مٹی پر سجدہ

(تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی)

سجدہ خدا کی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے اور یہ مقصد دوسری چیزوں کی نسبت خاک پر سجدہ کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے، لیکن سجدہ کے لئے سب سے زیادہ باارزش، قیمتی اور حائز اہمیت چیز خاک کربلا ہے۔ روایات کے مطابق انسان سجدہ کی حالت میں دیگر حالات کی نسبت خدا سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ نماز گزار کو نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے بجا لانا چاہیں، لیکن جن چیزوں پر سجدہ صحیح ہے، اس میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہے۔ اہل تشیع کا عقیدہ ہے کہ حالت نماز میں زمین پر یا ایسی چیز پر جو زمین سے اگتی ہو بشرطیکہ وہ چیز کھانے اور پہننے میں استعمال نہ ہوتی ہو، سجدہ کرنا چاہیِئے اور اختیاری حالت میں ان دو چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اہل سنت لباس اور فرش وغیرہ پر بھی سجدہ کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ اس حکم کے بارے میں اہل تشیع کا مستند ائمہ اہلبیت علیہم السلام سے نقل شدہ احادیث ہیں۔ البتہ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اصحاب کی سیرت بھی اس بات کی تائید کرتی ہے۔

جناب ہشام کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادقعلیہ السلام سے سوال کیا کہ کن چیزوں پر سجدہ کیا جاسکتا ہے اور کن چیزوں پر سجدہ نہیں کیا جا سکتا۔ امام ؑنے جواب میں فرمایا:(السجودلا یجوز إلاعلی الارض أوعلی ما أنبتت من الارض إلا ما أکل أو لبس)۱ "سجدہ جائز نہیں ہے مگر زمین پر یا ان چیزوں پر جو زمین سے اگتی ہیں، سوائے کھانے اور پہننے والی چیزوں کے۔” جناب ہشام نے جب اس حکم کی حکمت کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا:(لان السجود خضوع لله عزوجل فلاینبغی أن یکون علی ما یؤکل و یلبس لان أبنا الدنیا عبید مایاکلون و یلبسون و الساجد فی سجوده فی عبادة الله عزوجل فلاینبغی أن یضع جبهته فی سجوده علی معبود أبناء الدنیا الذین اغتروا بها)۲ "اس لئے کہ سجدہ خداوند متعال کے حضور خضوع کا نام ہے، لہذا کھانے اور پہننے والی چیزوں پر سجدہ جائز نہیں ہے، کیونکہ دنیا کی پرستش کرنے والے کھانے اور پہننے والی چیزوں کے بندے ہیں، پس جو سجدہ کرتا ہے، وہ سجدہ کی حالت میں خدا کی عبادت میں مشغول ہے، لہذا مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی پیشانی کو ایسی چیز پر رکھے، جو دنیا کی پرستش کرنے والوں کا معبود ہے، جو دنیا کے زرق و برق پر فریفتہ ہیں۔”

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:(والسجود علی الارض افضل لانه ابلغ للمتواضع والخضوع لله عزوجل)۳ "سجدہ زمین پر افضل ہے، اس لئے کہ یہ خدا کے سامنے تواضع اور خشوع کو بہتر پیش کرتا ہے۔” عبدالوہاب شعرانی (اہل سنت کے بزرگ فقیہ و عارف) لکھتے ہیں: سجدہ خدا کی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے۔ انسان اپنے بدن کے عزیز ترین حصے کو جو کہ پیشانی ہے، زمین پر رکھے۔ یہ کام انسان سے غرور و تکبر کو ختم کر دیتا ہے اور انسان کے اندر خدا کے حضور شرفیاب ہونے کی لیاقت پیدا کرتا ہے۔ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سلسلے میں فرماتے ہیں:(لایدخل الجنة منفی قلبه مثقال ذرة من کبر)۴ "جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔” پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث میں ذکر ہوا ہے: (جعلت لی الارض مسجدا و طهورا) ۵”زمین میرے لئے سجدہ اور پاک کرنے کی جگہ قرار دی گئی ہے۔” کلمہ (طهور) جو تیمم پر دلالت کرتا ہے، اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ (ارض) سے مراد پتھر، مٹی اور ان چیزوں کے مانند ہیں۔

پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مسلمان مسجد کی زمین پر سجدہ کرتے تھے، جو سنگ ریزوں سے مفروش تھی، جب گرمی کی شدت کی وجہ سے سنگریزے گرم ہوتے تھے اور ان پر سجدہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا تو انہیں ہاتھ میں اٹھاتے تھے، تاکہ سرد ہو جائیں، پھر ان پر سجدہ کرتے تھے۔ جیسے جناب جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں: میں نماز ظہر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں ادا کر رہا تھا اور مٹھی بھر سنگریزوں کو ہاتھ میں لے کر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پھیر لیتا تھا، تاکہ سرد ہو جائیں پھر نماز کی حالت میں ان پر سجدہ کرتا تھا۔6 گرمی کی شدت کی وجہ سے مسجد کے سنگریزے (جو مفروش تھے اور ظاہراً مسجد بھی بغیر چھت کی تھی) گرم ہوتے تھے، بعض اصحاب گرمی سے بچنے کے لئے اپنی پیشانیوں کے نیچے لباس رکھتے تھے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کام سے منع فرمایا۔ ان لوگوں نے آپ ؐ سے گرمی کے بارے میں شکایت کی، لیکن آپ ؐ نے اس کی پروا نہ کی اور انہیں لباس پر سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحمت الہٰی کے پیکر تھے۔ آپ ؐلوگوں کی مشکلات کی وجہ سے پریشان ہوتے تھے اور آپؐ ان مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن کریم اس بارے میں فرماتا ہے :(لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيم)۷”بتحقیق تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے، تمہیں تکلیف میں دیکھنا ان پر شاق گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کا نہایت خواہاں ہے اور مومنین کے لئے نہایت شفیق و مہربان ہے۔”

اگر لباس اور اس طرح کی چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہوتا تو یقیناً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کو لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے کی اجازت دیتے اور انہیں لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے سے منع نہیں فرماتے۔ اصحاب سے جو روایات نقل ہوئی ہیں، ان کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعد میں حصیر اور چٹائی پر بھی سجدہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ ام المومنین میمونہؓ سے مروی ہے: (و رسول الله یصلی علی الخمرة فیسجد)”رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے اور اسی پر سجدہ کرتے تھے۔”۸ البتہ مشکلات کے وقت لباس وغیرہ پر بھی سجدہ کرنا جائز ہے۔ چنانچہ بعض احادیث اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ انس بن مالک کہتے ہیں:(کنا اذا صلینا مع النبی فلم یستطع أحدنا أن یمکن جبهته منالارض طرح ثوبه ثم سجد علیه)۹”ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ اگر ہم میں سے کوئی زمین پر اپنی پیشانی رکھنے سے معذور ہوتا تو اپنے لباس پر سجدہ کر لیتا تھا۔” اس حدیث میں لباس پر سجدہ کرنے کو زمین پر سجدہ نہ کرسکنے کے ساتھ مقید کیا ہے اور یہ قید دوسری روایات کے اطلاقات کو بھی مقید کر دیتا ہے۔

سجدہ کے بارے میں اہل سنت کی احادیث سے کچھ نکات حاصل ہوتے ہیں:
1۔ ابتداء میں مسلمان صرف پتھر اور مٹی پر سجدہ کرتے تھے۔
2۔ دوسرے مرحلے میں چٹائی اور زمین سے اگنے والی چیزوں پر بھی سجدہ کرنے کو صحیح قرار دیا گیا۔
3۔ اضطراری حالت میں لباس وغیرہ پر بھی سجدہ کرنا جائز ہے۔
ان احادیث سے جو نکات حاصل ہوتے ہیں، وہ اہل تشیع کے عقائد سے مکمل طور پر مطابقت رکھتے ہیں۔ اہل سنت کے فقہاء لباس وغیرہ پر سجدہ کرنے کو عام حالتوں میں بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ پتھر اور مٹی (مسجود علیہ) ہیں نہ (مسجود لہ) ان پر سجدہ ہوتا ہے، نہ ان کو سجدہ کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات غلط بیان کیا جاتا ہے کہ شیعہ پتھر کو سجدہ کرتے ہیں، حالانکہ وہ دیگر مسلمانوں کی طرح صرف خدا کے لئے سجدہ کرتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں خضوع کے ساتھ پیشانی کو خاک پر رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں بعض مورخین کی نقل کے مطابق سابقہ لوگ (سلف) بھی گلاب کے خشک حصے کو ساتھ رکھتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے۔ چنانچہ ابوبکر بن ابی شیبۃ، مسروق بن اجدع (متوفی 62ھ جو تابعین میں سے تھے) نقل کرتا ہے کہ وہ سفر میں ہمیشہ گلاب کے خشک حصے کو ساتھ رکھتے تھے، تاکہ اس پر سجدہ کرسکے۔۱۰

