ur

بچوں کو منظم کيسے کيا جائے؟

بچے اکثر معاملات ميں خود کو منظم نہيں کر پاتے۔ خصوصاً 6 سے 9 سال کے اکثر بچے اپنے معمولات کا اوقات کار طے کرنے ميں ذمہ داري کا مظاہرہ نہيں کرتے، اسکول کے کام پر توجہ نہيں ديتے، دوستوں ميں زيادہ وقت گزارتے ہيں اور گھر دير سے آتے ہيں۔ والدين کے لئے يہ تمام چيزيں پريشاني کا باعث بنتي ہيں اور ان تمام معاملات کے ساتھ خوش اسلوبي سے نمٹنا خاصا مشکل کام نظر آتا ہے۔ بچوں کے گھر سے باہر کھيلنے کے دوران بھي والدين کو ان کي خيريت سے متعلق تشويش لاحق رہتي ہے۔بچوں کي والدين سے لڑائي کا دلچسپ پہلو يہ ہے کہ يہ گھر کي چارديواري تک ہي محدود ہوتي ہے۔ تاہم اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کا طريقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ يعني والدين بچوں کي ان حرکات پر مختلف ردِعمل کا اظہار کرتے ہيں۔ کچھ صرف پريشان ہونے پر اکتفا کرتے ہيں اور بعض پر بے بسي کي کيفيت طاري ہوتي ہے اور کچھ والدين تشدد پر اتر آتے ہيں اور عموماً بچوں سے الجھنے کا آغاز ناشتے کي ميز سے ہي ہوجاتا ہے۔صبح کا وقت بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے نہايت اہميت کا حامل ہے۔ کچھ بچے ‘رات کے لوگ‘‘ ثابت ہوتے ہيں۔ وہ رات کو دير سے سوتے ہيں اور لازمي طور پر صبح کو دير سے بيدار ہونا پسند کرتے ہيں۔ ظاہر ہے يہ صورتحال والدين کے لئے پريشاني کا باعث ہوتي ہے۔ وہ انہيں وقت پر اسکول بھيجنے کے خواہاں ہوتے ہيں تاہم والدين کو يہ بات ذہن نشين کر ليني چاہيے کہ بچوں کے لئے 8 سے 11 گھنٹے کي نيند ضروري ہے۔ وہ انہيں جگاتے وقت اس بات کا خيال رکھيں کہ کيا بچہ اپني نيند پوري کرچکا ہے؟ اس کے علاوہ بچہ کو جلد سونے کے لئے تيار کريں اور اسے اس قسم کے مشاغل سے دور رکھيں جس ميں اس کے رات دير تک جاگنے کا احتمال ہو۔دراصل بچہ سونے کا پہلے عادي ہوتا ہے اس کے بعد اسے اسکول بھيجا جاتا ہے۔ چنانچہ شروع شروع ميں بچے کو اس ضمن ميں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے اسکول کي نئي ذمہ دارياں بوجھ لگتي ہيں اور اسکول جانے کا عمل تھکا دينے کي حد تک تکليف دہ محسوس ہوتا ہے۔ يہاں والدين کو چاہيے کہ وہ اسے اعتماد ديں، اسے بتائيں کہ اسکول جانا اور تعليم کا حصول اس کے لئے کتنا ضروري ہے۔ اسے بتائيں کہ ہم نہيں چاہتے تمہيں خود سے دور کريں، تمہيں جلدي اٹھائيں ليکن ہميں تمہاري بہتري کے لئے ايسا کرنا پڑتا ہے۔
