اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہمارا معاشرہ

(تحریر: محمد عسکری کریمی)

اسلامی معاشرے کی بنیاد دو ہی چیزوں پر استوار ہے، اگر یہ دونوں یا ان میں سے ایک کسی معاشرے میں نہ ہو تو اس معاشرے کو اسلامی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا اور وہ دو چیزیں ہیں قرآن اور پیغمبر اسلام کی سیرت۔ قرآن نوع انسانی کے لئے ایک دستور حیات ہے تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات اقدس نمونہ عمل ہے۔ قرآن ایک قانوں کا مجموعہ ہے تو پیغمبر اسلام کی ذات اقدس مجسمہ قانوں ہے۔ خود قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرما رہے ہیں "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ”(سورہ الاحزاب21) یعنی اللہ کے رسول میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔ سیرت پیغمبر عالم انسانیت کے لئے ایک عظیم مشعل راہ اور نمونہ عمل ہے، آپ کا ہر قول و فعل اور تمام کردار ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی وہ فرد اکمل و اتمم ہیں جس میں اللہ رب العزت نے وہ تمام صفات و کمالات جاگزین کئے ہیں، جو حیات انسانی کے لئے ایک مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ذات گرامی کو عرب کے اس جہالت سے پر معاشیرے میں کردار و گفتار اور اخلاقیات میں بہت ہی اعلٰی مقام حاصل تھا اور آپ سب لوگوں سے ممتاز تھے، لوگ آپ کو صادق و امین کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ بامروت اور خوش اخلاق تھے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں "انک لعلیٰ خلق عظیم” (قرآن) اے حبیب آپ اخلاق کے عظیم درجے پر ہیں اور آپ سب سے زیادہ پاکدامن ، راست گو، سب سے زیادہ نرم پہلو، دوراندیش اور سب سے زیادہ پابند ادب و امانتدار تھے۔

نبوت کا یہ شہکار چراغ اور روشن ستارہ اپنی تمام تر روشنیوں کے ساتھ حیات انسانی کے ہر شعبے میں، ہر جہت اور ہر ہر پہلو میں مینارہ نور بن کر اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکل میں بنی نوع انسان کی صحیح رہنمائی کے لئے اپنی تمام تر برکات و فیوضات کے ساتھ موجو د ہے، جس کی پیروی سے انسان اپنی ہدایت اور رہنمائی کا سامان فراہم کرسکتا ہے، یعنی جس سے انفرادی اور اجتماعی پاکیزہگی ہوتی ہے، جس سے ایک پاکیزہ اور جرائم سے پاک سماج پروان چڑھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے یہ واضح کر دیا اور کامیابی و کامرانی کے متلاشی انسانوں کو یہ خبر دے دی کہ تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات بہترین نمونہ ہے۔ اس لئے ہدایت کے متلاشی لوگوں کو چاہیے کہ زندگی کے ہر معاملے میں یعنی حرکت و سکون، رہن سہن، سیادت و قیادت، اخلاق و کردار، معاشرت، معیشت و تجارت، صبر و قناعت، زہد و عبادت، مروت اور شجاعت بلکہ ہر ہر عمل کے اندر کامیابی و کامرانی کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات اقدس کو بطور نمونہ پیش نظر رکھین۔ دنیا و آخرت میں فلاح اور کامیابی اسی سے متسمک ہے۔ معاشرہ میں امن و سکوں کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتا، جب تک اسوہ رسول کو نہ اپنائے۔

پیغمبر اسلام کے وجود اقدس کا مقصد اور ہدف بھی ایک پرامن اور پرسکون معاشرے کا قیام تھا، جس میں سب انسان برابر ہوں، ایک دوسرے کا احترام ہو، رواداری ہو۔ اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قسم کی قربانی پیش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری زندگی تحمل، برداشت اور رواداری کا درس دیا اور ایسے سماج کا قیام عمل میں لائے، جہاں امن و سکون تھا، جہان رواداری تھی، جہاں برداشت تھی، جہاں مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے حقوق کو بھی تحفظ حاصل تھا۔ صرف انسانوں سے نہیں بلکہ آپ (ص) نے جانوروں کے حقوق کو بھی ادا کرنے کا درس دیا۔ یہ سب تعلیمات محمدی تھیں، جن پر آج کا مسلمان معاشرہ عمل پیرا نہیں۔ ہمارے سماج میں برداشت، رواداری، اخوت اور مذہبی ہم آہنگی نہیں، اس کے علاوہ ہزاروں کے حساب سے ایسے ایسے جرائم اور واقعات ہمارے سماج میں رونما ہو رہے ہیں، جو کسی غیر مسلم معاشرے میں بھی نہیں ہوتے۔ کسی عالم دین نے یہ خوب فرمایا کہ یورپ میں اسلام ہے، مسلمان نہیں ہیں، یعنی وہاں رواداری ہے، برداشت ہے، احترام انسانیت ہے، ایک دوسرے کو کافر قرار نہیں دیتے، قانوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہیں، عدالت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جلد انصاف فراہم کرتی ہیں، جبکہ اسکے برعکس مسلم معاشرے جو مشرق وسطٰی، افریقہ اور ایشیاء کے بیشتر حصے پر مشتمل ہیں، جن میں مسلمان ہیں، اسلام نہیں ہے، یعنی زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کردار و گفتار میں اسلام نظر نہیں آتا۔

