ur

مناجات و استغفار

مصنف:
آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی حسینی خامنہ ای
اخلاق
توبہ انسان کو حقارت اور ذلت سے نجات بخشتی ہے۔ توبہ دلوں کو پاک کرتی ہے۔ دل یعنی جان یعنی روح یعنی حقیقت انسان۔ دل نہایت نورانی شے ہے۔ ہر انسان نورانی ہوتا ہے حتی اگر انسان کا خدا سے رابطہ منقطع ہو جائے تب بھی اسکی ذات اور اسکے جوہر میں نور باقی رہتا ہے۔ صرف ہوتا یہ ہے کہ گناہوں اور ہویٰ و ہوس کی بنا پر دل غبار آلودہ ہوجاتا ہے۔ توبہ اس غبار کو صاف کر کے دل کو نورانیت بخشتی ہے۔
توبہ یعنی طلب مغفرت اور گناہوں سے استغفار۔ توبہ اگر اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ کی جائے تو انسان کے اوپر برکات الٰہی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ گناہ ہمارے اور ہمارے پروردگار کے درمیان حجاب کا کام کرتا ہے جسکا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہمارے اوپر سارے الٰہی دروازے بند ہوجاتے ہیں ، نہ رحمت الٰہی نازل ہوتی ہے نہ ہدایت الٰہی ، نہ توفیق الٰہی حاصل ہوتی ہے اورنہ فضل خدا۔ توبہ اس حجاب کو ختم کرنے کا باعث ہوتی ہے اور نتیجۃً رحمت و فضل خدا کا دروازہ ہمارے اوپر کھل جاتا ہے۔ یہ ہیں توبہ کے فائدہ۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توبہ کے لئے کبھی دنیاوی اور کبھی اخروی فوائد شمار کرائے گئے ہیں۔ مثلاً :
’’ و ان استغفروا ربکم ثم توبوا الیہ ……..یرسل اسمائ علیکم مدراراً۔‘‘
توبہ یعنی خدا کی طرف بازگشت۔ یہ ایک اہم ترین نعمت الٰہی ہے۔ خدا نے اپنے بندوں کے لئے باب توبہ کھول دیا ہے تاکہ اس کے بندے راہ کمال و سعادت میں پیش قدمی کرتے رہیں اور گناہ اس راہ میں مانع نہ ہو سکیں کیونکہ گناہ انسان کو اس کے اعلیٰ مقام سے پستی میں لا کھڑا کرتا ہے۔ ہر گناہ روح انسان اور معنویت انسان پر ایک ضرب کی مانند ہوتا ہے جس سے روح کی شفافیت مکدر ہو جاتی ہے۔ گناہ کے ذریعے انسان و حیوانات کے درمیان پایا جانے والا فرق ختم ہو جاتا ہے۔
معنوی جنبہ کے علاوہ گناہ انسان کی زندگی میں دوسری بہت سی رکاوٹیں بھی کھڑی کر دیتا ہے۔

