اسلام میں حج کی اہمیت

(آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی)
”حج‘ ‘ اسلام کا اہم ترین رکن اور دینی فریضوں میں عظیم ترین فریضہ ہے ۔قرآن مجید ایک مختصر اور پر معنی عبارت میں فرماتا ہے ۔:

وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلا۔

اور خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے اگر اس راہ کی استطاعت رکھتے ہوں ۔
اسی آیہ شریفہ کے ذیل میں فرماتے ہیں : ( وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنْ الْعَالَمِینَ) اور جنہوں نے کفر و سرکشی اختیار کی ، بے شک خداوند کریم تمام عالمین سے بے نیاز ہے ۔ (۱)

آیہ شریفہ کے اس جملہ میں” وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ —“ ( خدا کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا واجب ہے) اس تعبیر کے ساتھ کہ جنہوں نے واجب حج کو چھوڑ دیا، کفر کے مرتکب ہوئے ہیں ، اسلام میں اسکی عظیم ترین اہمیت روشن ہو جاتی ہے ۔

توجہ کی بات یہ ہے کہ سورہ مبارکہ اسراء کی ۷۲ویں آیت کریمہ کے تفسیر میں ( وَمَنْ کَانَ فِی ہَذِہِ اٴَعْمَی فَہُوَ فِی الْآخِرَةِ اٴَعْمَی وَاٴَضَلُّ سَبِیلًا )( ۲) حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے جو اپنے واجب حج میں تاخیر کرے یہاں تک کہ وہ مرجائے ( وہ قیامت کے دن اندھا ہوگا)(۳). اور جو اس دنیا میں اندھا وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکاہوا رہے گا ۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے :جو بھی اپنے واجب حج کو کسی عذر کے بغیر ترک کرے وہ قیامت میں یہودی یا نصرانی محشور ہوگا ۔چونکہ حضرت امام صادق(علیہ السلام) کی حدیث میں پڑھتے ہیں :جو حج اور عمرہ کو بجالاتے ہیں وہ خدا کے مہمان ہیں ۔وہ خدا سے جو چاہتے ہیں وہ انہیں عطا کرتا ہے ۔وہ جو بھی دعا کریں خدا ان کی دعاؤوں کو بھی قبول کرتا ہے اور وہ اگر کسی کی شفاعت کریں ،تو وہ قبول ہوتی ہے ۔ اور اگر اسی راہ میں مرجائیں تو پروردگار ان کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے ۔

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ جو پیغمبر اکرم (ص) سے نقل ہوئی ہے: الحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنة ۔ قبول ہوئے حج کی جزاء جنت کے بغیر کچھ اور نہیں ہو سکتی !

تیسری حدیث بھی آنحضرت (ص) ہی سے منقول ہے : ( من حج البیت۔۔۔ خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ )جو حج انجام دیتا ہے وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتاہے جیسے اسی دن اپنی ماں سے جنم لیا ہو۔ یہی سب سے بڑا ہدیہ ، عالیشان افتخار اور بہترین جزا ہے ۔
بے شک مذکورہ روایات یا ان کے علاوہ دوسری روایات میں حج کا بے شمار ثواب اور بہت ہی اہمیت بیان ہوئی ہے اسی طرح اسکے ترک کرنے پر قرآن مجید اور اسلامی روایتوں میں سخت ترین عذاب کا ذکر ہوا ہے ۔ یہ سب اسی عظیم عبادت کی وجہ سے ہے جو مہمترین اسرار اور فلسفہ کی حاصل ہے ۔

قرآن مجید ایک مختصر اور پر معنی جملے میں حج کے متعلق فرماتا ہے : (لِیَشْہَدُوا مَنَافِعَ لَہُمْ ) لوگوں کو حج کی طرف دعوت دو۔ تاکہ اپنے فوائد کا مشاہدہ کریں ۔ (۴)
معصومین (علیہم السلام)کی روایات میں حج کے بہت سے فوائد کی طرف اشارہ ہواہے منجملہ ان میں سے کچھ یہ ہیں :۔

۱۔تزکیہ نفوس ، تہذیب اخلاق :
اخلاص اورتقویٰ کے ستونوں کی مضبوطی ۔جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں بیان ہوا ہے کہ قبولی حج اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے ابھی اپنی ماں سے جنم لیا ہو۔

دل کا پاک اورروح کا بلند مرتبہ ہونا اور پوری عمر کے گناہوں کے آثار کامٹ جانا ، تاثیر حج کی واضح اور روشن دلیل ہے ۔ لیکن یہ عظیم فائدے اس وقت حاصل ہوتے ہیں جب خانہ کعبہ کے زائرین اعمال حج کو انجام دیتے وقت اعمال کے اسرار کی طرف انتہائی دقت اورغورو فکر سے کام لیں ۔ پھر ان کا اٹھنے والا ہر قدم، معبود اور حقیقی محبوب کی طرف ہوگاپھر یہ عظیم اور معنوی عبادت ان کے دوسرے جنم کے مترادف ہوگی ۔

