ur

حیاتِ امام علی ابن ابی طالب علیھما السلام ولادت تا شہادت

ولادت
حضرت علىؑ نے 13 رجب بروز جمعہ “عام الفيل” كے تيسويں سال ميں ( بعثت سے دس سال قبل) خانہ كعبہ ميں ولادت پائي اس نومولود بچے كے والد كا نام عمرانؑ تھا وہ قبيلہ بنى ہاشم كے سردار تھے اور مكہ كے بااثر لوگوں ميں شمار كئے جاتے تھے آپكى والدہ فاطمہؑ بنت اسد ابن ہاشم ابن عبد مناف تھيں۔ آپ(ع) كو خانہ كعبہ كے طواف كے درميان درد زہ محسوس ہوا چنانچہ آپ معجزے كے زير اثر خانہ كعبہ كى عمارت ميں داخل ہو گئيں جہاں حضرت علىؑ كى ولادت ہوئي۔ خانہ كعبہ ميں امير المومنين حضرت علىؑ كى ولادت كو عام شيعہ مورخين و محدثين اور علم انساب كے دانشوروں نے اپنى كتابوں ميں تحرير كيا ہے اور اب تك كسى دوسرے شخص كو يہ فضيلت حاصل نہيں ہوئي ہے ۔شیخ صدوق ؒنے اپنی تین کتابوں میں متصل سند کے ساتھ سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں یزید بن قعنب کو یہ کہتے سنا کہ میں عباس بن عبد المطلب( رض) اور بنی عبد العزیٰ کے کچھ لوگوں کے ساتھ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک فاطمہ بن اسدؑ (مادر حضرت علی علیہ السلام) خانہ کعبہ کی طرف آئیں۔ وہ نو ماہ کے حمل سے تھیں اور ان کے درد زہ ہو رہا تھا۔ انھوں نے اپنے ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھایا اور کہا کہ اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کی باتوں کی تصدیق کرتی ہوں اور یہ بھی تصدیق کرتی ہوں کہ اس مقدس گھر کی بنیاد انھوں نے ہی رکھی ہے۔ بس اس گھر کی بنیاد رکھنے والے کے واسطے سے اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے، میرے لئے اس پیدائش کے مرحلہ کو آسان فرما۔
یزید بن قعنب کہتا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ خانہ کعبہ میں پشت کی طرف دراڑ پیدا ہوئی۔ فاطمہ بن اسدؑ اس میں داخل ہو کر ہماری نظروں سے چھپ گئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے اس واقعہ کی حقیقت جاننے کے لئے خانہ کعبہ کا تالا کھولنا چاہا، مگر وہ نہ کھل سکا، تب ہم نے سمجھا کہ یہ امر الہی ہے۔
چار دن کے بعد فاطمہؑ بنت اسد علیؑ کو گود میں لئے ہوئے خانہ کعبہ سے باہر آئیں اور کہا کہ مجھے پچھلی تمام عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔ کیونکہ آسیہ بن مزاحم (فرعون کی بیوی) نے اللہ کی عباد ت وہاں چھپ کر کی جہاں اسے پسند نہیں ہے (مگر یہ کہ ایسی جگہ صرف مجبوری کی حالت میں عبادت کی جائے۔) مریم بنت عمران (مادر حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے کھجور کے پیڑ کو ہلایا تا کہ اس سے تازی کھجوریں کھا سکے۔ لیکن میں وہ ہوں جو بیت اللہ میں داخل ہوئی اور جنت کے پھل اور کھانے کھائے۔ جب میں نے باہر آنا چاہا تو ہاتف نے مجھ سے کہا کہ اے فاطمہ! آپ نے اس بچے کا نام علیؑ رکھنا۔ کیونکہ وہ علی ؑہے اور خدائے علی و اعلیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے، اسے اپنے احترام سے احترام دیا ہے اور اپنے علم غیب سے آگاہ کیا ہے۔ یہ بچہ وہ ہے جو میرے گھر سے بتوں کو باہر نکالے گا، میرے گھر کی چھت سے آذان کہے گا اور میری تقدیس و تمجید کرے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس سے محبت کرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں اور بد بخت ہیں وہ لوگ جو اس سے دشمنی رکھیں اور گناہ کریں۔
پیغمبرﷺكے زير سایہ آپ كى پرورش
حضرت محمدﷺپر جب پہلى مرتبہ وحى نازل ہوئي تو اس وقت حضرت علي(ع) كى عمر دس سال سے زيادہ نہ تھي۔ حضرت علىؑ كى زندگى كا وہ حساس ترين دور تھا جس ميں حضرت محمد بن عبداللہ ﷺكے زير سايہ عاطفت میں آپ ؑكى شخصيت كى تشكيل ہوئي آيندہ جو واقعات رونما ہونے والے تھے ان كا چونكہ پيغمبر اكرمﷺكو مكمل علم تھا اور بخوبى يہ جانتے تھے كہ آپﷺكے بعد حضرت علىؑ ہى امت مسلمہ كے امور كى زمام سنبھاليں گے اس لئے آپﷺنے منظم دستورالعمل كے تحت اپنے زير دامن تربيت كى غرض سے اس وقت جب كہ حضرت علىؑ كى عمر چھ ہى سال تھى ان كے والد كے مكان سے اپنے گھر منتقل كر ليا تاكہ براہ راست اپنى زير نگرانى تربيت و پرورش كرسكيں۔حضرت محمدﷺكو حضرت علىؑ سے اس قدر محبت تھى كہ آپ كو معمولى دير كى جدائي بھى گوارا نہ تھى چنانچہ جب كبھى عبادت كى غرض سے آنحضرتﷺمكہ سے باہر تشريف لے جاتے تو حضرت علىؑ كو بھى ہمراہ لے جاتے۔
حضرت علىؑ نے اس دور كى كيفيت اس طرح بيان فرمائي ہے : يہ تو آپ سب ہى جانتے ہيں كہ رسول خداﷺكو مجھ سے كس قدر انسيت تھى اور مجھے جو خاص قربت حاصل تھى اس كا بھى آپ كو علم ہے ميں نے آپﷺكى پر شفقت آغوش ميں پرورش پائي ہے جب ميں بچہ تھا تو آنحضرتﷺمجھے گود ميں لے ليا كرتے تھے مجھے آپ گلے سے لگاتے تھے اور اپنے ساتھ سلاتے تھے ميں اُن كے بدن كو اپنے بدن سے چمٹا ليتا تھا اور آپ كے بدن كى خوشبو سونگھتا تھا ، آپ نوالے چباتے اور ميرے منھ ميں ديتے تھے ۔جس طرح ايك بچہ اپنى ماں كے پيچھے چلتا ہے اسى طرح ميں پيغمبر اكرمﷺكے پيچھے پيچھے چلتا تھا آپﷺہر روز اپنے اخلاقى فضائل كا پرچم ميرے سامنے لہراتے اور فرماتے كہ ميں بھى آپ كى پيروى كروں ،اس دوران حضرت علىؑ نے پيغمبر اكرمﷺكے اخلاق گرامى اور فضائل انسانى سے بہت زيادہ كسب فيض كيا اور آپ كى زير ہدايت و نگرانى روحانيت كے درجہ كمال پر پہنچ گئے (نہج البلاغہ خطبہ قاصعہ 190)
بعثت سے آنحضرتﷺكى ہجرت تك
حضرت علىؑ كا اولين افتخار يہ ہے كہ آپ نے سب سے پہلے دين اسلام قبول كيا بلكہ صحيح معنوں ميں يوں كہيے كہ آپ نے اپنے قديم دين كو آشكار كيا ۔
دين اسلام قبول كرنے ميں پيش قدمى وہ اہم موضوع ہے جس كو قرآن نے بھى بيان كيا ہے يہى نہيں بلكہ جن لوگوں نے فتح مكہ سے قبل دين اسلام قبول كيا اور راہ خدا ميں اپنے جان و مال كو نثار كيا انھيں ان لوگوں پر فوقيت دى ہے جو فتح مكہ كے بعد ايمان لائے اور جہاد كيا اس پس منظر ميں اس شخص كى عظمت كا اندازہ لگايا جاسكتا ہے جو سب سے پہلے دين اسلام سے مشرف ہوا اور اس وقت ايمان لايا جب كہ ہر طرف دشمنان اسلام كى طاقت كا ہى دور دورہ تھا يہ ايك عظيم افتخار تھے كہ ديگر تمام فضائل اس كى برابرى نہيں كر سكتے ۔
بہت سے مورخين كا اس بات پر اتفاق ہے كہ حضرت محمدﷺپر پہلى مرتبہ وحى پير كے دن نازل ہوئي اور اس كے اگلے دن حضرت علىؑ ايمان لائے ۔
حضرت(ع) نے دين اسلام قبول كرنے ميں جو دوسروں پر سبقت حاصل كى سب سے پہلے خود پيغمبر اكرمﷺنے اس كى صراحت كرتے ہوئے صحابہ( رض) كے مجمع عام ميں فرمايا تھا ” روز قيامت مجھ سے حوض كوثر پر وہ شخص سب سے پہلے ملاقات كرے گا جس نے دين اسلام قبول كرنے میں تم سب پر سبقت كى اور وہ ہے على بن ابى طالبؑ”
خود حضرت علىؑ نے بھى مختلف مواقع پر اس حقيقت كى صراحت فرمائي ہے ايك جگہ آپ فرماتے ہيں ” اس روز جب كہ اسلام كسى كے گھر تك نہيں پہنچا تھا اور صرف پيغمبر اكرمﷺو حضرت خديجہ(ع) اس دين سے مشرف ہوئي تھيں ميں تيسرا مسلمان تھا ، ميں نور وحى و رسالت كو ديكھتا تھا اور نبوت كى خوشبو سونگھتا تھا”
دوسرى جگہ آپ فرماتے ہے : ” خدا وندا ميں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تيرى طرف رجوع كيا ، تيرے پيغام كو سنا اور تيرے پيغمبرﷺكى دعوت پر لبيك كہا ”
بےنظيرقربانى
آپؑ كے ديگر افتخارات ميں سے ايك افتخار يہ بھى ہے جب آپ(ع) شب ہجرت ( جوكے ليلة المبيت كے نام سے مشہور ہے ) پيغمبر اكرمﷺكے بستر پر سو گئے اور اس دوران آنحضرتﷺنے مكہ سے مدينے ہجرت فرمائي اور تمام مورخين نے اس واقعہ كو بيان كيا ہے اہل قريش ميں سے چاليس بہادروں نے يہ فيصلہ كر ليا تھا كہ اس رات رسول خداﷺكو قتل كر ديں اس غرض سے انہوں نے پيغمبر اكرمﷺكے گھر كو نرغے میں لے ليا ، اس رات حضرت علىؑ نے اپنى جان كى بازى لگا كر آنحضرتﷺكى حفاظت فرمائي اور جو خطرات رسول خداﷺكو پيش آنے والے تھے ان كو اپنے مول لے ليا ۔
يہ قربانى اس قدر اہم اور قابل قدر تھى جيسا كہ متعدد روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ اللہ تعالى نے اس موقع پر يہ آيت نازل فرمائي (ومن الناس من يشرى نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ رء وف بالعباد ) يعنى انسانوں ميں سے كوئي ايسا بھى ہے جو رضائے الہى كى طلب ميں اپنى جان كھپا ديتا ہے اور ايسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے ۔

ہجرت سے آنحضرت کی رحلت تک

علي(ع) رسول خداﷺكے امين
پيغمبر اكرمﷺكو جب يہ حكم ملاكہ مكہ سے مدينہ تشريف لے جائيں تو آپﷺكو اپنے قبيلے كے افراد ميں كوئي بھى ايسا شخص نظر نہ آيا جو حضرت علىؑ سے زيادہ امين و صادق ہو چناچہ اس بناء پر رسول خدا نے علىؑ كو اپنا جانشين مقرر كيا اور فرمايا كہ لوگوں كو ان كى امانتيں جو آپﷺكے پاس تھيں واپس كر ديں اور آپﷺپر جو قرض واجب ہيں انھيں بھى ادا كر ديں اس كے بعد آنحضرتﷺكى دختر فاطمہ(ع) اور بعض ديگر خواتين كو ساتھ لے كر مدينہ آجائيں۔
رسول خداﷺكى ہجرت كے بعد حضرت علىؑ ان امور كو انجام دينے كے لئے جن كے بارے ميں آنحضرتﷺنے فرمايا تھا تين دن تك مكہ ميں تشريف فرما رہے اس كے بعد آپ اپنى والدہ فاطمہ ؑنیز دختر رسول خدا حضرت فاطمہ(ع) فاطمہ بن زبير اور ديگر بعض عورتوں كے ہمراہ پيدل مدينہ كى جانب روانہ ہوئے اور قبا ميں پيغمبرﷺسے جاملے ،جس وقت رسول خداﷺكى نظر حضرت علىؑ پر پڑى تو ديكھا كہ حضرت علىؑ كے پيروں ميں پيدل چلنے سے چھاليں پڑ گئے ہيں اور ان سے خون ٹپكنے لگا ہے پيغمبر اكرمﷺكى انكھوں ميں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرط محبت سے گلے لگا ليا اور آپؑ كے حق میں دعا كى اس كے بعد آپ ﷺنے لعاب دہن حضرت علي(ع) كے پيروں پر لگايا جس كى وجہ سے زخم بھر گئے۔
علي(ع) رسول خداﷺكے بھائي
ہجرت كر كے مدينہ تشريف لے جانے كے بعد پيغمبر اكرمﷺنے جو اہم و سودمند اقدامات كئے ان ميں ايك يہ تھا كہ مہاجرين و انصار كے درميان رشتہ اخوت و برادرى بر قرار كيا چنانچہ اس وقت مسجد ميں جتنے بھى لوگ موجود تھے ان كے درميان رسول خداﷺنے حضرت علىؑ كے علاوہ رشتہ اخوت قائم كر ديا حضرت علىؑ تنہا رہ گئے تھے آپ نے پيغمبر خداﷺكى خدمت ميں عرض كيا : يا رسول اللہ آپ نے ميرے علاوہ ہر ايك كو رشتہ برادرى ميں منسلك كر ديا ؟ اس موقع پر آنحضرتﷺنے وہ تاريخى جملہ اپنى زبان مبارك سے ادا كيا جس سے يہ اندازہ ہوتا ہے كہ آپﷺكى نظر ميں حضرت علي(ع) كا كيا مقام تھا اور آپ كى نظروں ميں انكى كتنى وقعت و اہميت تھى ؟ آپ ﷺنے فرمايا ” قسم ہے اس خدا كى جس نے مجھے حق كے ساتھ مبعوث كيا ميں نے تمہارے رشتہ برادرى ميں تاخير نہيں كى بلكہ تمہيں اپنے رشتہ اخوت و برادرى كے ليے منتخب كيا ہے تم ہى دين و دنيا ميں ميرے بھائي ہو”
علىؑ اور راہ خدا ميں جنگ
حضرت علىؑ كى شخصيت اپنى قربانيوں اور راہ حق ميں جانبازيوں كے باعث صحابہ پيغمبرﷺكے درميان لاثانى و بے مثال ہے غزوہ تبوك كے علاوہ آپ نے تمام غزوات ميں شركت كى اور غزوہ تبوك ميں پيغمبرﷺكى ہدايت كے مطابق آپ مدينہ ميں مقيم رہے يہ آپ كى قربانى اور جانبازى كا ہى نتيجہ تھا كہ سپاہ اسلام نے سپاہ شرك پر غلبہ حاصل كيا اگر اسلام كے اس جيالے كى جانبازياں نہ ہوتيں تو ممكن تھا كہ وہ مشرك و كافر جو مختلف جنگوں ميں اسلام كے خلاف بر سرپيكار رہے چراغ رسالت كو آسانى سے خاموش اور پرچم حق كو سرنگوں كر ديتے۔
يہاں ہم حضرت علىؑ كى ان قربانيوں كا سر سرى جائزہ ليں گے جو آپ نے جنگ كے ميدانوں (بدر ‘ احد ‘ خندق اور خيبر ) ميں پيش كيں۔
علي(ع) جنگ بدر كے بے نظير جانباز

جنگ بدر ميں حضرت علىؑ كى شخصيت دو وجہ سے نماياں رہى
1 :۔ جنگ فرد بفرد : جس وقت مشركين كے لشكر سے عتبہ ‘ شيبہ اور وليد جيسے تين نامور دليروں نے ميدان جنگ ميں اتر كر سپاہ اسلام كو للكارا تو رسول خداﷺكے حكم پر حضرت عبيدہ بن حارث (رض) ، حمزہ بن عبدالمطلب (رض) اور على بن ابى طالبؑ ان سے جنگ كرنے كے لئے ميدان جنگ میں اتر آئے چنانچہ حضرت عبيدہ (رض) عتبہ سے، حضرت حمزہ (رض) ، شيبہ سے اور حضرت علىؑ وليد سے برسر پيكار ہو گئے۔
