ur

مدینہ منورہ اور جنت البقیع

یہ مدینہ ہے۔۔۔ مہتاب کی ضوفشانیوں میں نہایا ہوا جہاں امید اور آفتاب کے رنگوں کا حسین امتزاج بھی ہے، انسیت اور اپنائیت سے سرشار ایک پر اسرار شہر

یہ مدینہ ہے۔۔۔ شہر عشق و محبت، اہل بیت سی کریم ہستیوں کا شہر، خدا ئی رنگ میں ڈھلے افراد کی سخاوتوں کا شہر

یہ مدینہ ہے پیغمبر رحمت کا شہر، مادر کرامت جناب فاطمہ زہراء سلام ﷲ علیہا کا شہر، برکات کے نزول اور بہادر شخصیات کا شہر

یہ مدینہ ہے جو شہر انسانیت ہے لیکن خیر و شر سے معرکہ آرائی میں گھرا ہوا؛ ابو طالب اور ان کے بہادر جیالوں کا شہر؛ عزم و ہمت کے فرزندوں کا شہر

یہ مدینہ ہے مکہ کے بعد دوسری بہشت؛ گل و ریحان کی خوشبو اس کی گلیوں میں بسی ہوئی ہیں؛ منادی کے نغموں کے ساتھ اذان کی آواز اس کے گلدستوں میں کر ّو فر کا سماں پیش کر رہی ہے

یہ مدینہ ہے آئیے! مسجد النبی سے بقیع کی طرف چلتے ہیں

روئے زمین پر مقدس ترین خطّوں میں سے ایک بقیع ہے؛ چار معصوم اماموں کی منزل ہبوط؛پیغمبر اسلام کی زوجات، اولاد، ان کے عشیرہ اور قوم کے لوگوں کاابدی مسکن؛ شہدا، علماء، پیغمبر کے ساتھیوں اور آپ کے کثیر اصحاب کی آرامگاہ

یہ بقیع ہے وہ جگہ جو کسی زمانہ میں بیشمار درختوں اور سبزہ زاروں سے پٹی ہوئی تھی اور کسی زمانہ میں ان مطہر اجساد پر گنبد و آستانہ کا سایہ تھا لیکن آج!!

یہ بقیع ہے جنت المدینہ کی آغوش میں دمکتا ہوا نگینہ؛ وہ مقام جس نے عرش کی بلندیوں کو چھو کر از حد منزلت پیدا کر لی

ہم زائرین حرم کے ساتھ بقیع میں داخل ہوتے ہیں؛ فی الحال زائرین کو دن میں دو مرتبہ بقیع میں داخل ہونے کی اجازت ہے؛

یہاں پر انصار میں سے جو شخصیت سب سے پہلے دفن ہوئی وہ اسد بن ضرارہ کی ہے؛ اور مہاجرین میں عثمان بن مظعون ہیں؛ اس کے بعد رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند جناب ابراہیم کو اس قبرستان میں دفن کیا گیا اور اس طرح مدینہ کے لوگ اپنے قوم و خاندان سے متعلقہ اجساد کو یہاں دفن کرنے لگے؛ قبائل مدینہ بقیع کے کچھ حصوں کو درختوں اور اس کے ریشوں سے صاف کر کے اسی مقصد کے لئے تیار کرتے تھے؛ اس طرح آہستہ آہستہ مدینہ کے قدیم بنی سلمہ اور بنی حزام قبرستان متروک ہو گےا

بقیع کی فضیلت میں رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے خاصی تعداد میں احادیث نقل ہوئی ہیں من جملہ آپ نے فرمایا :بقیع سے ستّر ہزار افراد محشور ہونگے جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح درخشاں ہونگے

ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا: بقیع سے ہزار لوگ ایسے محشور ہونگے جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہونگے اور وہ بغیر حساب و کتاب بہشت میں داخل ہونگے

