ur

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ﴿ؑ

(سید اسد عباس تقوی )

’’خون آلود زمین کربلا جہاں خدا کے رسول کا نواسہ پیاس سے بے حال، اپنے اعزاء و اقرباء کے لاشوں کے درمیان پڑا ہوا تھا، کی یاد ہر زمانے میں انسانوں حتی کہ سرد دل اور لاپرواہ انسانوں میں شدید ترین جذبات، مضطرب کر دینے والا غم اور ایسا روحانی وجد پیدا کرنے کے لیے کافی ہے جس کے سامنے درد، خوف اور موت ادنیٰ سی چیزیں محسوس ہوتی ہیں۔ ‘‘یہ الفاظ کسی مسلمان کے نہیں بلکہ انیسویں صدی کے معروف مورخ اور لکھاری پروفیسر ایڈورڈ جی براؤن کے ہیں۔ ایڈورڈ جی براؤن واحد غیر مسلم نہیں جنھوں نے واقعہ کربلا کو پڑھا اور اس واقعے سے متاثر ہوئے۔ مہاتما گاندھی کہتے ہیں: میں نے حسین سے سیکھا کہ مظلوم ہو کر فتح کیسے حاصل کی جاتی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں: مجھے یقین ہے کہ اسلام کا فروغ اس کے ماننے والوں کی تلواروں کے سبب نہیں بلکہ حسین کی عظیم قربانی کے سبب ہوا۔

جواہر لال نہرو اپنے فہم حسین (ع) کو یوں بیان کرتے ہیں: امام حسین کی قربانی تمام گروہوں اور معاشروں کے لیے ہے۔ یہ حق کے راستے کی ایک مثال ہے۔ لبنان کے نصرانی دانشور انتونی بارا لکھتے ہیں: دنیا کی قدیم و جدید تاریخ میں کسی بھی جنگ نے اتنی ہمدردیاں اور تحسین نہیں سمیٹی اور نہ ہی کسی جنگ سے اتنے اسباق ملتے ہیں جتنے جنگ کربلا میں شہادت حسین سے ملتے ہیں۔
ڈاکٹر رادھا کرشنان حسین (ع) کے دلوں پر تسلط کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: اگرچہ امام حسین نے 1300سال قبل اپنی جان قربان کی، تاہم ان کی لازوال روح آج بھی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہے۔ ڈاکٹر راجندھرا پرساد نے کہا کہ: امام حسین کی قربانی ایک ملک، ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔ معروف ہندو شاعرہ و دانشور سروجنی نیدو نے حسین (ع) کے بارے میں جاننے کے بعد لکھا: میں مسلمانوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جن میں حسین جیسی شخصیت نے جنم لیا، جنھیں ہر معاشرے میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اٹھارویں صدی کا معروف اسکاٹش فلسفی تھامس کارلائل کربلا اور امام حسین علیہ السلام کے بار ے میں لکھتا ہے: ہمیں واقعہ کربلا سے جو عظیم ترین سبق ملتا ہے یہ ہے کہ حسین اور ان کے ساتھی خدا پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ انھوں نے کرکے دکھایا کہ جب معرکہ حق و باطل ہو تو عددی اکثریت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اقلیت میں ہونے کے باوجود حسین کی فتح میرے لیے حیران کن ہے۔

دنیا بھر کے غیر مسلم مورخین ، دانشوروں، لکھاریوں، شاعروں اور اہل فکر و دانش نے امام حسین علیہ السلام اور واقعہ کربلا کے بار ے میں جو کچھ لکھا واقعاً حیران کن اور قابل مطالعہ ہے۔ ان لکھاریوں کی تحریروں میں حسین (ع) کے لیے عقیدت کے جذبات دراصل انسانیت کی وہ مشترکہ میراث ہیں جس کا حوالہ کئی ایک دانشوروں نے دیا۔ جیسا کہ ایڈورڈ جی براؤن نے کہا کہ کربلا کا خونین منظر، حسین (ع) کی پیاس اور اقرباء کے لاشے، کسی بھی سرد دل انسان کے دل میں غم کے جذبات موجزن کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ حسین (ع) نے داستان کربلا کو اس انداز سے اپنے اور اپنے پیاروں کے خون سے سینچا کہ اب اس منظر سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں رہا۔ کوئی بھی انسان جب جنگ کربلا کے واقعات کو پڑھتا ہے اور اس جنگ کے اسباب پر نظر کرتا ہے تو وہ حسین ابن علی علیہ السلام کی عظمت کا معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ حسین (ع) دین کی سربلندی کے لیے میدان میں اترے۔ معروف برطانوی لکھاری اور سماجی نقاد چارلس ڈکنز کہتا ہے: اگر حسین نے دنیاوی اغراض کے لیے قیام کیا تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ان کی ہمشیرہ، بیوی اور بچے ان کے ہمراہ کیوں تھے؟ پس یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا قیام خالصتاً اسلام کے لیے تھا۔

