ur

ماؤں کو حکیمانہ نصیحت

امام جعفر صادق کی علمی فوقیت کے اظہار میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے ماؤں کو وصیت کی کہ اپنے شیر خوار بچوں کو اپنے بائیں طرف سلائیں ۔صدیوں سے اس تاکید کو بے محل اور فضول کیا جاتا رہا جس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نے تاکید پر غور نہیں کیا تھا اور بعضوں نے اس پر عمل کرنے کو خطرناک سمجھا ان کا خیال تھا کہ شیر خوار بچے کو ماں کی بائیں جانب سلا دیا جائے تو ممکن ہے کہ ماں سوتے میں کروٹ بدلے اور بیٹے کو اپنے جسم کے نیچے کچل دے ۔محمد بن ادریس شافعی جو ۱۵۰ ہجری میں جعفر صادق (علیہ السلام ) کی پیدائش کے دو سال بعد غزہ میں پیدا ہوئے اور ۹۹ ہجری میں قاہرہ میں فوت ہوئے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماں کو اپنے بچے کو بائیں طرف سلانا چاہیے یا دائیں طرف ۔تو انہوں نے جواب دیا دائیں اور بائیں میں کوئی فرق نہیں۔ ماں اپنے بچے کو جس طرف آسان سمجھے اس طرف سلائے۔
بعض لوگوں نے جعفرصادق (علیہ السلام ) کے فرمان کو عقل سلیم کے خلاف قرار دیا چونکہ ان کے خیال میں دایاں بائیں سے زیادہ محترم ہے ان کا خیال تھا کہ مان اپنے بچے کو دائیں جانب سلائے تاکہ بچہ اس کے دائیں جانب کرامت سے بہرہ مند ہو سکے ۔امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کی اس وصیت کو نہ تو مشرق میں کوئی اہمیت دی گئی اور نہ ہی مغرب میں کسی نے اس کی قدرو قیمت کو جانا ۔ حتی کہ علمی احیاء کے دور میں جب کہ دانشور ہر علمی موضوع پر اچھی طرح غور کر رہے تھے کسی نے امام جعفر صادق (علیہ السلام ) کے قول کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی اور نہ ہی یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ آپ کا یہ فرمان علمی نقطہ نظر سے سود مند ہے یا نہیں ؟سولہویں ‘ سترہویں اور اٹھارویں صدی عیسوی کے ادوار جو علمی احیاءکے ادوار کہلاتے ہیں گزر چکے تھے اور انیسویں صدی عیسوی پہنچ آئی تھی اور اس صدی کی دوسری دھائی میں امریکہ کی کورنیل یونیورسٹی قائم ہو کر کام کرنا شروع کر چکی تھی عزراکورنیل جو کورنیل یونیورسٹی کا بانی تھا اور جس نے بچپن میں کافی مشکلات جھیلی تھیں نے فیصلہ کیا کہ اس یونیورسٹی میں شیر خوار اور تازہ پیدا ہونے والے بچوں پر تحقیق کیلئے ایک انسٹیٹیوٹ قائم کیا جائے اور اس انسٹیٹیوٹ نے پہلے ہی سال تدریس شروع کر دی اور اسے میڈیکل کالج سے منسلک کر دیا گیا ایک صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ اس یونیورسٹی میں تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں پر تحقیق کا کام جاری ہے بعید ہے کہ نوازائیدہ اور شیر خوار بچوں کے متعلق کوئی موضوع ایسا ہو جس پر اس انسٹیٹیوٹ میں تحقیق نہ ہوئی ہو۔