مورخين كا بيان ہے : حضرت علىؑ نے پہلے ہى وار ميں دشمن كو قتل كر ڈالا اس كے بعد آپؑ حضرت حمزہ (رض)كى مدد كے لئے پہنچے اور ان كے حريف كے بھى ایک دم شمشير سے دو ٹكڑے كرديئے اس كے بعد يہ دونوں بزرگ حضرت عبيدہ (رض)كى جانب مدد كى غرض سے بڑھے اور ان كے حريف كو بھى ہلاك كر ڈالا۔
اس طرح آپ(ع) لشكر مشركين كے تينوں نامور پہلوانوں كے قتل ميں شريك رہے چنانچہ آپؑ نے معاويہ كو جو خط لكھا تھا اس ميں تحرير فرمايا كہ وہ تلوار جس سے ميں نے ايك ہى دن ميں تيرے دادا ( عتبہ ) تيرے ماموں ( وليد ) تيرے بھائي ( حنظلہ ) اور تيرے چچا ( شيبہ ) كو قتل كيا تھا اب بھى ميرے پاس ہے۔
2 :۔ اجتماعى و عمومى جنگ ،مورخين نے لكھا ہے كہ جنگ بدر ميں لشكر مشركين كے ستر (70)
سپاہى مارے گئے جن ميں ابوجہل ‘ اميہ بن خلف ‘ نصر بن حارث و … اور ديگر سر برآوردہ سرداران كفار شامل تھے ان ميں سے ستائيس سے پينتيس كے درميان حضرت علىؑ كى شمشير كے ذريعہ لقمہ اجل ہوئے ، اس كے علاوہ بھى دوسروں كے قتل ميں بھى آپ كى شمشير نے جو ہر دكھائے چنانچہ اس وجہ سے قريش آپ ؑكو ” سرخ موت ”كہنے لگے كيونكہ اس جنگ ميں انھيں ذلت و خوارى اميرالمومنين حضرت علىؑ كے ہاتھوں نصيب ہوئي تھى۔
حضرت علىؑ رسولﷺكے تنہا محافظ
جنگ احد ميں بھى حضرت علىؑ كے كردار كا جائزہ دو مراحل ‘ يعنى مسلمانوں كى فتح و شكست كے پس منظر ميں ليا جاسكتا ہے
مرحلہ فتح و كاميابى :
اس مرحلے ميں لشكر اسلام كو كاميابى اور مشركين كو پسپائي آپ ہى كے دست مبارك سے ہوئي، لشكر قريش كا اولين پر چمدار طلحہ بن ابى طلحہ جب حضرت علىؑ كے حملوں كى تاب نہ لاتے ہوئے زمين پر گر گيا تو اس كے بعد دوسرے نو افراد نے يكے بعد ديگر پرچم لشكر اپنے ہاتھوں ميں ليا ليكن جب وہ بھى حضرت علىؑ كى شمشير سے مارے گئے تو لشكر قريش كے لئے راہ فرار كے علاوہ كوئي چارہ نہ تھا۔
مرحلہ شكست :
جب مقامِ ” عينين” كے بيشتر كمانداروں نے رسول خداﷺكے حكم سے سرتابى كى اور اپنى جگہ سے ہٹ گئے تو اس وقت حضرت خالد بن وليد اپنے گھڑ سوار لشكر كے ساتھ اس پہاڑ كا چكر كاٹ كر اس گھاٹی كى راہ سے مسلمانوں پر ايك دم حملہ آور ہوا چونكہ يہ حملہ اچانك اور انتہائي كمر شكن تھا اسى لئے جنگ كے اس مرحلے ميں ستر مسلمانوں كو شہادت نصيب ہوئي اور باقى جو چند بچ گئے تھے انھوں نے راہ فرار اختيار كى ۔
اس مرحلے ميں حضرت علىؑ كا اہم ترين كردار يہ تھا كہ آپ پيغمبراكرمﷺكے وجود مقدس كى پاسبانى و حفاظت كے فرائض انجام دے رہے تھے ۔
ان حالات میں جبكہ چند مسلمانوں كے علاوہ سب اپنى جان بچانے كى خاطر ميدان جنگ سے فرار كر گئے اور لشكر قريش نے رسول خداﷺكو ہر طرف سے اپنے حملوں كا نشانہ بناليا تو اس وقت حضرت علىؑ ہى تھے جنہوں نے اپنے حملوں سے دشمن كو آگے بڑھنے سے روكا چنانچہ دشمنان اسلام كا وہ گروہ جو رسول خدا ﷺكے نزديك آكر حملہ كرنا چاہتا تھا آپ ہى كى تيغ سے ہلاكت كو پہنچا۔
اميرالمومنين علىؑ كى يہ قربانى اتنى اہم و قابل قدر تھى كہ حضرت جبرئيلؑ نے رسول خدا ﷺكو اس كى مبارك بادى دى چنانچہ پيغمبر اكرم ﷺنے بھى يہ فرمايا كہ :”على منى و انا من على ” (يعنى على مجھ سے ہيں اور ميں على سے ہوں) اس قربانى كو قدر ومنزلت كى نگاہ سے ديكھا اور جب غيب سے يہ ندا آئي :” لا فتى الا علي و لا سيف الا ذوالفقار “ تو دوسروں كو بھى حضرت علىؑ كى اس قربانى كا انداز ہ ہوا خود حضرت علىؑ نے اپنے اصحاب كے ساتھ اپنى گفتگو كے درميان اس قربانى كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا : جس وقت لشكر قريش نے ہم پر حملہ كيا تو انصار ومہاجرين نے اپنے گھروں كى راہ اختيار كى مگر ميں ستر سے زيادہ زخم كھانے كے باوجود آنحضرت ﷺكى مدافعت و پاسبانى كرتا رہا۔حضرت علىؑ نے پيغمبر اكرم ﷺكى پاسبانى و مدافعت كى خاطر دشمن كا جم كر مقابلہ كيا كہ آپ كى تلوار ٹوٹ گئي اس وقت رسول خدا ﷺنے اپنى وہ شمشير جس كا نام ”ذوالفقار” تھا آپ كو عطا فرمائي چنانچہ آپ نے اسى سے راہ خدا ميں اپنے جہاد كو جارى ركھا۔
جنگ خندق ميں علىؑ كا كردار
مختلف لشكروں (احزاب) كے دس ہزار سپاہيوں نے تقريباً ايك ماہ تك مدينہ كا محاصرہ جارى ركھا اتنى مدت گذرجانے كے بعد بالآخر دشمن كو اس كے علاوہ كوئي چارہ نظر نہ آيا كہ وہ اپنے مضبوط وطاقتور لشكر كو جس طرح بھى ممكن ہو سكے خندق پار كرائے ۔اس فيصلے كے بعد عربوں كے ”نامور پہلوان عمرو بن عبدود” نے اپنے ساتھ پانچ سپاہى ليے اور اس جگہ سے جہاں خندق كم چوڑى تھى پار كرآيا اور جنگ كے لئے للكارا ۔ حضرت علىؑ نے اس كى اس دعوت جنگ كو قبول كيا اور اس كے نعروں كا جواب دينے كيلئے آگے بڑھے چنانچہ سخت مقابلے كے بعد عربوں كاوہ دلاور ترين جنگجو پہلوان جسے ايك ہزار جنگى سپاہيوں كے برابر سمجھا جاتا تھا ، حضرت علىؑ كى شمشير سے زمين پر گر پڑا عمرو كے ساتھيوں نے جب اس كى يہ حالت ديكھى تو وہ فرار كرگئے اور ان ميں سے جو شخص فرار نہ كرسكا وہ ”نوفل” تھا ۔ چنانچہ وہ بھى حضرت علىؑ كے ايك ہى وار سے عمرو سے جاملا۔ عمروبن عبدود كى موت (نيز بعض ديگر عوامل) اس امر كا باعث ہوئے كہ جنگ كا غلغلہ دب گيا او رمختلف لشكروں ميں سے ہر ايك كو اپنے گھر واپس جانے كى فكر دامنگير ہوئي۔
اس جنگ ميں حضرت علىؑ نے ميدان جنگ كى جانب رخ كيا تو آپ ﷺنے فرمايا: خدايا جنگ بدر كے دن عبيدہ (رض)اور احد ميں حمزہ (رض)كو تو نے مجھ سے جدا كرديا اب علىؑ كو تو ہرگزند سے محفوظ فرما۔ اس كے بعد آپ نے يہ آيت پڑھى ”رب لا تذرنى فردا و انت خيرالوارثين“
جب عمرو كے ساتھ ميدان جنگ ميں مقابلہ ہوا تو آپﷺنے فرمايا :
”برزالايمان كلہ الى الشرك كلہ”يعنى ايمان وشرك كے دو مظہر كامل ايك دوسرے كے مقابل ہيں ۔
ا ور جب آپ ميدان جنگ سے فاتح و كامران واپس آئے تو پيغمبر خدا ﷺنے فرمايا “لو وزن اليوم عملك بعمل امة محمد ﷺلرجح عملك بعلمہم” يعنى اگر آج تمہارے عمل كا امت محمد كے تمام اعمال ( پسنديدہ) سے مقابلہ كياجائے تو ( بے شك) اس عمل كو ان پر برترى ہوگي۔
حضرت علىؑ اور پيغمبر اكرم ﷺكى جانشيني
بلا شك و ترديد اسلام كے جو عظیم و اہم ترين مسائل ہيں ان ميں امت كى ولايت وقيادت نيز امور مسلمين كى راہبرى و سرپرستى بھى شامل ہے ۔ چنانچہ اس اہميت كو مد نظر ركھتے ہوئے پيغمبر اكرم ﷺكى يہ كوشش تھى كہ آئندہ جس اسلامى معاشرے كى تشكيل ہوگئي اس كے مسئلہ رہبرى كو اپنے زمانہ حيات ميں ہى طے كرديں چنانچہ دعوت حق كے اولين روز سے ہى آپ نے توحيد كے ساتھ مسئلہ خلافت كو واضح كرنا شروع كردياتھا چونكہ حضرت علىؑ ہى كى وہ شخصيت تھى جو تمام فضائل وكمالات كى مالك تھى اسلئے خداوند متعال كى طرف سے پيغمبر اكرم ﷺكو حكم ملا كہ مسلمانوں كے دينى و دنيوى امور كى سرپرستى كےلئے اپنے بعد ان كى جانشينى كا اعلام فرماديں
رسول اكرم ﷺنے اس الہى پيغام كا اعلان مختلف مواقع پر فرمايا يہاں ہم اختصار كے پيش نظر ان تين احاديث كا ہى ذكر كريں گے جو آپ نے مختلف اوقات ميں بيان فرمائي ہيں :
1:۔ حديث يوم الدار
2 :۔ حديث منزلت
3 :۔ حديث غدير
حديث يوم الدار
بعثت كى تين سال كے بعد جب يہ آيت نازل ہوئي ”وانذر عشيرتك الاقربين”) يعنى رسول اكرم ﷺاس كام پر مامور كئے گئے كہ وہ سب سے پہلے اپنے عزيز واقرباء كو دعوت اسلام ديں ۔ اس مقصد كے تحت پيغمبر اكرمﷺكے حكم پر حضرت علىؑ نے بنى ہاشم كے چاليس سرداروں كو جن ميں ابوطالبؑ، ابولہب ، حمزہ (رض)، وغيرہ شامل تھے مدعو كيا جب سب لوگ كھانے سے فارغ ہوئے تو پيغمبر اكرم ﷺنے فرمايا اے فرزندان عبدالمطلب عرب كے جوانوں ميں مجھے كوئي بھى ايسا نظر نہيں آتا جو تمہارے لئے مجھ سے بہتر پيغام لايا ہو ميں تمہارے لئے ايسا پيغام لے كر آياہوں جس ميں دونوں جہان كى خير وسعادت ہے ۔خداوند تعالى نے مجھے حكم ديا ہے كہ ميں تمہيں اس كى طرف دعوت دوں تم ميں سے ايسا كون ہے جو اس راہ ميں ميرى مدد كرے تاكہ وہ ميرا بھائي ، وصى اور جانشين قرار پائے ؟پيغمبر اكرم ﷺنے اپنے اس سوال كو تين مرتبہ دہرايا اور ہر مرتبہ حضرت علىؑ ہى اپنى جگہ سے اٹھے اور انہوں نے اپنى آمادگى كا اعلان كيا۔
اس وقت رسول اكرم ﷺنے حضرت علىؑ كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : تو گويا علىؑ ہى ميرے بھائي ، وصى اور جانشين ہيں لہذا تم ان كى بات سنو اور ان كى اطاعت كرو۔
حديث منزلت
صرف وہ غزوہ جس ميں حضرت علىؑ نے پيغمبر اكرم ﷺكى حكم كے پيروى كرتے ہوئے شركت نہيں كى غزوہ تبوك تھا چنانچہ اس مرتبہ آپ جانشين رسول خدا ﷺكى حيثيت سے اور ان واقعات كا سد باب كرنے كى غرض سے جن كے رونما ہونے كا احتمال تھا مدينہ ميں ہى قيام پذير رہے۔
جس وقت منافقوں كو رسول خدا ﷺكے ارادے كى خبر ہوئي تو انہوں نے ايسى افواہيں پھيلائيں جن سے حضرت علىؑ اور پيغمبر اكرم ﷺكے تعلقات ميں كشيدگى پيدا ہوجائے اور حضرت علىؑ كو يہ بات باور كراديں كہ اب آپ سے رسول ﷺكو پہلى سى محبت نہيں چنانچہ جب آپ كو منافقين كى ان شرپسندانہ سازشوں كا علم ہوا تو ان كى باتوں كو غلط ثابت كرنے كى غرض سے رسول خدا ﷺكى خدمت ميں تشريف لے گئے اور صحيح واقعات كى اطلاع دي۔ رسول اكرم ﷺنے علىؑ كو مدينہ واپس جانے كا حكم ديتے ہوئے اس تاريخى جملے سے حضرت علىؑ كے اس مقام و مرتبہ كو جو آپ ﷺكے نزديك تھا اس طرح بيان فرمايا : ”كيا تم اس بات سے خوش نہيں ہو كہ ميرے اور تمہارے درميان وہى نسبت ہے جو كہ موسىؑ اور ہارونؑ كے درميان تھي مگر يہ كہ ميرے بعد كوئي نبى نہيں ہوگا۔
قرآن مجيد ميں حضرت ہارون(ع) كے مقامات ومناصب
اب ديكھنا يہ ہے كہ قرآن پاك كى نظر ميں حضرت ہارونؑ كے وہ كون سے مناصب و مقامات تھے جو حضرت علىؑ ميں بھى نبوت كے علاوہ (چنانچہ حضرت محمد ﷺنے خود ہى مذكورہ حديث ميں آپ كو اس سے مستثنى قرار ديا ہے) بدرجہ اتم موجود تھے۔
چنانچہ جب ہم قرآن كى جانب رجوع كرتے ہيں تو ديكھتے ہيں كہ حضرت موسىؑ نے حضرت ہارونؑ كے لئے مندرجہ ذيل مناصب چاہے تھے۔
مقام وزارت :“ واجعل لى وزيرا من اہلى ہارون اخي“ميرے كنبے سے ہارون كو وزير مقرر كردے جوكہ ميرے بھائي ہيں”
تقويت و تائيد: ”واشد بہ ازري “ اس كے ذريعے ميری پشت مضبوط كر
مقام نبوت: ”واشركہ فى امري“اور اس كو ميرے كام ميں شريك كردے۔
حضرت موسىؑ نے جو چيزيں خداوند تعالے سے مانگيں اس نے ان كا مثبت جواب ديا اور مذكورہ تمام مقامات حضرت ہارون كو عطا كرديئےچنانچہ اس سلسلے ميں قرآن مجيد فرماتاہے: قد اوتيت سوالك يا موسي۔ ”اے موسى جو تم نے مانگا ہم نے عطا كيا”
اس كے علاوہ حضرت موسىؑ نے اپنى غير موجودگى ميں حضرت ہارونؑ كو اپنا جانشين مقرر كيا (وقال موسى لاخيہ ہارون اخلفنى فى قومي)موسى نے حضرت ہارون سے كہا تم ميرى قوم ميں ميرے خليفہ اور جانشين ہو ”۔
حديث منزلت كے مطابق وہ تمام مناصب و مقامات جو ہارون كےلئے بيان كئے گئے ہيں ، صرف ايك منصب كے علاوہ كہ جسے آيت سے مستثنى قرار ديا ہے، حضرت علىؑ كےلئے ثابت ہيں اس لحاظ سے حضرت علي(ع) ہى امت مسلمہ ميں رسول خدا ﷺكے ياور و مددگار اور خليفہ ہيں۔
پیغمبر اکرم ص کی رحلت کے بعد

11 ہجری میں رسول اکرم ﷺ کی رحلت ہو جاتی ہے اور لوگوں نے سقیفہ کی کاروائی میں منصب الہی میں خود ساختہ تصرف کرتے ہوئے خلافت کی تقسیم بندی کر دی ادھر جناب علی ع وصیت کے مطابق آپ ص کی تجہیز وتکفین میں مصروف تھے ۔

سقيفہ كے واقعات كے بعد حضرت علىؑ كا ردعمل