شیعہ مٹی کے ایک ٹکڑے کو بطور سجدہ گاہ اپنے پاس رکھتے ہیں، یہ اس لئے ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہر جگہ ایسی چیزیں موجود نہ ہوں، جن پر سجدہ کرنا صحیح ہو۔ دوسری بات یہ کہ زمین پر سجدہ کرنا دوسری چیزوں کی نسبت زیادہ مناسب ہے، کیونکہ سجدہ خدا کی بارگاہ میں خضوع کا اظہار کرنا ہے اور یہ مقصد دوسری چیزوں کی نسبت خاک پر سجدہ کرنے سے حاصل ہو جاتا ہے، لیکن سجدہ کے لئے سب سے زیادہ باارزش، قیمتی اور حائز اہمیت چیز خاک کربلا ہے۔ تمام ائمہ اطہار علیہم السلام نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ حتی المقدور سجدہ خاک کربلا پر کیا جائے اور وہ خود بھی ہمیشہ سجدہ خاک شفا پر کیا کرتے تھے۔ معاویۃ ابن عمار کا کہنا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے پاس زرد رنگ کا ایک رومال تھا، جس میں خاک شفا رکھی ہوئی تھی اور جب نماز کا وقت آتا تھا تو آپ اسی پر سجدہ کرتے تھے۔ خاک کربلا پر سجدہ کرنا امام زین العابدین علیہ السلام کی سنت ہے۔ تاریخ میں ہے کہ جب آپ نے سید الشہداء علیہ السلام کو دفن کر دیا تو آپ کی قبر مبارک سے ایک مٹھی خاک اٹھا لی اور اس کی سجدہ گاہ بنا کر اپنے پاس رکھ لی اور ہمیشہ اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ آپ کے بعد دیگر ائمہ بھی ہمیشہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ امام صادق علیہ السلام سوائے خاک کربلا کے کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے۔11

تربت امام حسین علیہ السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو ہر طرح کے خطرے سے محفوظ رکھتی ہے۔ امام رضا علیہ السلام نے لباس کا ایک صندوقچہ ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس میں کپڑوں کے ساتھ تھوڑی سی خاک کربلا بھی رکھ دی۔ اس شخص نے تحقیق کی کہ کیوں امام ؑنے کپڑوں کے ساتھ خاک کربلا کو بھجوایا ہے تو معلوم ہوا کہ کہ تربت کربلا انسان کو ہر طرح کے خطروں سے امان میں رکھتی ہے، جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے بھی فرمایا: "امام حسین علیہ السلام کی قبر کی خاک میں شفا بھی ہے اور ہر خوف سے امان بھی۔”۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ وسائل الشیعۃ، ج3، باب 1، حدیث اول، ص 591۔
2۔ ایضاً۔
3۔ علل الشرایع، ج2ص341۔
4۔ الیواقیت و الجواہر فی عقائد الاکابر، ج1، ص164۔ الاعتصام بالکتاب و السنۃ،ص74۔
5۔ صحیح بخاری، ج1، ص91، کتاب تیمم، حدیث 2۔
6۔ مسند احمد، ج3، حدیث 327۔
7۔ توبہ، 128۔
8۔ مسند احمد، ج6، ص321۔
9۔ مسند احمد، ج2، ص198۔ الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ص81۔
10۔ صحیح بخاری، ج2، ص64، کتاب الصلوۃ۔ المصنف، ج1، ص400، الاعتصام بالکتاب و السنۃ، ص86۔
11۔ بحار الانوار، ج۱۰۱، ص۱۵۸۔
12۔ کامل الزیارات، ص۲۷۸، باب ۹۲، حدیث ۱