ائمہ بقیع کے مزارات کی تاریخ میں ہے کہ یہ قبرستان دیوار، چھت کے بالائی حصہ، گنبد اور آستانہ پر مشتمل تھا؛ حتی خادم، دربان، اور گراں قیمت صندوق بھی اس کی رونق بڑھا رہے تھے۔

لیکن افسوس! یہ قبرستان منہدم کر دیا گیا باوجودیکہ بقیع کی حالت 14 صدیاں گزر جانے کے بعد مکمل طور پر بدل چکی ہے لیکن اسکے بعد بھی قبور کی یہی تعداد موجودہ منابع اور مورخین کے قول سے استناد کے بعد اس قبرستان کی خاص نظم و ترتیب کی بیاںگر ہے۔

مثال کے طور پر رسول اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے متعلقہ افراد کی قبور بقیع کے مغربی حصے میں واقع ہیں اور 4 ائمہ معصوم علیہم السلام کی قبور، جناب عباس اور فاطمہ بنت اسد کی قبور ایک خاص مقام پر آپکی زوجات ایک دوسری جگہ نیز آپ سے منسوب بیٹیاں ایک متعین جگہ مدفون ہیں۔

چنانچہ بعض مورخین اور محققین کی مختلف تعبیرات اور صریح جملات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بقیع کے اطراف میں متعدد گھر اور گلیاں موجود تھیں۔

باب بقیع وہ دروازہ ہے کہ جو مسجد رسول اللہ سے بقیع کی طرف کھلتا تھا اور اسمیں شک نہیں کہ رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم اسی جانب سے بقیع کی طرف جاتے تھے۔

بقیع زمین کے ایک اونچے ٹیلے نما بلندی پر واقع تھا جو حصہ گذشت ایام کے ساتھ فرسودہ ہوکر بیٹھ گیا بقیع پیغمبر اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اس دیار کے ساکنوں سے انکے دیرینہ تعلق کی یاد دلاتا ہے

آپ اپنے اصحاب کے غم و رنج اور انکی جانفشانیوں کو یاد فرما کر انکی ارواح پر درود بھیجتے تھے

یہ بقیع ہے اب ہم اس جگہ قدم رکھ رہے ہیں جہاں کبھی پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے قدم پڑتے تھے۔

ہم اس جگہ کی ملکوتی فضا میں یہاں پر سونے والے شہداء اور اسکی خاک میں چھپی ہوئی تمام اموات پر درود بھیجتے ہیں اور اپنے پردئہ ذہن پر انکے ایثار کے ان حماسی لمحوں کو تجسیم کرتے ہیں کہ جنہوں نے تاریخ اسلام کو نشاط و رونق بخشی۔

بقیع میں وارد ہوتے ہی ہم داہنی جانب دیکھتے ہیں، یہاں ایسی قبریں نظر آ رہی ہیں کہ جن میں سونے والوں کا کوئی پتہ نہیں ہے لیکن شک نہیں کہ اس جگہ آرام فرمانے والے مہاجرین اور انصار ہیں اور قدرے احتمال اس بات کا بھی ہے کہ یہ لوگ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کے بعد گزرے ہوں۔

ان قبور کے بالائی حصے میں پتھروں کے حصار میں محصور چھ قبریں جن کی زیارت کو نگاہیں بیتاب ہیں

4 قبریں ایک دوسرے سے ملی ہوئی جو 4 مطہر اجساد سے متعلق ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت کی 4 وارستہ شخصیتیں؛ ساتھ ہی دو قبریں اور بھی ہیں ایک جناب فاطمہ بنت اسد حضرت علی علیہ السلام کی والدہ گرامی سے متعلق ہے کہ جو پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ماں سے کم نہ تھیں اور دوسری قبر جناب عباس پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سے متعلق ہے۔ فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی 8 سے لیکر 52 سال تک سر پرستی کی آپکو ماں کی محبت کی چاشنی سے مانوس کرایا، کہا جاتا ہے کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیرہن کو آپکا کفن بنایا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپکو سپرد خاک کیا۔ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چچا جناب عباس ائمہ علیھم السلام کی قبور کے ذرا آگے آرام فرما رہے ہیں آپ ایک دولت مند شخص تھے آپ نے اسلام کی اپنے مال اور اپنے اثر و رسوخ سے حمایت کی اور عقبہ ثالث کے پیمان کے موقع پر آپ ہی پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ترجمان تھے۔