دنیا میں کوئی ایسا علمی مرکز نہیں ہے جس میں تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں کے بارے میں اس مرکز جتنی معلومات کا ذخیرہ ہو یہاں تک کہ تازہ پیدا ہونے والے اور شیر خوار بچوں کے اشتہارات اور سائن بورڈ پر تک بھی اس انسٹیٹیوٹ میں تحقیق ہوتی تھی ۔اس بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں اس انسٹیٹیوٹ کے محققین نے دنیا کے عجائب گھروں میں پائے جانے والے نو مولود بچوں کے متعلق سائن بورڈز پر نگاہ ڈالی تو انہیں پتہ چلا کہ ۴۶۶ سائن بورڈز میں سے اکثریت ایسی ہے جن میں ماؤں نے بچے کو بائیں جانب بغل میں لیا ہوا ہے ان میں سے ۳۷۳ سائن بورڈز پر ماؤں نے بچے کو بائیں جانب بغل میں لیا ہوا ہے اور صرف ۹۳ سائن بورڈ ایسے ہیں جن میں ماؤں نے بچے کو دائیں طرف بغل میں لیا ہوا ہے ۔اس بنا پر عجائب گھروں میں پائے جانے والے اسی فیصد سائن بورڈ ایسے تھے جن میں ماؤں نے بچے کو بائیں بغل میں لیا ہوا تھا نیویارک کی ریاست میں کورنیل یونیورسٹی سے منسلک چند زچہ خانے ایسے ہیں جو مرکز سے وابستہ ہیں اور وہاں پر کام کرنے والے ڈاکٹر صاحبان اپنے معائنے اور تحقیق کی رپورٹیں مذکورہ مرکز کو بھیجتے رہتے ہیں ان ڈاکٹروں کی طرف سے ۔ایک طویل مدت تک بھیجی جانے والی مذکورہ رپورٹوں کے مطابق پیدائش کے بعد پہلے دنوں میں جب نومولود ماں کی بائیں جانب سوتا ہے تو اسے دائیں جانب سونے کی نسبت زیادہ آرام ملتا ہے اور اگر اسے دائیں طرف سلایا جائے تو جلد ہی جاگ اٹھتا ہے اور رونے لگتا ہے ۔مذکورہ تحقیقی مرکز کے محقیقین نے اپنی تحقیق کا دائرہ کار صرف سفید فام امریکنوں تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے سیاہ فام اور ریڈ انڈین بچوں پر بھی تحقیق کی ہے اور طویل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس موضوع کا تعلق رنگ و نسل سے نہیں دنیا کی تمام اقوام کے بچوں میں یہ خاصیت موجود ہے کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز نے اس موضوع پر مسلسل تحقیق کی تھی اس مرکز کے ڈاکٹروں نے نا معلوم شعاعوں کے ذریعے جنین کا حاملہ عورت کے پیٹ میں معائنہ کیا لیکن ان کی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوا یہاں تک کہ ہو لو گرافی ایجاد ہو گئی ۔ہو لو گرافی کی ایجاد کے بعد اس تحقیقی مرکز کے ڈاکٹروں نے ہو لو گرافی کے ذریعے ماں کے پیٹ میں جنین کی تصویر لی ‘ انہوں نے دیکھا کہ ماں کے دل کی دھڑکن کی آوازوں کی لہریں جو تمام بدن میں پھیلتی ہیں جنین کے کانوں تک پہنچتی ہیں ۔اس مرحلے کے بعد ڈاکٹروں نے یہ معلوم کیا کہ کیا ماں کے دل کی دھڑکنوں کا وقفہ بھی جنین میں رد عمل ظاہر کرتا ہے یا نہیں ؟چونکہ ڈاکٹر صاحبان ماں کے دل کی دھڑکن کو ہلاکت کے اندیشے سے نہیں روک سکتے تھے لہذا انہوں نے اس تحقیق کو ممالین یعنی دودھ دینے والے جانوروں پر جاری رکھا انہوں نے جونہی ماں کے دل کی دھڑکن روکی انہوں نے دیکھا کہ جنین میں رد عمل پیدا ہوا ۔جب انہوں نے یہ تجربات بار بار دھرائے تو انہوں نے یقین کر لیا کہ ممالین جانوروں کے دل کی دھڑکن کو روکنے سے ان کے جنین میں رد عمل ظاہر ہوتا ہے اور ماں کی موت کے بعد جنین بھی ہلاک ہو جاتا ہےکیونکہ ماں کے دل سے نکلنے والی ایک بڑی شریان جنین کو خون پہنچاتی ہے جو اس کی غذا بنتا ہے اور جب دل ساکن ہوجائے گا تو جنین کو غذا نہیں پہنچے گی اور وہ ہلاک ہو جائے گی ۔
کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کے سائنس دانوں نے متعدد تجربات سے یہ اخذ کیا ہے کہ بچہ نہ صرف یہ کہ ماں کے پیٹ میں اس کے دل کی دھڑکنوں کو سننے کا عادی ہو جاتی ہے بلکہ ان دھڑکنوں کا اس کی زندگی سے بھی گہرا تعلق ہے اگر یہ دھڑکن رک جائے تو بچہ ماں کے پیٹ میں بھوک سے مر جائے ۔ماں کے دل کی دھڑکن سننے کی جو عادت بچے کو پیدائش سے پہلے ہوتی ہے وہ اس میں اس قدر نفوذ کر جاتی ہے کہ بچہ پیدائش کے بعد اگر ان دھڑکنوں کو نہ سنے تو پریشان ہو جاتا ہے بچہ ان دھڑکنوں کی بخوبی پہچان رکھتا ہے جس وقت بچے کو مان کی بائیں جانب سلایا جاتا ہے تو بچہ ان دھڑکنوں کو سن کر پر سکون رہتا ہے لیکن چونکہ دائیں جانب دل کی دھڑکنیں سنائی نہیں دیتیں لہذا بچہ مضطرب ہو جاتا ہے ۔اگر کورنیل یونیورسٹی کا بانی نو مولود اور شیر خوار بچوں پر تحقیق کا یہ مرکز قائم نہ کرتا تو اس موضوع پر ہرگز تحقیق نہ ہوتی اور یہ معلوم نہ ہو سکتا کہ امام جعفر صادق (علیہ السلام ) نے یہ کیوں فرمایا کہ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو بائیں طرف رکھیں اور سلائیں ؟ اور اس میں کیا مصلحت اور فوائد مضمر ہیں ۔ان میں جس جس کمرے میں نو مولود لیٹے ہوتے ہیں وہاں ایک مشین رکھی ہوتی ہے جس سے ماں کے دل کی دھڑکنوں جیسی آواز سنائی دیتی ہے یہ آواز ایک ریسیور کے ذریعے ہر بچے کے کان تک پہنچائی جاتی ہے۔ بالغ انسان چاہے مرد ہو یا عورت عموماً اس کا دل ایک منٹ میں ۷۲ بار دھڑکتا ہے کورنیل یونیورسٹی سے وابستہ تحقیقی انسٹی ٹیوٹ میں قائم شیر خوار بچوں کی پرورش کے مذکورہ مراکز میں اگر ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ایک سو دس سے بیس ہو جائیں تو ایک کمرے میں موجود تمام بچے رونے لگتے ہیں پس سائنس دانوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ۷۲ دھڑکنیں فی منٹ ہونا چاہیے تاکہ بچے پریشان نہ ہوں اور رونے نہ لگیں ۔ مذکورہ مراکز میں چند مرتبہ یہ تجربات دھرائے گئے ہیں ۔کچھ نو مولودوں کو ایک ایسے کمرے میں رکھا گیا جہاں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں اور کچھ نو مولودوں کو ایک دوسرے کمرے میں رکھا گیا جہاں وہ ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں سن سکتے تھے اس دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ نو مولود جن کے کانوں تک ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں پہنچ رہی تھیں حالانکہ دونوں کمروں والے بچوں کی غذا ایک جیسی تھی لیکن وہ کمرہ جہاں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنیں سنائی دے رہی تھیں اس کے بچے زیادہ بھوک کا اظہار کرتے ہوئے غذا کھاتے تھے اور جب کہ اس کے برعکس دوسرے کمرے والے کم بھوک والے ہوتےتھے ۔کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز سے وابستہ شیر خوار بچوں کی پرورش کے مراکز میں ماں کے دل کی مصنوعی دھڑکنوں کی شدت کے لحاظ سے بھی تحقیق کی گئی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر یہ دھڑکنیں ماں کے دل کی قدرتی دھڑکنوں کی آواز سے زیادہ شدید ہوں تو بچے مضطرب ہو کر رونے لگتے ہیں ۔
کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز کے ایک ڈاکٹر نے دنیا کے براعظموں کا سفر کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ مختلف ممالک میں مائیں اپنے بیٹوں کو اٹھائے ہوئے کسی طرف گود میں لیتی ہیں ؟یہ ڈاکٹر جس کا نام ڈاکٹر لی سالک بیان کیا جاتا ہے اور ابھی تک کورنیل یونیورسٹی کے تحقیقی مرکز میں کام میں مشغول ہے اس کے بقول دنیا کے تمام براعظموں میں مائیں اپنے بیٹوں کو بائیں طرف کی بغل میں لیتی ہیں اور وہ خواتین جو اپنے بیٹوں کو دائیں طرف والی بغل میں لیتی ہیں ان میں سے اکثر بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی ہیں۔خصوصاً جب وہ ٹوکری اٹھاتی ہیں تو اپنے بچوں کو دائیں طرف والی آغوش میں لیتی ہیں تاکہ وہ بائیں ہاتھ سے ٹوکری اٹھا سکیں ۔
ڈاکٹر لی سالک نے تحقیقی مرکز سے منسلک بچوں کی پرورش گاہ میں زچہ خواتین سے جو پیدائش کے بعد وہاں سے چلی جاتی ہے اور نو مولودوں کو بائیں طرف بغل میں لیتی ہیں سوال کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اپنے بچے کو بائیں بغل میں کیوں رکھتی ہیں ؟لیکن ابھی تک کسی خاتون نے ڈاکٹر لی سالک کو جواب نہیں دیا کہ چونکہ دل سینے کے بائیں حصے میں واقع ہے اور بچوں کیلئے اس کی دھڑکنوں کی آواز سننا مفید ہے ، مائیں اس بات سے آگاہ نہیں کہ وہ بچے کو بائیں طرف رکھنے کو کیوں ترجیح دیتی ہیں پھر بھی وہ بچے کو بائیں طرف بغل میں رکھتی ہیں ۔یہاں تک کہ افریقہ کے سیاہ فام قبائل کی عورتیں جب بچے کو پیٹھ پر نہیں اٹھاتیں تو اسے بائیں جانب بغل میں رکھتی ہیں اور افریقہ کے تمام سیاہ فام قبائل میں خواتین کو علم ہے کہ بچے کو بائیں طرف سینے پر رکھنے سے اس کی بھوک بڑھتی ہے اور وہ خوب دودھ پیتا ہے جب کہ دائیں طرف کے اثرات اس کے برعکس ہیں۔
ڈاکٹر لی سالک نے ماؤں سے سنا ہے کہ رات کو بچہ جب بھوکا ہوتا ہے تو اندھیرے میں حیران کن تیزی سے مان کے پستان کو تلاش کرکے اس پر منہ رکھ کر دودھ پینا شروع کر دیتا ہے ۔انہیں تعجب ہے کہ بچہ روشنی کے بغیر ہی ماں کے پستان کو ڈھونڈ کر اس سے دودھ پینا شروع کر دیتا ہے۔ڈاکٹر لی سالک نے ماؤں کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں ماں کے پستان سے دودھ پینے میں ماں کے دل کی دھڑکن بچے کی مدد کرتی ہے اور جب بچہ ماں کے دل کے دھڑکنے کی آواز سنتا ہے تو فوری پستان کو ڈھونڈ کر دودھ پیتا ہے ۔