قارئین وہ کربلا جو آپ کو غمزدہ کرتی ہے، نے دنیا کو حیران کر دیا۔ 60ہجری سے آج تک انسانیت انگشت بدنداں ہے کہ یہ حسین (ع) کیا تھا؟ وہ کونسا ہدف و مقصد تھا جس نے حسین (ع) کو اتنی عظیم قربانی کے لیے آمادہ کیا۔ انسانیت حیران ہے کہ کیا کوئی انسان اس حد تک صابر ہوسکتا ہے؟ انسانیت حیران ہے کہ حسین (ع) کس شے پر بھروسہ کیے ہوئے تھا؟ آج بھی انسان بحر کربلا میں غوطہ زن ہوتا ہے اور معرفت کے جواہر ڈھونڈ ڈھونڈ کر دنیا کے سامنے لا رکھتا ہے۔ میری نظر میں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود کربلا آج بھی تشنہ تفسیر و تعبیر ہے۔

آج بھی کربلا کو سمجھنے اور جاننے کے لیے ایک ایسے حوزہ دانش کی ضرورت ہے جس میں دسیوں محققین علوم انسانیت، اس صحیفہ کی ایک ایک سطر کو بار بار پڑھیں اور اس سے معاشرے کے لیے ایسے علوم کی راہیں دریافت کریں جو انسانیت کو ہدایت کی جانب لے جائیں۔ انسان ایسا نہ بھی کرے یعنی کوئی حوزہ دانش نہ بھی بنائے تب بھی کربلا اپنے انداز میں عقول انسانی کو متحیر کر رہی ہے۔ یہ زمین اور اس پر ہونے والا واقعہ آج بھی انسانوں کو اپنی جانب جذب کرتا ہے۔ حسین (ع) انسانیت کا اعلٰی ترین معیار قرار پا چکا ہے۔

مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو، چارلس ڈکن، انتونی بارا اور ان جیسے ہزاروں غیر مسلم دانشور اور لکھاری حسین (ع) کے نانا کے دین کے پیروکار نہیں تھے، اس کے باوجود اس واقعہ کی عظمت و بزرگی نے ان کی عقلوں کو در حسین (ع) پر سجدہ ریزی پر مجبور کیا۔ وہ حسین (ع) کو امام یا صحابی نہیں مانتے بلکہ ان کے لیے حسین (ع) انسانیت کا نمونہ ہے۔ ان کے لیے حسین (ع) آزادی و حریت کی مثال ہے۔ ان کے لیے حسین (ع) انسانیت کی معراج ہے۔ ان کی نظر میں حسین (ع) انسانوں کا امام اور قائد ہے۔ وہ حسینیت (ع) کو کامیابی کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ حسین (ع) نے انہیں فتح اور کامیابی کی راہ بتائی۔

کاش! ہم مسلمانوں نے بھی حسین (ع ) کو فقط امام یا صحابی سمجھنے کے بجائے انسان کامل سمجھا ہوتا۔ ان کی زندگی اور عمل سے سبق حاصل کیا ہوتا۔ ان کے اسوہ کو معیار زندگی بنایا ہوتا۔ اس شعر کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے اور اس پر بحیثیت شیعہ یا سنی نہیں بلکہ بحیثیت انسان غور کیجیے:

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمار ے ہیں حسین ﴿ع﴾