ur

ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ

ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ
مصنف:حسین انصاریان

ہر گناہ کے لئے مخصوص توبہ
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر خدا کی بارگاہ میں اپنے مختلف گناہوں کے سلسلہ میں استغفار کرلیا جائے اور ‘استغفراﷲ ربی و اتوب الیہ’ زبان پر جاری کرلیاجائے، یا مسجد اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے روضوں میں ایک زیارت پڑھ لی جائے یا چند آنسو بہالئے جائیں تو اس کے ذریعہ توبہ ہوجائے گی، جبکہ آیات وروایات کی نظر میں اس طرح کی توبہ مقبول نہیں ہے، اس طرح کے افراد کو توجہ کرنا چاہئے کہ ہر گناہ کے اعتبار سے توبہ بھی مختلف ہوتی ہے، ہر گناہ کے لئے ایک خاص توبہ مقرر ہے کہ اگر انسان اس طرح توبہ نہ کرے تو اس کا نامہ اعمال گناہ سے پاک نہیں ہوگا، اور اس کے بُرے آثار قیامت تک اس کی گردن پر باقی رہیں گے، اور روز قیامت اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔
اور ان تمام گناہوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
١۔ عبادت اور واجبات کو ترک کرنے کی صورت میں ہونے والے گناہ، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، خمس اور جہاد وغیرہ کو ترک کرنا۔
٢۔ خداوندعالم کے احکام کی مخالفت کرتے ہوئے گناہ کرناجن میں حقوق الناس کا کوئی دخل نہ ہو، جیسے شراب پینا، نامحرم عورتوں کو دیکھنا، زنا، لواط، استمنائ، جُوا، حرام میوزیک سننا وغیرہ ۔
۳۔ وہ گناہ جن میں فرمان خدا کی نافرمانی کے علاوہ لوگوں کے حقوق کو بھی ضایع کیا گیا ہو، جیسے قتل ، چوری، سود، غصب، مالِ یتیم ناحق طور ٣پر کھانا، رشوت لینا، دوسروں کے بدن پر زخم لگانا یا لوگوں کو مالی نقصان پہچانا وغیرہ وغیرہ۔
پہلی قسم کے گناہوںکی توبہ یہ ہے کہ انسان تمام ترک شدہ اعمال کو بجالائے،چھوٹی ہوئی نماز پڑھے، چھوٹے ہوئے روزے رکھے، ترک شدہ حج کرے، اور اگر خمس و زکوٰۃ ادانہیں کیا ہے تو ان کو ادا کرے۔
دوسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان شرمندگی کے ساتھ استغفار کرے اور گناہوں کے ترک کرنے پر مستحکم ارادہ کرلے، اس طرح کہ انسان کے اندر پیدا ہونے والا انقلاب اعضاء و جوارح کو دوبارہ گناہ کرنے سے روکے رکھے۔
تیسری قسم کے گناہوں کی توبہ یہ ہے کہ انسان لوگوں کے پاس جائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کرے ،مثلاً قاتل ،خود کو مقتول کے ورثہ کے حوالے کردے، تاکہ وہ قصاص یا مقتول کا دیہ لے سکیں، یا اس کو معاف کردیں، سود خورتمام لوگوں سے لئے ہوئے سود کے حوالے کردے، غصب کرنے والا ان چیزوں کو ان کے مالک تک پہونچادے، مال یتیم اور رشوت ان کے مالکوں تک پہنچائے، کسی کو زخم لگایا ہے تو اس کا دیہ ادا کرے، مالی نقصان کی تلافی کرے، پس حقیقی طور پر توبہ قبول ہونے کے تین مذکورہ تین چیزوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔
١۔ شیطان
لفظ شیطان اور ابلیس قرآن مجید میں تقریباً ٩٨ بار ذکر ہوا ہے، جو ایک خطرناک اور وسوسہ کرنے والا موجود ہے، جس کا مقصد صرف انسان کو خداوندعالم کی عبادت و اطاعت سے روکنا اور گناہ و معصیت میں غرق کرنا ہے۔
قرآن مجید میں گمراہ کرنے والے انسان اور دکھائی نہ دینے والا وجودجو انسان کے دل میں وسوسہ کرتا ہے، ان کو شیطان کہا گیا ہے۔
شیطان ،’ شطن ‘اور ‘شاطن ‘کے مادہ سے ماخوذہے اور خبیث، ذلیل، سرکش، متمرد، گمراہ اور گمراہ کرنے کے معنی میں آیا ہے، چاہے یہ انسانوں میں سے ہو یا جنوں میں سے۔
قرآن مجید اور اس کی تفسیر و توضیح میں حضرت رسول اکرم ۖ اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے بیان ہونے والی احادیث وروایات میں شیطان جنّ وانس کی خصوصیات کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے:
قسم کھایا ہوا اور کھلم کھلا دشمن، برائی اور فحشاء و منکر کا حکم کرنے والا، خداوندعالم کی طرف ناروا نسبت دینے والا، صاحبان حیثیت کو ڈرانے والا کہ کہیں نیک کام میںخرچ کرنے سے فقیر نہ بن جائیں، انسانوں کو لغزشوں میں ڈالنے والا، گمراہی میں پھنسانے والا تاکہ لوگ سعادت و خوشبختی سے کوسوں دور چلے جائیں، شراب پلانے کا راستہ ہموار کرنے والا،جوا کھیلنے، حرام شرط لگانے اور لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی نسبت کینہ و دشمنی ایجاد کرنے والا، برے کام کو اچھا بناکر پیش کرنے والا، جھوٹے وعدے دینے والا، انسان میں غرور پیدا کرنے والا،اور اسے ذلت کی طرف ڈھکیلنے والا، راہ حق میں رکاوٹ پیدا کرنے اور جہنم میں پہنچانے والے کاموں کی دعوت دینے والا، میاں بیوی کو طلاق کی منزل تک پہنچانے والا، لوگوںمیں گناہوں اور برائیوںکا راستہ فراہم کرنے او رانھیں دنیا کا اسیر بنانے والا، انسان کو توبہ کی امید میں گناہوں پر اُکسانے والا، خودپسندی ایجاد کرنے والا، بخل، غیبت، جھوٹ اور شہوت کو تحریک کرنے والا، کھلم کھلا گناہ کرنے کی ترغیب کرنے والا، غصہ اور غضب کو بھڑکانے والا۔
جب تک انسان شیاطین جن و انس کے جال میں پھنسا رہتا ہے تو پھر وہ حقیقی طور پر توبہ نہیں کرسکتا، کیونکہ جب تک اس کے دل پر شیطان کی حکومت رہے گی ، تو توبہ کے بعد شیطان پھر گناہ کرنے کے لئے وسوسہ پیدا کردے گا، اور توبہ کے ذریعہ کئے گئے عہد کو توڑنے اور اپنی اطاعت کرنے پر مجبور کردے گا۔
توبہ کرنے والے کو چاہئے کہ خداوندعالم سے توفیق طلب کرتے ہوئے گناہوں سے ہمیشہ پرہیز کرے اور شیطان سے سخت بیزار رہے، تاکہ آہستہ آہستہ اس خبیث وجود کے نفوذ کو اپنے وجود سے ختم کردے، اور اس کی حکومت کا بالکل خاتمہ کردے، تاکہ انسان کے دل میں توبہ و استغفار کی حقیقت باقی رہے، اور اس نورانی عہدو پیمان کو ظلمت کے حملے توڑ نہ سکیں۔
٢۔ دنیا
تمام مادی عناصر اور انسانی زندگی کی ضروری اشیاء سے رابطہ ہی انسان کی دنیا ہے۔
اگر یہ رابطہ خداوندعالم کی مرضی کے مطابق ہو تو بے شک انسان کی یہ دنیا قابل حمد و ثنا ہے، اور اُخروی سعادت کی ضامن ہے، لیکن اگر انسان کا یہی رابطہ مادی اور ہوائے نفس کی بنا پر ہو جہاں پر کسی طرح کی کوئی حد و حدود نہ ہو تو اس وقت انسان کی یہ دنیا مذموم اور آخرت میں ذلت کا باعث ہوگی۔
بے شک اگر ہوائے نفس کی بنیاد اور بے لگام خواہشات کے ساتھ مادی چیزوں سے لگائو ہو تو یقینا انسان گناہوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے۔
اسی ناجائز رابطہ کی بنا پر انسان شہوت اور مال و دولت کا عاشق بن جاتا ہے، اور اس راستہ کے ذریعہ خدا کے حلال و حرام کی مخالفت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
اس طرح کے رابطہ کے ذریعہ انسان ؛مادی چیزوں اور شہوت پرستی میں کھوجاتا ہے، جس کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے، اور جس کی بدولت آخرت میں سخت خسارہ اٹھانا پڑے گا۔
حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں بیان فرماتے ہیں:
‘اَلدُّنْیَا تَغُرُّ وَ تَضُرُّوَ تَمُرُّ…’.(١)
‘دنیا ، مغرور کرتی ہے، نقصان پہنچاتی ہے اور گزرجاتی ہے’۔
خداوندعالم نے اپنے محبوب رسول(ص) کو شب معراج اس مذموم دنیا میں گرفتار لوگوں کی خصوصیت کے بارے میں اس طرح فرمایا:’ اہل دنیا وہ لوگ ہوتے ہیں جن کا کھانا پینا، ہنسنا، رونا اور غصہ زیادہ ہوتا ہے، خدا کی عنایت پر بہت کم خوشنود ہوتے ہیں، لوگوں سے کم راضی رہتے ہیں، لوگوں کی شان میں بدی کرنے کے بعد عذر خواہی نہیں کرتے، اور نہ ہی دوسروں کی عذر خواہی کو قبول کرتے ہیں، اطاعت کے وقت سست و کاہل اور گناہ کے وقت شجاع او رطاقتور ہوتے ہیں، ان کی آرزوئیں طولانی ہوتی ہیں، ان کی گفتگو زیادہ، عذاب جہنم کا خوف کم ہوتا ہے اور کھانے پینے کے وقت بہت زیاہ خوش و خرم نظر آتے ہیں۔
یہ لوگ چین و سکون کے وقت شکر اور بلاء و مصیبت میں صبر نہیں کرتے، دوسروں کو ذلیل سمجھتے ہیں، نہ کئے ہوئے کام پر اپنی تعریفیں کرتے ہیں، جن چیزوں کے مالک نہیں ہوتے ان کی ملکیت کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں، اپنی بے جا آرزؤں کو دوسروں سے بیان کرتے ہیں، لوگوں کی برائیوں کو اچھالتے ہیں، اور ان کی اچھائیوں کو چھپاتے ہیں. پیغمبر اکرم ۖ نے عرض کیا: پالنے والے! کیا ان عیوب کے علاوہ کوئی دوسرا عیب بھی ان میں پایا جاتا ہے؟ آواز آئی: اے احمد! دنیا والوں کے عیب زیادہ ہیں، ان میں حماقت و ونادانی پائی جاتی ہے، اپنے استاد کے سامنے تواضع سے پیش نہیں آتے، اپنے کو ]بہت[ بڑا عاقل سمجھتے ہیں، جبکہ وہ صاحبان علم کے نزدیک احمق ہوتے ہیں۔(2)
اگر کوئی شخص اپنے گناہوں سے توبہ کرلے لیکن توبہ کے ساتھ مادی زرق و برق میں اسیر ہو، تو کیا اس کی توبہ باقی رہ سکتی ہے اور توبہ کے میدان میں ثابت قدم رہ سکتا ہے؟۔
توبہ کرنے والا اگر اس طرح کی چیزوں کے نفوذ سے آزاد نہ ہو تو پھر اس کے لئے حقیقی طور پر توبہ کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ایسا انسان توبہ تو کرلیتا ہے، لیکن جیسے ہی مادی چیزوں نے حملہ کیا تو وہ اپنی توبہ کو توڑلیتا ہے۔
٣۔ آفات
غلط رابطے،بے جا محبت، لذتوں میں بہت زیادہ غرق ہونا، نا محدود شہوات، بے لگام خواہشیں، حرام شہوت اورہوائے نفس یہ سب خطرناک آفتیں ہیں کہ اگر انسان کی زندگی میں یہ سب پائی جاتی ہیں، تو انسان حقیقی طور پر توبہ نہیں کرسکتا، لہٰذا توبہ کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام چیزوں کو اپنے سے دور کرے اور ان امراض کے علاج کے لئے قدم بڑھائے، تاکہ حقیقی طور پر توبہ کرنے کا راستہ کھل جائے۔
حقیقی توبہ کرنے والوں کے لئے الٰہی تحفہ
معصوم علیہ السلام کا ارشادہے: خداوندعالم توبہ کرنے والوں کو تین خصلتیں عنایت فرماتا ہے کہ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی تمام اہل زمین و آسمان کو مرحمت ہوجائے تو اسی خصلت کی بنا پر ان کو نجات مل جائے:
(…ِنَّ اﷲَ یُحِبُّ التَّوَّابِینَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِینَ).(3)
‘بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے’۔
لہٰذا جس کو خداوندعالم دوست رکھتا ہے اس پر عذاب نہیں کرے گا۔
(الَّذِینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُونَ بِہِ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْئٍ رَحْمَۃً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِینَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِیلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیمِ ٭ رَبَّنَا وََدْخِلْہُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِی وَعَدْتَہُم وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِہِمْ وََزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ ِنَّکَ َنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ٭ وَقِہِمْ السَّیِّئَاتِ وَمَنْ تَقِ السَّیِّئَاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ).(4)
‘جو فرشتے عر ش الٰہی کو اٹھا ئے ہوئے ہیں اور جواس کے گرد معین ہیں سب حمد خدا کی تسبیح کر رہے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں اور صاحبان ایمان کے لئے استغفار کررہے ہیں کہ خدایا! تیری رحمت اور تیرا علم ہر شئے پر محیط ہے لہٰذا ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستہ کا اتباع کیا ہے اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچالے۔پروردگارا! انھیں اور ان کے باپ دادا، ازواج اور اولاد میں سے جو نیک اور صالح افراد ہیں ان کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں جگہ عنایت فرما، جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے بیشک تو سب پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔اور انھیں برائیوں سے محفوظ فرما کہ آج جن لوگوں کو تونے برائیوںسے بچا لیا گویا انھیں پر رحم کیا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ‘۔
(وَالَّذِینَ لاَیَدْعُونَ مَعَ اﷲِ ِلَہًا آخَرَ وَلاَیَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اﷲُ ِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَیَزْنُونَ وَمَنْ یَفْعَلْ ذَلِکَ یَلْقَ َثَامًا٭ یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُہَانًا٭ ِلاَّ مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اﷲُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اﷲُ غَفُورًا رَحِیمًا).(5)
‘اور وہ لوگ خدا کے ساتھ کسی اور خدا کو نہیں پکارتے ہیں اور کسی بھی نفس کو اگر خدا نے محترم قرار دیدیا ہے تو اسے نا حق قتل نہیں کرتے ہیں اور زنا بھی نہیں کرتے کہ جو ایسا عمل کرے گا وہ اپنے عمل کی سزا بھی برداشت کرے گا۔جسے روز قیامت دوگنا کر دیا جائے گااور وہ اسی میں ذلت کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ پڑا رہے گا۔ علاوہ اس شخص کے جو توبہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل بھی کرے کہ پروردگار اس کی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل کر دے گا ، اور خدا بہت بڑا مہربان ہے’۔(6)
توبہ جیسے باعظمت مسئلہ کے سلسلہ میں قرآن کا نظریہ
قرآن کریم میں لفظ ‘توبہ’ اور اس کے دیگر مشتقات تقریباً ٨٧ مرتبہ ذکر ہوئے ہیں، جس سے اس مسئلہ کی اہمیت اور عظمت واضح جاتی ہے۔
قرآن کریم میں توبہ کے سلسلہ میں بیان ہونے والے مطالب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
١۔توبہ کا حکم۔
٢۔حقیقی توبہ کا راستہ۔
٣۔توبہ کی قبولیت۔
٤۔توبہ سے روگردانی۔
٥۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب۔
١۔توبہ کا حکم
(اَنِ اسْتَغْفِرُوارَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا اِلَیْہِ…).(7)
‘اور اپنے رب سے استغفار کروپھر اس کی طرف متوجہ ہو جاؤ…’۔
(…َتُوبُوا ِلَی اﷲِ جَمِیعًا َیُّہَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ).(8)
‘توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جائے’۔
راغب اصفہانی اپنی کتاب ‘مفردات’ میں کہتے ہیں:قیامت کی فلاح و کامیابی یہ ہے جہاں انسان کے لئے ایسی زندگی ہوگی جہاں موت نہ ہوگی، ایسی عزت ہوگی کہ جہاںذلت نہ ہوگی، ایسا علم ہوگا کہ جہاں جہالت کا نام ونشان تک نہ ہوگا،وہاں انسان ایسا غنی ہوگا جس کو تنگدستی نہیں ہوگی۔(9)
(یا اَیُّھاَ الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصوحاً…).(10)
‘اے ایمان والو! خلوص دل کے ساتھ توبہ کر و…’۔
ان آیات میں خداوندعالم نے مومنین اور غیر مومنین سبھی کو توبہ کی دعوت دی ہے، خدا کی اطاعت واجب اورباعث رحمت و مغفرت ہے، اسی طرح خدا وندعالم کی معصیت حرام اور باعث غضب الٰہی اور مستحق عذاب الٰہی ہے، جس کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ذلت و خواری اور ہمیشہ کے لئے ہلاکت و بدبختی ہے۔
٢۔حقیقی توبہ کا راستہ
حقیقت تو یہ ہے کہ ‘توبہ’ ایک سادہ اور آسان کام نہیں ہے،بلکہ معنوی اور عملی شرائط کے ساتھ ہی توبہ محقق ہوسکتی ہے۔
شرمندگی، آئندہ میں پاک و پاکیزہ رہنے کا مصمم ارادہ، برے اخلاق کو اچھے اخلاق و عادات میں بدلنا، اعمال کی اصلاح کرنا، گزشتہ اعمال کا جبران اور تلافی کرنااور خدا پر ایمان رکھنا اور اسی پر بھروسہ کرنا یہ تمام ایسے عناصر ہیں جن کے ذریعہ سے توبہ کی عمارت پایہ تکمیل تک پہنچتی ہے، اور انھیں کے ذریعہ استغفار ہوسکتا ہے۔
(ِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وََصْلَحُوا وَبَیَّنُوا فَُوْلَئِکَ َتُوبُ عَلَیْہِمْ وََنَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ).(11)
‘علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنے کئے کی اصلاح کر لیں اور جس کو چھپایا ہے اس کو واضح کر دیں ،تو ہم ان کی توبہ قبول کرلیتے ہیں کہ ہم بہترین تو بہ قبول کر نے والے اور مہربان ہیں’۔
(ِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اﷲِ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السُّوئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِنْ قَرِیبٍ فَُوْلَئِکَ یَتُوبُ اﷲُ عَلَیْہِمْ وَکَانَ اﷲُ عَلِیمًا حَکِیمًا).(12)
‘تو بہ خدا کے ذمہ صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو جہالت کی بنا پر برائی کرتے ہیں لیکن پھر فوراً توبہ کرلیتے ہیں کہ خدا ان کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے وہ علیم ودانا بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ‘۔
(فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وََصْلَحَ فَِنَّ اﷲَ یَتُوبُ عَلَیْہِ ِنَّ اﷲَ غَفُور رَحِیم).(13)
‘پھر ظلم کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنی اصلاح کر لے ،تو خدا]بھی[ اس کی توبہ کو قبول کر لے گا اور اللہ بڑابخشنے والا اور مہربان ہے’۔
(وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِہَا وَآمَنُوا ِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِہَا لَغَفُور رَحِیم).(14)
‘اور جن لوگوں نے بُرے اعمال کئے اور پھر توبہ کر لی اور ایمان لے آئے، توبہ کے بعد تمہارا پروردگاربہت بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والاہے’۔
(فَِنْ تَابُوا وََقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوْا الزَّکَاۃَ فَِخْوَانُکُمْ فِی الدِّینِ…).(15)
‘پھر اگر یہ تو بہ کر لیںاور نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں،تو ]یہ لوگ[ دین میں تمہارے بھائی ہیں …’۔
قارئین کرام! مذکورہ آیات کے پیش نظر، خدا و قیامت پر ایمان، عقیدہ،عمل اوراخلاق کی اصلاح، خدا کی طرف فوراً لوٹ آنا، ظلم و ستم کے ہاتھ روک لینا، نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا اور لوگوں کے حقوق اداکرنا؛ حقیقی توبہ کے شرائط ہیں، اور جو شخص بھی ان تمام شرائط کے ساتھ توبہ کرے گا بے شک اس کی توبہ حقیقت تک پہنچ جائے گی اور حقیقی طور پر توبہ محقق ہوگی نیزاس کی توبہ یقینا بارگاہ خداوندی میں قبول ہوگی۔
٣۔توبہ قبول ہونا
جس وقت کوئی گناہگار توبہ کے سلسلہ کے خداوندعالم کی اطاعت کرتا ہے اور توبہ کے شرائط پر عمل کرتا ہے، اور توبہ کے سلسلہ میں قرآن کا تعلیم کردہ راستہ اپناتا ہے، توبے شک خدائے مہربان؛جس نے گناہگار کی توبہ قبول کرنے کا وعدہ فرماتا ہے، وہ ضرور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں توبہ قبول ہونے کی نشانی قرار دے دیتا ہے اور اس کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے، نیز اس کے باطن سے ظلمت و تاریکی کو سفیدی اور نور میں تبدیل کردیتا ہے۔
(َلَمْ یَعْلَمُوا َنَّ اﷲَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ …).(16)
‘کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے…’۔
(وَہُوَ الَّذِی یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَعْفُو عَنْ السَّیِّئَاتِ…).(17)
‘اور وہی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے…’۔
(غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ…).(18)
‘وہ گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا ہے…’۔
٤۔توبہ سے منھ موڑنا
اگر گناہگار خدا کی رحمت سے مایوس ہوکر توبہ نہ کرے تو اس کو جاننا چاہئے کہ رحمت خدا سے مایوسی صرف اور صرف کفار سے مخصوص ہے(19)
اگر گناہگار انسان اس وجہ سے توبہ نہیں کرتا کہ خداوندعالم اس کے گناہوں کو بخشنے پر قدرت نہیں رکھتا، تو اس کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ تصور بھی یہودیوں کا ہے۔(20)
اگر گناہگار انسان کا تکبر ، خدائے مہربان کے سامنے جرائت اور ربّ کریم کے سامنے بے ادبی کی بنا پر ہو تو اس کو جاننا چاہئے کہ خداوندعالم اس طرح کے مغرور ،گھمنڈی اور بے ادب لوگوں کو دوست نہیں رکھتا، اور جس شخص سے خدا محبت نہ کرتا ہوتو دنیا و آخرت میں ان کی نجات ممکن نہیں ہے۔(21)
گناہگار کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ سے منھ موڑنا، جبکہ باب توبہ کھلا ہوا ہے اور لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرنا ممکن ہے نیز یہ کہ خداوندعالم توبہ قبول کرنے والا ہے، لہٰذا ان تمام باتوں کے پیش نظر توبہ نہ کرنا اپنے اوپر اور آسمانی حقائق پر ظلم وستم ہے۔
(…ِ وَمَنْ لَمْ یَتُبْ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الظَّالِمُونَ).(22)
‘اگر کوئی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ درحقیقت یہی لوگ ظالم ہیں’.
(اِنَّ الَّذینَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنینَ وَالْمُؤْمِناتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوبُوا فَلَھُمْ
عَذابُ جَھَنَّمَ وَلَھُمْ عَذابُ الْحَریقِ).(23)
‘بیشک جن لوگوں نے ایماندار مردوں اور عورتوں کو ستایا اور پھر توبہ نہ کی ،ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اورا ن کے لئے جلانے والاعذاب بھی ہے’۔
٥۔توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب
اگر گناہگار انسان کو توبہ کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے اور تمام تر لازمی شرائط کے ساتھ توبہ کرلے تو بے شک اس کی توبہ بارگاہ خداوندی میں قبول ہوتی ہے، لیکن اگر توبہ کرنے کا موقع ہاتھ سے کھوبیٹھے اور اس کی موت آپہنچے اور پھر وہ اپنے گزشتہ سے توبہ کرے یا ضروری شرائط کے ساتھ توبہ نہ کرے یا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے تو ایسے شخص کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوسکتی۔
( وَلَیْسَتْ التَّوْبَۃُ لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ حَتَّی ِذَا حَضَرَ َحَدَہُمْ الْمَوْتُ قَالَ ِنِّی تُبْتُ الْآنَ وَلاَالَّذِینَ یَمُوتُونَ وَہُمْ کُفَّار ُوْلَئِکَ َعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا َلِیمًا).(24)
‘اور توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو پہلے برائیاں کرتے ہیں اور پھر جب موت سامنے آجاتی ہے توکہتے ہیں کہ اب ہم نے توبہ کرلی اور نہ ان کے لئے ہے جو حالت کفر میں مرجاتے ہیں کہ ان کے لئے ہم نے بڑا دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے’.
( ِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بَعْدَ ِیمَانِہِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا کُفْرًا لَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُہُمْ وَُوْلَئِکَ ہُمْ الضَّالُّونَ).(25)
‘جن لوگوں نے کفر اختیار لیا اور پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی اور وہ حقیقی طورپر گمراہ ہیں ‘۔
توبہ ، احادیث کی روشنی میں
حضرت امام باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: جناب آدم ]علیہ السلام[ نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کی: پالنے والے مجھ پر ]اور میری اولاد[پرشیطان کو مسلط ہے اور وہ خون کی طرح گردش کرتا ہے، پالنے والے اس کے مقابلہ میں میرے لئے کیا چیز مقرر فرمائی ہے؟
خطاب ہوا: اے آدم یہ حقیقت آدم کے لئے مقرر کی ہے کہ تمہاری اولاد میں کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، تو اس کے نامہ اعمال میں نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ کے مطابق گناہ بھی انجام دے لیا تو اس کے نامہ اعمال میں صرف ایک ہی گناہ لکھا جائے گا، لیکن اگر تمہاری اولاد میں سے کسی نے نیکی کا ارادہ کرلیا تو فوراً ہی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا، اور اگر اس نے اپنے ارادہ پر عمل بھی کیا تو اس نے نامہ اعمال میں دس برابر نیکی لکھی جائیں گی؛ اس وقت جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: پالنے والے! اس میں اضافہ فرمادے؛ آواز قدرت آئی: اگر تمہاری اولاد میں کسی شخص نے گناہ کیا لیکن اس کے بعد مجھ سے استغفار کر لیا تو میں اس کو بخش دوں گا؛ ایک بار پھر جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: پالنے والے! مزید اضافہ فرما؛ خطاب ہوا: میںنے تمہاری اولادکے لئے توبہ کورکھا اور اس کے د روازہ کو وسیع کردیا کہ تمہاری اولاد موت کا پیغام آنے سے قبل توبہ کرسکتی ہے، اس وقت جناب آدم ]علیہ السلام[ نے عرض کیا: خداوندا! یہ میرے لئے کافی ہے۔(26)
حضرت امام صادق علیہ السلام نے حضرت ، رسول اکرم ۖسے روایت کی ہے: جو شخص اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: بے شک ایک سال زیادہ ہے، جو شخص اپنی موت سے ایک ماہ قبل توبہ کرلے تو خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک مہینہ بھی زیادہ ہے، جو شخص ایک ہفتہ پہلے توبہ کرلے اس کی توبہ قابل قبول ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک ہفتہ بھی زیاد ہے، اگر کسی شخص نے اپنی موت سے ایک دن پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہے، اس کے بعد فرمایا: ایک دن بھی زیادہ ہے اگر اس نے موت کے آثار دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تو خداوندعالم اس کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے۔(27)
حضرت رسول خدا ۖ فرماتے ہیں:
‘اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ عَبْدِہِ ما لَمْ یُغَرْغِرْ، تُوبُوا اِلٰی رَبِّکُمْ قَبْلَ اَنْ تَمُوتُوا ،وَبادِرُوا بِالاَعْمالِ الزّاکِیَۃِ قَبْلَ اَنْ تُشْتَغِلُوا،وَ صِلُوا الَّذی بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُ بِکَثْرَۃِ ذِکْرِ کُمْ اِیّاہُ:'(28)
‘خداوندعالم ، اپنے بندے کی توبہ دم نکلنے سے پہلے پہلے تک قبول کرلیتا ہے، لہٰذا اس سے پہلے پہلے توبہ کرلو، نیک اعمال انجام دینے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ کسی چیز میں مبتلا ہوجائو، اپنے اور خدا کے درمیان توجہ کے ذریعہ رابطہ کرلو’۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘لَاشَفیعَ اَنْجَحُ مِنَ التَّوْبَۃِ’.(29)
‘توبہ سے زیادہ کامیاب کرنے والا کوئی شفیع نہیں ہے’۔
حضرت رسول اکرم ۖ سے روایت ہے:
‘اَلتَّوْبَۃُ تَجُبُّ ما قَبْلَھا’.(30)
‘توبہ ؛ انسان کے گزشتہ اعمال کو ختم کردیتی ہے’۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اَلتَّوْبَۃُ تَسْتَنْزِلُ الرَّحْمَۃَ:’.(31)
‘توبہ کے ذریعہ رحمت خدا نازل ہوتی ہے’۔
نیز حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ وَ ادْخُلُوا فِی مَحَبَّتِہِ،فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوّابینَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرینَ،وَالْمُؤْمِنُ تَوّاب:’.(3٢)
‘خداوندعالم کی طرف لوٹ آئو، اپنے دلوں میں اس کی محبت پیدا کرلو، بے شک خداوندعالم توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور مومن بہت زیادہ توبہ کرتا ہے’۔
حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے رسول اکرم ۖ سے روایت کرتے ہیں:
‘مَثَلُ الْمُؤْمِنِ عِنْدِاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ کَمَثَلِ مَلَکٍ مُقَرَّبٍ وَ اِنَّ الْمُؤْمِنَ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَعْظَمُ مِنْ ذٰلِکَ،وَلَیْسَ شَیْئ اَحَبَّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ مُؤْمِنٍ تائِبٍ اَوْ مُؤْمِنَۃٍ تائِبَۃٍ:’.(٣3)
‘خدا وندعالم کے نزدیک مومن کی مثال ملک مقرب کی طرح ہے، بے شک خداوندعالم کے نزدیک مومن کا مرتبہ فرشتہ سے بھی زیادہ ہے، خداوندعالم کے نزدیک مومن او رتوبہ کرنے والے مومن سے محبوب تر کوئی چیز نہیں ہے۔’
امام ہشتم اپنے آباء و اجداد کے حوالے کے ذریعہ رسول خدا ۖ سے روایت فرماتے ہیں:
‘اَلتّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لا ذَنْبَ لَہُ:’.(34)
‘گناہوں سے توبہ کرنے والا، اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو’۔
حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
‘اِنَّ تَوْبَۃَ النَّصوحِ ھُوَ اَنْ یَتوبَ الرَّجُلُ مِنْ ذَنْبٍ وَ یَنْوِیَ اَنْ لا یَعودَ اِلَیْہِ اَبَداً:’.(35)
‘توبہ نصوح یہ ہے کہ انسان گناہوں سے توبہ کرے اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کا قطعی ارادہ رکھے’۔
حضرت رسول خدا ۖ کا ارشاد ہے:
‘لِلّٰہِ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہِ مِنَ الْعَقِیمِ الْوالِدِ،وَ مِنَ الضّالِّ الْواجِدِ،وَمِنَ الظَّمْآنٍ الْوارِدِ’.(36)
‘ خداوندعالم اپنے گناہگار بندے کی توبہ پر اس سے کہیں زیادہ خوشحال ہوتا ہے جتنی ایک عقیم عورت بچہ کی پیدائش پر خوش ہوتی ہے، یا کسی کا کوئی کھویا ہوا مل جاتا ہے اور پیاسے کو بہتا ہوا چشمہ مل جاتا ہے’!
حضرت رسول خدا ۖ سے روایت ہے:
‘اَلتَّائِبُ اِذالَمْ یَسْتَبِنْ عَلَیْہِ اَثَرُ التَّوَبَۃِ فَلَیْسَ بِتائِبٍ ،یُرْضِی الْخُصَمائَ،وَیُعیدُ الصَّلَواتِ ،وَ یَتَواضَعُ بَیْنَ الْخَلْقِ ،وَیَتَّقی نَفْسَہُ عَنِ الشَّھَواتِ،وَیَھْزِلُ رَقَبَتَہُ بِصِیامِ النَّھارِ:’.(37)
‘جس وقت توبہ کرنے والے پر توبہ کے آثار ظاہر نہ ہوں، تو اس کو تائب ]یعنی توبہ کرنے والا[ نہیں کہا جانا چاہئے، توبہ کے آثار یہ ہیں: جن لوگوںکے حقوق ضائع کئے ہیں ان کی رضایت حاصل کرے، قضا شدہ نمازوں کو ادا کرے، دوسروں کے سامنے تواضع و انکساری سے کام لے، اپنے نفس کو حرام خواہشات سے روکے رکھے اور روزے رکھ کر جسم کو کمزور کرے ‘۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘اَلتَّوْبَۃُ نَدَم بِالْقَلْبِ ،وَاسْتِغْفار بِاللِّسانِ،وَ تَرْک بِالْجَوارِحِ،وَاِضْمار اَنْ لایَعودَ:’.(38)
‘ توبہ؛ یعنی دل میں شرمندگی، زبان پر استغفار، اعضاء و جوارح سے تمام گناہوں کو ترک کرنا اور دوبارہ نہ کرنے کا مستحکم ارادہ کرنا’۔
نیز حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:
‘مَنْ تابَ تابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ ،وَاُمِرَتْ جَوارِحُہُ اَنْ تَسْتُرَ عَلَیْہِ،وَبِقاعُ الاَرْضِ اَنْ تَکْتُمَ عَلَیْہِ،وَ اُنْسِیَتِ الْحَفَظَۃُ ما کانَتْ تَکْتُبُ عَلَیہِ:’.(39)
‘ جو شخص توبہ کرتا ہے خداوندعالم اس کی توبہ قبول کرتا ہے، اور اس کے اعضاء و جوارح کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس کے گناہوں کو مخفی کرلو، اور زمین سے کہا جاتا ہے کہ اس کے گناہ کو چھپالے اور جو کچھ کراماً کاتبین نے لکھا ہے خدا ان کو نظر انداز کر دیتا ہے ‘۔
حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ خداوندعالم نے جناب دائود نبی ]علیہ السلام[ پروحی فرمائی:
‘اِنَّ عَبْدِیَ الْمُؤْمِنَ اِذا اَذْنَبَ ذَنْباً ثُمَّ رَجَعَ وَ تابَ مِنْ ذٰلِکَ الذَّنْبِ وَاسْتَحْییٰ مِنّی عِنْدَ ذِکْرِہِ غَفَرْتُ لَہُ،وَاَنْسَیْتُہُ الْحَفَظَۃُ،وَ اَبْدَلْتُہُ الْحَسَنَۃَ،وَلا اُبالی وَ اَنَا اَرْحَمُ الرّحِمینَ:’.(40)
‘بے شک جب میرا بندہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اورپھر اپنے گناہ سے منھ موڑلیتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے،اور اس گناہ کو یاد کرکے مجھ سے شرمندہ ہوتا ہے تو میں اس کو معاف کردیتا ہوں، اور کراماً کاتبین کو]بھی[ بھلادیتا ہوں، اور اس کے گناہ کو نیکی میں تبدیل کردیتا ہوں، مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ میں ارحم الراحمین ہوں ‘۔
پیغمبر اسلام ۖ ایک اہم روایت میں فرماتے ہیں:کیا تم جانتے ہوں ہو کہ تائب ]یعنی توبہ کرنے والا[ کون ہے؟ اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ بہتر جانتے ہیں، تو آنحضرت ۖ نے فرمایا: جب کوئی بندہ توبہ کرے اور دوسروں کے مالی حقوق کو ادا کرکے ان کو راضی نہ کرلے تو وہ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن خدا کی عبادتوں میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے ]مال حرام سے بنے ہوئے [ لباس کو نہ بدلے وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی صحبت کو نہ بدلے تو وہ ]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے اخلاق اور اپنی نیت کو نہ بدلے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے اور اپنے دل سے حقائق کو نہ دیکھے ،اور صدقہ و انفاق میں اضافہ نہ کرے تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنی آرزؤں کو کم نہ کرے اور اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے، جو شخص توبہ کرے لیکن اپنے بدن سے اضافی کھانے کو خالی نہ کرے،تو وہ شخص]بھی[ تائب نہیں ہے. بلکہ وہ شخص تائب ہے جو ان تمام خصلتوں کی پابندی کرے ۔(41)
قارئین کرام! اس روایت میں جن چیزوں کے بدلنے کا حکم ہوا ہے ان سے وہ چیزیں مراد ہیں جو حرام طریقہ سے حاصل کی گئی ہوںیا حرام چیزوں سے متعلق ہوں۔
توبہ کے منافع اور فوائد
گناہوں سے توبہ کے متعلق قرآن کریم کی آیات اور اہل بیت علیہم السلام سے مروی احادیث و روایات کے پیش نظر دنیا و آخرت میں توبہ کے بہت سے منافع و فوائد ذکر ہوئے ہیں، جن کو ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
(… اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا٭ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ٭ وَیُمْدِدْکُمْ بَِمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ َنْہَارًا).(42)
‘…اور کہا کہ اپنے پروردگار سے استغفار کرو کہ وہ بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار پانی برسائے گا۔اور اموال واولاد کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں قرار دے گا’.
(… تُوبُوا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَصوحاً عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ وَ یُدْخِلَکُمْ جَنّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِھَا الاَنْھارُ…) .(43)
‘توبہ کرو، عنقریب تمہارا پرودگار تمہاری برائیوں کو مٹادے گا اور تمہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی’.
توبہ سے متعلق اکثر آیات خداوندعالم کی دو صفات ‘غفور’ و ‘رحیم’ پر ختم ہوتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم حقیقی توبہ کرنے والے پر اپنی بخشش اوررحمت کے دروازے کھول دیتاہے۔(44)
(وَلَوْ َنَّ َہْلَ الْقُرَی آمَنُواوَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَائِ وَالَْرْضِ…).(45)
‘اور اگر بستی کے لوگ ایمان لے آتے ہیں اور تقویٰ اختیا رکر لیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ‘.
‘مجمع البیان’ جو ایک گرانقدر تفسیر ہے اس میں ایک بہترین روایت نقل کی گئی ہے:
‘ ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط اور مہنگائی کی شکایت کرتا ہے، اس وقت امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے شخص اپنے گناہوں سے استغفار کرو، ایک دوسرے شخص نے غربت اور نداری کی شکایت کی ، اس سے ]بھی[ امام علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گناہوں سے مغفرت طلب کرو، اسی طرح ایک اور شخص امام علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کی: مولا دعا کیجئے کہ مجھے خداوندعالم اولاد عطا کرے تو امام علیہ السلام نے اس سے بھی یہی فرمایا: اپنے گناہوں سے استعفار کرو۔
اس وقت آپ کے اصحاب نے عرض کیا: ]فرزند رسولۖ![ آنے والوں کی درخواستیں اور شکایات مختلف تھی، لیکن آپ نے سب کو توبہ و استغفار کرنے کاحکم فرمایا! امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے یہ چیز اپنی طرف سے نہیں کہی ہے بلکہ سورہ نوح کی آیات سے یہی نتیجہ نکلتا ہے جہاں خداوندعالم نے فرمایا ہے: (استغفروا ربّکم…) (اپنے رب کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرو) ، لہٰذا میں نے سبھی کو
استغفار کے لئے کہا، تاکہ ان کی مشکلات ، توبہ و استغفار کے ذریعہ حل ہوجائیں۔(46)
بہر حال قرآن مجید اور احادیث سے واضح طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ توبہ کے منافع و فوائد اس طرح سے ہیں: گناہوں سے پاک ہوجانا، رحمت الٰہی کا نزول ، بخشش خداوندی،عذاب آخرت سے نجات، جنت میں جانے کا استحقاق، روح کی پاکیزگی، دل کی صفائی، اعضاء و جوارح کی طہارت، ذلت و رسوائی سے نجات، باران نعمت کا نزول، مال و دولت اور اولاد کے ذریعہ امداد ، باغات او رنہروں میں برکت، قحطی ،مہنگائی اور غربت کا خاتمہ۔
حوالہ جات
(١)نہج البلاغہ ،٨٧٧،حکمت ٤١٥؛غرر الحکم ،ص١٣٥،الدنیا دارالغرور،حدیث ٢٣٤٧؛روضۃ الواعظین ج٢ص٤٤١،مجلس فی ذکر الدنیا.
(2)ارشادالقلوب ج١،ص٢٠٠،باب ٥٤؛ بحار الا نوارج٧٤،ص٢٣،باب ٢،حدیث٦.
(3)سورۂ بقرہ آیت٢٢٢. (4)سورہ غافر]مومن[آیت ٧تا ٩.
(5)سورۂ فرقان آیت٦٨تا٧٠.
(6)کافی ج٢ص٤٣٢،حدیث ٥؛بحا الانوار ج٦،ص٣٩،باب٢٠،حدیث٧٠.
(7) سورۂ ہود آیت٣.
(8)سورۂ نور آیت٣١.
(9)مفردات راغب ص٦٤،مادہ (فلح).
(10)سورۂ تحریم آیت٨.
(1١)سورۂ بقرہ آیت ،١٦٠. (1٢)سورۂ نساء آیت١٧.
(1٣)سورۂ مائدہ آیت٣٩.
(14)سورۂ اعراف آیت١٥٣.
(15)سورۂ توبہ آیت١١.
(16)سورۂ توبہ آیت١٠٤.
(17)سورۂ شوری آیت٢٥.
(18) سورۂ غافر]مومن[آیت٣.
(19)سورۂ یوسف آیت٨٧.
(20)سورۂ مائدہ آیت٦٤.
(21)( لاَجَرَمَ َنَّ اﷲَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ ِنَّہُ لاَیُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِینَ )سورۂ نحل آیت نمبر٢٣.( ِنَّ اﷲَ یُدَافِعُ عَنْ الَّذِینَ آمَنُوا ِنَّ اﷲَ لاَیُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُورٍ)سورۂ حج آیت٣٨.( ِنَّ قَارُونَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوسَی فَبَغَی عَلَیْہِمْ وَآتَیْنَاہُ مِنْ الْکُنُوزِ مَا ِنَّ مَفَاتِحَہُ لَتَنُوئُ بِالْعُصْبَۃِ ُولِی الْقُوَّۃِ ِذْ قَالَ لَہُ قَوْمُہُ لاَتَفْرَحْ ِنَّ اﷲَ لاَیُحِبُّ الْفَرِحِینَ )سورۂ قصص آیت ٦٧.( وَلاَتُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَلاَتَمْشِ فِی الَْرْضِ مَرَحًا ِنَّ اﷲَ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ)سورۂ لقمان آیت ١٨.(لِکَیْلاَتَْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَتَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمْ وَاﷲُ لاَیُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ)سورۂ حدید آیت ٢٣.
(22)سورۂ حجرات آیت١١.
(23)سورۂ بروج آیت١٠.
(24)سورۂ نساء آیت١٨.(25)سورۂ آل عمران آیت٩٠.
(26)’عن ابی جعفر علیہ السلام قال:ان آدم علیہ السلام قال :یارب ! سلطت علی الشیطان واجریتہ منی مجری الدم فاجعل لی شیئا فقال:یا آدم !جعلت لک ان من ھم من ذریتک بسیئۃ لم تکتب علیہ فان عملھا کتبت علیہ سیئۃ ومن ھم منھم بحسنۃ فان لم یعملھا کتبت لہ حسنۃ وان ھو عملھا کتبت لہ عشرا،قال:یا رب! زدنی.قال: جعلت لک ان من عمل منھم سیئۃ ثم استغفر غفرت لہ قال: یارب ! زدنی قال: جعلت لھم التوبۃ وبسطت لھم التوبۃ حتی تبلغ النفس ھذہ . قال:یا رب!حسبی ‘.
کافی ج٢،ص٤٤٠،باب فیما اعطی اللہ عز وجل آدم(ع) ،حدیث١؛بحار الانوار ج٦،ص١٨،باب ٢٠،حدیث٢.
(27)عن ابی عبد اللہ علیہ السلام قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من تاب قبل موتہ قبل اللہ توبتہ ثم قال :ان السنۃ الکثیرۃ، من تاب قبل موتہ بشھر قبل اللہ توبتہ ،ثم قال:ان الشھر لکثیر،من تاب قبل موتہ بجمعۃ قبل اللہ توبتہ .ثم قال:ان الجمعۃ لکثیرۃ،من تاب قبل موتہ بیوم قبل اللہ توبتہ،ثم قال:ان الیوم لکثیر،من تاب قبل ان یعاین قبل اللہ توبتہ’.
کافی ج٢،ص٤٤٠،باب فیما اعطی اللہ عزوجل آدم (ع)،حدیث ٢؛وسائل الشیعہ ج١٦،ص٨٧،باب ٩٣،حدیث ٢١٠٥٧؛بحار الانوارج٦،ص١٩،باب ٢٠،حدیث٤.
(28)دعوات راوندی ،ص٢٣٧،فصل فی ذکر الموت ؛بحار الانوار،ج٦،ص١٩،باب٢٠،حدیث٥.
(29)نہج البلاغہ ص٨٦٣،حکمت ٣٧١،من لایحضرہ الفقیہ ج٣،ص٥٧٤،باب معرفۃ الکبائر التی او عداللہ ،حدیث ٤٩٦٥؛ بحار الانوار ج٦،ص١٩،باب ٢٠ ،حدیث٦.
(30)عوالی اللئالی ج١، ص٢٣٧،الفصل التاسع ،حدیث ١٥٠؛مستدرک الوسائل ج ١٢،ص١٢٩،باب ٨٦،حدیث ١٣٧٠٦؛ میزان الحکمہ،ج٢،ص٦٣٦،التوبۃ، حدیث٢١١١ .
(31)غرر الحکم ص١٩٥،آثار التوبۃ ،حدیث ٣٨٣٥؛مستدرک الوسائل ج ١٢،ص١٢٩،باب ٨٦،حدیث ١٣٧٠٧؛میزان الحکمہ،ج٢،ص٦٣٦،التوبۃ ،حدیث ٢١١٢.
(32)خصال ج٢،ص٦٢٣،حدیث ١٠؛بحار ،ج٦،ص٢١،باب ٢٠،حدیث ١٤.
(3٣)عیون اخبارالرضاج٢،ص٢٩،باب٣١،حدیث٣٣؛جامع الاخبارص٨٥،الفصل الحادی والاربعون فی معرفۃ المؤمن؛ وسائل الشیعہ ج١٦،ص٧٥،باب ٨٦،حدیث ٢١٠٢١.
(34)عیون اخبار الرضا ج٢،ص٧٤،باب ٣١،حدیث ٣٤٧؛وسائل الشیعہ ج١٦،ص٧٥،باب ٨٦ ،حدیث ٢١٠٢٢؛بحار، ج٦،ص٢١،باب ٢٠،حدیث ١٦.
(35)معانی الاخبار ص١٧٤،باب معنی التوبۃ النصوح ،حدیث ٣؛وسائل الشیعہ ج١٦ ،ص٧٧،باب ٨٧،حدیث ٢١٠٢٧؛ بحارالانوار ،ج٦،ص٢٢،باب ٢٠،حدیث٢٣.
(36)کنزل العمال ص١٠١٦٥؛میزان الحکمہ،ج٢،ص٦٣٦،التوبہ ،حدیث ٢١٢٣.
(37)جامع الاخبار ،٨٧،الفصل الخامس والاربعون فی التوبۃ ،مستدرک الوسائل ج١٢،ص١٣٠،باب ٨٧،حدیث ١٣٧٠٩.
(38)غرر الحکم ص١٩٤،حدیث ٣٧٧٧؛مستدرک الوسائل ج١٢،ص١٣٧،باب ٨٧،حدیث ١٣٧١٥.
(39)ثواب الاعمال ص١٧٩،ثواب التوبۃ؛بحارالانوارج٦،ص٢٨،باب٢٠،حدیث٣٢.
(40)ثواب الاعمال ،١٣٠،ثواب من اذنب ذنباًثم رجع و تاب؛وسائل الشیعہ ج١٦ ،٧٤،باب ٨٦،حدیث٢١٠١٧.
(41)جامع الاخبار ص٨٨،الفصل الخامس والاربعون فی التوبۃ ؛بحار الانوار ج٦،ص٣٥،باب٢٠،حدیث٥٢؛مستدرک الوسائل ج١٢،ص١٣١،باب ٨٧،حدیث ١٣٧٠٩. (42)سورۂ نوح آیت١٠۔١٢.
(43)سورۂ تحریم آیت٨.
(44)آل عمران ،٨٩.مائدہ،٣٤.اعراف،١٥٣.توبہ،١٠٢.نور،٥.
(45)سورۂ اعراف آیت٩٦.
(46)مجمع البیان ج١٠،ص٣٦١؛وسائل الشیعہ ج٧،ص١٧٧،باب ٢٣،حدیث ٩٠٥٥.