سقيفہ ميں جو اجتماع ہوا تھا وہ اس طرح اختتام پذير ہوا كہ انصار و مہاجرين میں سے چند افراد نے حضرت ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى اس كے بعد يہ مجمع مسجد كى جانب روانہ ہوا تاكہ وہاں عام مسلمان بيعت كر سكيں حضرت عمر اس مجمع میں پيش پيش تھے اور راہ ميں جو بھى ملتا اس سے كہتے كہ وہ حضرت ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لے حضرت علىؑ ابھى پيغمبرﷺكے جسد مبارك كے تكفين و تدفين میں مشغول و منہمك تھے كہ لوگوں كے شورو غل كى صدائيں سنائي ديں اور صحيح واقعے كا اس كے ذريعے علم ہوا خلافت كى اہليت كےبارے ميں جب مہاجرين كى يہ حجت و دليل آپ كو بتائي گئي كہ انہوں نے اس بات پر احتجاج كيا كہ خليفہ خاندان قريش اور شجر نبوت كى شاخ ہو تو اس پر آپؑ نے فرمايا كہ انہوں نے تكيہ تو درخت پر ہى كيا ليكن اس كے پھل كو تباہ كر ڈالا حضرت علىؑ كا دوسرا رد عمل پيغمبر اكرمﷺكے جسد مبارك كى تدفين كے بعد ظاہر ہوا ۔ حضرت علىؑ مسجد میں تشريف فرما تھے اس وقت بنى ہاشم كے افراد بھى كافى تعداد ميں وہاں موجود تھے بعض وہ لوگ جو حضرت ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر چكے تھے آپ كے اور افراد بنى ہاشم كے گرد جمع ہو گئے اور كہنے لگے كہ طائفہ انصار نيز ديگر افراد نے حضرت ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كر لى ہے آپ بھى بيعت كر ليجئے ورنہ تلوار آپ كا فيصلہ كرے گى
حضرت علىؑ نے فرمايا كہ ميں ان سے زيادہ بيعت كے لئے اہل وقابل ہوں تم لوگ ميرے ہاتھ پر بيعت كرو تم نے رسول خداﷺسے قربت كے باعث خلافت انصار سے لے لى اور انہوں نے بھى يہ حق تسليم كر ليا خلافت كے لئے ميرے پاس بھى دلائل موجود ہيں میں پيغمبر اكرمﷺكے زمانہ حيات ميں ہى نہیں بلكہ رحلت كے وقت بھى ان كے سب سے زيادہ قريب و نزديك تھا ميں وصى ‘ وزير اور علم رسولﷺكا حامل ہوں … ميں كتاب خدا اور سنت رسولﷺكے بارے میں سب سے زيادہ واقف و باخبر ہوں امور كے نتائج كے بارے ميں تم سے زيادہ جانتا ہوں ، ثبات و پائدارى میں تم سے سب سے بہتر محكم و ثابت قدم ہوں اس كے بعد اب تنازع كس بات پر ہےاس پر حضرت عمر نے كہا : آپ مانيں يا نہ مانيں ہم آپ كو بيعت كئے بغير جانے نہيں ديں گے حضرت علىؑ نے انھيں فيصلہ كن انداز ميں جواب ديتے ہوئے فرمايا كہ دودھ اچھى طرح دوہ لو اس میں تمہارا بھى حصہ ہے آج خلافت كے كمر بند كو حضرت ابو بكر كيلئے مضبوط باندھ لو كل وہ تمہيں ہى لوٹا ديں گے اس وقت وہاں عبيدہ بھى موجود تھے انہوں نے حضرت علىؑ سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اے ميرے چچا زاد بھائي رسول خداﷺسے آپ كى قرابت داري، اسلام ميں آپ كے سابق الاسلام ،اور اس كے مددگار اور آپ كى علمى فضيلت سے ہميں انكار نہيں ليكن آپ ابھى جو ان ہيں اور ابوبكر آپ ہى كے قبيلے كے معمر آدمى ہيں اس بار خلافت كو اٹھانے كيلئے وہ بہتر ہيں آپ كى اگر عمر نے وفا كى تو ان كے بعد خلافت آپ كو پيش كر دى جائي گى … لہذا آپ اس وقت فتنہ و آشوب بپانہ كيجئے يہ آپ كو بخوبى علم ہے كہ عربوں كے دلوں ميں آپ كى كتنى دشمنى ہے حضرت علىؑ كا تيسرا رد عمل وہ تقرير تھى جو آپ نے مہاجرين و انصار كے سامنے فرمائي اسى تقرير كے دوران آپ نے فرمايا تھا ” اے مہاجرين و انصار خدا پر نظر ركھو اور ميرے بارے ميں تم نے جو پيغمبر اكرمﷺسے عہد و پيمان كيا تھا اسے فراموش نہ كرو حكومت محمدیہﷺ كو ان كے گھر سے اپنے گھر مت لے جاؤ …
تم يہ بات جانتے ہو كہ ہم اہل بيت اس معاملے میں تم سے زيادہ حقدار ہيں ۔ كيا تم كسى ايسے شخص كو نہيں چاہتے جسے مفاہيم قرآن، اصول و فروع دين اور سنت پيغمبر اكرم ﷺپر عبور حاصل ہے تاكہ وہ اسلامى معاشرے كا بحسن و خوبى نظم ونسق برقرار كرسكے … ميں خدائے واحد كو گواہ كركے كہتا ہوں كہ ايسا شخص ہم ميں موجود ہے اور تمہارے درميان نہيں، نفسانى خواہشات كى پيروى مت كرو اور حق سے دور نہ ہوجاو نيز اپنے گذشتہ اعمال كو اپنى بد اعماليوں سے فاسد و كثيف نہ ہونے دو ”
بشير بن سعد نے انصار كى ايك جماعت كے ساتھ كہا : اے ابوالحسن اگر انصار نے آپ كى يہ تقرير ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كرنے سے پہلے سن لى ہوتى تو دو آدمى بھى ايسے نہ ہوتے جو آپ كے بارے ميں اختلاف كرتے۔
علىؑ نے كيوں عجلت نہيں كي؟
تاريخ كے اس حصے كا مطالعہ كرنے كے بعد ممكن ہے كہ يہ سوال سامنے آئے كہ اگر حضرت علىؑ بھى دوسروں كى طرح امر خلافت ميں عجلت كرتے اور حضرت عباس و ابوسفيان كى تجويز مان ليتےتو شايد يہ منظر سامنے نہ آيا ہوتا اس بات كى وضاحت كے لئے يہاں اس بات كا واضح كردينا ضرورى ہے كہ آپ كى خلافت كا مسئلہ دو حالتوں سے خالى نہ تھا يا تو رسول اكرم ﷺنے آپ كو خداوند تعالى كے حكم سے اس مقام كے لئے منتخب كرليا تھا ( اس پر شيعہ عقائد كے لوگوں كا اتفاق ہے) ايسى صورت ميں عوام كا بيعت كرنا يا نہ كرنا اس حقيقت كو بدل نہيں سكتا اور اگر بالفرض خلافت كے معاملے ميں امت كو اس كے فيصلے پر آزاد چھوڑديا تھا تو پھر كيوں حضرت علىؑ لوگوں كے حق انتخاب كو سلب كرتے وہ امت كو اس حال پر چھوڑديتے كہ وہ جسے بھى چاہيں اپنا خليفہ مقرر كريں۔
اس سے بھى زيادہ اہم بات يہ ہے كہ پيغمبر اكرم ﷺكا جسد مبارك ابھى زمين كے اوپر ہى تھا ، حضرت علىؑ پيغمبر ﷺكے وصى كے لئے ايسى صورت ميں يہ كيسے ممكن تھا كہ وہ جسد اطہر پيغمبر اكرم ﷺكو زمين پر ركھے رہنے ديں اور خود اپنے كام كے چكر ميں نكل جائيں۔
حضرت علىؑ نے پہلے اپنا فرض ادا كيا پھر لوگوں کے سامنے تشريف لائے دوسرے بھى يہ بات جانتے تھے كہ اگر ايسے ميں حضرت علي(ع) تشريف لے آتے تو وہ ہرگز اپنے مقصد و ارادے ميں كامياب نہ ہوتے چنانچہ دوسروں نے امر خلافت كے سلسلے ميں عجلت كى اور حضرت علىؑ كو اس وقت اطلاع دى جب كام تمام ہوچكاتھا
حضرت علىؑ كے گھر ميں پناہ گزيني
صحابہ رسول ﷺميں ايسے پاك طينت لوگ بھى موجود تھے جنہوں نے حضرت ابوبكر كى بيعت نہيں كى تھي چنانچہ موصوف كو خليفہ بنائے جانے پر انہوں نے اعتراض كيا اور اس كے اظہار كے لئے انہوں نے پناہ گزينى كى راہ اختيار كى اور اس مقصد كے لئے بنت رسول ﷺحضرت فاطمہؑ كے گھر ميں جمع ہوگئے۔
ان ميں سے بعض افراد كے نام مورخين نے اپنى كتابوں ميں درج كئے ہيں
حضرت فاطمہؑ كا گھر رسول خدا ﷺكى حيات ميں خاص احترام كى نظر سے ديكھا جاتا تھا چنانچہ بنى ہاشم ‘ بعض مہاجرين اور اہل بيتؑ كا آپ كے گھر ميں پناہ گزيں ہونے كا فطرى طور پر مقصد ہى يہ تھا كہ كوئي شخص زبردستى پناہ گزينوں كى بيعت كى غرض سے مسجد ميں لانہيں سكتا تھا۔بالاخر حضرت عمر كو ايك دستے كے ساتھ مقرر كيا گيا كہ وہ حضرت فاطمہؑ كے گھر پر جائيں اور پناہ گزينوں كو نكال كر باہر لائيں تاكہ وہ خليفہ كے ہاتھ پر بيعت كريں ۔ حضرت عمر ايك گروہ كے ساتھ حضرت فاطمہؑ كے گھر كى جانب روانہ ہوئے اور بڑى كشمكش كے بعد حضرت على (ع(كو باہر لايا گيا اور آپ كو مسجد لے گئے جہاں آپ كو مجبور كيا گيا كہ ابوبكر كے ہاتھ پر بيعت كريں ليكن حضرت علیؑ اپنے ارادے پر قائم رہےاورجب دیکھا گیاکہ اپنے عزم وارادے پر قائم ہيں تو لوگ بھى آپ سے دستكش ہوگئے۔
قیام نہ کرنے کے دلائل
حضرت علىؑ نے مختلف مواقع پر جو تقارير كيں اگر ہم ان كا اور ان حالات كا جو اس وقت اسلامى معاشرہ پر مسلط و طارى تھے جائزہ ليں تو ہميں اس سوال كا جواب مل جائے گا كہ حضرت علىؑ نے كيوں قيام نہيں كيا اب ہم ان نكات كو بيان كر رہے ہيں جن سے يہ باتيں روشن ہوجائیں گي۔
اسلام اور اسلامى وحدت كا تحفظ
وہ نو مسلم عرب جن ميں سے دور جاہليت كے رسم ورواج كى عادت و خوا بھى مكمل طور پر ختم نہيں ہوئي تھى اور جذبہ ايمان واسلامى عقيدہ ان كے دلوں ميں پورے طور پر راسخ نہيں ہوا تھا انہيں مد نظر ركھتے ہوئے ہر قسم كى داخلى جنگ مسلمانوں كى طاقت كے انحلال اور اسلام كے انہدام كا باعث ہوتى بالخصوص ان حالات ميں جب كہ ”اہل ردہ” نے جزيرہ العرب كے اطراف ميں مركزى حكومت كے خلاف اپنا پرچم لہرادياتھا ان كے علاوہ ايران اور روم كى دو شاہنشاہى طاقتيں اس موقع كى تلاش ميں تھيں كہ قائم شدہ حكومت سے برسر پيكار ہوں اگر حضرت على ؑان متزلزل مسلمانوں اور بيرونى دشمنوں كو پيش نظر ركھتے ہوئے بھى تلوار كا سہارا ليتے اوراپنا حق حاصل كرنے كى خاطر حضرت ابوبكر سے جنگ وجدال كرتے تو نوعمر اسلامى طاقت اور مركزيت كو مدينہ ميں نقصان پہنچتا اور اسلام كو نيست ونابود كرنے كى غرض سے بيرونى طاقتوں كے لئے يہ بہترين موقع ہوتا شايد يہى وجہ تھى كہ سقيفہ كے واقعات سے متعلق آپ نے جو تقرير كى تھى اس ميں اتحاد كى اہميت اور تفرقہ اندازى كے برے نتائج كى جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا تھا: فتنے كى امواج كو نجات كى كشتيوں سے چاك كردو، اختلاف پيدا كرنے سے گريز كرو ، فخر فروشى كى علامات كو سرسے اتار دو ، ميرى خاموشى كا سبب ميرى وہ دانش وباطنى آگاہى ہے جس ميں ميں غرق ہوں اگر تم بھى ميرى طرح باخبر ہوتے تو كنويں كى رسى كى مانند مضطرب و لرزاں ہوجاتے۔
معقول فوجى طاقت كى كمي
مندرجہ بالا سوال كا جواب ديتے ہوئے خود حضرت على (ع( نے فرمايا تھا:
امر خلافت ميں ميرى كوتاہى موت كے خوف كى وجہ سے نہيں تھى بلكہ رسول خدا )ص( كے فرمان كے مطابق تھى كيونكہ آنحضرت )ص(نے فرمايا تھا كہ امت نے تجھ سے خيانت كى ہے ، انہوں نے مجھ سے جو عہد كيا ہے اسے وہ وفا نہيں كريں گے درحاليكہ تم ميرے لئے ايسے ہى ہو جيسے حضرت موسىؑكے لئے حضرت ہارونؑتھے
اس كے بعد آپ نے مزيد فرمايا كہ ميں نے سوال كيا كہ ايسى حالت ميں مجھے كيا كرنا چاہيئے رسول خدا (ص)نے فرمايا تھا كہ اگر كوئي ايسا شخص مل گيا جو تمہارى مدد كرے تو تم ان سے جنگ وجدال كرنا اور اپنا حق حاصل كرلينا اگر ايسا نہ ہوا تو تم اس خيال سے در گذر كرنا ، اپنى خون كى حفاظت كرنا تاكہ تم ميرے پاس مظلوم آؤ
آپ نے ايك جگہ اور بھى اس تلخ حقيقت كى صراحت كرتے ہوئے فرمايا تھا: اگرمجھے چاليس با عزم افراد مل جاتے تو ميں اس گروہ كے خلاف انقلاب اور جنگ و جدال كرتا
ايك جگہ آپ نے يہ بھى فرمايا تھا كہ ميں نے اپنے اطراف ميں نظر ڈالى اور ديكھا كہ جز ميرے اہل بيتؑ كے ميرا كوئي يار ومددگار نہيں مجھے يہ گوارانہ ہوا كہ انہيں موت كے منہ ميں دے دوں
مسئلہ فدك
پيغمبر اكرم (ص ( كى رحلت كو ابھى دس دن بھى نہ گذرے تھے كہ حضرت فاطمہؑكو يہ خبر ملى كہ خليفہ كے كارندوں نے ان كے كام كرنے والوں كو ”فدك” سے باہر نكال ديا ہے اور اس كے تمام كاموں كو اپنے اختيار ميں لے ليا ہے۔
بنت رسول خدا (ص( اس زمين كو حاصل كرنے كى غرض سے بنى ہاشم كى خواتين كے ہمراہ خليفہ كے پاس گئيں اس وقت حضرت ابوبكر اور حضرت فاطمہ (ع(كى درميان جو گفتگو ہوئي وہ ذيل ميں درج ہے:
حضرت فاطمہ (ع 🙁 تم نے ميرے كارندوں كو ”فدك” سے كيوں باہر نكالا اور مجھے ميرے حق سے محروم كيا ؟
خليفہ: ميں نے آپ كے والد سے سنا ہے كہ پيغمبركوئي چيز ميراث ميں نہيں چھوڑتےحضرت فاطمہ ؑ :فدك كى زمين ميرے والد نے اپنے زمانہ حيات ميں مجھے بخش دى تھى اور اس وقت اس كى مالك ميں ہى تھي
خليفہ: آپ كے پاس اس دعوے كے ثبوت ميں كيا شاہد و گواہ موجود ہيں ؟
حضرت فاطمہؑ 🙁 ہاں ميرے شاہد وگواہ على )ع( اور ام ايمن ہيں چنانچہ ان حضرات نے حضرت زہرا (ع( كى درخواست پر يہ شہادت دى كہ آپ (ع( پيغمبر اكرم (ص( كے زمانہ حيات ميں اس كى مالك تھيں بعض مورخين نے يہ بھى نقل كيا ہے كہ حضرت امام حسنؑ و حضرت امام حسينؑ نے بھى گواہى دي
فخر رازى نے يہ قول نقل كيا ہے كہ : پيغمبر اكرم ﷺكے غلاموں ميں سے ايك غلام نے بھى حضرت فاطمہؑ كے مالك ہونے كى گواہى دى بلاذرى نے اس غلام كے نام كے تصريح بھى كى ہے اور لكھا ہے كہ اس كا نام ”رباح” تھا
جب يہ گواہياں گذر گئيں تو حضرت على ؑنے خليفہ كو ان (حضرت ابوبكر)كى خطاء كى طرف متوجہ كيا (كيونكہ خليفہ نے گواہى اس شخص سے طلب كى تھى جس كے تصرف ميں فدك تھا اور متصرف (قابض) سے گواہى مانگنا اسلامى ميزان و عدل كے سراسر خلاف ہے) اور فرمايا كہ اگر ميں اس مال كا دعويدار ہوں جو دوسرے كے قبضے ميں ہے تو آپ گواہ كس سے طلب كريں گے مجھ سے كہ مدعى ہوں يا اس سے جس كے تصرف ميں مال ہے؟