4 ائمہ علیھم السلام میں سب سے پہلی قبر امام حسن سے متعلق ہے اب ذرا جان و دل سے سنیں !کیا علی کے آہستہ آہستہ نجوی کی آواز نہیں آرہی ہے؟

جناب زہرا علیہا السلام کے گم شدہ مزار کی طرف ذرا غور سے دیکھیں! پا برہنہ بچے زینب حسن اور حسین اپنی ماں کی تشیع جنازہ میں آہستہ آہستہ رو رہے ہیں۔ اپنی جوتیوں کو اتار دو پا برھنہ ہو جاؤ یہ عشق کی آواز ہے ادب کا تقاضہ یہی ہے معرفت یہی چاہتی ہے۔ یہ بقیع کا افسوس ناک منظر ملاحظہ ہو اسماء بنت عمیس پانی ڈال رہی ہیں علی غسل دیتے دیتے اچانک اپنا سر دیوار پر رکھتے ہیں آسمان کانپ اٹھتا ہے، زمین و آسمان کے ذرات بے قرار ہو کر فریاد کرنے لگتے ہیں، علی نے اپنے سر سے عمامہ اتار دیا ہے اور پا برہنہ ہیں کیا آپ علی کی اقتدا نہں کرنا چاہتے؟!

یہ امام حسن کا مزار ہے غریب اور مدینہ و کوفہ کی مظلوم شخصیت، جوانان بہشت کے سردار، اپنے بابا کا صفین و نہروان کے معرکوں میں توانمند بازو ذرا دیکھیں تو سہی! بھیا حسین اور عباس پا برہنہ آپکی تشیع میں آہستہ آہستہ چل رہے ہیں ساتھ میں زینب و ام کلثوم بھی ہیں کیا آپ نہیں چاہتے کہ زینب کی طرح بقیع میں داخل ہوں؟!

پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپ سے یوں محبت کرتے تھے کہ لوگ پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے خود امام حسن کو واسطہ بناتے تھے؛ مرقوم ہے کہ ابو سفیان اپنی عھد شکنی کی عذر خواہی کے لئے مدینہ آیا تھا جب عفو و در گزر سے نامید ہو گیا تو اس نے امام حسن کو اپنا وسیلہ بنانا چاہا جناب فاطمہ نے اسکی اجازت نہ دی اور فرمایا : میرا بیٹا ابھی بہت چھوٹا ہے۔

اسی طرح تاریخی منابع میں لکھا ہے کسی زمانے میں ایک خطا کار شخص نے خطا کی بنا پر اپنے آپ کو آنحضرت صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے مخفی کر رکھا تھا ایک دن امام حسن کو مدینہ کی گلیوں میں پا لیا تو آپکو اٹھایا اور اپنے کاندھوں پر اٹھا کر رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا یہ منظر دیکھ کر پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہو گئی اور آپنے اسکی خطا کو در گزر کیا۔