جو لوگ اس عبادت کے اسرار کی طرف توجہ رکھتے ہوئے اور انتہائی خلوص نیت کے ساتھ یہ معنوی امور انجام دینگے ۔ وہ اپنی عمر کے آخری لمحہ تک اسکے (حج) گہرے اثرات کو اپنے اندر محسوس کرتے رہیں گے ۔ اور جب بھی اس معنوی سفر کی یاداشت ، معنویت سے لبریز لمحات ، پاکی اور خلوص کو یاد کریں گے ان کی روح تازہ ہوجائے گی۔ (یہی حج کے تربیتی اور اخلاقی اثرات ہیں )

۲۔”سیاسی فوائد“ :
یہ اثرات ، حج کے تربیتی اثرات کے زیر سایہ ہی قرار پاتے ہیں جو کہ بے حد ضروری ہیں ۔ کیونکہ اگر حج اسی طرح انجام دیا جائے جس طرح اسلام نے حکم دیا ، اور خدا کے خلیل، بت شکن حضرت ابراہیم – نے پوری دنیا کو اسکے انجام دینے کی دعوت دی ، جو مسلمانوں کے عزت دین کی بنیاد کو مضبوط اور مستحکم کرنے، کلمہ وحدت، دشمنوں کے مقابلے میں قدرت و شوکت اور دنیا کے مشرکوں سے برائت کے اظہار کرنے کا باعث ہے تو یہ عظیم ترین اجتماع جو ہر سال خانہ کعبہ میںمنعقد ہوتاہے ،مسلمانوں کے لئے اپنی طاقت کو بنانے ،اپنی برادری اور بھائی چارہ کو مستحکم کرنے اور دشمنوں کی سال بھرکی سازشوں کو ناکام بنانے کا بہترین موقع ہیں ۔

لیکن افسوس کہ بعض مسلمان حج کے اخلاقی فلسفہ کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے، اسی طرح اسکے سیاسی فلسفے سے بھی بے خبر ہیں ۔ صرف ظاہر پر اکتفا کرتے ہیں اور اس عظیم عبادت کی روح سے آگاہ نہیں ہیں ۔

جیسا کہ ایک اجنبی سیاست داں کا کہنا ہے :(وائے ہو مسلمانوں پر اگر وہ حج کے معنی کو نہ سمجھیں اور وای ہو اسلام کے دشمنوں پر اگر مسلمان حج کے معنی کو سمجھ لیں )

۳۔ علمی اورثقافتی فوائد :
حج کے اہم ترین اثرات میں سے ایک اثر جس کا اشارہ معصومین (ع)کی روایتوں میں ہواہے وہ ثقافتی اثرہے ۔چونکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں جگہ جگہ رسول اسلام (ص) اور ائمہ معصومین (ع) کے آثار نظر آتے ہیں ۔دین کی عظیم شخصیتں ، دوسرے علوم و فنون کے ماہرین، مقررین ، مولفین کے علاوہ پورے دنیائے اسلام کے بڑے بڑے دانشور ہر سال حج میں شرکت کرتے ہیںتویہ تمام مسلمانوں کے لئے دینی اورعلمی اطلاعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کے افکار کو منتقل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ دوسری طرف حج میں ہر سال دنیا کے تمام مسلمانوں کے حالات معلوم ہوجاتے ہیں ۔ اگر اس کام کے لئے پروگرام اور منصوبے بنائے جائیں ۔ تو سال بھر تک دنیای اسلام میں اسکے عظیم آثار ظاہر ہوتے رہیں گے ۔

۴۔ اسلامی روایات میں ”فلسفہ اقتصادی “:
کو بھی حج کے اسرار اور اہداف میں شمار کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے کوئی یہ تصور کرے کہ حج کو اقتصادی مسائل کے ساتھ کیا کام ہے؟لیکن تھوڑی سی توجہ کرنے سے معلوم ہو گا کہ آج مسلمانوں کی بنیادی مشکل، اسلام کے دشمنوں کے ساتھ اقتصادی وابستگی ہے ۔ حج کے مراسم کے ساتھ ساتھ دنیا کے اقتصادی ماہروں سے بڑے سے بڑےسیمینار اور پروگرام منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ اس طریقے سے مسلمانوں کواستعمار سے نجات مل سکتی لہٰذا ان فوائد کے ذکر کرنے کے بعد اس موضوع کی اہمیت واضح ہوسکتی ہے(۵)

خلاصہ یہ ہے کہ حج ،اہم ترین اسرار کا حامل ہے جس پر مستقل کتابیں لکھی جائیں اور تمام مسلمانوں ، خاص طور سے جوانوں کو ان کی تعلیم دی جائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱). سورہ آل عمران: آیت ۹۷
(۲). (۳). وسائل الشیعہ،ج ۸، ابواب وجوب الحج ، باب ۶ ، حدیث ۵۔
(۴). سورہ حج: آیت ۳۸
(۵). یہ چار فلسفہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی ایک حدیث سے نقل ہوئے ہیں ۔ وسائل الشیعہ ، ج ۸ ، ص ۷، حدیث نمبر ۱۵ کی طرف مراجعہ کریں ۔