ابوبكر نے كہا كہ آپ گواہ پيش كريں اس پر حضرت على )ع (نے فرمايا كہ فدك ہمارے تحت تصرف ہے اور اب دوسروں نے يہ دعوى كيا ہے كہ يہ اموال عامہ ہيں ايسى صورت ميں وہ گواہ پيش كريں ناكہ ہم خليفہ نے حضرت على ؑكى اس دليل پر سكوت اختيار كيا اور حلبى كے قول كے مطابق انہوں نے بذريعہ تحرير اس بات كى تصديق كى كہ فدك حضرت فاطمہ زہراؑ كى ملكيت ہے ليكن عين اسى وقت حضرت عمر وہاں پہنچ گئے اور دريافت كيا كہ يہ كيسا مكتوب ہے ؟ اس پر حضرت ابوبكر نے كہا كہ ميں نے اس ورق پر تصديق حق مالكيت حضرت فاطمہ (ع( كى ہے حضرت عمر نے كہا كہ فدك سے جو آمدنى ہوگى اس كى تو آپ كو ضرورت ہے كيونكہ عرب مشركين نے اگر كل كہيں مسلمانوں كے خلاف بغاوت كردى تو آپ جنگ كے اخراجات كہاں سے مہيا كريں گے
چنانچہ اس نے حضرت ابوبكر سے ورق ليا اور چاك كرديا۔
حضرت فاطمہؑ كى وفات
جس سال رسول ﷺكا انتقال ہوا اسى سال آپ كى اكلوتى بيٹى فاطمہ زہراؑ نے بھى وفات پائي باپ كى موت اور مختصر مدت كے بعد جو سانحات پيش آئے انہوں نے فاطمہ زہراؑكے جسم و روح كو غم زدہ کرديا ۔
حضرت زہراؑ كے دل ودماغ پر ان واقعات كا ايسا گہرا اثر ہوا كہ آپ كے فرمانے كے بموجب اگر يہ مصائب وآلام دنوں پر پڑتے تو رات كى تاريكى ميں تبديل ہوجاتے ان صدمات كى تاب نہ لاكر صاحب فراش ہوگئيں، وہ لوگ جو پيغمبرا كرم ﷺكى خاطر جان بكف رہا كرتے تھے اور ان كے پاس جو كچھ تھا وہ آپ كے والد محترم (ص(كے وجود كى بركت سے ہى تھا اب ايسے پھرے كہ ان ميں سے چند ہى آپ كى عيادت كو آئے
جناب صدوق ؒاس ضمن ميں فرماتے ہيں : مہاجر وانصار كى كچھ خواتين آپ كى عيادت كے لئے گئيں آپ نے اس وقت كو غنيمت جانا اور اس موقعے پر جو خطبہ ارشاد فرمايا اس كے بعض اہم اقتباسات يہاں كئے جاتے ہيں :
افسوس تمہارے مردوں نے خلافت كو رسالت كى پائيگاہ، نبوت كى اقامت گاہ اور منزل وحى سے الگ كرديا اور دنيا ودين كے ماہروں سے زمام خلافت چھين ليں يقينا اس ميں انكا سراسر نقصان ہے انہيں ابوالحسنؑسے كيا عداوت تھي
جى ہاں: انہیں علىؑكى راہ خدا ميں برہنہ شمشير، دليرى اور شجاعت كا خوف تھا
قسم خدا كى اگر خلافت كو على ؑكے ہاتھ سے نہ ليا ہوتا تو ان كے امور و مسائل كو حل كرنے ميں وہ خود حصہ ليتے اور انتہائي رضا و رغبت سے شادمانى وكامرانى كى جانب انہيں ہدايت كرتے، تشنگان عدل وانصاف آپ كے چشمہ داد و عدالت سے سيراب ہوتے محروم ولاچار لوگ ان كى پناہ صولت ميں دلير و شير دل ہوجاتے
بنت رسول اكرم (ص( جب تك علالت كے باعث صاحب فراش رہيں كسى شخص نے آپكے چہرے پر شادابى اور مسكراہٹ نہ ديكھى آپ ہفتے ميں دو مرتبہ (پير اور جمعرات) شہداء كے مزارات پر جاتيں اور ان كے لئے دعائے خير فرماتیں۔
اور بالاخر ہجرت كے گيارہویں سال ميں بتاريخ سوم جمادى الآخر اٹھارہ سال كى عمر ميں آپ نے اس جہان فانى سے كنارہ كرليا اور اپنے والد بزرگوار كے پاس پہنچ گئيں حضرت علىؑنے دختر رسول (ص)كو غسل ديا نيز آپ كى وصيت كے مطابق خواص كے علاوہ ديگر افراد كى غير موجودگى ميں نماز جنازہ ادا كى اور راتوں رات آپ كے جسد مطہر كو سپرد خاك كركے قبركے نشان كو محو كرديا اس كے بعد علیؑ نے مزار پيغمبرﷺكى جانب رخ كيا اور فرمايا:
يا رسول اللہ (ص)ميرى اور اپنى دختر كى جانب سے جواب آپ كے جوار ميں پہنچ گئي ہيں اور بہت جلد آپ سے جاملى ہيں سلام قبول فرمايئے اور يا رسول اللہ ﷺآپ كى برگزيدہ و پاك دختر كى جدائي كے باعث ميرا پيمانہ صبر لبريز ہوچكا ہے اور اب مجھ ميں غم برداشت كرنے كى تاب نہيں …
آپ كے پيارى بيٹى جلد ہى آپ كو مطلع كرديں گى كہ آپ كى امت نے ان پر ستم رواركھنے كى غرض سے كيا كيا باہمى سازشيں نہ كيں ان پر جو كچھ گذرى انہى كى زبانى سنيئے اور يہ وقت كس طرح گذرا اس كى كيفيت انہى سے دريافت فرمايئے اگرچہ آپ كى رحلت و زمانہ حيات كے درميان كافى عرصہ نہيں گذرا ہے اور آپ كى ياد دلوں سے بھى محو نہيں ہوئي ہے
پچيس سالہ حكومت خلفاء كے دوران علىؑ كے كارنامے
حضرت عثمان كا قتل ”35ھ” كے اواخر ميں ہوا اور يہيں پر حضرت علىؑ كى زندگى كے چوتھے مرحلے كى تكميل ہوئي وہ خلافت كو چونكہ اپنا حق سمجھتے تھے اسى لئے اس پچيس سالہ دور ميں انہيں خلفائے ثلاثہ كى حكومت سے اختلاف بھى رہا اس كے باوجود انہوں نے خلفائے وقت كى مدد، ہدايت اور تعليم احكام سے كوئي دريغ نہ كيا اور اسى طرح آپ نے عالم اسلام كى قابل قدر خدمات انجام ديں۔
اگرچہ گذشتہ اسباق ميں ہم حضرت علىؑ كى بعض كارگزاريوں كے بارے ميں واقفيت حاصل كرچكے ہيں ، ليكن يہاں ہم محض بطور ياد دہانى ترتيب وار آپ كے اہم ترين كارناموں كا ذكر كريں گے:
:1 قرآن كى تفسير ،ا س كى جمع آورى اور علم تفسير ميں بعض شاگردوں كى تربيت
:2دانشوران علم بالخصوص يہود ونصارى كے سوالات كے جواب اور ان كے شبہات كا ازالہ
:3 ايسے واقعات كے احكامات بيان كرنا جو اس وقت تازہ اسلام ميں رونما ہوچكے تھے اور ان كے بارے ميں بالخصوص نص قرآن و سنت پيغمبر اكرم ﷺموجود نہیں تھي
:4 خلفاء كے سياسى وعلمى مسائل حل كرنا اور ان كى جانب سے مشورہ كئے جانے پر ايسے نظريات پيش كرنا جو ان كے مشكلات كو دور كرسكيں
5 :اپنے پاك ضمير اور روشن ذہن شاگردوں كى تربيت وپرورش كرنا جو سير وسلوك كيلئے آمادہ رہيں
6 :بعض لاچار و مجبور انسانوں كى زندگى كے مخارج پورا كرنے كى سعى وكوشش كرنا
:7 ان لوگوں كى دل جوئي و پاسبانى جن پر حكام وقت كى جانب سے ستم روا ركھے جاچكے تھے ۔

علی ع کی ظاہری خلافت
بيعت كے بعد لوگوں ميں سرور و شادماني
حضرت علىؑ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے بعد لوگ انتہائي خوش و خرم تھے كيونكہ انہوں نے رسول خداﷺكے ہاتھ پر بيعت كى تھى
بيعت كے بعد لوگوں ميں جو باطنى خوشى و مسرت تھى اسے حضرت علىؑ نے اس طرح بيان فرمايا ہے : ميرے ہاتھ پر بيعت كرنے كے بعد لوگوں كى مسرت و شادمانى كا يہ حال تھا كہ بچے تك وجد و سرور ميں آگئے تھے ،ضعيف العمر لرزتے ہوئے پيروں سے چل كربيمار دوسروں كے كاندھوں پر سوار ہو كر ميرے پاس آئے اور جو لوگ معذور تھے ان كى دلوں ميں مجھ تك پہنچنے كى حسرت ہى رہ گئي عام لوگوں كى خوشى و مسرت كے علاوہ بعض بزرگ صحابہ رسولﷺايك دوسرے كے بعد عوام ميں تشريف لائے اور انہوں نے بھى تقارير كے ذريعے اپنى دلى مسرت كا اظہار كيا اس ضمن ميں انہوں نے عوام كو دعوت دى كہ وہ عہد و پيمان پر مضبوطى سے قائم رہيں اور نئي حكومت كو تقويت بخشيں جن لوگوں نے اس موقعے پر تقارير كيں ان میں سے بعض كے نام درج ذيل ہيں۔
:1 انصار كے نمائندہ ثابت بن قيس نے كہا : يا اميرالمو منينؑ خدا كى قسم اگرچہ دوسرے لوگوں كو خلافت كے لحاظ سے آپ پر سبقت حاصل ہے ليكن دين ميں وہ آپ پر برترى حاصل نہ كرسكے … انھيں آپ كى ضرورت تھى ليكن آپ ان سب سے بے نياز رہے ”
2 : خزيمہ بن ثابت نے اس موقعے پر كہا : يا اميرالمومنين ؑہمارى نظر ميں آپ كے علاوہ كوئي ايسا نہيں جس كے ہاتھوں ميں اپنے معاملات كى لگام دے سكيں …
ايمان ميں آپ كو سب پر برترى حاصل ہے خدا شناسى میں آپ عارف كامل ہيں اور رسول خداﷺكے مقامات و مراتب كے سب سے زيادہ حق دار آپ ہى ہيں دوسروں ميں جو خصوصيات پائي جاتى ہيں وہ آپ ميں بھى موجود ہيں ليكن جو فضائل و كمالات آپ كى ذات ميں ہيں ان سے وہ محروم ہيں
3 :صعصعہ بن صوحان نے كہا : يا اميرالمو منينؑ مقام خلافت نے آپ كى ذات كے ذريعے رونق پائي ،خلافت كو آپ كى ضرورت ہے اور آپكو اس كى ضرورت قطعى نہيں ۔
گوشہ نشين لوگ
بعض لوگوں نے حضرت علي(ع) كے دست مبارك پر بيعت كرنے سے كنارہ كشى بھى كى ۔مسعودى نے انھيں قعاد ( زمين گير ) اور ابوالفداء نے انھيں معتزلہ ( گوشہ نشين ) كے عنوان سے ياد كيا ہے جب حضرت علىؑ سے ان كے بارے میں سوال كيا گيا تو آپ ؑنے فرمايا : يہ وہ لوگ ہيں جنھوں نے نہ حق كا ساتھ ديا اور نہ ہى باطل كى مدد كيلئے كھڑے ہوئے ان لوگوں ميں سعد بن ابی و قاص ‘ عبداللہ بن عمر ‘ حسان بن ثابت ‘ كعب بن مالك ‘ قدامہ بن فطعون ‘ مغيرہ بن شعبہ اور ديگر چند افراد شامل تھے۔
يہ لوگ اپنے اس فعل كى توجيہ كے لئے بيجا عذر بہانے تراشتے تھے مثلا جب سعد بن ابی وقاص سے بيعت كے لئے كہا گيا تو انہوں نے جواب ديا كہ جب تك سب لوگ بيعت نہ كر ليں گے ميں بيعت نہيں كروں گا يہ لوگ تو اچھى طرح جانتے تھے كہ اميرالمومنين علىؑ حق پر ہيں اور حق بھى ان كے ساتھ ہے آپ كوہر اعتبار سے دوسروں پر فضيلت و برترى حاصل تھى ليكن ان كى نخوت اور جسمانى ہوا وہوس نے انھيں حق سے دور كر ديا تھا چنانچہ اميرالمو منين حضرت علي(ع) نے ان كو ان كے حال پر چھوڑ ديا اور بيعت كيلئے مجبور نہ كيا البتہ ان ميں سے چند لوگ بالخصوص سعد بن ابی و قاص اور عبداللہ بن عمر بعد ميں بہت پشيمان ہوئے۔
حضرت علي(ع) كى بيعت كے امتيازات
حضرت علىؑ كے دست مبارك پر بيعت روز جمعہ بتاريخ پچيس ذى الحجہ 35 ھ انجام پذير ہوئي اس كے بعض امتيازات ہم يہاں بيان كر رہے ہيں :
:1 حضرت علىؑ نے مستقبل كى حكومت كے استحكام كى خاطر لوگوں كو يہ موقعہ ديا كہ وہ آزاد انہ طور پر اپنا رہبر انتخاب كريں اور انہيں اتنى مہلت دى كہ وہ اس كے بارے ميں مكمل طور پر غور و فكر كرليں تاكہ پورے شعور كے ساتھ آيندہ كيلئے اپنے رہبر كا انتخاب كريں
:2 اميرالمومنين حضرت علىؑ كى بيعت عمومى تھى اور ايك عوامى تجويز كے طور پر پيش كى گئي تھى اس كے برعكس گذشتہ خلفاء كے ہاتھ پر بيعت كا معاملہ عوامى تحريك پر مبنى نہ تھا بلكہ بقول حضرت عمر : حضرت ابوبكر كى بيعت كا اتفاقى واقعہ تھا جو ”اچانك” كسى پيش بندى كے بغير حادثى طور پر رونما ہوا اور صرف دو افراد (حضرت عمر اور ابوعبيدہ) كى تجويز پر اس مسئلے كو پيش كيا گيا
حضرت عمر كو بھى عوام كى تجويز پر خليفہ مقرر نہيں كيا گيا تھا بلكہ انہيں حضرت ابوبكر نے اس منصب پر مامور كيا تھا۔ حضرت عثمان كو بھى عوام كى تجويز پر خليفہ منتخب نہيں كيا گيا تھا بلكہ چھ افراد پر مشتمل شورى ميں سے صرف دو افراد كى موافقت سے جسے خليفہ ثانى نے منتخب كيا يہ كام انجام پذير ہوا
:3 حضرت علىؑ كى بيعت كو لوگوں نے خود قبول كيا اور يہ كام اس وقت عمل پذير ہوا جب لوگوں نے پہلے سے اس مسئلے پر غور كرليا تھا جبكہ سابقہ خلفاء نے عوام كو غور و فكر كرنے كا موقع ہى نہيں ديا بلكہ ان كى سعى وكوشش يہ تھى كہ جس قدر جلد ممكن ہوسكے يہ كام ختم ہوتاكہ تاكہ خير كے باعث اس ميں موانع پيدا نہ ہوں
4 بيعت كے لئے جس جگہ كو مركز بنايا وہ مسجد تھى تاكہ تمام مسلمين اس ميں شركت كرسكيں اور اگر كسى كو كوئي اعتراض ہو تو اسے پيش كرے در حاليكہ گذشتہ خلفاء كى بيعت ميں اس خصوصيت كو مد نظر نہيں ركھا گيا۔
5 حضرت علىؑ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے كسى كو مجبور نہيں كيا گيا چنانچہ جسوقت عبداللہ بن عمر كى بيعت كا مسئلہ سامنے آيا اور انہوں نے بيعت كرنے سے انكار كرديا تو مالك اشتر نے اميرالمومنينؑ حضرت علىؑ سے كہا تھا كہ اگر آپ اجازت ديں تو ان كى گردن تن سے جدا كردى جائے ، تو حضرت علىؑ نے ان كى اس تجويز كو صرف قبول ہى نہيں كيا بلكہ اپنى طرف سے يہ ضمانت بھى دى كہ عبداللہ بن عمر كو كوئي شخص تكليف و آزار نہ پہنچائے ۔
ابتدائی اقدامات
جب آپ كو بيعت سے فرصت ملى تو آپ نے اعلان فرمايا كہ جن مقاصد كے تحت آپ نے حكومت كو قبول فرمايا ہے انہيں حقيقت كى شكل ديں گے۔ حضرت علىؑ نے جو سياسى مسلك اور طريق كار اختيار كيا وہ كوئي ايسا اتفاقى امر نہ تھا جس كى تخليق اسى روز كى گئي ہو بلكہ يہ ايسے دستور العمل كا مجموعہ تھا جو رسول خدا ﷺكى راہ و روش سے حاصل كيا گيا تھا اوراس كا سرچشمہ وحى و قرآن تھے۔
وہ كام جنہيں حضرت علىؑ كى نظر ميں اولويت حاصل تھى اور جنہيں فورا ہى انجام دينا چاہتے تھے وہ ان تين حصوں پر مشتمل تھے۔
1. نيك اور صالح كاركنوں كا تقرر
2. برترى وامتيازى سلوك كى برطرفى اور سب كے لئے مساوى حقوق كى ضمانت
