ur

کربلا میں ایثار و قربانی

(ارشاد حسین ناصر)

کربلا ایک ایسی درسگاہ کا نام ہے جہاں ایک باغیرت انسان، ایک مسلمان بلکہ ہر مذہب و طبقہء فکر سے تعلق رکھنے والوں کیلئے رہنمائی کے نمونے اور عمل کے روشن راستے موجود ہیں۔ کربلا کا واقعہ سماجی و انسانی نیز اسلامی تاریخ پر انمٹ نقوش رکھتا ہے روز عاشورا امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب باوفا و اہلبیت کے مرد و زنان نے اپنی جانوں پر کھیل کر حق کا علم بلند کیا، حق کے اس راستے پر چلتے ہوئے جس طرح کربلا والوں نے قربانی و ایثار کے نمونے پیش کئے تاریخ اس کے بعد اس سے قاصر ہے اور کوئی اس جیسی مثال سامنے نہیں لا سکی۔ ایثار قرآنی و اخلاقی وصف و صفت ہے دوسروں کی خاطر قربانی دینا، اجتماع کی خاطر اپنی ذات کو قربان کر دینا، کسی اعلیٰ مقصد کیلئے اپنی قیمتی متاع لٹا دینا ایثار کہلاتا ہے، ایثار کی سب سے برتر مثال اور نمونہ یا قسم اپنی جان اپنا خون پیش کرنا ہے، اپنا خون اور جان کا نذرانہ پیش کرنا سب سے مشکل کام ہے اس کی مثال یوں بھی دی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی گلستان میں پھول چن رہا ہو تو پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی ہوتے ہیں کسی پھول کو ہاتھ میں لیتے ہوئے آدمی کو کانٹا چبھ جائے تو فوری طور پر پھول کو چھوڑ دیا جاتا ہے یہ چبھن برداشت نہیں کی جاتی، سخت سردی میں جب حرارت کی ضرورت ہوتی ہے تو آگ سینکتے ہوئے جب تپش زیادہ ہوتی ہے تو آدمی خوامخواہ ہاتھ پیچھے کھینچ لیتا ہے مگر ایثار کے خوگر یہ دیکھتے ہوئے کہ انہیں موت کو گلے لگانا ہے ایثار گری کا مظاہرہ کرنے سے نہیں گھبراتے نہیں، جب جانوں کے لالے پڑے ہوں جب نظر آ رہا ہو کہ موت یقینی ہے جب بار بار یہ واضح کیا جا رہا ہو کہ میرا قیام مال غنیمت یا دولت و اقتدار کیلئے نہیں میں اصلاح امت اور نانا کا دین بچانے نکلا ہوں دین کی بقا جانوں کے نذرانے پیش کئے بنا ممکن نہیں اس قدر واضح کر دینے کے بعد بھی جان بچانے کے مواقع حاصل کرنے کی بجائے، دولت و ثروت ٹھکراتے ہوئے اگر کوئی موت کے سفر پر چل پڑے تو اسے ایثار کہتے ہیں، ایسا کردار پیش کرنے والا زمانے کیلئے نمونہ بن جاتا ہے، ایثار کا نمونہ و مثال بن جاتا ہے۔