آئیے دوسری جانب چلتے ہیں یہ جس مزار پر سیاہ پتھر نظر آ رہا ہے یہ امام سجاد کا مزار ہے ذہن میں ایک بخار میں تپتے ہوئے نحیف انسان کی تصویر ابھرتی ہے جو خیمے سے باہر نکل رہا ہے گرتا، سنبھلتا ہوا قتل گاہ کے نشیب کی طرف جانا چاہتا ہے اچانک کچھ دھول اڑتی ہے اور کوئی سوار دکھتا ہے جو نشیب میں طواف کر رہا ہے پھوپھی جان زینب سلام ﷲ علیہا آواز دیتی ہیں بیٹا تم دیکھ رہے ہو نا ! یہ جبرئیل ہے جو تمہارے بابا کی مصیبت میں سوگوار ہے!! ایک اور تصویر پردئہ ذہن پر نمایاں ہوتی ہے قافلہ مدینہ واپس پہنچ گیا ہے اور ہمارا یہ امام کربلا میں مسلے گئے پھولوں کا داغ اپنے سینے میں یوں لئے ہوئے کوئی بات کرتا ہے تو دل کا گداز اشک اور آہوں کے ہمراہ باہر آ جاتا ہے کیا آپ نہیں چاہتے کہ اپنے امام ہی کے مثل پا برہنہ بقیع میں داخل ہوں ؟!! کربلا میں آپ صرف 24 سال کے تھے اور بیمار تھے لیکن جہاد کا عزم پھر بھی دل میں اتنا تھا کہ زینب سلام اللہ علیہا نے مقتل میں جانے سے روکا۔ کہتے ہیں امام سجاد اپنے بابا علی کی طرح تھے۔ امام باقر[ع] سے نقل ہوا ہے کہ جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تھے تو خضوع و خشوع کا عالم یہ تھا کہ جسم پہ لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔

فلسفہ اور دعاء میں آپکی نظیر نہیں تھی واقعہ حرہ میں جب سپاہ یزید نے مدینہ پر یلغار کی وہاں کے لوگوں کا قتل عام کیا تویہ آپکی ہیبت کا اثر تھا کہ کسی کو آپکے ساتھ کچھ ناروا سلوک کرنے کی جرائت بھی نہ ہوئی۔

یہ تیسری قبر امام سجاد [ع] ہی کے بیٹے جناب امام باقر علیہ السلام کی ہے شیعوں کے پانچویں امام محمد بن علی باقر العلوم، علوم کے آبگینہ کو شکافتہ کرنے والے آپ وارث علم نبی ہیں۔ آپ حقیقت شریعت کو عصری تقاضوں کے ساتھ بیان کرتے تھے۔

آپ وہ امام ہیں جو عہد طفولیت سے ہی درد و محن سے آشنا رہے اسیران کربلا کے قافلے میں ننھے ننھے قدموں کے ساتھ پا پرہنہ دوڑ رہے تھے وہ امام جنہوں نے اپنی پوری زندگی کربلا کی تعلیمات کو عام کرنے میں گزار دی۔ معرفت کا وہ بحر ذخار بنی نوع بشر کے سامنے پیش کیا کہ تشنہ کاموں کو ٹھنڈک تو کشتی نشینوں کو ساحل نجات کی رہنمائی ملی۔

آپ نے جن احادیث کو اپنے جد کے واسطے سے رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا انہیں مرتب کیا اور اسکے لئے شاگرد اساتذہ اور حفاظ کو تربیت دی۔ علمی میدان میں مکتب تشیع کی توسیع آپکے کارناموں کی بنا پر اس راہ پر گامزن ہوئی کہ امام صادق نے اسی پر عمل کرتے ہوئے علمی اور عملی ابتکارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا

چوتھی قبر امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعلق ہے؛ وہ شخصیت جسکی درایت و علم کا چرچا جہان اسلام اور دیگر ادیان و مذاہب میں زبان زد عام ہے؛ حقائق کا مروج دین کی باریک گھتیوں کو سلجھانے والا فقہ جعفری کا ناشر کیا آپکے دل میں درد نہیں ہوتا کہ دنیا کے ہر گوشے میں ہر دانشور اور فنکار کے علم اور ہنر کے سامنے خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے اسکے ذوق ہنر و فن کو سراہا جاتا ہے مرنے کے بعد اسکے مزار کو مرکز احترام جانا جاتا ہے لیکن یہاں آپ اس عظیم شخصیت کے بے سایہ مزار سے چند قدم نزدیک بھی نہیں ہو سکتے۔