3. تاخت وتاراج كئے ہوئے مال كو واپس كرنا او ربيت المال كى عادلانہ تقسيم
مساوى حقوق كى ضمانت
جيسا كہ ہم جانتے ہيں كہ اسلام نے دور جاہليت كے امتيازى سلوك كو قطعى طور پر باطل قرار ديا ہے مگر پيغمبر اكرمﷺكى رحلت كے بعد عہد جاہليت كى اس رسم كا بتدريج رواج ہونے لگا اور حضرت عثمان كے زمانہ خلافت ميں اسے مزيد فروغ ملا ۔
حضرت علىؑ نے زمام حكومت اپنے اختيار ميں لينے كے بعد عہد جاہليت كے تمام امتيازى سلوك كو يكسر ختم كر ديا اور اس بات كى ضمانت دى كہ تمام مسلمانوں كے حقوق مساوى و يكساں ہيں چنانچہ اس بارے میں خود فرماتے ہیں ذليل ( مظلوم و ستمديدہ) اس وقت تك ميرے نزديك عزيز وار جمند ہے جب تك اس كے حق كو ظالم سے نہ لے لوں اور زور مند (ظالم و ستمگر) اس وقت تك ميرے نزديك برا اور ناتواں ہے جب تك مظلوم كا حق اس سے حاصل نہ كر لوں۔
بدعنوانيوں ميں ملوث دولتمندوں كى رخنہ اندازي
بيت المال كى مساويانہ تقسيم كے باعث محرومين اور مستضعفين كو جس قدر خوشى و مسرت ہوئي اتنا ہى صدمہ ان چند مغرور افراد كو پہنچا جنہيں جاہ طلبى كى ہوا و ہوس تھى ، انہيں چند سال ميں چونكہ جو رو ستم كركے كئي گنا زيادہ تنخواہيں نيز وظائف لينے كى عادت ہوگئي تھى اس لئے حضرت علىؑ كى مساويانہ روش تقسيم مال سے جب وہ دچار ہوئے تو انہيں سخت پريشانى ہوئي
ايك روز وليد بن عقبہ اس جماعت كے نمايندے كى حيثيت سے حضرت علىؑ كے پاس آيا اور كہنے لگا كہ اے ابوالحسن اگر چہ ہم (بنى عبد مناف) بھى آپ كے بھائيوں ميں سے اور آپ جيسے ہى ہيں ليكن آپ نے تو ہم پر ظلم وستم ہى بپا كرديا ہم اس شرط پر آپ كى بيعت كرنے كو تيار ہيں كہ وہ مال و متاع جو ہم نے حضرت عثمان كے عہد خلافت ميں جمع كيا ہے وہ آپ ہم سے واپس نہ ليں اور ان كے قاتلوں كو ہلاك كرديں ليكن ہمارے مفادات كو كوئي خطرہ ہوا اور آپ كے رويے سے ہم خوفزدہ ہوئے تو ہم آپ سے عليحدہ ہو كر شام كى جانب كوچ كرجائيں گے
يہ سن كر حضرت علىؑ نے فرمايا كہ : تم جو يہ كہہ رہے ہو كہ ميں نے ظلم وستم كيا ہے (اور ميرے اس اقدام كو ظلم وستم سے تعبير كياجاسكتا ہے ) تو يہ ظلم حق و انصاف كى جانب سے ہوا ہے اور يہ كہ وہ مال جو تمہارے پاس ہے اسے ميں نظر انداز كردوں تو ميں ايسا نہيں كرسكتا كيونكہ حق خدا كو پائمال ہوتے ہوئے ديكھ كر ميں چشم پوشى نہيں كرسكتا اب يہ مال خواہ تمہارے چنگل ميں ہو يا كسى اور شخص كے جب اس جماعت كے سردار كو يقين ہوگيا كہ وہ گفتگو يا دھمكى كے ذريعے اپنا مدعى حاصل نہيں كرسكتے تو انہوں نے اپنى پورى قوت سے حضرت علىؑ كى قائم كردہ نو بنياد حكومت كى بيخ كنى شروع كردى اور اس كے خلاف بر سر پيكار ہوگئے
اس بارے ميں عمرو بن عاص نے معاويہ كو لكھا تھا كہ جو بھى فيصلہ كيا ہے اس پر جلد ہى عمل كيجئے كيونكہ جس طرح لكڑى كے اوپر سے چھال اتارلى جاتى ہے ابى طالب كا فرزند اسى طرح اس مال و دولت كو جوتمہارے پاس ہے ، تمہارے تن سے اتروائے گا۔
حكومت علىؑ كى مخالفت
حضرت علىؑ نے ايك خطبے ميں حكومت كے مخالفين كو تين گروہوں ميں تقسيم كيا ہے وہ يہ ہيں :
1. اصحاب جمل : جنہيں آپؑ نے ناكثين كے نام سے ياد كيا ہے۔
2. اصحاب صفين : انہيں آپؑ نے قاسطين كہا ہے اور
3. اصحاب نہروان : (خوارج جو مارقين كہلائے ہيں )
ناكثين كى ذہنى كيفيت يہ تھى كہ وہ انتہائي لالچى ‘ زرپرست اور امتيازى سلوك روا ركھنے كے طرفدار تھے چنانچہ حضرت علىؑ نے جہاں كہيں عدل و مساوات كا ذكر كيا ہے وہاں آپؑ كى توجہ بيشتر اسى گروہ كى جانب رہى ہے
”قاسطين” كا تعلق ”طلقائ” كے فرقہ سے تھا اس گروہ كى تشكيل ميں بعض فراري، بعض حكومت سے ناراض اورعثمان كے كارندے شامل تھے ۔ يہ لوگ ذہنى طور پر حيلہ گر اور نفاق پسند تھے۔ وہ لوگ حضرت علىؑ كى حكومت كا زوال چاہتے تھے تاكہ حكومت ان كے دست اختيار ميں آجائے
تيسرے گروہ كى اخلاقى حالت يہ تھى كہ وہ ناروا عصبيت كے قائل تھے ، ذہنى خشكى كو تقدس تصور كرتے تھے اور ان كى جہالت خطرناك حد تك پہنچ گئي تھي
يہاں ہم اختصار كو مد نظر ركھتے ہوئے ان گروہوں كا تعارف كراتے ہوئے انكى حيثيت كاجائزہ ليں گے اور يہ بتائيں گے كہ ان ميں سے ہر گروہ نے حضرت علىؑ كى حكومت كے خلاف كيا كيا كارگزارياں كيں۔

ناکثین
طلحہ وزبير كى عرصہ دارز سے يہ آرزو تھى كہ وہ اس مقام پر پہنچيں جہاں سے عالم اسلام پر حكمرانى كرسكيں۔ حضرت عثمان كے قتل كے بعد رائے عامہ حضرت علىؑ كى جانب اس بناپر متوجہ ہوگئي كہ انہوں نے آپؑ كو ہى عہدہ خلافت كے لئے شايستہ ترين انسان سمجھا۔ چنانچہ جب وہ لوگ اقتدار سے نااميد ہوگئے تو حضرت علىؑ كے دست مبارك پر بيعت كرنے كے لئے پيش پيش رہے اور بظاہر سب پر سبقت لے گئے
حضرت علىؑ كى بيعت ميں سبقت لے جانے كى وجہ يہ تھى كہ وہ چاہتے تھے كہ اپنے اس اقدام سے خليفہ وقت كو اپنى جانب متوجہ كريں تاكہ اس طريقے سے وہ اپنے مقاصد تك پہنچ سكيں ۔ ليكن ان كى توقع كے خلاف اميرالمومنينؑ نے انكے ساتھ ديگر تمام مسلمين كى طرح يكساں سلوك روا ركھا اور اس طرح ان كى تمام حسرتوں پر پانى پھرگيا
يعقوبى نے لكھا ہے كہ طلحہ اور زبير اميرالمومنين حضرت علىؑ كے پاس آئے اور كہا كہ پيغمبر خدا ﷺكے بعد ہم سے بہت زيادہ ناانصافى كى گئي ہے ، اب آپ ہميں خلافت كى مشينرى ميں شريك كرليجئے
اس پر اميرالمومنين علىؑ نے فرمايا : قوت و پايدارى ميں تو تم ميرے ساتھ شريك ہوہى شدائد اورسختيوں ميں بھى تم ميرے ساتھ رہو حضرت علىؑ كے اس اقدام سے يہ دونوں حضرات ايسے برگشتہ ہوئے كہ انہوں نے دستگاہ خلافت سے عہد شكنى كا فيصلہ كرليا اور آخر كا اس كا انجام جنگ ”جمل” كى صورت ميں رونما ہوا
برگشتگى كا دوسرا عامل يہ تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىؑ نے بيت المال كو تمام مسلمانوں كےدرميان مساوى تقسيم كيا اميرالمومنين حضرت علىؑ كا يہ رويہ طلحہ اور زبير كے لئے ناقابل برداشت تھا انہوں نے زبان اعتراض دراز كى اور بيت المال ميں سے اپنا حصہ بھى نہيں ليا
حضرت علىؑ نے انہيں اپنے پاس بلايا اور فرمايا : كيا تم ميرے پاس اس مقصد كے لئے نہيں آئے تھے كہ زمام خلافت كو ميں اپنے دست اختيار ميں لے لوں درحاليكہ مجھے اس كا قبول كرنا ناپسند تھا ؟ كيا تم نے اپنى مرضى سے ميرے ہاتھ پر بيعت نہيں كى ؟ اس پر انہوں نے جواب ديا كہ : ہاں اس ميں ہمارى مرضى شامل تھى يہ سن كر حضرت علىؑ نے فرمايا تو تم نے مجھ ميں كون سى بات ديكھى جو اعتراض شروع كرديا اور ميرى مخالفت پر اتر آئے ؟ انہوں نے جواب ديا كہ ہم نے اس اميد پر بيعت كى تھى كہ خلافت كے اہم امور ميں آپ كے مشير رہيں گے اب ديكھتے ہيں كہ آپ نے ہمارے مشورے كے بغير بيت المال كو مساوى تقسيم كرديا … جو چيز ہمارى رنجيدگى كا سبب ہوئي ہے وہ يہ ہے كہ آپ حضرت عمر كى روش كے خلاف جارہے ہيں وہ بيت المال كى تقسيم ميں لوگوں كے سابقہ كارناموں كو ملحوظ خاطر ركھتے تھے ليكن آپ نے اس امتياز سے چشم پوشى كى جو ہميں حاصل ہے آپ نے ہميں ديگر مسلمانوں كے برابر سمجھا ہے جب كہ يہ مال ہمارى جانبازى كے ذريعے شمشير كے بل پر حاصل ہواہے۔
يہ سن كر حضرت علىؑ نے فرمايا : امور خلافت ميں جہاں تك مسئلہ مشاورت كى بات ہے تو مجھے خلافت كى كب چاہ تھى ؟اس كى جانب آنے كى تم نے ہى مجھے دعوت دى تھى مجھے چونكہ مسلمانوں كے باہمى اختلافات اور ان كے منتشر ہوجانے كا خوف تھا اسى لئے اس ذمہ دارى كو قبول كرليا جب بھى كوئي مسئلہ ميرے سامنے آيا تو ميں نے حكم خدا كو اور سنت پيغمبر ﷺكى جانب رجوع كيا اور اس كا حل تلاش كرليا اسى لئے اس معاملے ميں مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت پيش نہ آئي ۔ البتہ اگر كسى روز ايسا معاملہ پيش آيا جس كا حل قرآن اور سنت پيغمبر ﷺكے ذريعے نہ نكل سكے تو مجھے تمہارے مشورے كى ضرورت محسوس ہوگى ، تو تم سے ضرور مشورہ كروں گا
رہا بيت المال كا مسئلہ تو يہ بھى ميرى اپنى خصوصى روش نہيں ، رسول خدا ﷺكے زمانے ميں نے ديكھا ہے كہ آپ ﷺبيت المال كو مساوى تقسيم كيا كرتے تھے۔
اس كے علاوہ اس مسئلے كے بارے ميں بھى قرآن نے حكم ديا ہے كہ يہ كتاب اللہ آپ كے سامنے ہے اس ميں كوئي غلط بات درج نہيں ہے يہ كتاب ہميں مساوات و برابرى كى دعوت ديتى ہے اور اس نے ہر قسم كے امتيازى سلوك كو باطل قرار ديا ہے
يہ كہنا كہ بيت المال آپ كى شمشير كے زور پر ہاتھ آيا ہے تو اس سے پہلے بھى ايسے لوگ گذرے ہيں جنہوں نے جان ومال سے اسلام كى مدد كى ہے۔ ليكن رسول خدا ﷺنے بيت المال كى تقسيم ميں كسى كے ساتھ امتيازى سلوک روانہ ركھا۔
طبرى لكھتا ہے كہ : جب طلحہ ہر قسم كے امتيازى سلوك سے مايوس و نااميد ہوگيا تو اس نے يہ مثل كہى : ہميں اس عمل سے اتنا ہى ملا ہے جتنا كتے كو سونگھنے سے ملتا ہے
ايك طرف تو طلحہ اور زبير اس بات سے مايوس ونااميد ہوگئے كہ انہيں كوئي مقام و مرتبہ ملے گا اور ان كے ساتھ امتيازى سلوك روا ركھا جائے گا اور دوسرى طرف انہيں يہ اطلاع ملى كہ حضرت عائشہ نے حضرت علىؑ كے خلاف مكہ ميں پرچم لہراديا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ مكہ كى جانب روانہ ہوں اسى لئے حضرت علىؑ كے پاس آئے اور كہا كہ ہم عمرہ كى غرض سے آپ كى اجازت كے خواہاں ہيں
ان كے جانے كے بعد حضرت علىؑ نے اپنے دوستوں سے فرمايا كہ : خدا كى قسم ان كا ارادہ ہرگز عمرہ كا نہيں بلكہ ان كا مقصد عہد شكنى اور خيانت ہے ۔
جنگ جمل كے ناخوشگوار نتائج
جنگ جمل كے جو اثرات و نتائج رونما ہوئے وہ نہايت ہى ناخواشگوار تھے ان ميں سے بعض كا ہم يہاں ذكر كرتے ہيں ۔
:1 اس جنگ ميں دس ہزار سے زيادہ مسلمان قتل ہوئے درحقيقت يہ افراد ”ناكثين” كے حسد اور ان كے جذبہ جاہ طلبى پر قربان ہوئے مورخين نے لكھا ہے كہ دو لشكروں كے اتنے سپاہى زمين پر گرے كہ اگر ان كى لاشوں پر گھوڑے دوڑائے جاتے تو گھوڑوں كے سم ان كى لاشوں كے علاوہ كسى اور چيز نہ پڑتے لاشوں كے يہ انبار اس عظیم جنگ كا حاصل و ثمرہ تھا جو جمل كے نام سے مشہور ہوئي اس سے قبل بھى بيان كياجاچكا ہے كہ بيشتر افراد ناكثين كے ہاتھوں ہى مارے گئےمقتولين كى اس كثير تعداد نے بہت سى اقتصادى مشكلات نيز جسمانى و نفسياتى دشوارياں مسلمانوں كے لئے پيدا كرديں
:2 اس جنگ كے بعد مسلمانوں ميں سے جذبہ اخوت و برادرى قطعى مفقود ہوگيا اور امت مسلمہ پر فتنہ وفساد كے دروازے كھل گئے اور جنگ صفين بھڑك اٹھى در حقيقت يہ دو جنگيں اس مضبوط رسى سے بندھى ہوئي تھيں جس كا پہلا سرا بصرہ ميں تھا اور دوسرا صفين ميں اگرچہ حضرت عائشہ كى حضرت عثمان سے قرابت دارى نہ تھى ليكن جنگ جمل نے معاويہ كے لئے اس بناپر شورش وسركشى كا راستہ ہموار كرديا كہ وہ خاندان اميہ كے فرد اور عثمان كے رشتہ دار تھے چنانچہ اس جنگ كے باعث معاويہ كے لئے يہ بہانہ پيدا ہوگيا كہ اس نے اميرالمومنين حضرت علىؑ كى حكومت كے خلاف جنگ و جدل كرنے كے علاوہ خلافت كوا پنے خاندان ميں منتقل كرديا درحاليكہ يہ مقتول خليفہ كا ہى خاندان تھا اور يہيں سے خلافت نے موروثى شكل اختيار كرلى
:3 جنگ جمل كے ضرر رسان نتائج جنگ صفين كے بعد بھى باقى رہے اور جنگ نہروان درحقيقت دو پہلى جنگوں (جنگ جمل و جنگ صفين ) كا ہى نتيجہ تھى كيونكہ ان دو جنگوں كے باعث بعض تنگ نظر اور كوتاہ فكر لوگوں كے دلوں ميں بدگمانى كے جذبات ابھرنے لگے،چنانچہ عملى طور پر وہ تشويش و اضطراب اور حالت تردد كا شكار ہو كر رہ گئے نيز معاشرے كى طرف سے وہ ايسے بدبين و بدظن ہوئے كہ ہر شخص دوسرے كو عداوت و دشمنى كى نگاہ سے ديكھنے لگے
بعض وہ لوگ جو ”خوارج ” كہلائے اس رائے كے حامى و طرفدار تھے كہ چونكہ ”ناكثين” كے سرداروں نے اپنے پيشوا يعنى حضرت علىؑ كے خلاف شورش و سركشى كى ہے اس لئے ان كا شمار كفار ميں ہے اس كے بعد ان كے دلوں ميں يہ گمان پيدا ہوگيا كہ حضرت علىؑ نے چونكہ اپنى حكومت كے استحكام كى خاطر يہ جنگ كى اس لئے وہ بھى آئين دين اسلام سے خارج ہوگئے۔
