ur

حضور اکرم ۖ کی بعثت کا مقصد


حضور اکرم ۖ کی بعثت کا مقصد
مصنف:سید غافر حسن رضوی

جس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اور قرآن کریم اس کی حکایت اس طرح کرتا ہے (کان الناس امة واحدة فبعث اللّٰہ النبیین مبشرین و منذرین )(۱)
پہلے تمام لوگ ایک ہی گروہ کی شکل میں تھے(کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن بعد میں اختلاف پیدا ہوا تو )خدا وند عالم نے انبیاء ٪ کو مبعوث کیا تاکہ وہ (جنت کی) بشارت دیں اور(عذاب الٰہی و جہنم) سے ڈرائیں۔
اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ ۖ کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ‘اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت’ جیسا کہ ارشاد رب العزت ہورہا ہے: (لقد من اللہ علیٰ المومنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلوا علیھم آیٰتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین)(۲)
یعنی بے شک خدا وند عالم نے مومنین پر احسان کیا ہے کہ ان کے لئے انھیں میں سے ایک رسول کو مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں آیات قرآنی سنائے اور ان کے نفوس کو پاک کرے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے، اگر چہ پہلے وہ لوگ ضلالت و گمراہی میں تھے(ضلالت وگمراہی سے نکالنے کے لئے نبی کو مبعوث کیا)
یا اسی مفہوم کی دوسری آیت صرف تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے:(ھو الذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم آیٰتہ و یزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلال مبین)(۳)
یعنی وہ(خدا)وہی ہے جس نے امیین میں ایک رسول کو خود انھیں میں سے مبعوث کیا تاکہ وہ انھیں قرآنی آیات پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ نفس کرے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے اگر چہ وہ پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔
ان آیتوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انبیاء ٪ کی بعثت کا مقصد ‘لوگوں کوگمراہیوں سے نجات دینا اوران کی بہترین تربیت ‘ ہے۔
تعلیم بھی، تزکیہ بھی، اخلاق و تربیت بھی ،آخری دو آیتیں ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ۖ سے مخصوص ہیں جن میں آشکار طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ ۖ کی بعثت کا مقصد اور ہدف کیا ہے۔
حضور ۖ کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ‘ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے’
جناب آدم ـ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت ۖ تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔
حضور ۖ کے لئے تو صراحت کے ساتھ قرآن میں بیان ہوا ہے (لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة)(۴)
مقصدیہ ہے کہ اے انسان اگر ہم نے صراط مستقیم کی دعوت دی ہے تو تجھے تنہا اور بے مونس ومددگار کسی چوراہے پر نہیں چھوڑا ہے کہ تو پریشان اور حیران وسرگردان پھرتا رہے بلکہ ہم نے تیرے لئے نمونہ اور اسوہ(Ideal) بھی بھیجا ہے ‘بے شک تمہارے لئے میرے حبیب میں نمونہ(Ideal) موجود ہے ‘ یعنی تم جو کام بھی کرنا چاہتے ہو تو رسول ۖ کو دیکھ کر انجام دو، جس طرح میرا رسول ۖ انجام دے رہا ہے اسی طرح تم بھی انجام دو، میرا رسول ۖ تمہارے لئے بہترین مجسّم نمونۂ عمل ہے، اس کے اعمال کو دیکھو ،اس کے اقوال کو دیکھو، اس کی معاشرت کو دیکھو، اس کے کردار کو دیکھو، اس کی رفتار کو دیکھو، اسکی گفتار کو دیکھو….اور… اسے دیکھ کر اعمال بجا لاتے رہو، ہر چیز میں، ہر کام میں اس کی پیروی کرو، صراط مستقیم مل جا ئے گی۔
اور جب انسان اس منزل پر پہونچ جا ئے گاکہ اس کا ہر عمل، رسول اسلام ۖ کو نمونۂ عمل بناتے ہوئے انجام پائے تو پھر وہ اس منزل پر آجائے گا کہ ‘من عرف نفسہ فقد عرف ربہ’ (۵)
انسان اپنے نفس کو بھی پہچان لے گااور نفس کے ساتھ ساتھ معبود حقیقی کی بھی معرفت حاصل ہو جائے گی چونکہ معبود حقیقی کی معرفت، اپنے نفس کو پہچاننے پر موقوف ہے اور انسان اپنے نفس کو اسی وقت پہچان سکتا ہے جب حضور اکرم ۖ کو اپنا نمونۂ عمل بنائے ، جب تک انسان اپنے نفس کو نہیں پہچان پائے گا، تب تک وہ ھواوھوس کا اسیر رہے گا ، نفس کا غلام بن کر رہے گا، صرف اپنی ذات سے محبت کرے گا لیکن جب وہ اپنے نفس کو پہچان لے گا اور یہ دیکھے گا کہ اس کا نفس اسے کمال و سعادت کے بجائے پستی کی جانب لے جا رہا ہے تو خود بخود نفس سے نفرت ہونے لگے گی اور جب نفس سے نفرت ہونے لگے گی تو پھر کمال وسعادت کے بارے میں غوروفکر کرے گا تا کہ اسے کمال و سعادت کی راہ مل جائے اور اس کے لئے وہ کسی نمونہ (آئیڈیلIdeal) کی تلاش میں رہے گا اور جب نمونہ تلاش کرے گا تو اسے قرآن کریم کے مطابق ایک ہی نمونہ نظر آئے گا جوذات سرور کائنات ۖ ہے۔
جب حضور ۖ کو اپنا نمونۂ عمل بنا لے گا تو یہ بات اظھر من الشمس ہے کہ خود بخود ذات خدا وندی سے قریب ہوتا چلا جائے گا اور اس کے دل میں خدا وند عالم کی محبت کا چراغ روشن ہو جا ئے گا، جب تک انسان کے دل میں اپنے نفس کی محبت ہے، تب تک اس کا دل خدا کی الفت سے خالی ہے اور اسکے بر خلاف…اگر انسان کے دل میں خد اکی محبت جا گزیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات سے کو ئی لگائو نہیں ہے(جو بھی ہے وہ خدا کے لئے ہے، اس کا ہراٹھنے والا قدم مرضی معبود کا تابع ہوگا ،اس کی زبان کھلے گی توکھلنے سے پہلے خدا کی رضایت طلب کرے گی، ہاتھ اٹھانے سے پہلے خدا کی یاد آئے گی، نگاہ اٹھانے سے پہلے مرضی رب کے بارے میں سوچے گا اسی طرح اس کا ہر کام فی سبیل اللہ ہو گا)اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نہ تو اس کے دل میں لالچ ہوگا، نہ حسد ہوگا، نہ بغض وکینہ ہوگا، نہ دنیا داری ہوگی، یعنی اس کا دل تمام دنیاوی خرافات سے پاک ہوگا اور اسی کو کمال وسعادت کی منزل کہا جاتا ہے(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات
(١)سورہ بقرہ/ ٢١٣
(٢)سورۂ آل عمران/١٦٤
(٣)سورۂ جمعہ/٢
(۴)غرر الحکم:ص٢٣٢
(۵) سیرۂ رسول اللہ از دیدگاہ امام خمینی:ص٤١
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