زندگانی حضرت امام حسن علیہ السلام

(تحریر: محمد ذاکر رضوان)

تعارف:
امام حسن ابن علی (15 رمضان 3ھ تا 28 صفر 50ھ) آپ کا لقب مجتبیٰ، اور کنیت ابو محمد تھی حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمۃ الزھرا علیہا السلام کے بڑے بیٹے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بڑے نواسے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور حدیث کے مطابق آپ اور امام حسین علیہما السلام جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی نے نہیں تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بےپناہ محبت کرتے تھے

ولادت با سعادت:
آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں آپ کی ولادت ہوئی جبکہ مکہ مکرمہ میں رسول کے بیٹے یکے بعد دیگرے دنیا سے جاتے رہے اور سوائے لڑکی کے آپ کی اولاد میں کوئی نہ رہی تو مشرکین طعنے دینے لگے اور آپ کو بڑا صدمہ پہنچا اور آپ کی تسلّی کے لیے قرآن مجید میں سورۃ الکوثر نازل ہوئی جس میں آپ کو خوش خبری دی گئی کہ خدا نے آپ کو کثرتِ اولاد عطا فرمائی ہے اور مقطوع النسل آپ نہیں بلکہ آپ کا دشمن ہو گا۔ آپ کی ولادت سے پہلے حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم کا ایک ٹکرا ان کے گھر آ گیا ہے۔ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تعبیر پوچھی تو انہوں فرمایا کہ عنقریب میری بیٹی فاطمہ کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہو گا جس کی پرورش تم کرو گی وہ ہے حضرت امام حسن علیہ السلام۔ حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت قرآن کی سچائی اور رسول کی صداقت کی دلیل ہے جو دنیا کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ کے لیے موجود ہے اور اس لیے امام حسن علیہ السّلام کی پیدائش سے پیغمبر کو ویسی ہی خوشی نہیں ہوئی جیسے ایک نانا کو نواسے کی ولادت سے ہوتی ہے بلکہ آپ کو خاص مسرت یہ ہوئی کہ آپ کی سچائی کی پہلی نشانی دنیا کے سامنے آئی۔

تربیت:
حضرت امام حسن علیہ السلام کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سایہ عطوفت میں رہنے کا موقع ملا۔.
یہ حدیث حضرت کی تمام اسلامی حدیث کی کتابوں میں درج ہے حضرت نے فرمایا "خدا نے ہر شخص کی اولاد کو خود اس کے صلب سے قرار دیا اور میری اولاد کو اس نے علی ابن ابی طالب علیہ السّلام کی صلب سے قرار دیا”، پھر بھلا ان بچوں کی تربیت میں پیغمبر کس قدر اہتمام صرف کرنا ضروری سمجھتے ہوں گے جب کہ خود بچّے بھی وہ تھے جنہیں قدرت نے طہارت و عصمت کا لباس پہنا کر بھیجا تھا کہ بچے کم سنی ہی میں نانا کے اخلاق و اوصاف کی تصویر بن گئے، خود حضرت نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ "حسن میں میرا رعب اور شان سرداری ہے اور حسین علیہ السّلام میں میری سخاوت اور میری جرأت ہے”۔ شفیق نانا کی وفات کے بعد آپ کے لیے گہوارہ تربیت اپنے مقدس باپ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات تھی، حسن علیہ السّلام اسی دور میں جوانی کی حدوں تک پہنچے اور کمال شباب کی منزلوں کو طے کیا۔ پچیس برس کی خانہ نشینی کے بعد جب حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو مسلمانوں نے خلیفہ ظاہری کی حیثیت سے تسلیم کیا اور اس کے بعد جمل، صفین اور نہروان کی لڑائیاں ہوئیں تو ہر ایک جہاد میں حسن علیہ السّلام اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ بلکہ بعض موقعوں پر جنگ میں آپ نے کار نمایاں بھی دکھلائے یہ سب آپکے شفیق نانا کی تربیت کا نتیجہ تھا۔

خلافت:
21 ماہ رمضان 40ھ میں حضرت علی علیہ السّلام ابن ابی طالب علیہ السّلام کی شہادت ہوئی، اس وقت تمام مسلمانوں نے مل کر حضرت امام حسن علیہ السّلام کی خلافت تسلیم کی .. ابھی ملک حضرت علی علیہ السّلام کے غم میں سوگوار تھا اور حضرت امام حسن علیہ السّلام پورے طور پر انتظامات سنبھال بھی نہ پائے تھے کہ حکام شام کی طرف سے آپ کی مملکت میں دراندازی شروع ہو گئی اور ان خفیہ کارکنوں نے اپنی کاروائیاں شروع کر دیں، بہت سے خریدے ہوئے افراد کو دراندازی میں پکڑا گیا۔

اس واقعہ کے بعد حضرت امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ تم اپنی دراندازیوں سے نہیں باز آتے۔ تم نے لوگ بھیجے ہیں کہ میرے ملک میں بغاوت پیدا کرائیں اور اپنے جاسوس یہاں پھیلا دئیے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم جنگ کے خواہشمند ہو ایسا ہو تو پھر تیار ہو، یہ منزل کچھ دور نہیں۔ نیز مجھ کو خبر ملی ہے کہ تم نے میرے باپ کی وفات پر طعن و تشنیع کے الفاظ کہے، یہ ہر گز کسی ذی ہوش آدمی کا کام نہیں ہے۔ موت سب کے لیے ہے آج ہمیں اس حادثے دوچار ہونا پڑا تو کل تمھیں ہونا ہو گا اور حقیقت یہ ہے کہ "ہم اپنے مرنے والے کو مرنے والا سمجھتے نہیں، وہ تو ایسے ہیں جیسے ایک منزل سے منتقل ہو کر اپنی دوسری منزل میں جا کر آرام کی نیند سو جائیں”۔ اس خط کے بعد حاکم شام اور امام علیہ السّلام حسن علیہ السّلام کے درمیان بہت سے خطوط رد و بدل ہوئے۔