بعض لوگوں كى يہ رائے تھى كہ جنگ جمل ميں اگر چہ حضرت علىؑ حق بجانب تھے ليكن آپؑ نے چونكہ اہل بصرہ كى تمام دولت كو بطور مال غنيمت جمع نہيں كيا اور ان كى عورتوں كو قيد نہيں كيا اسىلئے يہ آپ سے غلطى سرزد ہوئي چنانچہ اسى بناپر وہ آپؑ كو ناشايستہ الفاظ سے ياد كرنے لگے
انہيں ميں سے تيسرا گروہ ايسا بھى تھا جو ان دونوں گروہوں كو كافر سمجھتا تھا اور اس كا يہ عقيدہ تھا كہ يہ لوگ ہميشہ جہنم ميں رہيں گے ۔
قاسطین
ناكثين كا فتنہ دب جانے كے بعد ايسے ناہنجار حالات پيدا ہونے لگے كہ جن ميں خالص نسلى اور قبائلى محركات كارفرماتھے ۔ اب اس اسلامى فكر كو پيش كرنے كى كوشش كى جانے لگى جس ميں سے روح تو مفقود ہوچكى تھى بس ظاہرى خول باقى رہ گيا تھا ۔ اب اسلام كى قدرت كو بچانے كيلئے خليفہ مسلمين كى روز افزوں طاقت مسئلہ تھى اس لئے حضرت علىؑ كى حكومت كے راستے ميں جو دوسرا خطرہ تھا وہ ”قاسطين” كا وجودتھا قاسطين كا مجمع در حقيقت ان عاملين اور جماعتوں كى منظم شكل تھى جنہيں حضرت علىؑ كى حكومت سے كسى نہ كسى طرح گزند پہنچى تھى اور انہيں يہ خطرہ لاحق تھا كہ اگر حضرت علىؑ كى حكومت بر سر اقتدار رہى تو وہ اپنى نفسانى خواہشات كو پورا كرنے ميں كامياب نہ ہوسكيں گے
ان تمام گروہوں اور جماعتوں كا سربراہ معاويہ تھا اس نے اپنے سياسى و اجتماعى موقف كى بناپر اپنے گرد بہت سے پيروكار جمع كرلئے تھے
معاويہ ابن ابى سفيان نے فتح مكہ كے بعد دين اسلام قبول كيا تھا وہ ان افراد ميں شامل تھا جو جنگ كے دوران مسلمانوں كى حراست ميں آگئے تھے اور جنہيں پيغمبر اكرم ﷺنے يہ فرمايا كر آزاد كرديا تھا جاؤ تم سب آزاد ہو سنہ 12ھ ميں جس وقت حضرت ابوبكر نے ”يزيد ابن ابى سفيان” كى قيادت و فرماندارى ميں روميوں سے جنگ كرنے كے لئے لشكر روانہ كيا تھا ، تو معاويہ پرچمدار كى حيثيت سے لشكر شام كے ہمراہ تھا جب اس كے بھائي كا انتقال ہوگيا تو خليفہ وقت نے اسے سپاہ كا فرماندار مقرر كرديا۔ حضرت عثمان كے دور خلافت ميں بہت سے نئے علاقے اسلامى حكومت كى قلمرو ميں شامل ہوئے چنانچہ يہى وجہ تھى كہ معاويہ انيس سال تك خاطر جمعى كے ساتھ شام پر حكومت كرتا رہا۔
جس وقت حضرت علىؑ نے زمام حكومت سنبھالى تو معاويہ نے آپؑ كا فرمان قبول كرنے سے روگردانى كى اور حضرت عثمان كے خون كا بدلہ لينے كو بہانہ بناكر حضرت علىؑ سے برسر پيكار ہوگيا اورجنگ صفين كيلئے راہ ہموار كى ، آخرى لمحات ميں جب كہ حضرت علىؑ كے لشكر كى فتح و پيروزى يقينى تھى ، اس نے عمرو عاص كى نيرنگى سے قرآن مجيد كو نيزوں كى نوك پر اٹھاليا اور حضرت علىؑ كو حكميت قرآن كى جانب آنے كى دعوت دى اور اس طرح اس نے كوفہ كے سادہ لوح سپاہيوں كو تقدس نمائي سے اپنا گرويدہ كرليا يہاں تك كہ انہوں نے حضرت علىؑ كو مجبور كيا كہ وہ جنگ كرنے سے باز رہيں
قرآن مجيد كى ”حكميت” كا فائدہ بھى معاويہ كو ہى ہوا چنانچہ پہلى مرتبہ اس كا نام لوگوں كى زبانوں پر خليفہ كى حيثيت سے آنے لگا اور سنہ 40 ھ ميں جب حضرت علىؑ كو شہيد كرديا گيا تو خليفہ بن كر ہى مسند خلافت پر آيا اور اس نے انيس سال سے زيادہ مسلمانوں پر حكومت كى اور بالآخر ماہ رجب ميں اس كا انتقال ہوا ۔
حضرت علىؑ كا معاويہ كے ساتھ مراسلت ميں محرك
حضرت علىؑ جب تك كوفہ ميں قيام پذير رہے اور صفين كى جانب روانہ ہونے سے پہلے تك آپ نے معاويہ كى جانب خطوط بھيجنے اور اپنے نمايندگان كو روانہ كرنے ميں ہميشہ پيشقدمى كى تا كہ اسے اس راہ و روش سے روكا جا سكے جو اس نے اختيار كر ركھى تھى جس كى پہلى وجہ يہ تھى كہ حضرت علىؑ دل سے يہ نہيں چاھتے تھے كہ شام كے لوگوں سے جنگ كى جائے كيونكہ وہ بھى مسلمان تھے
دوسرى وجہ يہ تھى كہ حضرت علىؑ چاھتے تھے كہ معاويہ ،شام كے عوام اور ان لوگوں كے لئے جو آئندہ آپ كے ہمركاب رہ كر معاويہ سے جنگ كريں گے اتمام حجت ہوجائے
تيسرى وجہ يہ تھى كہ اگر امير المومنين حضرت علىؑ معاويہ كے خطوط كا جواب نہ ديتے اور اس كے عدم تعاون كے خلاف صريح و قطعى موقف اختيار نہ كرتے تو ممكن تھا كہ عوام اس رائے كے حامى ہوجاتے كہ معاويہ حق بجانب ہے۔
ابن ابى الحديد نے ان بعض خطوط كونقل كرتے ہوئے جن كا مبادلہ حضرت علىؑ اور معاويہ كے درميان ہوا لكھا ہے كہ اگر چہ زمانے ميں نيرنگياں تو بہت ہيں مگر اس سے زيادہ كيا عجيب بات ہو سكتى ہے كہ حضرت علىؑ كے لئے نوبت يہاں تك آن پہنچى كہ ان كا اور معاويہ كا شمار ايك ہى صف كيا جانے لگا اور وہ ايك دوسرے كے ساتھ مراسلت كريں
اس كے بعد ابن ابى الحديدنے لكھا ہے كہ اس مراسلت و مكاتبت كے پس پشت كون سا محرك كار فرما تھا وہ لكھتا ہے كہ ” شايد حضرت علىؑ كى نظر ميں اس كى وہ مصلحت آشكار و روشن تھى جو ہم پرپوشيدہ و پنہاں ہے ” اوپر جو وجوہ بيان كے گئے ہيں ان كے علاوہ خطوط لكھنے كى وجہ يہ بھى ہو سكتى ہے كہ :
1. زور آور و تنومند سياسى افراد نے مختلف احاديث جعل كركے معاويہ كو اس بلند مقام پر پہنچا ديا اور اس كے لئے ايسے فضائل اختراع كئے كہ معاويہ امام(ع) كے مقابلہ ميں آگيا يہى نہيں بلكہ معاويہ خود كو افضل تصور كرتا اور اس پر فخر كرتا تھا يہ تحريك عمر كے عہد خلافت ميں شروع ہوئي اور بالاخرہ امير المومنين حضرت علىؑ كے زمان خلافت ميں شدت اختيار كر گئي۔
2. معاويہ نے حضرت علىؑ كو جو خطوط لكھے ہيں ان ميں اس نے حضرت علىؑ سے بہت سى ناروا باتيں منسوب كى ہيں اور اپنى طرف ايسے افتخارات كى نسبت دى ہے جن كى كوئي اساس نہيں ہے اگر حضرت علىؑ نے ان حقائق كوآشكار نہ كيا ہوتا اور اس ضمن ميں ضرورى باتيں نہ بتائي ہوتيں تو بہت سے حقيقى واقعات نظروں سے او جھل ہو كر رہ جاتے اور وہ افترا پردازياں جو آپؑ كے ساتھ روا ركھى گئيں ان كا جواب نہ ديا گيا ہوتا تو سادہ لوح انسان ان كو حقيقت سمجھ كر قبول كر ليتے۔
حضرت علىؑ سے جو اتہامات منسوب كئے گئے ان ميں سے ايك يہ بھى تھا كہ آپؑ كو اپنے سے پہلے كے خلفاء سے حسد و بغض تھا اور ان كے خلاف شورش كرنا چاہتے تھے اگر اس كا جواب نہ ديا گيا ہوتا تو عين ممكن تھا كہ سپاہ عراق ميں تفرقہ پيدا ہوجاتا چنانچہ يہى وجہ تھى كہ حضرت علىؑ نے اس سازش كو روكنے كى غرض سے اپنے منطقى و مستدل بيان سے معاويہ كو جواب ديا ۔
مارقين
خوارج كے مقابل حضرت علىؑ كا موقف
حكميت كے معاملے ميں شكست سے دوچار ہو كر اميرالمومنين حضرت علىؑ معاويہ سے جنگ كرنے كى غرض سے اپنے آپ كو آمادہ كرنا شروع كيا تا كہ مقرر مدّت ختم ہوجانے كے بعد صفين كى جانب واپس چلے جائيں ليكن خوارج نے حضرت علىؑ كى اطاعت كرنے كى بجائے شورش و سركشى سے كام ليا اور پہلے كى طرح اس مرتبہ بھى نعرہ لا حكم الا اللہ كى بنياد پر اميرالمومنين حضرت علىؑ اور معاويہ كو وہ كافر كہنے لگے۔
انھيں جب بھى موقع ملتا وہ شہر كوفہ ميں داخل ہوجاتے اور جس وقت حضرت علىؑ مسجد ميں تشريف فرما ہوتے تو وہ اپنا وہى پرانا نعرہ لگانے لگتے اس كے ساتھ ہى انہوں نے اس شہر ميں اپنے افكار و نظريات كا پرچار بھى شروع كرديا۔
اميرالمومنين حضرت علىؑ نے خاموش و پر سكون رہ كر اور كوئي رد عمل ظاہر كئے بغير اپنى تحريك كو جارى ركھا وہ ان كے ساتھ انتہائي نرمى اور تواضع كے ساتھ پيش آئے اگر چہ حضرت علىؑ چاہتے تو ان لوگوں سے كسى بھى قسم كا سلوك روا ركھ سكتے تھے مگر آپ(ع) نے ان كى تمام افترا پردازيوں اور سياسى سرگرميوں كے باوجود اپنے محبت آميز رويے ميں ذرہ برابر بھى تبديلى نہ آنے دى آپ(ع) ان سے اكثر فرماتے كہ ” تمہارے تين مسلم حقوق ہمارے پاس محفوظ ہيں :
1. شہر كى جامع مسجد ميں نماز پڑھنے اور اجتماعات ميں شركت كرنے سے تمہيں ہرگز منع نہيں كيا جائے گا۔
2. جب تك تم لوگ ہمارے ساتھ ہو بيت المال سے تمہيں تنخواہيں ملتى رہيں گي۔
3. جب تك تم ہم پر تلوار اٹھاؤ گے ہم تمہارے ساتھ ہرگز جنگ كے لئے اقدام نہ كريں گے۔
خوارج اگر چہ نماز ميں حضرت علىؑ كى پيروى نہيں كرتے تھے مگر اجتماع نماز كے وقت ضرور پہنچ جاتے وہ لوگ اس جگہ نعرے لگا كر اور دوسرے طريقوں سے آپ(ع) كو پريشان كركے آزار پہنچانے كى كوشش كرتے رہتے ايك دن جس وقت حضرت علىؑ نماز ميں قيام كى حالت ميں تھے خوارج ميں سے ايك شخص نے جس كا نام ”ابن كوا” تھا بآواز بلند يہ آيت پڑھي:
” و لقد اوحى اليك والى الذين من قبلك لئن اشركت ليحبطن عملك و لتكونن من الخاسرين“ اس آيت ميں خطاب پيغمبرﷺسے كيا گيا ہے كہ : اے نبى ان سے كہو’ پھر كيا اے جاہلو تم اللہ كے سوا كسى اور كى بندگى كرنے كےلئے مجھ سے كہتے ہو(يہ بات ہميں ان سے صاف كہہ دينى چاہيئے كيونكہ) تمہارى طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبياء كى طرف يہ وحى بھيجى جاچكى ہے۔ اگر تم نے شرك كيا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا اور تم خسارے ميں رہوگے۔ ابن كوا” يہ آيت پڑھ كرچاھتا تھا كہ اميرالمومنين حضرت علىؑ كو اشارہ و كنايہ ميں يہ بتا دے كہ آپ نے عہد گذشتہ ميں جو اسلام كے لئے خدمات انجام دى ہيں ان سے ہرچند انكار نہيں كيا جاسكتا ليكن آپ(ع) نے كفر كے باعث اپنے تمام گذشتہ اعمال كو تلف و ضائع كرديا ہے۔
حضرت علىؑ خاموش رہے اور جب يہ آيت پورى پڑھى جا چكى تو آپ نے نماز شروع كى … ” ابن كوا” نے دوسرى مرتبہ يہ آيت پڑھى حضرت علىؑ اس مرتبہ بھى خاموش رہے چنانچہ جب وہ يہ آيت كئي بارپڑھ چكا اور چاہتا تھا كہ نماز ميں خلل انداز ہو تو اميرالمومنين حضرت علىؑ نے يہ آيت تلاوت فرمائي
فاصبر ان وعد اللہ حق و لا يستخفنك الذين لا يوقنون (پس اے نبى صبر كرو يقينا اللہ كا وعدہ سچا ہے اور ہرگز ہلكانہ پائيں تم كہ وہ لوگ جو يقين نہيں كرتے) اور آپ نے اس كى جانب توجہ و اعتنا كئے بغير نماز جارى ركھي
اميرالمومنين حضرت علىؑ كا طرز عمل يہ تھا كہ آپ لوگوں كى نعرہ بازى اور نكتہ چينى كا جواب منطقى نيز واضح و روشن دلائل سے ديتے تا كہ وہ اپنى ذھنى لغزش كى جانب متوجہ ہو سكيں اور آپ(ع) كو پريشان كرنے سے باز رہيں اسى لئے آپؑ فرماتے كہ اگر خوارج خاموش رہتے ہيں تو ہم انھيں اپنى جماعت كا جزو ركن سمجھتے ہيں اگر وہ اعتراض كيلئے لب كشائي كرتے ہيں تو ہم ان كا مقابلہ منطق و دليل سے كرتے ہيں اور وہ ہمارے ساتھ ضد پر اتر آئيں تو ہم ان سے نبرد آزمائي كرتے ہيں۔
مجموعى نعرہ
خوارج كا انتہائي اہم اور پر جوش ترين نعرہ لا حكم الا للہ تھا اگر چہ يہ نعرہ انہوں نے قرآن مجيد سے ہى اخذ كيا تھا مگر عدم واقفيت اور فكرى جمود كے باعث اس كى وہ صحيح تفسير نہ كرسكے۔
مذكورہ آيہ مباركہ ميں ” حكم” سے مراد قانون ہے مگر خوارج نے اپنى كج فہمى كى بنا پر اس كے معنى ” رہبري” سمجھ لئے جس ميں حكميت بھى شامل ہے وہ اس بات سے بے خبر رہے كہ خود قرآن نے ان كى كج فہمى كو رد كيا ہے جب قرآن نے بيوى و شوہر كے اختلاف اور حالت احرام ميں شكار كرنے تك مسائل كے بارے ميں انسانوں كو حكميت كا حق ديا ہے تو يہ كيسے ممكن تھا كہ مسلمانوں كے دو گروہ كے درميان ايسے حساس معاملات اور عظيم اختلافات كے بارے ميں انسانوں كو حق حكميت نہ ديا جاتا جس سے بعض انسانى زندگيوں كى نجات بھى وابستہ ہو۔
اميرالمومنين حضرت علىؑ نے ان لوگوں كى اطلاع كے لئے جو خوارج كا پروپيگنڈا بالخصوص اس دلكش نعرے سے متاثر ہوگئے تھے موثر تقرير كى اس ميں آپؑ نے فرمايا كہ اگر چہ يہ بات مبنى بر حقيقت ہے مگر اس سے جو مقصد و ارادہ اخذ كياگيا ہے وہ محض باطل ہے اس ميں شك نہيں كہ حكم خدا كيلئے ہى مخصوص ہے ليكن ان لوگوں نے حكم كى جو تفسير كى ہے اس سے مراد فرمانروا ہے اور ان كا كہنا ہے كہ خدا كے علاوہ كسى فرمانروا كا وجود نہيں در حاليكہ انسانوں كيلئے خواہ اچھے كام انجام ديتے ہوں يا برے ‘ فرمانروا كا وجوود امر ناگزيرہے ۔
اصل دشمن كى جانب توجہ