عام طور پر ايسا بھي ہوتا ہے کہ باپ رات کو دير سے گھر آتے ہيں اور بچے ان سے کھيلنا پسند کرتے ہيں، خصوصاً ايسے بچے جن کا جھکاؤ باپ کي طرف زيادہ ہو۔ لہٰذا لازمي طور پر بچے صبح دير سے اٹھيں گے۔ بچے کو اسکول ميں داخل کرانے سے دو تين ماہ قبل اگر وہ رات کو دير سے سونے کا عادي ہے تو اس کي عادت کو بدلنے کي کوشش کريں۔ اس طرح وہ آنے والے وقت کے لئے خود کو تيار کرے گا۔ملازمت پيشہ خواتين کے لئے بھي صبح بچوں کو وقت پر تيار کر کے اسکول بھيجنا اور خود بھي وقت پر دفتر جانا خاصا مشکل واقع ہوتا ہے۔ 4 اور 5 سال کي عمر کے بچے وقت کي اہميت سے ناآشنا ہوتے ہيں۔ وہ والدين کي جانب سے ‘جلدي کرو‘‘ کا شور مچانے کے باوجود جلدي کرنے پر تيار نہيں ہوتے بلکہ دانستہ چھوٹے چھوٹے بہانے بناتے ہيں۔ جيسے ميں ہرے رنگ کي نہيں کالي قميض پہنوں گي يا ميں اپنا نيا والا لنچ باکس لے کر جاوں گي۔ ميري پينسل ختم ہوچکي ہے ابھي لاکر ديں وغيرہ وغيرہ۔اس قسم کے معاملات سے نمٹنے کے لئے بہتر ہے کہ آپ ان کي تياري کا پروگرام دو مراحل ميں تقسيم کرليں۔ ان سے پوچھيں کہ کل آپ کو کس چيز کي ضرورت پڑسکتي ہے اور يہ کہ آپ کل کونسا لباس پہننا پسند کريں گي۔ اگر آپ کا پروگرام کسي پارٹي ميں جانے کا ہے تو ايک روز پہلے لباس کا تعين آپ کا وقت بچا دے گا اور اسکول جانے والے بچے لازماً يونيفارم ہي پہنيں گے۔ ہوسکے تو انہيں شام کو ہي نہلا ديں۔ اس طرح صبح اسکول جاتے وقت آپ کے چند قيمتي منٹ بچ سکتے ہيں۔صبح کا وقت ايسا نہيں ہے کہ آپ بچوں کو منظم کرنے کا درس ديں اور نہ آپ اس دوران اصرار کريں۔ آپ انہيں اسکول چھوڑتے وقت خاموش رہيں تو زيادہ بہتر ہے۔ صبح کے وقت چھوٹي چھوٹي باتوں پر آپ کا شور مچانا نہ صرف آپ کے لئے بلکہ بچوں کے لئے بھي مفيد ثابت نہيں ہوگا۔ اس طرح سارا دن آپ کا بدمزگي کي نذر ہوسکتا ہے اور آپ ممکن ہے پورا دن چڑچڑے پن کا شکار رہيں۔ لہٰذا بہت بہتر ہے کہ صبح کے وقت آپ کم سے کم گفتگو کريں۔ ياد رکھيں صبح کا پريشان کن آغاز شام کا پريشان کن اختتام بھي ثابت ہوسکتا ہے۔اکثر بچے اسکول جانے سے قبل بار بار ماں کا منہ چومتے ہيں۔ بعض اپنے تمام کھلونوں سے باري باري پيار کرتے ہيں خصوصاً بچياں اس معاملے ميں زيادہ جذباتيت کا اظہار کرتي ہيں؛ بھالو وغيرہ سے باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے بچوں کو ديکھا گيا ہے۔ اس دوران بعض مائيں پريشاني کا اظہار کرتي ہيں اور اکثر اوقات ڈانٹ بھي ديتي ہيں۔ يہ طريقہ مناسب نہيں۔ ايسي صورت ميں بچے کو اعتماد کي ضرورت ہوتي ہے۔ انہيں بتايا جائے کہ تمہارے کھلونوں کو کوئي نہيں چھيڑے گا۔ جب تم اسکول سے واپس آو گے تو يہ تمہيں ايسے ہي مليں گے کوئي چيز يہاں سے غائب نہيں ہوگي۔خوش قسمتي سے جيسے جيسے بچے بڑے ہوتے جاتے ہيں اپني عادات کو بھي بدلتے جاتے ہيں۔ 5 سے 6 سالہ بچوں کے لئے يہ ضروري ہے کہ انہيں الفاظ کي ادائيگي ميں مہارت حاصل کرنے ميں مدد دي جائے تاکہ وہ نئے الفاظ سيکھ کر اور ان کي ادائيگي کر کے لطف اندوز ہوں۔ اس دوران وہ ادھوري ہي سہي ليکن بعض معاملات پر بحث کرنا شروع کرديں گے۔ انہيں اور آپ کو الفاظ سے کھيلنے ميں مزا آئے گا۔
