امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیاسی زندگی کا مختصر جائزہ

(آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی)
امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ اپنے جد بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے دوران امامت میں گزاری گئی زندگی جو تقریباً 12 سال [83-95 ھجری] کی مدت پر مشتمل ہے،
۲۔ اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے دوران امامت میں گزاری گئی زندگی جو تقریباً 19 سال کی مدت [95-114 ھجری] پر محیط ہے اور
۳۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے اپنے دوران امامت پر مشتمل مدت جو تقریباً 34 سال [114-148 ھجری] ہے اور تمام ائمہ علیھم السلام کی مدت امامت سے زیادہ ہے۔
ہماری بحث امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی کے تیسرے حصے پر متمرکز ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی مدت امامت کے دوران بنی امیہ کے پانچ اور بنی عباس کے دو خلفاء یکے بعد از دیگرے برسراقتدار آئے۔ بنی امیہ کے خلفاء یہ تھے:
۱۔ ھشام بن عبدالملک،
۲۔ ولید بن یزید،
۳۔ یزید بن ولید عرف ناقص،
۴۔ ابراہیم بن ولید،
۵۔ مروان بن محمد عرف مروان حمار۔
مروان حمار بنی امیہ کے سلسلے کا آخری حکمران تھا۔ اسکے دور میں اسلامی سلطنت بین عباس کی سرکردگی میں ایک وسیع بغاوت کا شکار ہو گئی جو بنی امیہ کے سلسلہ خلافت کے خاتمے اور بنی عباس کے برسراقتدار آنے کا باعث بنی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زندگی بنی عباس کے دو خلیفوں کے ہمراہ تھی۔
۶۔ عبداللہ بن محمد عرف سفاح،
۷۔ ابوجعفر منصور عرف دوانیقی۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی دوران امامت زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،
۱۔ اسلامی معاشرے کے تشخص کی بحالی کیلئے علمی جدوجہد اور
۲۔ مسلمانوں کی سیاسی
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی مکتب امام حسین علیہ السلام کو زندہ رکھنے اور کربلا کے ہدف کو آگے بڑھانے میں صرف کر دی۔
راہنمائی اور اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلابی ہدف کی حفاظت اور اسکا تسلسل۔
ہم اس مضمون میں دوسرے حصے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی تمام تر سیاسی جدوجہد کا محور کربلا کے مشن کو زندہ رکھنا اور اسے منحرف ہونے سے بچانا تھا۔ لہذا اس کیلئے آپ علیہ السلام نے دو بنیادی کام انجام دیئے۔
۱۔ اپنے جد بزرگوار حضرت امام حسین علیہ السلام کے مشن کو صحیح اور درست انداز میں پیش کیا، اور
۲۔ خود اور اپنے مخلص شیعوں کو تمام ایسی سیاسی تحریکوں میں شرکت سے دور رکھا جنکا مقصد جاہ طلبی اور حکومت پر قبضے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنی ساری زندگی مکتب امام حسین علیہ السلام کو زندہ رکھنے اور کربلا کے ہدف کو آگے بڑھانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات انجام دیئے:
۱۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کیلئے سفر کرنا:
امام جعفر صادق علیہ السلام کثرت کے ساتھ کربلای معلی جایا کرتے تھے اور باقاعدگی سے امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی زیارت کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی نظر میں یہ عمل امام حسین علیہ السلام کے مشن کو زندہ رکھنے اور اسے جاری رہنے میں انتہائی اہم کردار کا حامل تھا۔  امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے شیعیان اور محبین کو بھی زیارت قبر مبارک امام حسین علیہ السلام کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے۔ ایک موقع پر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر آپ میں سے کوئی شخص اپنی ساری زندگی حج کرنے میں گزار دے لیکن حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کیلئے نہ جائے تو گویا اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حق ادا نہیں کیا، کیونکہ حسین علیہ السلام کا حق وہ حق ہے جسکا ادا کرنا خدا نے تمام مسلمانوں کیلئے واجب قرار دیا ہے”۔ [مزار شیخ مفید، صفحہ 37]۔
