ur

چہلم امام حسینؑ سے واپسی کا سفر

 

(نذر حافی)

انسان مسلسل سیکھتا ہے، اپنے استادوں، ماں باپ، کتابوں، معاشرے اور دوستوں حتٰی کہ جانوروں سے بھی سیکھتا ہے۔ جانوروں میں سے ایک شہد کی مکھی بھی ہے۔ شہد کی مکھیاں سارا دن پھولوں کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہیں۔ ایک پھول سے دوسرے پھول کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہیں، لیکن اگر ان کے چھتے پر حملہ ہوجائے تو سب متحد ہوکر دفاع کرتی ہیں۔ شہد کی مکھیوں میں بھی اتنا شعور ہے کہ وہ دفاع کے وقت متحد ہوجاتی ہیں، لیکن ہم انسان ہونے کے باوجود یہ سمجھنے سے عاری ہیں کہ دفاع کے وقت متحد ہو جانا چاہیے۔ جب ہمارے مقدسات پر حملہ ہوتا ہے، ہماری محترم شخصیات کی آبرو خاک میں ملائی جاتی ہے، ہمارے ہاں زائرین امام حسینؑ کی اہانت کی جاتی ہے تو ہم متحد ہوکر دفاع کرنے کے بجائے گروہوں اور پارٹیوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، خصوصاً زائرین کے مسائل کو پارٹیوں کی عینک لگاکر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے میں زائرین بے چارے اپنی مشکلات کے حل کے لئے کبھی ایک پارٹی اور ایک شخصیت سے امیدیں باندھتے ہیں اور کبھی دوسری پارٹی اوردوسری شخصیت سے۔

اس وقت مجھے یہ فرضی واقعہ یاد آتا ہے کہ ایک صاحب عمرہ ادا کرنے گئے، جب طوافِ کعبہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر والوں کو فون کیا کہ فلاں پیر صاحب کی قبر پر جا کر میرے لئے دعا کریں۔ ہمارے ہاں زائرین امام حسینؑ کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہے کہ وہ جا تو امام حسینؑ کی زیارت کے لئے رہے ہیں جبکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے پارٹیوں اور شخصیات کی قبروں سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ زائرین کو چاہیے کہ اس سفر زیارت میں جہاں اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے دعا کریں، وہیں حضرت امام حسینؑ سے خصوصی طور پر یہ دعا بھی کریں کہ زائرین کو ستانے والے لوگ اگر قابل ہدایت ہیں تو خدا انہیں ہدایت عطا کرے اور قابل ہدایت نہیں ہیں تو خدا جلد از جلد انہیں ہلاک کرے اور ان کے شر سے زائرین کو نجات عطا کرے۔ زائرین کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر زائرین مسلسل یہ دعا کریں تو میرا ایمان ہے کہ واپسی پر مطلع صاف ہوگا۔ میں یہاں پر زائرین کے لئے یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ چہلم امام حسینؑ کا ایک عملی پہلو ہے اور دوسرا نظریاتی پہلو ہے۔ عملی اعتبار سے چہلم امام حسینؑ میں شرکت ایک سنت ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی جا رہی ہے اور نظریاتی اعتبار سے یہ چہلم کی سنت ایک نظریاتی جنگ ہے، جسے نظریاتی محاذوں پر لڑے جانے کی ضرورت ہے۔

کسی بھی نظریئے کے دفع اور پرچار کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں:
۔عمق
2۔تحلیل
3۔استدلال
چہلم امام حسینؑ کے حوالے سے نظریاتی طور پر ہمارا مطالعہ عمیق ہونا چاہیے۔ ہمیں اس سلسلے میں اٹھنے والے سوالات اور شبھات کا علم ہونا چاہیے اور ان کے جوابات علماء کرام اور مستند کتابوں سے معلوم کرنے چاہیے۔ دوسرے مرحلے میں ہمیں ان عمیق معلومات کی روشنی میں تجزیہ و تحلیل کرنا آنا چاہیے۔ چہلم امام حسینؑ کے سفر میں ہماری معلومات میں جو اضافہ ہو اور ہماری آنکھیں جو کچھ دیکھیں، ہمیں اس کی صحیح تحلیل کرنی چاہیے۔ تیسرے مرحلے میں ہمیں واپسی کے وقت عمیق مطالعے اور تحلیل کے ہمراہ استدلال بھی کرنا آنا چاہیے۔ یعنی ہم اس سفر کے معنوی و روحانی مشاہدات و تجربات اور اپنے عملی مطالعات کو احسن استدلال کے ذریعے دوسروں تک پہنچائیں بھی۔

یاد رکھنے کے قابل بات یہ ہے کہ فقط چہلم کے سفر میں پیدل شرکت کر لینے سے یہ سنت ادا نہیں ہوجاتی بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ واپسی کے دوران ہم اس سفر کے ثمرات اپنے ہم وطنوں تک پہنچائیں، تاکہ جو کسی بھی وجہ سے اس سفر میں شریک نہیں ہوسکے، وہ بھی اس سفر کی معنوی لذت کو چکھیں۔ واپسی کے دوران بھی جہاں دعا و مناجات کرتے رہنے کی ضرورت ہے، وہیں زائرین ِ امام حسین ؑ کو ستانے والوں کے لئے بھی ہدایت یا ہلاکت کی دعا کرتے رہیں۔ اس ملک کو سدھارنے کے لئے جہاں اور بہت ساری محنت اور کاوش کی ضرورت ہے، وہیں ہماری دعاؤں کی بھی ضرورت ہے اور دعا ایک ایسا ہتھیار ہے کہ جس کا وار کبھی خطا نہیں جاتا۔