بلکہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے خریدار اور تاجر کے درمیان سارے فاصلے ہی مٹا دیئے ہیں ، آج مغربی ثقافتی فیکٹریوں کی مصنوعات کی رسائی ہر گھر تک ہے۔

انسان کی زندگی پر اثرانداز ہونے والا دوسرا سب سے اہم عنصر زمانہ ہے، ۔۔۔۔ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے ۔۔۔۔۔ زمانے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ زمانہ کیا کہے گا، جیسے جملے ہمارے معاشرے میں عام ہیں، خصوصاً ہمارے معاشرے میں بچیوں کی ایک بڑی تعداد کے ہاتھ اس لیے پیلے نہیں ہوتے کہ ان کے ماں باپ زمانے کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے، یا اب بھی بہت سارے علاقوں میں بچیاں صرف اس لیے اسکول نہیں بھیجی جاتیں کہ اگر ہماری بچی اسکول چلی گئی تو زمانہ کیا کہے گا۔

انسان کی زندگی کا تیسرا اہم عنصر مذہب ہے۔ مذہب نے کہا تھا (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ) ہم نے اپنے معاشرے میں اس الہی اصول کی تفسیر بھی کی، اسے بیان بھی کیا مگر ہم میں سے ہر ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کو اپنی محدود فکر اور سوچ سے بیان کرنے کی کوشش کی لہذا کسی کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی حقیقی زندگی سرے سے سمجھ ہی نہ آئی۔ کچھ کے نزدیک آج کے اس دور میں بھی تصویر اور فلم بنانا جرم ٹھرا، تو کچھ کے نزدیک علم کی روشنی پھیلانے والے سکول جلانا عبادت، کچھ نے انسان کے ہاتھوں انسان کے گلے کاٹ دینے کو عبادت کہا تو کچھ نے محبتیں پھیلانے والے دین کے نام پر ایک دوسرے کو کافر کہہ کر مسلمان کو مسلمان کا دشمن بنا دیا مگر سب کا دعویٰ ایک ہی رہا کہ میں ہی (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ) کا پرچار کرنے والا اور حقیقی پیرو کار ہوں۔

انسان کی زندگی میں چوتھا اہم عنصر زبان کو قرار دیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں زبان کسی بھی معاشرے کی ثقافت و تہذیب کی محافظ ہوتی ہے، اگر زبان چلی جائے تو ثقافت و تہذیب بھی معاشرے کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، معاشرے میں نئی داخل ہونے والی زبان اپنے ساتھ نئی ثقافت و تہذیب لے آتی ہے۔ قومی زبان کی حالت سب کے سامنے ہے، بچہ ماں باپ کی بات نہیں سمجھ سکتا، ماں باپ بچے کی، حاکم عوام کی بات سمجھنے سے قاصر ہے تو عوام حاکم کی، شہر میں رہنے والا دیہات میں رہنے والے کی بات نہیں سمجھ سکتا تو دیہات میں رہنے والا شہر میں رہنے والے کی، معاشرے میں بہت زیادہ شور و غوغا ہونے کے باوجود معاشرہ گونگا نظر آتا ہے۔

ان عناصر کے علاوہ سیاسی نظام، اقتصادی نظام، تعلیمی نظام و میڈیا وغیرہ بھی انسان کی زندگی کی تشکیل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تعلیمی نظام ہی کی بات کر لیں کہ جس نظام میں سکول کے پہلے دن سے لیکر یونیورسٹی کے آخری دن تک طالبعلم کو ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا سکھایا جاتا ہے تو پھر وہ ساری زندگی معاشرے کی اجتماعی اقدار اور اصولوں کی طرف پیٹھ ہی کر لیتا ہے، جس نظام تعلیم میں استاد کی حیثیت ایک مترجم سے بڑھ کر کچھ نہ ہو اس معاشرے کا تعلیمی نظام معاشرے پر کس طرح کا اثر چھوڑے گا ۔۔۔۔؟ میڈیا کہ جہاں سیاست کے علاوہ معاشرے کا کوئی موضوع زیربحث ہی نہیں ہے، ایسے میں جب معاشرے کے ایک فرد کی زندگی بنانے والے تمام عناصر مفلوج ہو چکے ہوں تو معاشرے میں کس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرے کے شخصیت پرور پہلووں پر بات کرے، نظریئے دے، بحث و تمحیص کرے، تاکہ اسلام کے نام پر بننے والے معاشرے میں ایک اسلامی شخصیت پروان چڑھے۔