اميرالمومنين حضرت علىؑ نے خوارج كى سركوبى كے بعد جد وجہد كے اصل محاذ اور اسلام كے دفاع كى جانب رخ كيا اس جد و جہد كى خصوصيت و اہميت بتانے، معاويہ كے خلاف جہاد مقدس كى لشكر اسلام كو ترغيب دلانے اور عوام كو معاويہ كى حكومت كے عواقب و انجام سے باخبر كرنے كى غرض سے آپ(ع) نے تقرير كى اور فرمايا كہ اے لوگو جب فتنہ و فساد كى لہريں ہر طرف پھيل چكى تھيں اور اس كابحران اپنے انتہائي درجہ كو پہنچ چكا تھا اس وقت كسى ميں اتنى جرات و ہمت نہ تھى كہ ميدان كار زار ميں داخل ہو اس وقت ميں ہى ايسا شخص تھا جس نے اس فتنے كو خاموش كرديا …ياد ركھو فتنوں ميں سب سے زيادہ بھيانك خطرہ بنى اميہ كے فتنے كا ہے يہ فتنہ سياہى اور اندھيرے كا فتنہ ہے اور جب اس كا سايہ پھيل جائے گا تو اس كى بلا خاص طور پر نيك لوگوں پر نازل ہوگي … ان كے اذيت ناك مظالم تم پر سالہا سال تك جارى رہيں گے ان پر تمہارافاتح ہونا اتنا ہى اہم ہے جتنا غلاموں كا اپنے مالك پر غالب آنا يا پيروكاروں كا اپنے پيشوا پر غلبہ حاصل كر لينا … اس وقت قريش يہ چاہيں گے ان كے پاس جو كچھ اس دنيا ميں ہے اسے خرچ كركے بس ايك بار اسے ديكھ ليں اگر چہ وقت چند ہے لمحات پر منحصر ہے بس اتنا ہے جتنا ايك اونٹ كو نحر كرنے ميں صرف ہوتا ہے آج وہ چيز جس كا صرف ايك حصہ ميں ان سے مانگ رہاہوں اور وہ نہ دينے پر بضد ہيں كل اسے مجھے دينے كے لئے اصرار كريں گے اور يہ چاہيں گے كہ ميں اسے قبول كرلوں ۔
غاليوں كاوجود
اميرالمومنين حضرت علىؑ نے اپنى حقانيت ثابت كرنے، خواب غفلت ميں سوئے ہوئے لوگوں بالخصوص خوارج كو جگانے اور چند ديگر مصلحتوں كى بنا پر بہت سے غيبى مسائل كى پشين گوئي كرنا شروع كردى ليكن كچھ كم ظرف لوگوں نے آپ كے بارے ميں مبالغے سے كام ليا وہ خوارج كے عين مقابل آگئے اور چونكہ اميرالمومنين حضرت علىؑ كى غير معمولى عقل و نظر اور دانش و بينش سے وہ حيرت زدہ و مرغوب تھے اسى لئے وہ آپ(ع) كو حد انسانيت اور مخلوقيت سے بالاتر سمجھنے لگے اور آپ(ع) كى الوہيت كے قائل ہوگئے۔
اميرالمومنين حضرت علىؑ كے نظريے كے مطابق دونوں ہى گروہ ہلاك و بدبختى سے دوچار ہوئے چنانچہ اس سلسلے ميں آپ(ع) خود فرماتے ہيں كہ ميرے معاملے ميں دو شخص ہلاك ہوئے ايك وہ جس نے مبالغہ كيا اور دوسرا ميرا بدخواہ دشمن ايك روز اميرالمومنين حضرت علىؑ تقرير فرمارہے تھے سا معين ميں سے ايك شخص جو آپ(ع) كا والہ و شيدائي تھا اپنى جگہ سے اٹھا ا ور كہنے لگا انت ، انت آپؑنے فرمايا افسوس تيرے حال پر ميں كيا ہوں ؟ اس نے كہا انت اللہ يہ سن كر اميرالمومنين حضرت علىؑ نے حكم ديا كہ اس كے ہم عقيدہ ساتھيوں كو گرفتار كرليا جائے۔
غلات جو غيب كى باتيں اميرالمومنين حضرت علىؑ سے سنتے تھے انھيں لوگوں ميں مشہور كرديتے اور كہتے كہ ايسے كاموں كا كرنا خدا كے علاوہ كسى كے بس كى بات نہيں اسى بنا پر علىؑ يا تو خدا ہيں يا كوئي ايسى شخصيت ہے جس كے وجود ميں ذات خداوندى حلول كرگئي ہے۔
جنگ نہروان كے نتائج و عواقب
جنگ نہروان كا خاتمہ اگرچہ خوارج كى سركوبى پر ہوا ليكن اس كے جو نتائج پر آمد ہوئے وہ نہايت مضر اور اندوہناك ثابت ہوئے جن ميں سے بعض كا ذكر ذيل ميں كيا جاتا ہے۔
:1 اس جنگ ميں مقتولين كى تعداد چونكہ بہت زيادہ تھى اس لئے سپاہ عراق كے دلوں پر بہت زيادہ خوف و ہراس غالب آگيا اور باہمى اختلاف كى بنا پر وہ دو گروہ ميں تقسيم ہوگئے اس كے علاوہ وہ لوگ جن كے عزيز و اقربا اس جنگ ميں مارے گئے تھے وہ اميرالمومنين حضرت علىؑ سے سخت بدگمان ہوگئے۔
2:لشكر اسلام ميں سركشى اور نافرمانى كاجذبہ بہت زيادہ بڑھ گيا چنانچہ نوبت يہاں تك پہنچى كہ سپاہ يہ بہانہ بنا كر كہ جنگ كى كوفت دور كر رہے ہيں حضرت علىؑ كے فرمان بجالانے ميں سستى اور كاہلى سے كام لينے لگے بالخصوص اس وقت جب كہ وہ جنگ سے واپس آكر اپنے خاندان كى گرم آغوش ميں پہنچے اور اہل خاندان كے چہروں پر غم و اندوہ كے آثار ديكھے يہ عامل نيز اس كے ساتھ ہى ديگر عوامل اس امر كا باعث ہوئے كہ انہوں نے ہميشہ كيلئے جنگ كا ارادہ ترك كرديا اور معاويہ كے ساتھ آشتى كرنے كو ان كے ساتھ جنگ كرنے پر ترجيح دينے لگے۔
مورخين نے لكھا ہے كہ جب جنگ نہروان ختم ہوگئي تو اميرالمومنين حضرت علىؑ اپنى سپاہ كے سامنے كھڑے ہوئے اور فرمايا: كہ خداوندتعالى نے تمہيں آزمايا اور تم اس كے امتحان ميں پورے اترے اسى لئے اس نے تمہارى مدد كى اب تم جلدى سے معاويہ اور اس كے ظالم و ستمگر ساتھيوں سے جنگ كرنے كے لئے روانہ ہوجاؤ انہوں نے كلام اللہ كو پس پشت ڈال ديا ہے اور نہايت معمولى قيمت پر دشمن سے ساز باز كرلى ہے يہ سن كر ساتھيوں نے كہا كہ اميرالمومنين(ع) ہمارى طاقت اب جواب دے چكى ہے ہمارے زرہ بكتر پارہ پارہ ہوچكے ہيں تلواريں ٹو ٹ چكى ہيں اور نيزوں كى نوكوں ميں خم آگئے ہيں ہميں وطن جانے كى اجازت ديجئے تا كہ وہاں ہم اپنا اسلحہ تيار كر سكيں وہاں رہ كر كچھ وقت خوشى و خرمى ميں بسر كريں اور اپنے ساتھيوں كى تعداد ميں اضافہ كريں ايسى صورت ميں ہم دشمن كا بہتر طور پر مقابلہ كرسكيں گے۔
اميرالمومنين حضرت علىؑ جانتے تھے كہ واپس جانے كا كيا انجام ہوگا ليكن جب آپ(ع) نے اكثريت كو اس نفاق انگيز نظريے كى جانب مائل ديكھا تو مجبورا ًان كے سات اتفاق كيا اور نخيلہ كى جانب واپس آگئے يہاں آپ(ع) نے(سپاہ كو تاكيد كردى كہ وہ اپنى لشكر گاہ(چھاؤني) كو چھوڑ كرنہ جائيں اہل و عيال كى جانب كم توجہ ديں اللہ كے جہاد كيلئے تيارى كرتے رہيں سپاہ ميں سے چند ہى لوگ ايسے تھے جنہوں نے حضرت علىؑ كى ہدايات پر عمل كيا چنانچہ چند روز تك يہاں قيام كرنے كے بعد آہستہ آہستہ اپنے اپنے گھروں كى جانب واپس جانے لگے جہاں انہوں نے آرام كى زندگى بسر كرنا شروع كردي
فتنہ خريت
خوارج كے تباہ كن و خطرناك عقائد ان لوگوں كے دلوں ميں جو ذہنى طور پر فرسودہ و ناكارہ ہوچكے تھے اور اس كج رفتارى كيلئے آمادہ تھے بتدريج قوت پانے لگے اور ان كى وجہ سے اسلامى معاشرے كے لئے وہ نئي مشكل پيدا ہوگئي جس كا ذكر ذيل ميں آئے گا۔
” خريت بن راشد” بہت سرسخت خوارج ميں سے تھا جب حكميت كے نتيجے كا اعلان كيا گيا تو وہ اپنے حواريوں كوساتھ لے كر حضرت علىؑ كى خدمت ميں حاضر ہوا اور كہنے لگا كہ اس كے بعد مجھ سے آپ(ع) كى اطاعت و فرمانبردارى نہ ہوسكے گى ميں آپ(ع) كے پيچھے نماز بھى ادانہ كروں گا … اور كل ميں آپ سے عليحدہ ہوجاؤں گا ۔
اپنے اس فيصلے كا محرك وہ مسئلہ حكميت كو سمجھتا تھا حضرت علىؑ نے اس كو جواب دينے ميں نرم رويہ اختيار كيا اور اسے پند و نصيحت كرنے كے بعد فرمايا : كہ وہ حكميت كے بارے ميں چاہيں تو بحث و گفتگو كرسكتے ہيں اس وقت تو اس نے گفتگو كرنا مناسب نہ سمجھاالبتہ اگلے دن كا وعدہ كر كے چلا گيا مگر رات كے وقت وہ اپنے حواريوں كو ساتھ لے كر فرار كرگيا۔
اور ديگر خوارج كى طرح دہشت پسندى اور غارتگرى شروع كردى چنانچہ راہ ميں اسے جتنے بھى كينہ پرور و عناد پسند لوگ ملے وہ اس كے ہمراہ ہوگئے وہ مدائن پہنچ گيا۔
اميرالمومنين حضرت علىؑ ” زياد بن خصفہ” كو ان كا تعاقب كرنے كے لئے روانہ كيا اور مختلف شہروں ميں اپنے كار پردازوں كو بھى لكھا تا كہ وہ ان علاقوں ميں جو ان كے زير فرمان ہيں ان كى تلاش و جستجو كے لئے اپنے كارندے مقرر كريں اور اس كے نتائج سے آپ كو مطلع و باخبر كرتے رہيں۔
حضرت علىؑ كے ”قرظہ بن كعب نامى ” كارپرداز نے اسے اپنى حراست ميں لے ليا اور اس واقعے كى حضرت علىؑ كو اطلاع كى حضرت علىؑ نے زياد كو اس بارے ميں مطلع كيا اور حكم ديا كہ اسے ميرے پاس روانہ كردو اگر وہ آنے سے انكار كرے تو ان كے ساتھ جنگ كرو كيونكہ اس نے نيزاس كے حواريوں نے حق كو پس پشت ڈال كر لوگوں كا ناحق خون بہلايا ہے اور راستوں ميں بد امنى پھيلا ركھى ہے۔زياد ا ور خريت ايك دوسرے كے مقابل آئے دونوں كے درميان گفتگو اور سوال و جواب ہوئے ۔ دونوں كے درميان سخت جنگ ہوئي اور ان كے بيشتر افراد كارى زخموں كے باعث مجروح ہوئے جب رات ہوگئي تو خريت فرار كر كے اہواز كى سمت چلاگيا اور زيادہ واپس بصرہ تشريف لے آئے۔
اہواز ميں بہت سے راہزن ، اس كے ہم عقيدہ عرب اور سطحى مسلمان جو اس كى تحريك كو دين پر ضرب لگانے، خراج ادا نہ كرنے اور قانون كى ہر قيد و بند سے خارج ہونے كا ذريعہ و وسيلہ سمجھتے تھے اس كے گرد جمع ہوگئے۔
حضرت علىؑ كو جب ان واقعات كى اطلاع ملى تو آپؑ نے ” معقل بن قيس ” كو ايك ہزار افراد كے ہمراہ جنگ كرنے كے لئے بھيجا آپؑ نے صوبہ دار بصرہ حضرت عبداللہ بن عباس كو بھى لكھا كو دو ہزار افراد كے ساتھ كسى دلير و بہادر نيز راستباز شخص كو روانہ كريں تا كہ وہ حضرت معقل كے ساتھ مل كر جنگ كر سكے اس كے ساتھ ہى آپؑ نے زياد اور ان كے ہم قبيلہ لوگوں كى تعريف و توصيف كرتے ہوئے انھيں واپس آنے كے لئے حكم صادر كيا
حضرت ابن عباس (رض)نے حضرت خالد بن معدان طائي كو دوہزار افراد كے ہمراہ روانہ كيا خريت كا تعاقب كرنے كے لئے حضرت معقل اہواز پہنچ كر اترے اس وقت خوارج وسيع دشت سے گذر كر كوہ رامہرمز كى بلنديوں كى جانب جانے كى كوشش و فكر ميں تھے تا كہ تعاقب كرنے والى جماعت كى نسبت وہ بہتر اور زيادہ مستحكم جگہ پر قيام كرسكيں ليكن معقل نے انھيں اچانك بے خبر نرغے ميں لے ليا اور ابھى وہ پہاڑ كے دامن سے اوپر نہيں گئے تھے كہ ان پر حملہ كرديا خونريز جنگ ، قبيلہ بنى ناجيہ كے تين سو ستر افراد كے قتل اور ان كے بے دين ساتھى كى كشت و كشتار( جن ميں كچھ عرب، بے دين اور بعض كر دشامل تھے) كے بعد خريت كيلئے فرار كے علاوہ كوئي چارہ باقى نہ رہ گيا يہاں سے فرار كرنے كے بعد خريت بحرين ميں دور ترين ممكن مقام پر پناہ گزيں ہوا يہاں بھى اس نے اپنے اغراض و مقاصد كا پر چار شروع كرديا اوردوبارہ لوگوں كو اپنے گرد آنے كى دعوت دينے لگے معقل نے حضرت علىؑ كے حكم كے مطابق ان كا تعاقب كيا بحرين پہنچنے كے بعد اس نے سب سے پہلے حضرت علىؑ كا وہ خط پڑھ كرسنايا جس ميں آپؑ نے مسلمانوں ، عيسائيوں، مرتدين اور بے دين لوگوں سے خطاب كيا تھا اس كے بعد انہوں نے پرچم دين لہرايا اور كہا كہ خريت اور اس كے ان حواريوں كى علاوہ جو كينہ و عداوت كے باعث مسلمانوں سے عليحدہ ہوگئے ہو جو شخص بھى اس پرچم كے زير سايہ آجائے گا وہ امن و امان ميں رہے گا اور ابھى چند لمحے ہى گذر ے تھے كہ خريت كے اطراف ميں اس كے اہل قبيلہ كے علاوہ كوئي شخص نہ رہا اس كے اور معقل كے درميان سخت جنگ ہوى تجاوز كاروں كى استقامت و پايدارى ايك گھنٹہ سے زيادہ قائم نہ رہ سكى ان كا رہبر اپنے ايك سوسترسے زيادہ افراد كے ساتھ قتل ہوا باقى ساتھى ايسے فرار كر گئے جيسے بھيڑوں كے درميان كوئي بھيڑيا آيا ہوليكن وہ بھى گرفتار و قيد ہوا ان ميں سے جو لوگ تائب ہوگئے معقل نے انھيں آزاد كرديا اور باقى افراد كو جو تعداد ميں پانچ سو سے زيادہ تھے كوفہ كى جانب روانہ كرديا۔
آخرس سعى و كوشش
معاويہ كى شورش ميں چونكہ بہت اضافہ ہوگيا تھا اسى لئے حضرت علىؑ نے اس كے حملوں كو روكنے كے لئے ان فوجى دستوں كو بھيجنے كے علاوہ جن كى حيثيت محفوظ لشكر كى تھى يہ فيصلہ كيا كہ اپنى تمام سعى و كوشش شام كى جانب لازم و ضرورى فوجى طاقت روانہ كرنے كيلئے صرف كرديں تا كہ معاويہ كى تجاوز كارى كا ہميشہ كے لئے سد باب ہوسكے كيونكہ آپ كے لئے اس كے علاوہ كوئي چارہ باقى نہيں رہ گيا تھا كہ مكمل جنگى سطح پر اس كا مقابلہ كيا جائے تا كہ اس شر سے ہميشہ كے لئے نجات حاصل ہو اور وہ بھى اپنى جگہ خاموش ہركر بيٹھے رہے۔اس فيصلے كے بعد آپ نے حضرت معقل بن قيس كو سَواد كوفہ كى جانب روانہ كيا تا كہ لوگوں كو جنگ ميں شريك ہونے كى دعوت دے سكيں۔
آپ(ع) نے والى آذربائيجان قيس بن سعد كو بھى خط لكھا جس ميں مرقوم فرمايا كہ وہ لوگوں كو شام كى جانب روانہ ہونے كيلئے آمادہ اور نظرياتى اعتبار سے ان ميں وحدت يكجہتى كرے