امام جعفر صادق علیہ السلام ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
’’جو شخص بھی چاہتا ہے کہ قیامت کے دن نورانی دسترخوان پر مدعو ہو تو اسے چاہئے کہ وہ زائران امام حسین علیہ السلام میں شامل ہو جائے‘‘۔ [کامل الزیارات، باب 43، صفحہ 121]۔
۲۔ مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کا انعقاد:
امام جعفر صادق علیہ السلام اکثر مجالس عزاداری امام حسین علیہ السلام کا اہتمام کرتے تھے اور اپنے جد بزرگوار سید الشھداء علیہ السلام کی مظلومیت پر گریہ و نالہ کرتے تھے۔
ابوہارون مکفوف نقل کرتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: "اے اباہارون، امام حسین علیہ السلام کیلئے مرثیہ پڑھو”، میں نے مرثیہ پڑھا اور امام صادق علیہ السلام نے گریہ کیا، اسکے بعد فرمایا: "اس طرح سے مرثیہ پڑھو جس طرح تم اکیلے میں اپنے لئے پڑھتے ہو”، میں نے اپنے خاص انداز میں مرثیہ پڑھنا شروع کیا، میرا مرثیہ یہ تھا:
امرر علی جدت الحسین
فقل لاعظمہ الزکیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’اپنے جد حسین علیہ السلام کے روضے پر جائیں اور انکے پاکیزہ بدن کو کہیں ۔۔۔۔۔‘‘
امام صادق علیہ السلام نے دوبارہ اونچی آواز میں گریہ کرنا شروع کیا اور اسکے ساتھ ہی پردے کے پیچھے خواتین کے گریہ و زاری کی آوازیں بھی سنائی دینے لگیں۔ [کامل الزیارات، باب 33، صفحہ 104]۔
۳۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سلطنت اسلامی کے مختلف مقامات پر انقلابی تحریکوں نے جنم لیا جن میں سے سب سے زیادہ معروف حضرت زید بن علی بن حسین علیہ السلام کی انقلابی تحریک تھی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اگرچہ واضح طور پر اس انقلابی تحریک کی حمایت کا اعلان نہیں کیا لیکن اندر ہی اندر اپنی رضامندی کا اظہار کیا اور حضرت زید رح کے ہمراہ شہید ہونے والے تمام افراد کے گھر والوں کی مالی امداد کیا کرتے تھے۔ اسکے علاوہ آپ علیہ السلام نے حضرت زید کی تحریک کو انقلاب حسینی کا نام دیا اور انکے بارے میں فرمایا:
’’ایسا مت کہیں کہ زید نے بغاوت کی ہے۔ زید ایک سچے عالم تھے اور ہر گز طاقت کے خواہاں نہ تھے، وہ ہمیشہ لوگوں کو خاندان پیغمبر کے پسندیدہ شخص کی طرف دعوت دیتے تھے۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو حتماً اپنے وعدے پر عمل کرتے۔ انہوں نے حکومت سے ٹکر لی تاکہ اسکا خاتمہ کر سکے‘‘۔ [کامل الزیارات، باب 33، صفحہ 104]۔
۴۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ظالم حکمرانوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے شیعیان کو حکومت کی کسی پیمانے پر بھی مدد کرنے سے سختی سے منع کرتے تھے۔ امام علیہ السلام نے فقہی حکم "اعوان ظلمہ” کو متعارف کروایا جسکے تحت ظالم حکمرانوں کی مدد شرعا حرام تھا۔ ایک شخص جس کا نام عذافر تھا امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ امام علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ حکومت کے ساتھ لین دین کرتا رہتا ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
’’قیامت کے دن جب تمہیں بھی ظالم افراد کے ساتھ شامل کیا جائے گا تو اس وقت تمہاری حالت کیا ہو گی؟‘‘۔
امام علیہ السلام کے اس جملے نے اس شخص کواس قدر متاثر کیا کہ وہ سخت غمگین ہو گیا اور کچھ ہی عرصہ بعد دکھ اور غم کی وجہ سے فوت ہو گیا۔