صلح:
حاکم شام کو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی فوج کی حالت اور لوگوں کی بے وفائی کا علم ہو چکا تھا اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ امام حسن علیہ السّلام کے لئے جنگ کرنا ممکن نہیں ہے مگر اس کے ساتھ وہ یہ بھی یقین رکھتا تھا کہ حضرت امام حسن علیہ السّلام کتنے ہی بےبس اور بےکس ہوں مگر وہ علی علیہ السّلام و فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بیٹے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں اس لیے وہ ان شرائط پر ہر گز صلح نہ کریں گے جو حق پرستی کے خلاف ہوں اور جن سے باطل کی حمایت ہوتی ہو۔ اس کو نظر میں رکھتے ہوئے اس نے ایک طرف تو آپ کے ساتھیوں کو یہ پیغام دلوایا کہ اپنی جان کے پیچھے نہ پڑو اور خونریزی نہ ہونے دو۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کو رشوتیں بھی دی گئیں اور کچھ بزدلوں کو اپنی تعداد کی زیادتی سے خوف زدہ بھی کیا گیا اور دوسری طرف امام حسن علیہ السّلام کے پاس پیغام بھیجا کہ آپ جن شرائط پر کہیں انہی شرائط پر میں صلح کے لیے تیار ہوں۔ آپ نے مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے صلح کی شرائط مرتب کرکے معاویہ کے پاس روانہ کیں۔

شرائط صلح:

1۔ یہ کہ معاویہ حکومتِ اسلام میں کتاب خدا اور سنتِ رسول پر عمل کریں گے۔

2- دوسرے یہ کہ معاویہ کو اپنے بعد کسی خلیفہ کے نامزد کرنے کا حق نہ ہو گا۔

3- یہ کہ شام و عراق و حجاز و یمن سب جگہ کے لوگوں کے لیے امان ہو گی۔

4- یہ کہ حضرت علی علیہ السّلام کے اصحاب اور شیعہ جہاں بھی ہیں ان کے جان و مال اور ناموس و اولاد محفوظ رہیں گے۔

5- معاویہ حسن ابن علی علیہ السّلام اور ان کے بھائی حسین علیہ السّلام اور خاندانِ رسول میں سے کسی کو بھی کوئی نقصان پہنچانے یا ہلاک کرنے کی کوشش نہ کرے گا، نہ خفیہ طریقہ پر اور نہ اعلانیہ اور ان میں سے کسی کو کسی جگہ دھمکایا اور ڈرایا نہیں جائے گا۔

6- جناب امیر علیہ السّلام کی شان میں کلمات نازیبا جو اب تک مسجد جامع اور قنوت نماز میں استعمال ہوتے رہے ہیں وہ ترک کر دیئے جائیں، آخری شرط کی منظوری میں معاویہ کو عذر ہوا تو یہ طے پایا کہ کم از کم جس موقع پر امام حسن علیہ السّلام موجود ہوں اور اس موقع پر ایسا نہ کیا جائے، یہ معاہدہ ربیع الاول یا جمادی الاول 41 ھ قمری کو عمل میں آیا۔

دلخراش شہادت:
اس بےضرر اور خاموش زندگی کے باوجود بھی امام حسن علیہ السّلام کے خلاف وہ خاموش حربہ استعمال کیا گیا جو سلطنت بنی امیہ میں اکثر صرف کیا جا رہا تھا۔ حاکم شام نے اشعث ابن قیس کی بیٹی جعدہ کے ساتھ جو حضرت امام حسن علیہ السّلام کی زوجیت میں تھی ساز باز کرکے ایک لاکھ درہم انعام اور اپنے فرزند یزید کے ساتھ شادی کے وعدہ کا لالچ دے کر اس کے ذریعہ سے حضرت حسن علیہ السّلام کو زہر دلوایا۔ امام حسن علیہ السّلام کے کلیجے کے ٹکڑے ہو گئے اور حالت خراب ہوئی۔ آپ نے اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السّلام کو پاس بلایا اور وصیت کی، اگر ممکن ہو تو مجھے جدِ بزرگوار رسولِ خدا کے جوار میں دفن کرنا لیکن اگر مزاحمت ہو تو ایک قطرہ خون گرنے نہ پائے۔ میرے جنازے کو واپس لے آنا اور جنت البقیع میں دفن کرنا۔ 28 صفر 50ھ کو امام حسن علیہ السّلام دنیا سے رخصت ہو گئے۔ حسین علیہ السّلام حسبِ وصیت بھائی کا جنازہ روضہ رسول کی طرف لے گئے مگر جیسا کہ امام حسن علیہ السّلام کو اندیشہ تھا وہی ہوا۔ ام المومنین عائشہ اور مروان وغیرہ نے مخالفت کی، نوبت یہ پہنچی کہ مخالف جماعت نے تیروں کی بارش کر دی اور کچھ تیر جنازئہ امام حسن علیہ السّلام تک پہنچے۔ بنی ہاشم کے اشتعال کی کوئی انتہاء نہ رہی مگر امام حسین علیہ السّلام نے بھائی کی وصیت پر عمل کیا اور امام حسن علیہ السّلام کا تابوت واپس لا کر جنت البقیع میں دفن کر دیا۔