یہ وہ شخصیت ہے جسکی فلاسفہ عصر سے گفتگو کے قصے اور عظیم المرتبت شاگردوں کی تربیت کافی حد تک اسکی شخصیت کی معترف ہے۔

آپکے زمانے کے بڑے بڑے فقہا آپکے حضور فیض حاصل کرتے تھے اور خود پھولے نہیں سماتے تھے کہ آپکی شاگردی کے مقام پر خود کو فائز پاتے تھے۔

جناب زہرا سلام اللہ علیہا کے سلسلہ میں ایک اہم اور قطعی مسئلہ یہ ہے کہ آپکی قبر مخفی ہے اور آپکے واقعی محل دفن کے سلسلہ میں شیعہ اور سنی محققین کے مختلف اقوال اور مستندات موجود ہیں

لیکن آپکی قبر مطہر کے مخفی رہنے کا سب سے اہم سبب آپکی وصیت اور اس بات کی تاکید ہے کہ آپکے جسم مطہر کو رات کی تاریکی میں دفن کیا جائے۔ بعض روایات کے مطابق حضرت علی نے 40 قبروں پر بقیع میں پانی کا چھڑ کاؤ کیا اور 7 طرح کی قبریں تیار کیں تاکہ سیدہ طاہرہ کی قبر کسی بھی طرح پہچانی نہ جا سکے۔

بہر کیف! حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا مطہر جسد مخفی طور پر حضرت علی نے سپرد خاک کر دیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں جناب فاطمہ کی قبر بقیع میں واقع ہے اور کچھ لوگ یہ باور کرتے ہیں کہ آپکی قبر آپکے گھر میں ہے بعض دوسرے لوگ آپکی قبر کے سلسلہ میں یہ احتمال دیتے ہیں آپکی قبر مسجد رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم میں حضور کے گھر اور قبر کے درمیانی حصہ میں ہے

ہر شیعہ زائر چاہے دنیا کے کسی بھی گوشے سے زیارت کے لئے مدینہ میں وارد ہوا ہو حضرت رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مطہر کی زیارت، مسجد نبی میں اقامہ نماز اور ائمہ بقیع اور دیگر پیغمبرصلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لواحقین و اعزاءاور اہل خاندان کی زیارت کے بعد بیت الاحزان کا قصد کرتا ہے اس امید پر کہ اگر زہراء مرضیہ سلام اللہ علیہا کی قبر دسترس میں نہیں ہے تو کیا !اس مقام کی زیارت تو ہو جائے جو آپ سے منسوب ہے۔

اس میں شک نہیں کہ روایات کے مضمون کے مطابق بیت الاحزان بقیع میں ہی ہے اور تمام مورخین بغیر کسی استثناء کے اس امر کو بیان کرتے ہیں کہ بیت الاحزان بقیع کے جنوب میں اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے جوار میں ہے۔ اسکے مقابل دیگر بزرگ ہستیوں کے آستانوں میں داخل ہونے کا دروزاہ ہے

آیئے اب ہم انکی زیارت کے لئے آگے بڑھتے ہیں یہ قبور پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی باوفا زوجہ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کی نشانیوں سے متعلق ہے

3 قبریں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو ہیں جو کہ تینوں پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب بیٹیوں زینب، ام کلثوم اور رقیہ کی قبریں ہیں۔ زائرین ان مزارات پر پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اس یاد میں کہ آپ اپنی ان بیٹیوں کے لئے دعاء کرتے تھے فاتحہ پڑھتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب بیٹیوں کی قبور سے کچھ ہی فاصلے پر آپکی زوجات کی قبور ہیں۔ موجودہ منابع کے مطابق رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات دار عقیل میں دفن ہیں جناب عقیل کا گھر بقیع کے نواحی علاقے میں واقع تھا آپکے گھر میں عرصہ دراز کے بعد رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات کی قبور کے کتبے اور پتھر ملے۔

شاید اس بات کا مقصود یہ نہیں کہ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی زوجات کو جناب عقیل کے گھر میں دفن کیا گیا ہو کیونکہ ایک طرف تو جناب عقیل کا گھر ایک چھوٹا اور محقر گھر تھا اور دوسری طرف یہ بات بھی ہے کہ خاک کی فرسودگی اور قبور کی پہلی حالت کی تخریب اس بات کا باعث ہوئی ہے کہ قبور کی موجودہ صورت حال ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہو جائے اور پھر ایسا لگنے لگے کہ جیسے ازواج پیغمبرصلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قبور جناب عقیل کے گھر میں ہیں اس سے ذرا آگے بڑھیں تو مالک ابن انس مذہب مالکی کے امام اور نافع الفقیہ عبداللہ ابن عمر کی قبور بقیع کے راستہ کے بائیں جانب پر حاشیہ پر واقع ہیں ۔اسی طرح ازواج رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی قبور اور عقیل ابن ابی طالب کی قبر کی پشت پر عبداللہ بن مسعود اور حداد بن اسود کی قبور تھیں جنکا آج کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ یہ دونوں بزرگ صحابی حضرت علی کے حامیوں میں تھے عبداللہ بن مسعود قرآن کے بڑے حافظوں میں تھے اور بعض آیات کی تلاوت میں انکی قرات ایک خاص اسلوب کی حامل تھی آپ شاید مہر و محبت کے پہلو سے حضرت علی کے بعد پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے نزدیک صحابی تھے پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم آپکو بہت چاہتے تھے آپکو یہ اجازت حاصل تھی کہ ان مواقع کے علاوہ جب کوئی خاص ممانعت نہ ہو بغیر اجازت پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں داخل ہو جائیں ۔چنانچہ ان سے نقل ہے کہ: میں نے 70 سوروں کو پیغمبر صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک لبوں سے جاری ہوتے دیکھا اور انہیں سن کر حفظ کیا ہے کوئی بھی صحابی اس فضیلت میں میرا ہمسر نہیں ہے۔

پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی قبور کے ایک سمت عقیل ابن ابی طالب اور عبداللہ ابن جعفر طیار کی قبور ہیں عقیل کی وفات کے بعد انکو انہیں کے گھر میں دفن کیا گیا۔ آپ نابینا اور فقیر تھے بچپن میں آپ اپنے والد جناب ابوطالب کی خاص توجہ کے حامل تھے اسی زمانے میں جب مکہ میں ایک قحط پڑا تو عباس رضوان اللہ اور پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپنے یہ تجویز پیش کی کہ آپکے بچوں کو اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ آپکو اہل و عیال کے خرچ میں عسرت و تنگ دستی کا سامنا نہ ہو اور کچھ آسودگی حاصل ہو جائے۔ جناب ابوطالب نے حضرت علی کو پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا اور جناب جعفر کو جناب عباس کے حوالے کیا لیکن عقیل کو نابینا ہونے کی بنا پر اپنے ساتھ ہی رکھا۔

جناب عبداللہ جیسا کے واضح ہے حضرت علی کے بھائی کے فرزند تھے حضرت علی نے اپنی بڑی بیٹی جناب زینب کی شادی آپکے ساتھ کی جن سے جناب زینب کو 4 فرزند ہوئے؛ چاروں کے چاروں کربلا میں شہید ہو گئے۔

جناب عبداللہ ہمیشہ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے آپکے ساتھ ساتھ ہر جگہ جاتے تھے آپکے آگے آگے عصا ہاتھ میں لئے چلتے تھے آپ سے قبل جہاں آپکو جانا ہوتا پہنچ جاتے تھے جس جگہ آپکو ٹھہرنا ہوتا تھا اس جگہ کی صفائی کرتے تھے آپکی نعلین کو اپنے ہاتھوں میں رکھتے تھے اور آپ کے کہیں قصد کی صورت میں آپکے سامنے انہیں جفت کرکے پیش کرتے تھے۔