اکثر گھروں ميں کھانے کا وقت ميدانِ جنگ کا نقشہ پيش کرتا ہے۔ اگر تين چار بچے ہوں تو وہاں اس قسم کي صورتحال کا والدين کو اکثر سامنا رہتا ہے۔ کھانے کي ميز پر والدين کو تحمل و برداشت اختيار کرنے کي سب سے زيادہ ضرورت ہوتي ہے۔ خصوصاً ايسے وقت جب آپ اتني محنت سے کھانا تيار کريں اور کوئي بچہ کھانے سے انکار کردے اور اس چيز کا مطالبہ کرے جو فوري طور پر بنانا آپ کے لئے ممکن نہيں اور آپ کي کوئي دھمکي بھي کارگر ثابت نہ ہو تو آپ کے لئے خود پر قابو رکھنا کافي مشکل ہوجاتاہے۔دراصل کھانا وہ واحد عمل ہے جس ميں کمسن بچہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پر مکمل اختيار رکھتا ہے۔ لہٰذا کھانے سے انکار کر کے وہ اپنے اس خودمختارانہ احساس کو تقويت ديتا ہے اور کسي حد تک اس سے لطف اندوز بھي ہوتا ہے۔ اس ميں وہ ماں کو ہدايت ديتا ہے کہ مجھے فلاں چيز چاہيے۔ وہ ماں کي اس کمزوري سے واقف ہوتا ہے کہ کھانے کے معاملے ميں وہ اس کي خواہش کا احترام کرنے پر مجبور ہے جب کہ بڑي عمر کے بچے بھي اس معاملے ميں چھوٹے بچوں سے زيادہ مختلف نہيں ہوتے۔ وہ بھي ہر کام اپني مرضي سے کرنا چاہتے ہيں۔ انہيں اپنے ہاتھ سے کام کر کے زيادہ خوشي محسوس ہوتي ہے۔ يہي وجہ ہے کہ وہ کھانا خود اپني پليٹ ميں ڈالنا پسند کريں گے۔ اسي طرح پاني کي بوتل کو خود کھول کر گلاس ميں انڈيلنے ميں انہيں مزا آتا ہے اور اس قسم کي ضديں اکثر کھانے کي ميز کا حليہ بگاڑ ديتي ہيں جو يقيناً ماں کے لئے تکليف کا باعث ہوتا ہے۔بچوں کي ان چھوٹي چھوٹي ضدوں پر آپ بھي جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ نہ کريں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ان کے مطالبات پر ان کا ساتھ ديں۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کہتا ہے کہ ميں خود بوتل کھولوں گا تو آپ اس کو سکھائيں کہ بوتل کيسے کھولي جاتي ہے۔ اسي طرح لنچ باکس کو کھولنے کے معاملے ميں ان کي رہنمائي کريں۔ آپ کوئي بھي چيز خود پہلے ہلکي سي کھول ديں، يعني ڈھکن کو ڈھيلا کرديں اور پھر وہ چيز بچوں کے ہاتھ ميں پکڑا ديں۔ اس سے بچے کي ضد بھي پوري ہو جائے گي اور کسي قسم کے نقصان کا احتمال بھي نہيں رہے گا۔