میدان کربلا میں بھی ایسی کئی مثالیں پیش کی گئیں، ایسے کئی نمونے تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گئے یہ چمکتے ستارے چودہ صدیوں سے گھپ اندھیری رات میں لوگوں کو رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ دو محرم الحرام اکسٹھ ہجری کے دن امام حسین (ع) اپنے کاروان کے ساتھ کربلا پہنچے تو آپ نے اپنی وعدہ گاہ میں قیام کا حکم دیا، لق و دق صحرا دیکھ کر یہ کہا گیا کہ یہاں تو وحشت ہے، یہاں تو آپ کے خون کی بو پھیلی ہے، یہاں سے چلے چلیں مگر امام حسین (ع)ارادہ الہٰی سے آگاہ تھے، دو محرم کو کربلا میں قیام اور پڑاؤ سے لیکر صبح عاشور جنگ شروع ہونے تک اور اس سے قبل اپنا وطن مکہ چھوڑنے سے لیکر کربلا پہنچنے تک آپ کے فدا کار و جان نثار اصحاب و اعوان اہلبیت اطہار (ع) بچوں بوڑھوں جوانوں خواتین کے پاس کئی ایک مواقع تھے کہ وہ اپنی جانوں کو بچالیں آپ سے جدا ہو جائیں آپ نے اس کی اجازت بھی دی تھی اور بیعت کا طوق بھی اتار دیا تھا آپ نے واضح کیا کہ یہ (یزیدی) میرے دشمن ہیں آپ لوگ چلے جائیں مگر مجال ہے کسی نے ایسا سوچا بھی ہو اور آپ کو تنہا چھوڑنے کا خیال دل میں لائے ہوں کیا بچے کیا بوڑھے اور جوان سب ہی کمال معرفت کے حامل تھے شب عاشور تو امام نے باقاعدہ چراغوں کو گل کر دیا تاکہ کوئی اگر جانا چاہے تو شرمندہ نہ ہو یہ سب ان بامعرفت و دین شناس لوگوں کی نواسہ رسول حضرت امام حسین (ع) کی محبت تھی جو بے مثال قربانی و ایثار کا مظاہرے کیے گئے، آئیے چند ایک مثالوں سے ایثار گری کے کربلائی نمونوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

قرآن مجید سورہ حشر میں آیا ہے کہ اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں اس کی کتنے ہی خطرات کیوں نہ ہوں؛ یہ ایثار کا مظاہرہ کرنے والوں کی طرف واضح اشارہ ہے۔ جب امام حسین (ع) کے نمائندے جناب مسلم ابن عقیل (ع) کے کوفے میں قیام کی جگہ کا علم یزیدی گورنر ابن زیاد کو ہو گیا کہ وہ ہانی ابن عروہ کے گھر قیام پذیر ہیں تو جناب مسلم ابن عقیل نے ہانی ابن عروہ سے کہا کہ وہ خود کو حکومت کے سپرد کر دیتے ہیں تاکہ وہ آپ کو کوئی گزند نہ پہنچائے، مگر ایثار کے خوگر ہانی ابن عروہ کو یہ کب گوارا تھا کہ اس نے جسے پناہ دی ہے اسے دشمن کے حوالے کر دے ہانی نے کہا کہ وہ موت کو گلے لگا سکتا ہے مگر آپ کو افواج یزید کے سپرد نہیں کرے گا۔ کوفہ کے گورنر ابن زیاد نے اسے بہانہ سے دربار میں بلوایا اور گرفتار کر لیا اور سزا کے طور پر پھانسی پر لٹکا دیا۔ ادھر مسلم ابن عقیل کو گرفتار کر لیا گیا اور دارالامارہ کی چھت سے نیچے گرا دیا گیا ان کی لاش کئی دن تک کوفہ کے چوک میں پڑی رہی۔ میدان کربلا میں جب خاندان عقیل کے فرزندان کو امام حسین (ع) نے فرمایا کہ آپ کے خاندان کی اتنی بڑی قربانی کافی ہے تو انہوں نے جو جواب دیا وہ سنہرے حروف میں تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہے ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو کسی بھی صورت تنہا نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ ہماری جان چلی جائے اور ہم شہادت سے ہمکنار ہو جائیں، مسلم ابن عوسجہ آپ کے ایک جانثار صحابی تھے انہوں نے شب عاشور جب رخصت عام کا اعلان ہو گیا، جب بیعت کا طوق اتار دیا گیا تو امام حسین (ع) سے مخاطب ہو کر کہا ،ہم آپ کو تنہا نہ چھوڑیں گے ہم آپ کی ہمرکابی میں لڑائی کریں گے اگر اسلحہ نہ ہوا تو پتھروں سے لڑائی کریں گے تاوقتیکہ شہادت کا جام نہ پی لیں۔
بقول شاعر
مری وفا کا اسے بھی یقین تھا لیکن
بجھا کے شمع مجھے پھر سے آزمانا تھا