یہ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہم سب پیغمبر اسلام ﷺکی محبت کا دم بھرتے نہیں تھکتے، حال ہی میں اسلام آباد میں انتخابی قوانین میں ختم نبوت شق میں تبدیلی کے خلاف ایک تنظیم نے دھرنا دیا اور بعض مذہبی اور سیاسی پارٹیوں نے ان کی حمایت بھی کی، یہ دھرنا ایک لحاظ سے قابل تعریف بھی تھا کہ جنہوں نے ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی ہے، ان کو سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو، لیکن یہ دھرنا ایسے مقام پر تھا، جہان سے روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزر ہوتا تھا، جس کی بندش سے کئی ہفتوں تک ہزاروں لوگوں کو تکلیف سہنا پڑی۔ اس کے علاوہ شرکاء دھرنا جس انداز میں دوسروں کے خلاف زبان درازی کرتے تھے، گالی گلوج اور بدزبانی کرنا تو عادت بن چکی تھی اور اس کے بعد ملکی املاک کو نقصان پہنچانا، حکومت کا اپنے عوام پر بے دریغ طاقت کا استعمال کرنا، یقیناً یہ سب تعلیمات محمدی سے دوری کا نتیجہ ہے۔ ہماری زندگی ان تمام اوصاف سے عاری ہے، جو ایک مسلمان میں ہونی چاہیں۔ اس کے علاوہ وطن عزیز پاکستان میں کرپشن، ناانصافی، ظلم و زیادتی اور قتل و غارت گری اپنے عروج پر ہے،انصاف کے حصول کے لئے کئی مہینے یا کئی کئی سال عدالتوں کا چکر لگانا پڑتا ہے۔

ملک و قوم کے خدمت گزار، افراد کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں، جب کوئی ان جرائم کے بارے میں بات کرے یا آواز اٹھائے تو ان کو حکومتی سرپرستی میں قید و بند کی صعوبتوں میں زندگی گزارنے مجبور کرتے ہیں اور ہمارے حکمراں جھوٹ بولنے کو عین سیاست سمجھتے ہیں، یعنی سیاسی کھلاڑی بننے کے لئے جھوٹ بولنا لازمی ہے اور جو جھوٹ نہیں بولتے اور چالاکی نہیں دکھاتے، وہ اچھے سیاست دان نہیں بن سکتے۔ یہ ہمارے معاشرے میں رہنے والے سیاسی باسیوں کے کارنامے ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود۔ اگر فرقہ پرستی پر ایک نظر کریں تو مسلم معاشرہ خاص طور پر وطن عزیر میں سب سے زیادہ فرقہ واریت نظر آئے گی، آج مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر اور تباہی کے دہانے پر پہنچے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے دست و گریباں ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ فرقہ پرستی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں "واطیعو اللہ و رسولہ ولا تنازعوا فتفشلو وتذھب ریحکم۔۔”(انفال 46)تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جھگڑا مت کرو کہ ناکام ہو جاو گے اور تمہارا بھرم ہی ختم ہو جائے گا۔ اسلام ایک امن کا دین ہے، جس کا رہبر اور لیڈر مجسمہ من پیغمبر اسلام (ص) کی ذات اقدس ہے اور لفظ اسلام کا مطلب سلامتی ہے، اسلام انسانیت کو اس کا مقام دینا چاہتا ہے اور ہر فرد کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے، جبکہ آج کا مسلمان خاص طور پر اہل ممبر حضرات اس کے برعکس عمل پیرا ہیں۔

اسلام میں فرقوں کا ہونا کوئی معیوب نہیں ہے۔ آیۃ اللہ آصف محسنی فرماتے ہیں کہ "اس میں کوئی شک نہیں شیعہ سنی مسلمان نہ صرف فقہی فروعات میں بلکہ اعتقادات کے فرعی مسائل میں بھی اختلاف نظر رکھتے ہیں، بلکہ مذہب اہل سنت کی اپنی اندرونی آراء میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، ان میں مذاہب اربعہ اور وہابیت شامل ہیں۔ اسی طرح مذہب تشیع میں بھی ایسے اختلافات پائے جاتے ہیں، شیعہ اخباریوں اور اصولیوں کے درمیاں احکام شرعیہ کے استنباط کی روش اور طریقوں میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے، لیکن ان سب کے باوجود وہ برادرانہ انداز میں باہم رہ ہے ہیں، ایک معقول حد تک اختلاف نظر انسانی زندگی میں ترقی، پیشرفت اور ذہنی بالیدگی کا باعث ہے۔” یعنی اختلاف آراء کوئی عیب نہیں ہے، فکری اور نظریاتی اختلافات سے کئی باتیں سامنے آتی ہیں، جو گفت و شنید سے دور کی جاسکتی ہیں، لیکن اصل مسئلہ اپنے نظریات کو دوسروں پر زبردستی مسلط کرنا، دوسروں کو اسلام کے دائرے سے خارج کرنا اور کفر کا فتویٰ لگانا ہے، جس سے ملک و قوم کی تباہی کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن عناصر یہود و نصاریٰ کو اسلام مخالف باتین کرنے کا موقع میسر آتا ہے۔ آج تک ہزاروں جانیں فرقہ واریت کی نذر ہوچکی ہیں۔ فکری میدان میں قلبی اور عملی عداوتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام مورد الزام ٹھہرا اور بدنام ہوا۔ اسی لئے ہماری سیاسی اور سماجی زندگی میں بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یہ سب تعلیمات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دوری کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم اپنی حیثیت کو سیرت محمدی کی روشنی میں سمجھیں اور اس پر عمل کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو یقیناً ہمارا یہ بگڑا ہوا معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن اور گھر، خاندانی نظام اور معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ تمام مسلمانان عالم کو حقیقی معنوں میں پیغمبر اسلام (ص) کی سیرت پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے۔