اس كے علاوہ حضرت علىؑ نے خود بھى كوفہ كے لوگوں كو آمادہ كرنے كے لئے مفصل تقرير كى جس ميں آپؑ نے فرمايا كہ اے ا للہ كے بندو گذشتہ اقوام كى تاريخ پر غور و فكر كرنا تمہارے لئے بيش قيمت درس عبرت ہے كہاں ہيں وہ بادشاہوں كے غول اور ان كے وارثين سلطنت كہاں ہيں فراعنہ اور ان كے جانشين ؟ كدھر گئے وہ خاندان رس كے مدنى فرمانروا جن سب نے پيغمبروں كو تہ تيغ، سنت كے روشن چراغوں كو خاموش اور ستمگروں كى راہ و روش كو زندہ كيا تھا كہاں گئے وہ فرمانروا جو عظيم لشكر لے كر روانہ ہوئے اور جنہوں نے ہزاروں بلكہ لاكھوں كى سپاہ كو شكست دى كدھر جاچھپى فاتحين كى وہ فوج كثير تعداد جو يكجا جمع ہوئي اور جس نے نئے شہروں كى بنياد ركھي؟
…خدا كے برگزيدہ و نيك بندے سفر پرجانے كے لئے كمربستہ ہوگئے انہوں نے دنيا كا فانى و بے ثبات چند روزہ چيزوں كا سودا آخرت كى جاودانى زندگى سے كيا سچ تو يہ ہے كہ ہمارے وہ بھائي جنہوں نے جنگ صفين ميں اپنا خون بہايا تھا اگر آج اس دنيا ميں نہيں ہيں تو انہوں نے كون سا خسارہ برداشت كيا؟
كہاں ہيں وہ ميرے بھائي جنہوں نے جہاد كى راہ اختيار كى اور جادہ حق طے كيا كہاں ہيں عماريا كہاں گئے ابن تيہان ذوالشہادتين ؟اور كدھر گئے ان جيسے دوسرے لوگ جنہوں نے موت سے عہد و پيمان كيا اور شرپسندوں كے ہاتھوں اپنے سر قلم كرائے اس كے بعد آپ(ع) نے ريش مبارك پر اپنے ہاتھ ركھے اور كافى دير تك گريہ و زارى كرتے رہے ۔اس كے بعد فرمايا: كہ افسوس افسوس كہاں گئے وہ ميرے بھائي جنہوں نے قرآن پاك كى تلاوت كى اور زندگى ميں اسے اپنا حاكم بنايا اپنے فرائض كے پابند رہے اور ہميشہ انھيں پورا كيا انہوں نے سنت نبوى كو زندہاور بدعتوں كا قلع قمع كيا انہوں نے جہاد كى حكومت كو قبول كيا اور اپنے ہادى اور رہبر پر پورا اعتماد كرتے ہوئے اس كى پيروى كى ۔
اس كے بعد آپ(ع) نے بآواز بلند فرمايا: (جہاد جہاد) اے خدا كے بندو ميں تمہيں يہ بتادينا چاہتا ہوں كہ آج ميں بھى تمہارے ساتھ عسكر گاہ كى جانب چلوں گا جو شخص بھى خدا كى جانب جلد از جلد آنا چاہتا ہے وہ نكل كر ہمارے ساتھ آئےآپؑ كى اس سعى و كوشش كا يہ نتيجہ بر آمد ہوا كہ تقريبا چاليس ہزار افراد عسكر گاہ ميں جمع ہوگئے۔
بقول ” نوف بكالي” آپؑ نے دس ہزار سپاہ كا پرچم حضرت امام حسينؑ كو ديا دس ہزار سپاہى حضرت قيس كے زير نگرانى كئے دس ہزار سپاہ حضرت ابوايوب انصارى كى زير فرماندارى مقرر كئے اور دس ہزار سپاہى ان ديگر فرمانداروں كے حوالے كئے جنہوں نے اس تعداد ميں مزيد اضافہ كيا تھا اور حكم ديا كہ پورى فوج صفين كى جانب روانہ ہوليكن ابھى جمعہ بھى نہ گذر ا تھا كہ آپؑ كے سرمبارك پر ابن ملجم نے كارى ضرب لگائي جس كے باعث لشكر بحالت مجبورى واپس كوفہ آگيا

حضرت علىؑ كے خلاف دہشت پسندانہ سازش
تمام مشكلات اور سختيوں كے باوجود حضرت علىؑ جس زمانے ميں شام كى جانب روانہ ہوئے اور معاويہ سے جنگ كا تدارك كر رہے تھے اسى عرصہ ميں چند خوارج بظاہر مراسم حج بيت اللہ ادا كرنے كى نيت سے مكہ ميں جمع ہوئے يہاں انہوں نے چند جلسات كى تشكيل كى جس ميں ان مقتولين كو ياد كيا جو جنگ نہروان ميں كام آگئے تھے ان كے خيال ميں وہ لوگ بے قصور مارے گئے تھے اور ان كے قتل كے اصل ذمہ دار حضرت علىؑ ، معاويہ اور عمروعاص تھے۔
ان كے خيال ميں يہ تينوں ہى حضرات ” ائمہ ضلال ( گمراہوں كے امام) تھے۔ چنانچہ انہوں نے فيصلہ كيا كہ تينوں كا فيصلہ كرديا جائے تا كہ اس طرح باہمى اختلاف ، كشمكش اور ناانصافى كى بيخ كنى كرديں۔
ان ميں سے تين افراد نے اس مقصد كے لئے اپنى زندگى داؤ پر لگادى ۔ تا كہ تينوں مذكورہ حضرات كى زندگى كو ختم كرديں حضرت علىؑ كو قتل كرنے كا ذمہ عبدالرحمن ابن ملجم نامى نے ليا انہوں نے اس سازش كى تكميل كے لئے باہمى عہد و پيمان كئے اور يہ فيصلہ كيا كہ بتاريخ 19 ماہ رمضان 40 ھ صبح كے وقت وہ اپنى دہشت پسندانہ كاروائي پر عمل در آمد كريں گے اس كے بعد وہ ايك دوسرے سے جداہوگئے۔
ابن ملجم كوفہ ميں داخل ہوا اور اپنى چچازاد بہن قَطَام كے گھر پہنچا وہ اس كے ساتھ پہلے بھى چونكہ معاشقہ كرچكا تھا اسى لئے اب اسے اپنى شادى كرنے كا پيغام ديا قَطَام خود خوارج ميں سے تھى اس كے بھائي اور باپ كا قتل جنگ نہروان ميں ہوچكا تھا اسى لئے اس كے دل ميں حضرت علىؑ كے خلاف سخت عداوت و دشمنى تھى اس نے كہا كہ ميں اس شرط پرشادى قبول كرسكتى ہوں كہ ايك كنيز و غلام اور تين ہزار درہم نقد دينے كے علاوہ تو علىؑ كو قتل كردے اگر تو اس مقصد ميں كامياب ہوگيا تو تو ميرے كليجے كو ٹھنڈا كرے گا اور مجھ سے داد مراد پائے گا اور اگر كہيں تو خود مارا گيا تو تجھے دنيوى نعمتوں سے كہيں زيادہ عظيم اس كااجر و ثواب ملے گا ۔
ابن ملجم نے جب ديكھا كہ يہ عورت اس كام كے لئے بہت زيادہ اصرار كررہى ہے تو اس نے بتاديا كہ ميں يہى ناپاك ارادہ لے كر كوفہ سے آيا ہوں۔
ابن ملجم نے شبيب بن بجرہ نامى دوسرے شخص سے جو خود بھى خوارج ميں سے تھا اس كام ميں مدد لى قطام نے و ردان بن مجالد كو بھى اس كے ساتھ كرديا تا كہ وہ بھى اس كام ميں اس كا مدد گار ہوسكے اس نے ” اشعث بن قيس” كو بھى اپنا راز دار بناليا اس شخض نے بھى اس كام كو تمام كرنے كے لئے اس كى حوصلہ افزائي كي ۔
شہادت كا انتظار
اميرالمومنين حضرت علىؑ نے احاديث نبوى اور علم لدنى كى بنياد پر يہ پيشين گوئي كردى تھى كہ آپؑ كى شہادت ماہ رمضان المبارك كے آخرى عشرہ ميں واقعہ ہوگى جب ماہ رمضان آگيا تو افطار كے بعد آپ(ع) كبھى امام حسنؑ كبھى امام حسينؑ اور بعض راتوں ميں حضرت عبداللہ بن عباس كے گھر قيام فرماتے ليكن افطار كے وقت تين لقموں سے زيادہ تناول نہ فرماتے جب اس كى وجہ دريافت كى گئي تو آپؑ نے فرمايا كہ ميرى يہ آرزو ہے كہ خداوند تعالى كا ديدار شكم سير ہوئے بغير كروں
ماہ مبارك كى انيسويں شب ميں اميرالمومنين حضرت علىؑ پر سخت ہيجانى كيفيت طارى تھى آپ(ع) اچانك گھر كے اندر سے نكل كر صحن ميں تشريف لے آتے اور وہاں ٹہلنے لگتے اور آسمان كى طرف ديكھتے۔ آپ(ع) نے سب حاضريں كو بتادياتھا كہ آج كون سا عظيم حادثہ رونما ہونے والا ہے آپ يہ فرماچكے تھے كہ ” خدا كى قسم ميں غلط نہيں كہہ رہا رہوں اور مجھے غلط خبر نہيں دى گئي ہے كہ آج كى رات وہى رات ہے جس كا مجھ سے وعدہ كيا جاچكا ہے
اس رات حضرت علىؑ تمام وقت بيدار رہے پورى رات تلاوت قرآن مجيد اور عبادت ميں گذرى طلوع فجر سے قبل جب آپ گھر سے مسجد تشريف لے جانے لگے تو راستے ميں مرغابياں آگئيں جنہيں راستے سے دور كرديا گيا اس پر حضرت علىؑ نے فرمايا كہ انھيں كچھ مت كہو يہ نوحہ و گريہ كر رہيں ہيں
شہادت
اميرالمومنين حضرت علىؑ مسجد ميں تشريف لائے جو لوگ محو خواب تھے انھيں بيدار كيا كہ خداوند تعالى كى عبادت و مناجات ميں مشغول ہوں آپ(ع) نے ابن ملجم كو بھى بيدار كيا وہ تو اول شب سے ہى آپ(ع) كى آمد كا منتظر تھا ا وراس وقت خود كو سوتا ہوا بناليا تھا اس كے بعدآپ(ع) نماز ادا كرنے كيلئے كھڑے ہوئے اور قلب و زبان كو ذكر خدا ميں مشغول كرديا۔
اس وقت شبيب نے چاہا كہ آپؑ پر تلوار سے وار كرے مگر اس كى تلوار محراب مسجد نے ٹكرا كر رہ گئي ابن ملجم تباہ كار جلدى سے آگے آيا اس نے اپنى تلوار اوپر اٹھائي اور باواز بلند كہا ”الحكم للہ لا لك يا على و لا لاصحابك“يہ كہہ كر اس نے حضرت علىؑ كے سر مبارك پر اپنى تلوار اٹھائي جو ٹھيك اسى جگہ لگى جہاں جنگ خندق ميں ”عمرو بن عبدود” كى تلوار آپ كے سرمبارك پر لگ چكى تھى حق و عدل كا وہ پيكر جو صريح و واضح كفر اور الحاد كے ضربات سے زمين پر نہيں گرسكا تھا آج نفاق اور جہل و تعصب آميز ظاہرى تقدس كے ايك ہى وار سے خاك و خون ميں لوٹنے لگا حضرت علىؑ نے جيسے ہى ضرب شمشير كو محسوس كيا فرمايا: ” فزت و رب الكعبہ” قسم كعبہ كے خدا كى آج ميں نے كاميابى حاصل كي۔
آپؑ كے فرزندوں اور اصحاب پر تو گويا غم و اندوہ كا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہر طرف سے گريہ و نالہ اور آہ و بكا كى صدائيں سنائي دينے لگيں لوگ سراسيمگى كى حالت ميں مسجد كى جانب دوڑے۔
حضرت علىؑ كا سرمبارك حضرت امام حسنؑ كى آغوش ميں تھا جس سے مسلسل خون جارى تھا زخم كى شدت اور بہت زيادہ خون بہہ جانے كى وجہ سے آپؑ اب تك بے ہوشى كى حالت ميں تھے ابن ملجم بھى پكڑا گيا اور اسے حضرت امام حسنؑ كى خدمت ميں پيش كيا گيا حضرت مجتبىؑ نے اس سے فرمايا اے ملعون تو نے پيشوائے مسلمين حضرت علىؑ كو قتل كرديا كيا نيكى اور خير خواہى كا بدلہ يہى ہے تو وہى شخص ہے جسے خليفہ وقت نے پناہ دى اور اپنا مقرب بنايا؟
اس كے بعد آپؑ نے والد محترم كى خدمت ميں عرض كيا بابا جان يہ آپ كا اور خدا كا دشمن بحمداللہ گرفتار كرليا گيا ہے وہ اس وقت آپ كے روبرو حاضر ہے۔
حضرت علىؑ نے چشم مبارك كو كھولا اور فرمايا كہ تو بہت عظيم سانحہ كا مرتكب ہوا ہے اور تو نے نہايت ہى خطرناك كام كيا ہے كيا ميں تيرے لئے برا امام ثابت ہوا؟ ايسى كون سى مہربانى اور بخشش تھى جو ميں نے تيرے حق ميں روانہ ركھى كيا لطف و مہربانى كا يہى بدلہ وصلہ ہے؟اس كے بعد آپ(ع) نے حضرت امام حسنؑ سے فرمايا كہ اے فرزند عزيز اپنے اس قيدى كے ساتھ خاطر و مدارات كا سلوك كرنا اور اس كے ساتھ مہربانى و نوازش سے پيش آنا۔
جو كچھ تم كھاؤ اور پيو وہى تم اسے كھلانا اور پلانا اگر ميں مرجاؤں توميرے خون كے قصاص ميں اسے قتل كردينا مگر اس كے ناك، كان نہ كاٹنا كيونكہ ميں نے پيغمبر اكرمﷺكى زبان مبارك سے سنا ہے كہ اس كتے كے بھى ناك كان نہ كاٹو جس نے تمہيں كاٹا ہے اور اگر ميں بچ گيا تو ميں ہى جانتا ہوں كہ اس كے ساتھ كيا سلوك كروں گا اسے معاف كردينے ميں مجھے سب پر فضيلت حاصل ہے كيونكہ ہمارا خاندان وہ خاندان ہے جس نے بڑے بڑے گناہگاروں كو معاف كيا اور ان كے ساتھ ہم بزرگوارى كے ساتھ پيش آتے ہيں
حضرت امام حسنؑ اپنے والد بزرگوار كو گھر لے آئے لوگ گريہ و نالہ كرتے اور آپ سے رخصت ہوتے عجب كہرام كا عالم تھا لگتا تھا كہ غمگساروں كى جان كھينچ كرلبوں پر آگئي ہے۔
حضرت امام مجتبىؑ نے بعض اطبا ءكو جن ميں اثير بن عمرو سكونى سب سے زيادہ ماہر و حازق طبيب تھے علاج كے لئے بلايا انہوں نے كہا كہ بھيڑ كا تازہ جگر لاؤ اس كى ايك رگ انہوں نے حضرت علىؑ كے زخم كے اندر ركھى اور اسے باہر نكال ليا انہوں نے ديكھا كہ مغز كى سفيدى اس رگ پر لگ گئي ہے اور دم شمشير كى ضرب نے دماغ تك اثر كيا ہے يہ ديكھ كر اس طبيب نے كہا ” يا اميرالمومنين اگر كوئي وصيت كرنا چاہيں تو كرديجئے”اميرالمومنين حضرت علىؑ نے اپنے فرزندوں كو اخلاق حسنہ كى وصيت فرمائي اپنى زندگى كے قابل قدر و قيمت درس انھيں اور تمام مسلمين كو ديئے ۔ امور خلافت اپنے فرزند محترم امام حسنؑ كو تفويض كيئے اور اس كا گواہ اپنے فرزندوں اور بزرگان خاندان كو بنايا كلام مجيد اور اپنا اسلحہ آپ كى تحويل ميں ديا۔
جب حضرت علىؑ اپنے فرزندوں كو پند ونصائح كرچكے تو آپ(ع) نے موت كى علامات محسوس كيں اس كے بعد آپ قرآن پاك كى تلاوت ميں مشغول ہوگئے آخرى آيت جوآپ كى زبان مبارك پر آئي وہ يہ تھي
فمن يعمل مثقال ذرة خير ايرہ و من يعمل مثقال ذرة شر ايرہ
پھر جس نے ذرہ برابر نيكى كى ہوگى وہ اس كو ديكھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدى كى ہوگى وہ اس كو ديكھ لے گا
بتاريخ 21 رمضان 40 ھ اس وقت جب كہ آپ كاسن شريف تريسٹھ برس كا تھا آپ كى روح مقدس و مطہر اس جہان فانى سے پرواز كر كے عالم جاودانى كى جانب عروج كرگئي۔
حضرت امام حسنؑ نے اپنے ديگر بھائيوں اور حضرت علىؑ كے اصحاب كى مدد سے اپنے شہيد والد محترم كى تجہيز كا انتظام كيا غسل و كفن كے بعد جب كچھ رات گذر گئي تو اس پيكر مقدس كو كوفہ سے باہر لے آئے تمام راستہ جنازے كے پيچھے رہ كر طے كيا اور جنازہ اس جگہ لايا گيا جو آج نجف اشرف كے نام سے مشہور و معروف ہے نماز جنازہ ادا كرنے كے بعد انتہائی خاموشى كے ساتھ اس پيكر تقدس كو سپرد خاك كرديا۔
سلام عليہ يوم ولد و يوم استشہد و يوم يبعث حيا
سلام ہو آپؑ پر جس دن آپ ؑكى ولادت ہوئي اور جس دن شہيد كئے گئے اور جس دن زندہ اٹھائے جائيں گے