اس حوالے سے امام جعفر صادق علیہ السلام کی متعدد روایات موجود ہیں جن میں ظالم حکومت سے مقابلہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ [وسائل الشیعہ، جلد 12، صفحہ 127]۔
یہ نکات ظاہر کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام پوری طرح سیاسی طور پر سرگرم عمل تھے اور جہاں تک آپ علیہ السلام کیلئے ممکن تھا مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی فرماتے تھے۔ اسی طرح امام صادق علیہ السلام اگر دیکھتے تھے کہ کوئی شخص یا گروہ صرف اور صرف طاقت اور حکومت کے حصول کیلئے سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے تو نہ صرف خود اسکے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے پیروکاروں کو بھی انکی ہمراہی سے سختی سے منع فرماتے تھے۔ لہذا جب ابوسلمہ خلال نے بنی امیہ کے خلاف امام صادق علیہ السلام کو خط لکھا اور ان سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے بیعت کرنے کی پیشکش کی تو آپ علیہ السلام نے خط پڑھنے کے بعد کہا:
مجھے ابوسلمہ سے کیا کام؟، وہ کسی اور کا پیروکار ہے”۔
جب قاصد نے امام صادق علیہ السلام سے اصرار کیا کہ خط کا جواب ضرور دیں تو آپ علیہ السلام نے اپنے خادم سے چراغ منگوایا اور ابوسلمہ کے خط کو جلا کر راکھ کر ڈالا۔ قاصد نے پوچھا کہ جواب کیا ہوا؟۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
’’جواب یہی تھا جو تم نے دیکھ لیا، جو کچھ دیکھا ہے جا کر اپنے دوست کو بتا دو‘‘۔ [مروج الذھب، جلد 3، صفحہ 253؛ الفخری، صفحہ 154]۔
امام جعفر صادق علیہ السلام ابوسلمہ کی نیت سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ انکے ساتھ مخلص نہیں ہے اپنی حکومت کے چکر میں ہے اور امام علیہ السلام کی شخصیت کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرنے کے درپے ہے۔ اس حقیقت کا مزید علم اس بات سے ہوتا ہے کہ ابوسلمہ نے ساتھ ہی علویوں کی دو اور شخصیات حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے بیٹے عمر اشرف اور حضرت امام حسن علیہ السلام کے پوتے عبداللہ محض کو بھی لکھے جن میں انکی بیعت کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
اسی طرح بنی عباس کے بانی ابومسلم خراسانی نے بھی امام صادق علیہ السلام کو خط لکھا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی پیشکش کی۔ امام علیہ السلام نے اسکی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اسے جواب میں لکھا:
تم میرے ساتھیوں میں سے نہیں ہو اور یہ وقت بھی میرے قیام کا وقت نہیں ہے”۔ [ملل و نحل شہرستانی، جلد 1، صفحہ 142]۔
امام صادق علیہ السلام کو معلوم تھا کہ انکے ساتھ تعاون انہیں حکومت تک پہنچانے کا سبب بننے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں دے سکتا اور انکی شکست کی صورت میں سوائے اپنے پیروکاروں کیلئے خطرات مول لینے کے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
اگر ہم امام صادق علیہ السلام کی سیاسی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیں تو جان لیں گے کہ آپ علیہ السلام سیاست برای سیاست کے قائل نہیں تھے بلکہ سیاست کو اعلی اسلامی مقاصد کے حصول کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام پوری طرح ہوشیار تھے کہ خود اور آپکے پیروکار کسی کے فریب کا شکار نہ ہو جائیں۔ امام صادق علیہ السلام اپنے پیروکاروں کو تاکید کرتے تھے کہ نہ بنی امیہ اور نہ ہی بنی عباس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کریں۔ اس طرح امام علیہ السلام نے ان دونوں جاہ طلب اور دنیا پرست ٹولوں کا مقابلہ کیا۔