اس کے علاوہ يہ بھي ديکھا گيا ہے کہ بعض والدين دودھ کے معاملے ميں بچوں پر سختي کرتے ہيں۔ انہيں دودھ زبردستي پلايا جاتا ہے۔ اگر کوئي بچہ دودھ پينے سے انکار کردے تو ناشتے ميں ايک کپ دہي اسے کافي غذائيت فراہم کردے گا يا ايک کپ پھلوں کا جوس بھي دودھ کا بہتر نعم البدل ثابت ہوگا۔ ناشتے کے معاملے ميں بھي بچوں پر زبردستي نہ کريں تو بہتر ہے۔ آپ کي کوشش ہوني چاہيے کہ ناشتہ ہلکا پھلکا مگر صحت بخش ہو۔ کسي بھي نئي غذا سے متعارف کراتے وقت نرمي کا مظاہرہ کريں۔ اگر آپ انہيں مجبور کريں گے تو بچے چڑ جائيں گے اور اس طرح اچھي چيز پہلے خود کھائيں پھر اس کے ذائقے کي تعريف کريں۔ اس سے بچوں کو کھانے کي ترغيب ملے گي۔اکثر ديکھا گيا ہے کہ زبردستي ٹھونسي گئي غذا بجائے فائدے کے بچوں کے لئے نقصان دہ بھي ثابت ہو جاتي ہے۔ بچوں کے سامنے پوري غذا رکھنے سے بہتر ہے کہ ان کي پليٹ ميں غذا کا تھوڑا سا حصہ رکھيں۔ اگر وہ اس کو پسند کريں تو مقدار بڑھاتے جائيں۔ اس سے غذا کے ضياع کا احتمال جاتا رہے گا۔جب بچے اسکول سے واپس آئيں اور کھانے کي ميز پر بيٹھ جائيں تو آپ انہيں کھانے کے ادب و آداب سکھانے سے گريز کريں۔ اس وقت وہ کسي قسم کے ليکچر سننے کے موڈ ميں نہيں ہوں گے اور نہ آپ کي باتيں ان پر اثر کريں گي۔ بچے اس وقت تھکے ہوئے، چڑچڑے اور بھوکے ہوتے ہيں۔ انہيں سمجھانے کے لئے چھٹي کے دن کا انتخاب کريں، اس دن بچے پرسکون ہوں گے اور آپ کي بات زيادہ توجہ سے سنيں گے۔
بچوں کي خوراک سے متعلق چند باتوں کو ہميشہ ذہن ميں رکھيں:٭ جب آپ کا بچہ مزيد کھانا کھانے سے انکار کردے تو اسے زبردستي کھانے پر مجبور نہ کريں۔ يہاں تک کہ اگر بچہ جسامت ميں کمزور ہے تب بھي اسے زيادہ کھانے پر مجبور نہ کريں۔ آپ اس کي خوراک کو باقاعدہ بنائيں يعني آپ کو معلوم ہونا چاہيے کہ آپ کے بچے کي اصلي خوراک کيا ہے۔٭ بچوں کو دي جانے والي خوراک بہر صورت متوازن ہوني چاہيے اس ميں ہر قسم کي غذائيت کا خيال رکھا جانا ضروري ہے۔٭ دودھ اور دہي کا استعمال ضرور کرائيں۔٭ نئي خوراک سے بچوں کو متعارف کراتے رہيں۔ ايک ہي قسم کي غذا سے بچہ اکتاہٹ کا شکار ہوجائے گا۔٭ خوراک کا تعين کرتے وقت بچوں سے بھي مشورہ کريں اور بہتر ہوگا کہ پورے ہفتے کا چارٹ تيار کريں۔٭ بچوں کو ناشتے کے بغير کبھي اسکول نہ بھيجيں۔ اگر کوئي بچہ ناشتے سے غفلت کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس عادت کي مناسب طريقے سے حوصلہ شکني کريں۔٭ پاپ کورن ، بسکٹ، ٹافياں، چيونگم وغيرہ سے بچوں کو دن کا آغاز نہ کرنے ديں۔ ہوسکے تو حتي الامکان ان چيزوں سے بچوں کو دور رکھيں۔ کيونکہ ان چيزوں کو کھانے سے بچوں کو بھوک کم لگتي ہے اس طرح وہ وقت پر کھانا نہيں کھائيں گے۔٭ سارا دن کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کي عادت بچوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتي ہے اس سے وہ موٹاپے کا شکار بھي ہوسکتے ہيں ۔ لہٰذا بچوں ميں اس عادت کو پختہ نہ ہونے ديں۔٭ غذا ميں سلاد اور پھلوں کو ضرور شامل رکھيں اس سے ان کي ہر وقت کھاتے رہنے کي عادت ميں بھي کمي آئے گي۔