کیا معاشرے کے اس خاموش کینسر کا علاج وہ سیاست دان کرے گا جس کا کوئی دن اس یقین سے شروع نہیں ہوتاکہ اقتدار کی کرسی آج شام تک اس کے پاس ہے یا نہیں، یا وہ سیاستدان جس کی اپنی شخصیت غیر اسلامی اصولوں پر غیر اسلامی معاشرے میں تشکیل پائی ہو اور اس کے لیے یہ موضوع کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو، یا یونیورسٹی کا وہ استاد جو صرف مغربی نظریات کا مترجم ہو اور بس، یا وہ دینی مدارس جن کے طالبعلم کو اپنے معاش کی فکر نے سوچنے اور فکر کرنے کی صلاحیت سے معذور کر دیا ہو، یا وہ عالم دین جسے حلال و حرام کی بحث سے فرصت ہی نہیں، یا وہ دانشور جسے اپنے سیاسی کالموں اور تجزیوں کے قارئین کے ایمیل اور ٹیلی فون کالوں سے ہی فرصت نہ ہو۔

ان سوالوں کا جواب کون دے گا کہ اسلام کے نام پر بننے والے معاشرے میں اسلامی اقدار ناپید کیوں ہیں؟ ماں باپ اور اولاد میں یہ فاصلے کیسے ہیں؟ معاشرے کا ہر فرد صرف اپنے حق کی بات کیوں کرتا ہے فرض کہاں گیا ؟ دختر آدم و حوا علم کی روشنی سے محروم کیوں ہے؟ یونیورسٹی کے طالبعلم کو اسلام کے نام سے گھن کیوں آتی ہے؟ معاشرے کے کچھ طبقات کے کتے بھی رات کو گوشت کھاتے ہوں مگر معاشرے کی ایک بڑی تعداد رات کو بھوکی کیوں سوتی ہے؟ معاشرے سے پیار محبت، اخوت، تحمل، برداشت، بھائی چارہ اور راواداری کا قلعہ قمع کس نے کیا؟ نفاق، تعصب اور کینہ نے معاشرے میں ڈیرے کیسے جما لیے؟

کیا سارے پاکستان کو سڑکوں پر اکھٹا کر لینے سے اسلامی معاشرے کے قیام کے اصل مقاصد حاصل ہو جائیں گے؟ معاشرے کے سارے رسالے، ویب سائیٹس، اخبار اور ٹی وی چینلز کی ہر سیاسی خبر پر نظر سے آیا اسلامی معاشرے کے قیام کے اہداف حاصل ہو جائیں گے؟ اور ان سب کی ذمہ داری بھی ادا ہو جائے گی؟ کیا اب جب ہم سب مل کر اسلامی معاشرے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکے ہیں تو ایسے میں حقیقی اسلامی معاشرے اور ایک حقیقی اسلامی طرز زندگی کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہونا چاہیے جو اس معاشرے کو بچانے کی آخری کوشش کرے؟ کیا معاشرے کو ایسے ہی بےرحم و پست انسانوں کے ہاتھوں میں دے دینا چاہیے تاکہ وہ جیسے چاہیں ہمارے معاشرے کے فرد کی شخصیت بنائیں اور پھر کچھ سالوں تک اس اسلامی معاشرے کی جگہ ایک مغربی معاشرہ ہماری آئندہ نسلوں کا استقبال کرے۔۔۔؟