اس شب حضرات سعید ابن عبداللہ اور زہیر ابن قین نے امام (ع) کے سامنے اپنے جذبات و احساسات کا اظہار یوں کیا ،جب تک ہماری رگوں میں ایک قطرہ خون بھی باقی ہے ہم اپنے رہبر پر فدا کریں گے، حضرت عباس (ع) جو آپ کے لشکر کے علمدار تھے نے ایثار کا جلوہ یوں دکھایا کہ دنیا آج بھی ان کی وفا پر نازاں ہے اور انہیں سلام عقیدت پیش کرتی ہے ان کے پاس شمر جو یزیدی فوج کا موثر کمانڈر تھا امان نامہ لیکر آیا تھا جسے آپ نے سختی سے ٹھکرا دیا اور فرات سے تین دن کے پیاسے بچوں کیلئے پانی لینے گئے خود بھی شدید پیاسے تھے مگر اپنی پیاس نہ بجھائی خیام حسینی میں پیاس سے بلکتے بچوں کو یاد رکھا اور مشک بھر کر پانی لاتے ہوئے انتہائی ظلم سے شہید ہو گئے۔

جب نماز ظہرین کا وقت ہوا تو امام (ع) نے اپنے اصحاب کے ساتھ میدان جنگ میں نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا نماز باجماعت کی اہمیت بھی بتا دی اور یہ بھی واضح کیا کہ جسے تم باغی یا کافر کہہ کر مارنا چاہتے ہو وہ ناصرف مسلمان ہے بلکہ تم سب سے اولیٰ مسلمان ہے، اس موقعہ پر یزیدی فوج کی حکمت عملی یہ تھی کہ امام نماز نہ پڑھ سکیں تاکہ جن لوگوں کو فوج میں یہ کہہ کر شامل کیا گیا تھاکہ خلیفۃالمسلمین کا ایک باغی ہے جس کیساتھ جنگ ہے وہ نماز امام حسین (ع) دیکھ کر بدل نہ جائیں ،امام (ع) نے نماز شروع کی اس حالت میں کہ آپ کے سامنے آپ کے ساتھی سعید ابن عبداللہ کھڑے تھے تاکہ کوئی تیر آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے، سعید ابن عبداللہ نے جماعت کے دوران تمام تیر اپنے اوپر لئے جب جماعت ختم ہوئی تو تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ سعید کے جسم کے مختلف حصوں پر تیرہ تیر پیوست ہو چکے تھے اس کے بعد وہ زمین پر آن گرے اور شہادت کے بلند و بالا مقام سے سرفراز ہوئے، عصر عاشور جب سب سے آخر میں امام حسین (ع) ارجعی الیٰ ربک کی منزل کو پا چکے تو آپ کے فرزند حضرت سید سجاد (ع) جنہیں امام زین العابدین (ع) بھی کہا جاتا ہے خیام میں حالت بیماری میں موجود تھے، امامت کی یہ آخری نشانی اگر اس وقت مٹا دی جاتی تو یہ سلسلہ ہی ختم ہو جاتا اس موقعہ پر یزیدیوں نے خیام حسینی میں لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کا حکم دیا، خیام میں خاندان نبوت کی پاکدامن بیبیاں تنہا تھیں لوٹ مار اور جلاؤ گھیراؤ کے دوران جب شمر ابن ذی الجوشن امام زین العابدین (ع) کی طرف بڑھا تو سیدہ زینب سلام اللہ نے ہمت دکھائی اور سارا غم و حزن و خوف ختم کرتے ہوئے شمر کا سامنا کیا اور للکار کر کہا کہ تجھے یہ کام ہرگز نہ کرنے دوں گی، جب تک میں زندہ ہوں امامت کا چراغ نہ بجھنے دوں گی۔ تاریخ میں رقم ہے کہ سیدہ زینب سلام اللہ نے تین مواقع پر امام زین العابدین (ع) کو بچانے میں بھرپور کردار ادا کیا، کربلا سے شام و کوفہ کے سفر میں بھی ان ہی دختران امامت و نبوت نے اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ور مقصد قیام امام حسین (ع) سے کوفیوں و شامیوں کو آگاہ کیا اور ان کی بےہمتی و بے وفائی کی مذمت بھی کی۔ بہرحال یہ عشق کے قصے ہیں یہ معرفت کی داستان ہے یہ نصیب کی بھی بات ہے علامہ محمد اقبال (رہ) نے کیا خوب کہا تھا،

صدقِ خلیل بھی ہے عشق صبرِ حسین بھی ہے عشق
معرکہ ء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق