ur

موٴمن کی آبروریزی کرنا

مصنف:
شھید عبدالحسین دستغیب

موٴمن کی آبروریزی کرنا

مذاق، گالی، طعنہ، تذلیل، توہین، پھٹکار، ہجو اور آزاررسانی سے مومن کی آبروریزی کرنا ایسا گناہ کبیرہ ہے جس کے لیے خداوندعالم نے عذاب کا وعدہ کیا ہے، مومن کی آبروریزی چاہے وہ جس طرح بھی ہو، چاہے مذاق اڑانے سے یا گالی دینے سے اور بُرا بھلا کہنے سے یا عیب بیان کرنے سے یا ڈانٹ پھٹکار اور ملامت سے یا ذلیل کرنے سے، بے قدری کرنے سے، توہین کرنے سے یا ہجو کرنے سے اور اس کو آزار پہنچانے سے ہو۔
مومن باعزت ہوتا ہے
مومن کی شان میں جو آیتیں اور روایتیں ملتی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی شان اور شرافت میں خدا نے غیر معمولی اہتمام کیا ہے کہ اسے تمام محترم چیزوں سے زیادہ محترم اور اس کی آبروریزی کو بہت بڑا گناہ اور اس کا خون بہانے کے مانند شمار کیا ہے اور اسے اپنے آپ سے وابستہ سمجھ کر فرمایا ہے: “خدا ان لوگوں کا ولی ہے جو ایمان لائے ہیں۔” (سورة البقرہ آیت ۲۵۷) “اور اپنے آپ کو ان کا دوست اور مددگار بنایا ہے۔” (سورة محمد آیت۱۱) اور مومنوں کی مدد اپنے اوپر واجب کر لی ہے۔” (ّسورة روم آیت ۴۷) اسے حقیقی عزت دے کر اپنے اور اپنے پیغمبر کے پیچھے رکھا۔” (سورة منافقون آیت۸) “اسے بہترین اور سب سے اونچا انسان سمجھتا ہے۔” (سورة بیّنہ آیت ۷) “اور اپنے اشرف المخلوقات یعنی حضرت خاتم الانبیاء کو ان کے ساتھ عاجزی اور نرمی سے پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔” (سورة الشعراء آیت ۲۱۵) “اپنی رحمت ان کے لیے واجب کر دی ہے۔” (سورة انعام آیت ۵۴، سورة توبہ آیت ۷۱) “اپنے آپ کو ان کی جان اور مال کا خریدار کہا ہے۔” (سورة توبہ آیت ۱۱۱) “انہیں پسند کرتا ہے اور وہ بھی خدا کو سب سے زیادہ دوست رکھتے ہیں۔” (سورة مائدہ آیت ۵۴ ، سورة بقرہ آیت ۱۶۵)
غرض خدا سے مومن کی نسبت اور وابستگی ظاہر ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بزرگی سے جو توہین عزت وابستہ ہے وہ درحقیقت اسی بزرگ یعنی مومن کی توہین ہو گی۔ آنحضرت کی روایت میں اس پر طعنہ زنی اور اس کی بات کی کاٹ خدا کی بات کی کاٹ بتائی گئی ہے۔ (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۹) اور حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم مومن کا حق کعبے کے حق سے بھی بڑا ہوتا ہے۔” (سفینة البحار جلد ۱ص ۲۹۰)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی آبروریزی کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ محترم قارئین کی معلوم کے لیے مذکورہ عناوین میں سے ہر عنوان سے خصوصیت رکھنے والی آیات اور احادیث بیان کی جاتی ہیں:
(۱) مذاق اُڑانا
کسی شخص کی گفتگو یا عمل یا خصوصیت یا عادت اس طرح بیان کرنا جس سے دوسروں کو ہنسی آ جائے چاہے گفتگو سے ہو یا عمل سے، بشارت سے ہو یا کنائے سے اس کے گناہ کبیرہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید اور روایتوں میں اس کے لیے عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ سورة توبہ میں کہا گیا ہے: “جو لوگ ہنسی ہنسی میں خیرات کرنے والے مومنوں کے عیب نکالتے ہیں۔ ان کی بخششوں (خیراتوں) اور خود ان میں بھی برائیاں بتاتے ہیں کہ ان کے پاس اتنا مال ہی نہیں ہے جو اپنی طاقت اور حیثیت سے زیادہ خدا کی راہ میں خرچ کر سکیں۔ خدا ان مذاق اُڑانے والوں کی ہنسی اُڑاتا ہے (یعنی ان کی ہنسی کا انہیں بدلہ دیتا ہے) اور ان کے لیے تکلیف دینے والا اور دردناک عذاب ہے۔ (آیت ۷۹)
اس آیت کی شانِ نزول میں بہت سی روایتیں ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ تبوک کی لڑائی میں رسول خدا نے اسلام کی فوج کے اخراجات کے لیے حکم دیا کہ جو کوئی جتنا دے سکتا ہو دے۔ بعض مالدار بہت سا مال لائے اور بعض مفلسوں نے جن کے پاس کم تھا کم دیا۔ چنانچہ ابوعقیل انصاری تقریباً پونے دو سیر کھجوریں لائے اور بولے میں نے گذشتہ رات کو صبح تک کام کیا جس کی مزدوری مجھے ساڑھے تین سیر کھجوریں ملی تھیں۔ آدھی میں نے اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دیں اور آدھی خدا کی راہ میں دے دیں۔ منافقوں نے دونوں باتوں کی ہنسی اُڑائی اور دونوں میں عیب نکالا۔ جنہوں نے زیادہ مال دیا ان کے لیے کہتے تھے کہ دھوکا اور ریا ہے اور اتنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے دیا ہے اور جنہوں نے کم دیا تھا ان کے لیے کہتے تھے کہ انہوں نے کچھ صدقہ اس لیے دے دیا ہے کہ خیرات کرنے والوں میں شامل ہو جائیں اور لوگوں کو اپنی یاد دلائیں۔
مومنوں کی ہنسی اُڑانے والوں کی سزا ایک تو ان کے ساتھ خدا کا مذاق ہے اور دوسرے جہنم ہے جو ان کی جائے قرار ہے۔ اللہ کے مذاق سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں مثلاً خدا ہنسی اُڑانے والوں کو دُنیا میں مہلت دیتا ہے اور نازونعمت میں مشغول رکھتا ہے جب ان کی سرکشی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو انہیں ہلاک کر دیتا ہے اور یہ بات اس لیے مذاق بن جاتی ہے کہ یہ مہلت اور نازو نعمت ہوتی ہے لیکن حقیقت میں ہلاکت ہوتی ہے اور یہ آخرت کا مذاق اس لیے ہے کہ جب مومنین بہشت میں اپنے اپنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے اور کافر دوزخ میں پڑے ہوں گے اس وقت خدا کے حکم سے بہشت کی طرف دوزخ کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ جب منافق بہشت کو دیکھیں گے تو بہت پھرتی سے اس کے دروازے تک پہنچیں گے اور مومنین کو عالی شان مقامات پر بیٹھاپائیں گے لیکن جیسے ہی بہشت میں داخل ہونا چاہیں گے فوراً دروازہ بند ہو جائے گا اور مومنین ان پر ہنس پڑیں گے۔ دُنیا میں ان کے ہنسی اُڑانے کا یہ جواب ہو گا۔
آج مومنین کافروں پر ہنسیں گے
سورة تطفیف میں خدا فرماتا ہے: “واقعی گناہگار مومنوں پر ہنستے ہیں اور جب ان سے کہیں مل جاتے ہیں بلاتاخیر بھاگتے ہیں اور آپس میں آہستہ آہستہ اور اشاروں میں عیب جوئی کرنے لگتے ہیں۔” (آیات ۶۸۔۶۹) پھر فرماتا ہے: “قیامت میں مومنین جب بہشت میں مقیم ہوں گے اور تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے وہ کافروں پر ہنسیں گے یعنی جو کافر دُنیا میں مومنوں کی ہنسی اڑایا کرتے تھے اس کے جواب میں وہ آخرت میں مومنوں کی ہنسی کا نشانہ بنیں گے۔” (آیت۳۴)
ان آیتوں میں مومن پر ہنسنے والے کو گناہگار اور مجرم کہا گیا ہے جس کے معنی ہیں گناہ میں ڈوبا ہوا، کفر کا رُخ کرنے والا، سچائی اور نیکی سے دُور اور قیامت میں انہیں مومنوں کے مقابل میں جگہ ملے گی جو بہشت میں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ بہشت کے مقابل دوزخ ہے۔
شاید وہ لوگ بہتر ہوں
خدا سورة حجرات میں فرماتا ہے: “اے ایمان والو! تمہارا ایک گروہ دوسرے گروہ کی ہنسی نہ اُڑائے۔ ہو سکتا ہے کہ ہنسی اڑانے والوں سے وہ بہتر ہوں جن کی ہنسی اُڑائی جائے (درجے کی بلندی اور خدا کے نزدیک اعلیٰ مرتبے کے باعث) اور نہ عورتیں ،عورتوں کی ہنسی اُڑائیں شاید وہ بہتر ہوں اور نہ اپنے لوگوں کو طعنہ دو اور نہ ان کی عیب جوئی کرو (یعنی اپنے ہم مذہبوں کی ہنسی نہ اُڑاؤ۔ چونکہ تمام مومنین نفسِ واحدہ کی طرح یعنی ایک ذات ہیں اس لیے دوسرے کی عیب جوئی اپنی ہی عیب جوئی ہو گی) اور ایک دوسرے کو بُڑے ناموں سے نہ پکارو۔” (آیت ۱۱)
تفسیر مجمع البیان میں بیان کیا گیا ہے کہ ثابت بن قیس جب پیغمبر کی مجلس میں آتے تھے تو اصحاب ان کے اونچا سننے کی وجہ سے انہیں رسولِ خدا کے قریب ہی جگہ دے دیتے تھے تاکہ آنحضرت کی باتیں سُن لیں۔ ایک دن صبح کی نماز کے لیے وہ آخری صف میں جا کھڑے ہوئے۔ نماز کے بعد اٹھے اور لوگوں پر پاؤں رکھتے ہوئے جا رہے تھے کہ ان کے اور پیغمبر کے درمیان صرف ایک آدمی کا فاصلہ رہ گیا۔ انہوں نے اس شخص سے کہا کہ ہٹ جاؤ تاکہ میں رسول خدا کے قریب بیٹھ سکوں۔ اس شخص نے کہا: “وہیں بیٹھ جاؤ۔” ثابت خفا ہو کر وہیں بیٹھ گئے۔ جب اجالا ہوا تو ثابت نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا: “تُو کون ہے؟” اُس نے کہا میں “میں فلاں ہوں۔” ثابت نے کہا “فلاں ولد فلانی۔” اور اس کی ماں کا نام لیا جو اسلام سے پہلے زنا اور عیاشی کے لیے بدنام تھی۔ وہ شخص اس ملامت سے شرمندہ ہو گیا اس نے سر جھکا لیا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
ولانساء من نساء کے بارے میں لکھا ہے: انس کہتے ہیں کہ ایک دن ام سلمہ نے کمر سے سفید ازار باندھ رکھی تھی اور اس کا سرا پیٹھ کے پیچھے چھوڑ رکھا تھا جو زمین پر گھسٹتا جاتا تھا۔ عائشہ کو مذاق سوجھا تو حفصہ سے کہا: “ازارکا جو سرا ام سلمہ اپنے پیچھے گھسیٹ رہی ہیں وہ ایسے لگتا ہے جیسے کتے کی زبان منہ سے باہر نکلی ہوئی ہو۔”
نیز پیغمبر کی بیوی، حی بن اخطب کی بیٹی صفیہ کو بھی ملامت کرتے ہوئے کہتے تھے کہ “اے یہودی کی اولاد”۔
خدا نے وحی بھیجی :”ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے نہ پکارو۔”
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “قیامت میں ہنسی اُرانے والوں کو لائیں گے۔ ان میں سے ایک کے لیے بہشت کا دروازہ کھولیں گے اور اس سے کہیں گے پھرتی سے اس میں داخل ہو جاؤ۔ وہ رنج وغم کے ساتھ داخل ہونے کے لیے بڑھے گا کہ دروازہ بند کر دیں گے۔ پھر دوسری طرف کا دروازہ کھول کر اس سے کہیں گے کہ جلدی سے داخل ہو جاؤ۔ جیسے ہی وہ دروازے کے نزدیک پہنچے گا دروازہ بند کر دیں گے۔ وہ اسی طرح مصیبت میں گرفتار اور پریشان ہو گا لیکن کسی دروازے سے بھی اندر نہیں جا سکے گا آخر کار نااُمید ہو جائے گا۔ چنانچہ جب اس سے پھر کہیں گے کہ جلدی سے آتو وہ نہیں آئے گا۔” (محجة البیضاء جلد ۵ ص ۳۲۶)
(۲) گالی اور طعن
مومنوں کو بُری باتوں سے نسبت دینا اور ان کے لیے بُرے بُرے الفاظ استعمال کرنا۔ فقہاء کی بول چال میں زنا اور حرام زادگی کی نسبت کو قذف کہتے ہیں اور دوسری بُری نسبتوں کو گالی کہتے ہیں۔ مثلاً اے سود کھانے والے، شرابی، ملعون، بے ایمان،کنجر، کتے، اے سور، گناہگار، بدکار وغیرہ جن سے مخاطب کو ذلیل وخوار کرنا مراد ہوتا ہے۔
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “مومن کو گالی دینا گویا اسے ہلاکت کے قریب پہنچانا ہوتا ہے۔” (سباب الموٴمن کالمشرف علی الھلکة (کافی) اور اور شاید مراد یہ ہے کہ مومن کو گالی دینا کفر کے قریب پہنچنا اور دین سے خارج ہو جانا ہے کیونکہ کبیرہ گناہوں پر اصرار کرنے کا انجام کفر ہوتا ہے۔
آپ یہ بھی فرماتے ہی: “مومن کو گالی دینا فسق (گناہ) ہے، اس سے لڑنا کفر اور اس کا گوشت کھانا (غیبت کرنا) گناہ ہے، اور اس کا مال اس کے خون کی طرح حرام رکھا گیا ہے۔” (کافی)
علّامہ مجلسیؒ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: “یہاں فسق کے معنی گناہِ کبیرہ کے ہیں جو کفر کے قریب ہوتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی دینے کا گناہ غیبت سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ خصوصاً اس لحاظ سے کہ مومن کو غیبت کے مقابلے میں گالی سے زیادہ تکلیف پہنچتی ہے کیونکہ گالی میں تکلیف منہ پر اور غیبت میں تکلیف پیٹھ پیچھے ہوتی ہے۔”
شرح قتالہ کفر میں فرماتے ہیں: “وہ کفر مراد ہے جو گناہِ کبیرہ کے مرتکب کے لیے کہا جاتا ہے یا اس موقع کے اعتبار سے ہے جو اس کے قتل کو حلال شمار کرتا ہے یا اس کے ایمان کے باعث اس سے لڑتا ہے یا یہ کہ مومن سے لڑنا کفر کا سبب ہوتا ہے۔
بد ترین موت
حضرت امام باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو شخص مومن کے منہ پر اسے طعنہ دے گا وہ بدترین موت پائے گا اور اس بات کا مستحق ہو گا کہ پھر نیکی کی طرف نہ پلٹے۔” (کافی)
مجلسی اس حدیث کی تشریح کرتے ہیں: “بدترین موت یا دُنیا کے لحاظ سے مثلاً ڈوبنا یا جلنا یا عمارت کے تلے دب جانا یا جانور کی خوراک بن جانا وغیرہ یا آخرت کے لحاظ سے ہے مثلاً یہ کہ کافر مرے یا توبہ کیے بغیر اس دُنیا سے رخصت ہو جائے اور نیکی سے مراد توبہ اور نیک عمل یا ایمان ہے۔”
کبھی کبھی مظلوم بھی ظالم ہو جاتا ہے
حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) نے ایسے دو آدمیوں کے بارے میں جو ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں فرمایا ہے کہ جو شروع میں گلی دیتا ہے وہ زیادہ ظالم ہے اور اپنا اور دوسرے کا گناہ اسی کی گردن پر ہے جب تک مظلوم یعنی دوسرا فریق حد سے نہ گذر جائے (کافی) یعنی اگر دوسرا فریق اس کے جواب میں حد سے گذر گیا تو پھر اس کا گناہ اسی کی گردن پر ہو گا۔
اس حدیث کی تشریح میں علّامہ مجلسی کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں شخصوں کی گالیوں کا گناہ اس شخص کے ذمّے ہے جس نے ابتداء میں گالی دہے کیونکہ حرام فعل پہلے اسی سے سرزد ہوا ہے اور دوسرے فریق کے ارتکاب گناہ کا باعث بھی یہی بنا ہے۔ اگر وہ گالی نہ دیتا تو دوسرا فریق بھی خاموش رہتا۔ جواب میں دوسرے فریق کی گالی اگرچہ گناہ کی تلافی ہے لیکن خدا نے وہ گناہ ابتداء کرنے والے کے ذمّے ہی رکھا ہے بشرطیکہ فریقِ ثانی حد سے تجاوز نہ کرے اور اگر وہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو اپنی زیادتی کی وجہ سے وہ خود گالی کی ابتداء کرنے والا بن جاتا ہے۔
گالی دُہرا کر یا زیادہ سخت گالی دے کر حد سے تجاوز کرنا
جواب میں زیادتی کبھی بار بار گالی دینے سے ہوتی ہے۔ مثلاً شروع میں گالی دینے والا ایک بار کہتا ہے کہ اے کتے! وہ جواب میں دو بار کہتا ہے اے کتے! اے کتے! کبھی جواب میں زیادتی اور زیادہ سخت گالی دینے سے ہوتی ہے۔ مثلاً اس شخص کے جواب میں جس نے کہا ہے اے گدھے! یہ کہے اے کتے! ۔یہ جو کہا گیا ہے کہ جب کوئی برابر کا جواب دیتا ہے تو اس کا گناہ بھی شروع کرنے والے کی گردن پر ہوتا ہے ایسی صورت سے متعلق ہے کہا گیا ہے کہ جب اصل گالی قذف یا جھوٹ نہ ہو۔ تو اگر کوئی کہے اے زنا کرنے والے! یا اے چور! تو جب تک گالی دینے والا چور نہ ہو اس کے جواب میں دوسرا یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے چور! غرض یہ ہے کہ گالی کے جواب میں ایسی گالیوں تک محدود رہنا چاہیئے جو ڈانٹنے پھٹکارنے کے موقع کے لیے مشہور ہے۔ مثلاً کہنا اے بیوقوف، جاہل، ظالم، غافل وغیرہ۔
بدزبان پر بہشت حرام ہے
رسولِ خدا فرماتے ہیں: “واقعی خدا نے ہر ایسے بے آبرو گالی دینے والے اور بے شرم پر بہشت حرام کر دی ہے جسے اس بات میں کوئی جھجھک ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کہتا ہے اور اس سے کیا کہا جائے گا کیونکہ درحقیقت اگر اس کی تحقیق کی جائے تو یا تو یہ زنا سے ہے یا اس میں شیطان شریک ہے۔” عرض کیا گیا: “اے رسول خدا ! آدمیوں کے بیچ میں شیطان بھی شریک ہوتا ہے؟ ” آپ نے فرمایا: “کیا تم نے خدا کا یہ قول نہیں پڑھا کہ اور اے شیطان! مال اور اولاد میں ان لوگوں کا شریک ہو جانا۔” (کافی۔ باب البذاء)
علّامہ مجلسی نے شیخ بہائی سے نقل کیا ہے کہ شاید اس سے یہ مراد ہے کہ جتنی مدت تک بہشت اس پر حرام ہے یا کوئی مخصوص بہشت مراد ہے جس سے وہ محروم ہے اور جو گالی نہ دینے والے مومن کے لیے تیار کی گئی ہے۔
سماعہ کہتا ہے کہ میں حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے پاس گیا۔ آپ نے مجھ سے بات شروع کی: “اے سماعہ! یہ کیا جھگڑا تھا جو تیرے اور تیرے اونٹ والے کے درمیان کھڑا ہو گیا ایسا نہ ہو کہ تُو گالی بکنے والا، بدزبان اور لعنت بھیجنے والا بن جائے۔” مَیں نے جواب میں کہا: “خدا کی قسم ایسا ہی ہوا کیونکہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔” آپ نے فرمایا: “اگر اس نے تجھ پر ظلم کیا تھا تو تُو بھی اس کے سر پڑ گیا اور تُو نے زیادہ ظلم کیا۔ واقعی یہ ہمارا عمل نہیں ہے۔ مَیں اپنے شیعوں کو ایسا حکم نہیں دوں گا۔ اپنے پروردگار سے معافی مانگ اور پھر ایسا نہ کرنا۔ (کافی)
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “جو کوئی کسی مومن کو ایک لفظ سے بھی طعنہ دے گا، بُرا کہے گا خدا اس پر بہشت کی خوشبو حرام کر دے گا حالانکہ بہشت کی خوشبو پانچ سو سال کے فاصلے سے آتی ہے۔” (مستدرک کتاب حج باب ۱۳۹)
اس کے بارے میں روایتیں بہت سی ملتی ہیں لیکن جو کچھ کہا جا چکا ہے وہی کافی ہے۔
یہاں دو باتیں کہنا ضروری ہیں ایک یہ کہ جب کسی مومن کو گالی دی گئی تو چونکہ اس کو دکھ پہنچایا گیا اس لیے آخرت کے عذاب اور سزا کے علاوہ اس مومن کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ حاکم شرع سے گالی دینے والے کی شکایت کرے تاکہ وہ جس طرح مناسب سمجھے اسے سزا دے جیسا کہ قذف کی گفتگو میں بیان کیا جا چکا ہے کہ گالی دینے والا جس کو گالی دیتا ہے اگر اس سے معافی مانگ لیتا ہے اور اسے منا لیتا ہے تو سزا ساقط ہو جاتی ہے دوسرے یہ کہ اگر اس گناہ پر شرمندہ ہو جائے اور خدا سے معافی مانگ لے تو اس سے عذابِ آخرت بھی اُٹھ جائے گا۔
گالی جس کسی کو دی جائے
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “گالی گلوچ اور بدزبانی ظلم ہے اور ظلم جہنم کا مستحق ہے۔” (کافی)
محقق بزرگوار مرحوم میرزا محمد تقی شیرازی مکاسب کے حاشیے میں لکھتے ہیں: روایتوں کے مطابق فحش (گالی) حرام ہے چاہے جس کسی کو دی جائے چاہے وہ مسلمان اور مومن ہو یا کافر اور گناہگار (فاسق)، چھوٹا ہو یا بڑا بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ چاہے بچّہ اور بے شعور ہو بلکہ بعض روایتوں میں تو جانوروں کو بھی بُرا بھلا کہنے اور گالی دینے سے منع کیا گیا ہے۔
جواب میں گالی کا حرام ہونا
مخالف یا کافر کو دی جانے والی گالی اگر پلٹا دی جائے اور جواب میں اسے یا کسی دوسرے مومن کو دے دی جائے تو جائز نہیں ہے۔ چنانچہ دنیا کی کسی قوم کے دینی مقدسات کو گالی دینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس قوم کا گالی سُننے والا کوئی فرد پلٹ کر دینِ الہٰی کے مقدسات کو گالی دے سکتا ہے اس وقت گناہ گالی کی ابتداء کرنے والے کے ذمّے ہو گا یہی وجہ ہے کہ سورة انعام میں اس بات سے صاف صاف منع فرمایا گیا ہے۔
تفسیر المیزان میں لکھا ہے کہ اس دینی ادب کو ملحوظ خاطر رکھو کہ دینی مقدسات اس احترام کی وجہ سے توہین اور ہنسی سے محفوظ رہتے ہیں چونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مقدسات کا احترام بچانے کے لیے ان لوگوں کے مقابلے پر کھڑا ہو جاتا ہے جو حد سے بڑھ جاتے ہیں اور اکثر اوقات غیظ وغضب کی شدت ان لوگوں کے مقدسات کو بُرا بھلا کہنے پر مجبور کر دیتی ہے اور چونکہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے پروردگار کا بچاؤ کرنے کے لیے بتوں کو گالیاں دیں جس کے جواب میں مشرکین مجبور ہو جائیں کہ خدا کے حریم مقدس کی توہین کریں اس لیے خدا انہیں (مسلمانوں کو) حکم دیتا ہے کہ مشرکوں کے خداؤں کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم بُرا کہو گے اور جھگڑے کی صورت میں وہ بھی خدا کے حریم مقدس کی ایسی ہی توہین کریں گے تو درحقیقت خدا کی توہین کی ذمّہ داری خود مومنین پر ہی آ پڑے گی۔
(۳) مومن کو ذلیل اور بے وقار کرنا
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو کوئی کسی مومن کو افلاس اور ناداری کی وجہ سے چھوٹا اور حقیر سمجھے گا خدا اسے قیامت میں خلائق کے سامنے رسوا کرے گا۔” (کافی۔ باب ایمان والکفر)
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: “جو کوئی حاجت مند یا غیر حاجت مند مومن کو ذلیل سمجھے گا خدا اسے اس وقت تک ذلیل اور دشمن سمجھے گا جب تک کہ وہ اس مومن کو ذلیل سمجھنے سے باز نہیں آ جاتا۔” آپ یہ بھی فرماتے ہیں: “جب قیامت کا دن آئے گا تو منادی آواز دے گا کہ میرے دوستوں سے منہ پھیرنے والے کہاں ہیں؟ اس پر کچھ ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جن کے چہروں پر گوشت نہیں ہو گا اور کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مومنوں کو ستایا، ان کے مقابلے پر کھڑے ہو گئے، ان سے دشمنی برتی اور ان کے دین کے باعث ان پر سختی کی۔ اس کے بعد حکم دیا جائے گا کہ انہیں دوزخ میں ڈال دو۔” آپ نے یہ بھی فرمایا کہ خدا فرماتا ہے: “جو کوئی میرے کسی دوست کی بے عزتی کرتا ہے اس نے میرے خلاف لڑائی میں پوزیشن سنبھال لی ہے اور میں اپنے دوست کی مدد کرنے میں ہر چیز سے زیادہ پھرتیلا ہوں۔” (کافی)
ابوہارون کہتا ہے کہ میں حضرت امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں حاضر تھا جب حضرت نے حاضرین سے فرمایا: “تم ہمیں کیوں ذلیل کرتے ہوں؟” اس پر ایک خراسانی شخص کھڑا ہوا اور بولا: “خدا ہمیں اس بات سے پناہ میں رکھے کہ ہم آپ کو یا آپ سے متعلق کسی چیز کو بھی ذلیل کریں۔” آپ نے فرمایا: “ہاں ہاں واقعی تو خود مجھے ذلیل کرنے والوں میں سے ایک ہے۔” اس نے کہا: “خدا کی پناہ جو میں نے کبھی آپ کو ذلیل کیا ہو۔” آپ نے فرمایا: “تجھ پر افسوس ہے کیا ایسا نہیں ہوا کہ جب ہم لوگ جعفہ کے نزدیک تھے تو ایک شخص نے تجھ سے درخواست کی تھی کہ اسے میل بھر کے لیے سوار کر لے اور کہا تھا کہ خدا کی قسم میں پیدل چلتے چلتے تھک گیا ہوں اور عاجز آ چکا ہوں لیکن تو نے سر اُٹھا کر نہیں دیکھا اور اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ تُو نے اسے بے شک حقیر جانا اور مومن کو حقیر جاننے والے نے مجھے ذلیل کیا اور خدا کی عزت کھو دی۔” (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۸)
(۴) مومن کو بُرا بھلا کہنا اور رسوا کرنا
حضرت امام باقر (علیہ السلام) اور حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “وہ طریقہ جو انسان کو کفر کے نزدیک پہنچا دیتا ہے یہ ہے کہ اپنے کسی دینی بھائی کے ساتھ ساتھ رہے اور اس کی غلطیاں اور خطائیں جمع کرتا جائے اور پھر ایک دن ان کی وجہ سے اسے سخت سست کہے۔” (کافی کتاب الایمان والکفر)
پیغمبر اکرم نے فرمایا: “اے وہ لوگو! جو زبان سے تو اسلام لائے ہو لیکن تمہارے دلوں میں ابھی ایمان نے جڑ نہیں پکڑی ہے مسلمانوں کو جھڑکیاں نہ دو اور ان کی عیب جوئی نہ کرو کیونکہ جو کوئی ان کی عیب جوئی کرے گا خدا اس کی عیب جوئی کرے گا اور جس کی خدا عیب جوئی کرے گا اسے رسوا بھی کر دے گا چاہے وہ اپنے گھر میں ہی رہتا ہو۔” (کافی باب الایمان والکفر)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو شخص کسی مومن کو برا بھلا کہے گا خدا اسے دنیا اور آخرت میں ملامت کرے گا۔” (کافی)
یہی بات پیغمبر اکرم بھی فرماتے ہیں: “جو کوئی کسی بُرے کام کا پردہ کھولتا ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے وہ کام کیا ہے اور جو کوئی کسی مومن کو کسی بات پر بُرابھلا کہے گا وہ اپنے مرنے سے پہلے خود بھی اس بات کا مرتکب ہو گا۔” (کافی)
واضح رہے کہ ملامت کرنے کا حرام ہونا نہی از منکر کے خلاف نہیں کیونکہ دراصل نہی از منکر نصیحت اور ہمدردی ہے ۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: “جو کوئی ایسی حکایت بیان کرتا ہے جو کسی مومن کو نقصان پہنچانے والی ہوتی ہے اور اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے گندہ کرے اور آبروریزی کرے جس سے وہ لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو جائے خدا اسے اپنے آپ سے بے تعلق کر کے شیطان کی طرف دھکیل دے گا لیکن شیطان بھی اسے قبول نہیں کرے گا۔” (کافی باب الروایہ علی المومن)
اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے علامہ مجلسی کہتے ہیں: “یعنی وہ کوئی ایسی حکایت بیان کرے جس سے اس مومن کی کم عقلی اور رائے کی کمزوری ثابت ہوتی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ عمل کی حکایت بھی اس میں شامل ہو۔”
یہاں ثابت ہونے (دلالت) سے محبت اور تائید کرنا مراد ہے اور شاید شیطان کا اس کو قبول نہ کرنا یہ ہو کہ شیطان کی غرض انسان کی گمراہی اور ہلاکت اور خدا سے اس کا جدا ہونا ہے اور چونکہ اس کا یہ مقصد حاصل ہو چکا ہے اس لیے اب اس سے کوئی غرض باقی نہیں رہی اور وہ اس سے دُور رہنا چاہے۔
محمد بن فضیل نے حضرت امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے عرض کیا: “قربان جاؤں! میں اپنے دینی بھائی کی کوئی ایسی بات سنتا ہوں جو بُری ہے اور لوگوں کو ناگوار گذرتی ہے اس کے بعد میں اپنے بھائی سے پوچھتا ہوں کہ میں نے تیری بات سُنی ہے کیا یہ سچ ہے؟ تو وہ انکار کر دیتا ہے حالانکہ مجھے جن لوگوں نے اطلاع دی تھی وہ معتبر اور ثقہ ہیں۔” آپ نے فرمایا: “اے محمد! اپنے بھائی کے بارے میں اپنے آنکھ اور کان کو جھوٹا سمجھ یعنی یہ کہہ کہ میری آنکھ اور میرے کان نے غلط دیکھا اور غلط سنا۔ اگر پچاس اشخاص بھی تیرے بھائی کے بارے میں کوئی بات کہیں اور وہ انکار کرے تو اپنے بھائی کو ہی سچا سمجھ اور انہیں جھٹلا یعنی یہ کہہ کہ ان سے غلطی ہوئی ہے اور وہ بات ظاہر نہ کر جس کی وجہ سے تو اسے برا، داغدار اور بے آبرو کر سکتا ہے کیونکہ اگر تو ایسا کرے گا تو تیرا شمار ان لوگوں میں ہو گا جن کے بارے میں خدا نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں کے لیے جو مومنوں میں سے کسی مومن کے بُرے کام کو ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔” (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۷)
رسولِ خدا فرماتے ہیں: “جو کوئی اپنے بھائی کی عیب جوئی اور اس کے چھپے ہوئے عیب کو ظاہر کرنے کی خاطر سفر کرے گا وہ اس راہ میں جو اپنا پہلا قدم اٹھائے گا وہ دوزخ میں رکھے گا اور خدا اسے قیامت میں سب لوگوں کے سامنے رسوا کرے گا اور اس کے چھپے ہوئے عیب ظاہر کر دے گا۔” (وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۱۵۲)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو کوئی کسی مومن کے خلاف کوئی حکایت بیان کرے گا تاکہ اسے گندہ کرے اور اس کی آبرریزی کرے خدا اسے ایسی جگہ رکھے گا جہاں جہنم کا خون، پیپ ہو گا (جس جگہ زناکار جنسی اعضاء سے نکلی ہوئی گندگیاں جمع ہوں گی۔)۔” (حج۔ مستدرک باب ۱۳۷)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جس کسی کو کسی مومن کا کوئی گناہ معلوم ہو اور وہ اسے چھپانے کے بجائے ظاہر کر دے اور اس مومن کی بخشش کے لیے دعا نہ کرے وہ شخص خدا کے نزدیک اسی کے برابر گناہگار ہوتا ہے اور اس سے کے گناہ کی ذمہ داری بھی اسی کے سر آ جاتی ہے اور گناہ کرنے والا بخشا جاتا ہے کیونکہ دنیا میں اس کا بدنام اور رسوا ہونا ہی اس کا کفارہ بن جاتا ہے پھر آخرت میں اس کی رسوائی نہیں ہوتی چونکہ خدا کریم ہے وہ ایک گناہ پر بندے کو دو مرتبہ سزا نہیں دے سکتا اور نہ دو مرتبہ رسوا کر سکتا ہے۔” (حج ۔ مستدرک باب ۱۳۷)
غرض اس گناہ کی اُخروی سزا اس کے ظاہر کرنے والے کے ذمے ہے۔ اس کے بارے میں بھی بہت سی روایتیں ملتی ہیں لیکن اتنی ہی روایتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
(۵) موٴمن کی ہجو شعر یا نثر میں
شیخ انصاری علیہ الرحمة فرماتے ہیں: “قرآن، سنت، اجماع اور عقل کی رو سے مومن کی ہجو کرنا حرام ہے کیونکہ مومن کی ہجو میں عیب جوئی، طعنہ زنی، غیبت کرنا، ملامت کرنا اور بھید کھولنا شامل ہے اور ان میں سے ہر ایک ہلاک کرنے والا گناہ کبیرہ ہے اس لیے وہ تمام چیزیں جو ان مذکورہ باتوں میں بیان کی گئیں اس میں بھی داخل ہیں اور اگر کسی ایسی بات کی ہجو کی جائے جو اس شخص میں موجود نہ ہو تو پھر یہ بہتان بھی ہے۔”
گناہگار مومن اور بے گناہ مومن کی ہجو میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی ہجو یکساں ہے اور جو روایت اس معاملے میں فاسقوں کی مذمت کے متعلق ملتی ہے اس سے بے ایمان لوگ یا وہ لوگ مراد ہیں جو ظاہر میں گناہ کرتے ہیں لیکن غیر مومن کی ہجو حرام نہیں ہے کیونکہ اس کا کوئی احترام نہیں ہے۔ ہر صاحبِ بدعت کی اس بات کی ہجو جو اس میں موجود ہے اس نیت سے جائز ہے کہ اسے پہچنوایا جائے اور کوئی اس کے جال میں نہ پھنسے۔
(۶) مومن کو دُ کھ د ینا
خدا سورة احزاب میں فرماتا ہے: “جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان کے کچھ کیے بغیر (یعنی ایسا جرم کیے بغیر جس کی سزا میں انہیں اذیت دی جائے) دکھ دیتے ہیں وہ بلاشبہ گناہ اور بہت بڑے جھوٹ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ (یعنی جھوٹے الزام کے عذاب کے مستحق اور ظاہری سزا کے لائق ہیں۔)” (آیت ۵۸)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “خدا فرماتا ہے کہ جو کوئی میرے مومن بندے کو ستاتا ہے وہ میرے خلاف لڑائی کا اعلان کرتا ہے اور جو شخص میرے مومن بندے کا احترام کرتا ہے وہ میرے غصے اور ناخوشی سے آسودہ اور بے خوف رہتا ہے۔” (کافی)
رسولِ خدا فرماتے ہیں:”جو کوئی کسی مومن کو ستاتا ہے وہ مجھے دُکھ دیتا ہے اور جو مجھے دکھ دے گا وہ خدا کو دیکھ پہنچائے گا اور جو خدا کو دکھ دے گا وہ تورات، انجیل، زبور اور قرآن کی رو سے ملعون ہو گا۔” ایک اور حدیث میں ہے: “اس شخص پر خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی۔” (حج۔ مستدرک باب ۱۲۵)
اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا ہے: “جو شخص کسی مومن کو رنجیدہ کرے گا پھر چاہے تمام دُنیا بھی اسے دے دے گا اس کی دل شکنی کے گناہ کی تلافی نہیں ہو سکے گی اور دینے والے کو بھی اس کا اجر نہیں مل سکے گا۔”
آپ یہ بھی فرماتے ہیں: “جس نے کسی مومن کو ناحق ستایا اس نے گویا دس بارمکہ معظمہ کو اجاڑا، اور ایک ہزار خدا کے مقرب فرشتوں کو قتل کیا۔” (حج۔ مستدرک باب ۱۳۵)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی عزّت مکّہ اور بیت المعمور کی دس گنی اور ملائکہ کی ہزار گئی ہے
پڑوسی کو ستانے کی سزا بہت سخت ہوتی ہے
خدا نے کئی مقامات پر جن دوسرے لوگوں کا ستایا بہت زور دے کر حرام بتایا ہے اور اس ستانے کے باعث دنیا اور آخرت کی سخت سزائیں تجویز کی ہیں ان میں پڑوسی بھی شامل ہے۔
انصار میں سے ایک شخص رسول خدا کے پاس آیا، اس نے عرض کیا کہ میں نے فلاں محلے میں ایک گھر مول لیا ہے اور میرا سب سے قریبی پڑوسی ایک ایسا شخص ہے جس سے مجھے بھلائی کی امید نہیں ہے اور میں اس کے شر سے محفوظ اور بے خوف نہیں ہوں۔ رسول خدا نے علی ، سلیمان، ابوذر اور مقداد سے فرمایا کہ مسجد میں جا کر اونچی آواز سے اعلان کر دیں کہ جس کا پڑوسی اس کے شر اور آزار سے محفوظ اور مطمئن نہیں ہے وہ ایمان نہیں رکھتا یعنی بے ایمان ہے۔ ان لوگوں نے تین بار یہ اعلان کیا۔ اس کے بعد آنحضرت نے اپنے ہاتھ سے چالیس گھروں کے چالیس دروازوں کی دائیں اور بائیں طرف جو آپ کے سامنے تھے اشارہ فرمایا (یعنی چاروں طرف کے چالیس گھروں تک جو پڑوس میں ہیں اور جنہیں اس کا خیال رکھنا چاہیئے۔) (کافی کتاب العشرہ۔ باب حسن الجوار)
حضرت زہرا = کے مصحف میں ہے کہ جو کوئی خدا ور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتا، مہمان کی عزت کرتا اور سچ بولتا یا چپ رہتا ہے۔
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو شخص اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔” (کافی)
ٍ پیغمبر اکرم کا ارشاد ہے: “جو کوئی اپنے پڑوسی کو دُکھ دے گا خدا اسے بہشت کی خوشبو سونگھنے سے محروم رکھے گا اور اس کی جگہ دوزخ ہو گی اور دوزخ بُرا ٹھکانا ہے اور جو کوئی اپنے پڑوسی کا حق ادا نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے جبرائیل ہمیشہ پڑوسی کی اس قدر سفارش کرتے رہتے تھے کہ مجھے گمان ہوا پڑوسی کو بھی ترکے میں سے حصہ ملے گا۔”
(وسائل الشیعہ کتاب حج باب ۸۶)
آپ نے یہ بھی فرمایا جو اپنے پڑوسی کو ستائے گا اور جس کا پڑوسی اس کے آزار سے مطمئن اور امان میں نہیں رہے گا وہ بہشت میں نہیں جا سکے گا۔ (وسائل المستدرک کتاب حج باب ۷۲)
ایک دن اصحاب نے آنحضرت سے عرض کیا کہ: “فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی اور رات بھر عبادت کرتی ہے اور صدقہ خیرات بھی دیتی ہے لیکن اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے دُکھ پہنچاتی ہے۔” رسول خدا نے فرمایا: “اس عورت میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ وہ اہلِ جہنم سے ہے۔” لوگوں نے کہا: “فلاں عورت صرف واجب نماز پڑھتی اور ماہِ رمضان کے روزے رکھتی ہے اور اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتی۔” آپ نے فرمایا: “وہ بہشت میں جائے گی۔” آپ نے یہ بھی فرمایا: “پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں، پہلا وہ پڑوسی جو تین حق رکھتا ہے اور وہ ایسا پڑوسی ہوتا ہے جو مسلمان اور رشتے دار ہے۔ دوسرا وہ جو دو حق رکھتا ہے اور وہ پڑوسی مسلمان ہے۔ تیسرا پڑوسی کافر جو صرف پڑوسی کاحق رکھتا ہے۔” (حج۔ مستدرک باب ۷۲)
حضرت امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: “جو اپنے پڑوسی کو ستاتا ہے وہ ملعون ہے۔ (کافی)
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب بنیامین حضرت یعقوب کے پاس سے چلے گئے تو انہوں نے فریاد کی: “اے خدا! تو مجھ پر رحم نہیں فرماتا جو تُو نے میرا بیٹا لے لیا اور میری آنکھیں بے نُور کر دیں۔” خدا نے ان پر وحی نازل کی: “اگر میں نے اسے مار ڈالا ہو گا تو اسے زندہ کر دوں گا تاکہ اسے تجھ تک پہنچا دوں، لیکن تو اس بھیڑ کو یاد کر جس کا سر تو نے کاٹ ڈالا تھا۔ اسے بھونا اور کھایا اور فلاں فلاں تیرے پڑوس میں بستے تھے اور روزہ رکھتے تھے لیکن تو نے اس میں سے کچھ بھی تو انہیں نہیں دیا۔ ” (حج۔ مستدرک باب ۷۲)
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد یعقوب کا یہ دستور ہو گیا تھا کہ ہر روز صبح کے وقت منادی ان کے گھر سے ایک فرسخ کے فاصلے تک اعلان کرتا تھا کہ جس کسی کو ناشتے کی ضرورت ہو وہ یعقوب کے گھر آ جائے او شام کے وقت بھی ندا کرتا تھا کہ جو کوئی شام کا کھانا چاہتا ہے وہ یعقوب کے گھر آ جائے۔
اس حدیث سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ پڑوسی کا حق کتنا اہم ہوتا ہے۔ پڑوسی کے حقوق بہت سی حدیثوں میں بیان کیے گئے ہیں لیکن اختصار کے خیال سے صرف ان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:
پڑوسی کے حقوق
پڑوسی سے مہربانی کا سلوک کرو اور اس سے بھلائی کرنے میں تامل نہ کرو، اسے جس چیز کی ضرورت ہو دے دو، اسے اپنے مال میں شریک سا سمجھو، اسے سلام کرو، جو باتیں وہ چھپائے رکھنی چاہتا ہے انہیں مت کریدو، بیماری میں اس کی مزاج پرسی، مصیبت میں ہمدردی اور اس کے غم میں شرکت کرو اور شادی میں اسے مبارکباد دو، اگر اس کا کوئی عیب معلوم ہو جائے تو اسے چھپاؤ، اگر اس سے کوئی خطا ہو جائے تو معاف کر دو۔ اگر درمیانی دیوار پر وہ کچھ کرنا چاہے تو منع نہ کرو، اگر وہ اپنے پڑوسی کے میدان سے کوئی پائپ یا گٹر گذارنا چاہتا ہے تو نہ روکو، گھر کے سامان میں جو چیز اس کے لیے ضروری ہو اس کے دینے سے دریغ نہ کرو، اپنی آنکھیں پڑوسی کے اہل وعیال سے بند رکھو، جب وہ گھر میں نہ ہو تو اس کے گھر سے غافل نہ رہو، اس کی اولاد پر مہربانی کرو اور انہیں دین اور دُنیا کی اچھی اچھی باتیں بتاؤ، اگر مدد چاہے تو اس کی مدد کرو، اگر قرض مانگے تو ادھار دے دو۔ اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر کو اونچا نہ اٹھاؤ۔ جس سے اس کے گھر کی ہوا رُک جائے، جو مزیدار کھانا گھر میں لایا جاتا ہے پڑوسی کو بھی اس میں سے بھجواؤ یا ایسا ممکن نہ ہو تو چھپا کر رکھو تاکہ پڑوسی کے بچّوں تک اس کی خوشبو نہ پہنچے اور انہیں بے چین نہ کرے۔ ممکن ہے پڑوسی بچّوں کے لیے ایسی غذا مہیا نہ کر سکے۔
شوہر/ بیوی کو ستا نا
پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “جو بیوی اپنے شوہر کو ستاتی ہے خدا اس کی نمازیں اور نیک کام اس وقت تک قبول نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے شوہر کی حق ادا نہیں کر دیتی اور اسے اپنے آپ سے راضی نہیں کر لیتی، چاہے وہ برابر دن میں روزہ رکھے، غلام آزاد کرتی رہے اور بہت سا مال خیرات کرتی رہے، وہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہو گی۔”
اس کے بعد آپ نے فرمایا: “جو شوہر اپنی بیوی کو ستاتا ہے اس کے بھی وہی ہو گا جو بیوی کے بارے میں کہا گیا۔ جو کوئی اپنی بیوی کے بُرے برتاؤ کو برداشت کرے گا اور خدا سے اپنے صبر کا صلہ چاہے گا تو اسے بھی ہر بار صبر کرنے پر وہی صلہ ملے گا جو حضرت ایوب کو صبر کرنے پر ملا تھا اور اس کی بیوی کے لیے ہر چوبیس گھنٹے میں ریگستان کی ریت کے ذروں کے برابر گناہ ہوں گے اور اگر اپنے شوہر کو اپنے آپ سے رضامند کرنے سے پہلے مر جائے گی تو منافقوں کے ساتھ اوندھے منہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں جائے گی۔ جو بیوی اپنے شوہر سے نباہ نہیں کرتی، شوہر جو خرچ دیتا ہے اس پر صبر نہیں کرتی، شوہر پر دباؤ ڈالتی ہے اور جس بات کی شوہر میں سکت اور طاقت نہیں ہوتی اس پر مجبور کرت یہے تو خدا اس کا ایسا نیک کام بھی قبول نہیں کرے گا جو آتشِ جہنم کو دُور کرتا ہے اور اس وقت تک اس پر غصہ کرتا رہے گا جب تک کہ اس کا یہی طریقہ رہتا ہے۔” (وسائل الشیعہ کتاب نکاح باب ۸۲)
مفلس کو ستا نا
خدا سورة البقرہ میں فرماتا ہے: “تم جو خیرات دیتے ہو اسے لینے والے پر احسان جتا کر اور اسے دکھ پہنچا کر باطل نہ کرو۔” (آیت ۲۶۲) اور یہ بھی فرماتا ہے: “غریب سے اچھی اچھی باتیں اور بخشش اس خیرات دینے سے بہتر ہے جس کے بعد اسے دکھ پہنچے۔” (آیت۲۶۳) مثلاً اس سے منہ پھیر لو یا اس سے رکھائی برتو یا خیرات اور صدقے کے عوض اسے کسی کام پر مجبور کرو۔
روایت ہے کہ جو کوئی نیک کام کر کے احسان جتاتا ہے وہ بہشت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ (لئالی الاخبار ص ۲۷۷) اور ایک اور حدیث میں ہے کہ اس پر بہشت حرام ہے۔
یہ بھی فرمایا ہے کہ غریبوں پر احسان دھرنے والا دُنیا اور آخرت میں ملعون ہے اور والدین اور بہن بھائیوں پر احسان جتانے والا خدا کی رحمت اور اس کے فرشتوں کی مہربانی سے دُور ہے، دوزخ کے قریب ہے، اس کی دعا قبول نہیں ہوگی، اس کی حاجت پوری نہیں ہو گی اور خدا دُنیا اور آخرت میں اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا۔