جناب ابراہیم حضرت رسول اللہ صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کی قبر بھی نافع و مالک کی قبور سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے آپکی والدہ ماریہ قطبیہ تھیں ابراہیم کی قبر کے قریب ظاہرا جنوب کے مشرقی سمت بعض بزرگ صحابہ (رہ) جیسے عثمان بن مظعون، اسد بن زرارہ، حسین بن ہزاقہ و طابعہ، حضرت علی کے با وفا ساتھی جناب مالک اشتر ان مردان خدا کی قبور کی بھی کوئی علامت یا نشانی موجود نہیں ہے۔

ان بزرگوں کے مدفن سے ذرا آگے جناب ابراہیم اور شہدائے احد کی قبور کے درمیان واقعہ حرہ میں شہید ہونے والے افراد کی جائے قرار ہے۔

بقیع میں واقع قبور میں ایک قبر جناب حلیمہ سعدیہ کی قبر ہے جو مشرقی شمالی حصے میں واقع ہے آپ نے پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے ابتدائی ایام میں عرب میں رائج رسم کے مطابق پرورش کی اور آپکو اپنے قبیلہ میں لے گئیں آپکو دودھ پلایا اور پالا پوسا۔

آپ نے 4 سال تک پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ماں کی طرح پرورش کی جسکے نتیجہ میں پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی کرامات سے خود بھی اور آپکے اہل خانہ بھی بہرہ مند ہوئے ۔ اس سے بڑا افتخار کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی خدا کی سب سے بڑی مخلوق کی دایہ ہو۔

حلیمہ سعدیہ کی قبر سے ذرا آگے جناب ابو سعید خدری، سعد بن معاذ پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے 2 بڑے صحابیوں کی قبور ہیں۔

ابو سعید مدینہ کے انصار میں تھے اور 51 سال کی عمر سے پیغمبراسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک ہوئے آپکی سب سے پہلی جنگ جنگ خندق تھی۔

سعد بن معاذ بھی اویس قبیلہ کے بڑوں میں شمار ہوتے تھے آپ بھی اسی جنگ یعنی اسی جنگ خندق میں زخمی ہوئے اور اسی جراحت کی بنا پر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ آپ وہی ہیں کہ جنکے لئے بنی قریظہ کی خیانت کے وقت پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کہا تھا آپ کتاب خدا کی بنا پر فیصلہ کریں کہ انکے ساتھ کیا کیا جائے۔

اہل سنت اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ فاطمہ بنت اسد اسی جگہ سپرد خاک ہوئیں۔

حضرت عثمان کی قبر بھی تقریباً بقیع کے درمیانی حصہ میں واقع ہے۔

بقیع میں اور بھی بہت سے اصحاب دفن ہیں کہ جنکی کوئی علامت یا نشانی موجود نہیں ہے۔

یہ بقیع ہے زمین و آسمان کا دل جوانان بہشت کی ماں اس جگہ آرام کر رہی ہے محل دفن کہاں ہے؟

دل کے عقدے کھلنے لگتے ہیں چند سالہ صبر و ضبط کا باندھ آہوں اور سسکیوں کے ساتھ ساتھ ٹوٹنے لگتا ہے ۔ہم بقیع کی زیارت سے واپسی پر رسول خدا صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے شکوہ کرتے ہیں یا رسول اللہ دیکھیں۔ آپکے فرزندوں کے ساتھ آپکی امت نے کیا کیا۔ لیکن اسی دوران اچانک ہمیں یاد آتا ہے کہ تم سے پہلے تو سب سے پہلے مظلوم علی نے پیغمبر اسلام صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم سے گلے شکوے کئے تھے۔

اے رسول خدا!! یہ آپکی بیٹی ہے کہ جسے خاک کی آغوش میں اپنے ہاتھوں سے سلا رہا ہوں آپ خود اس سے پوچھ لیں کہ اس پر کیا گزری میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

یہ بقیع ہے

یہ زمین و آسمان کا سب سے محترم خطہ ہے۔