نہ جانے کتنی کامیابیاں گناہوں کی انجام دہی کی وجہ سے ناکامیابیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہ سب صرف زبانی یا تعبدی باتیں نہیں ہیں بلکہ انہیں علمی، فلسفی اور نفسیاتی طور پر بھی ثابت کیا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر جنگ احد میں چند مسلمانوں کی کوتاہی اور تقصیر کی بنا پر فتح اوّلیہ، شکست میں تبدیل ہو گئی تھی یعنی مسلمان پہلے مرحلہ میں فتح حاصل کر چکے تھے لیکن ان چند لوگوں کی بنا پر جنہیں رسول اسلام نے پہاڑ کے دروں میں معمور کیا تھا اور انہوں نے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کی، مسلمان مشکلات کا شکار ہو گئے تھے۔ رسول اسلام نے حکم دیا تھا کہ مقررہ جگہوں سے مسلمانوں حفاظت کریں لیکن یہ لوگ مال غنیمت کے لالچ میں اپنی اپنی کمین گاہوں کو چھوڑ کر میدان میں آگئے اور دشمن نے موقع غنیمت سمجھ کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔
سورہ آل عمران میں تقریباً دس یابارہ آیتیں اسی شکست سے متعلق ہیں۔ چونکہ مسلمان روحی اعتبار سے نہایت تلاطم اور کشمکش کا شکار تھے لہٰذا یہ شکست ان پر بے حد ناگوار گزری تھی۔ قرآنی آیتیں جہاں ان کے اطمینان قلبی کا باعث ہوتی تھیں وہیں ان کی ہدایت بھی کرتی جاتی تھیں ساتھ ہی انہیں یہ بھی باور کراتی جاتی تھیں کہ اس شکست کی وجہ کیا تھی۔ ’’انّ الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان انما استزلہم الشیطان ببعض ذنوبہم‘‘ یعنی تم نے دیکھا کہ تم میں سے بعض افراد نے دشمن کو پشت دکھا دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمہیں شکست ہو گئی۔ یہ لوگ پہلے ہی سے ایسا کرنے کے لئے آمادہ ہو چکے تھے۔ان لوگوں کو ان کاموں کی بنا پر جو یہ پہلے بھی انجام دے چکے تھے، شیطان نے با آسانی صراط مستقیم سے منحرف کر دیا یعنی انجام شدہ گناہوں نے اپنا اثر میدان جنگ میں دکھایا۔
اسی مذکورہ سورہ میں ایک دوسری آیت ایک دوسرے انداز سے اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ قرآن کریم در حقیقت کہنا یہ چاہتا ہے کہ اگر تم جنگ احد میں شکست کھا گئے تو یہ کوئی تعجب و حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ سب زندگی کے معمولات ہیں۔ تم سے پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے: ’’و کآیّن من نبی قاتل معہ ربیون کثیر فما وحنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ و ما ضعفوا و ما استکانوا‘‘ قرآن مسلمانوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ تم سے پہلے بھی خدا کے نبیوں کو میدان جنگ میں مشکلات و شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن وہ تو ہراسا ںو پریشاں نہیں ہوتے تھے۔ اس کے بعد فرماتا ہے: ’’وما کان قولہم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا فی امرنا‘‘ یعنی گزشتہ زمانوں میں جب اصحاب انبیاء کے حوالے سےمشکلات و مسائل کا شکار ہوتے تھے تو پروردگار کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کرکہتے تھے: ’’ربنا اغفر لنا ذنوبنا و اسرافنا فی امرنا‘‘ پروردگار ہمارے گناہوں اور ہمارے ذریعے کی گئی زیادتیوں اور غفلتوں کو معاف فرما۔
یہیں سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مشکلات و مسائل ہمارے ذریعے انجام دیے گئے گناہوں ہی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے پروردگار کے ذریعے نازل کی گئی اہم ترین نعمت یعنی مغفرت سے استفادہ کریں۔ خدا وند عالم نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے کوئی قبیح فعل انجام دیا اور اس پر بعد میں پشیمان ہوئے تو تمہارے لئے استغفار اور توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ گناہ کی مثال کسی بیماری یا علالت کی سی ہے۔ انسان بیماری سے بہت کم محفوظ رہ پاتا ہے۔ گناہ بھی ایک مرض طرح کا ہے ۔اگر انسان اس مرض کا علاج کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ باب توبہ و استغفار کی طرف آئے۔ اگر انسان اس طرف آگیا تو خدا وند وعالم اتنا غفار ہے کہ اس گنہگار انسان کو بخش دے گا۔
صحیفہ سجادیہ کی پینتالیسویں دعا میں امام سجادؑخدا کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: ”انت الذی فتحت لعبادک بابا الی عفوک‘‘ یعنی تو ہی ہے جس نے اپنے بندوں کی طرف عفو و مغفرت کا دروازہ کھول رکھا ہے۔ ” و سمیتہ التوبۃ‘‘ جسکا نام تونے باب توبہ رکھا ہے۔ ”و جعلت علی ذالک الباب دلیلاً من وحیک لئلّایضلّوا عنہ‘‘ قرآن و وحی سے ایک راہنمابھی اس دروازے پر قرار دے رکھا ہے تاکہ تیرے بندے اس سفر میں منزل سے بھٹک نہ جائیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں : ”فما عذر من اغفل دخول ذالک المنزل بعد فتح الباب لاقامۃ الدلیل‘‘ یعنی اب اس کے بعد انسان کے لئے کیا دلیل بچتی ہے کہ اس باب توبہ اور مغفرت الٰہی سے فیض یاب نہ ہو۔ راہ مغفرت الٰہی یعنی استغفار۔
رسول اسلام سے حدیث منقول ہے کہ آپؐ فرماتے ہیں: ”انّ اللہ تعالی یغفر للمذنبین الا من لا یرید ان یغفرلہ ‘‘ یعنی خداوند عالم گناہگاروں کے گناہوں کو بخش دیتا ہے مگر ان گناہگاروں کے علاوہ جن کو خدا بخشنا نہیں چاہتا۔ اصحاب نے سوال کیا : ”یا رسول اللہ ! من الذی یرید ان لا یغفرلہ؟‘‘ یا رسول خدا وہ کون ہے جس کو خدا بخشنا نہیں چاہتا ؟ ”قال من لا یستغفر‘‘ یعنی وہ جو استغفار نہیں کرتا۔پس استغفار باب توبہ و مغفرت کی چابی ہے۔ استغفار کے ذریعے ہی مغفرت الٰہی کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

غفلت استغفارکی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس نعمت الہٰی یعنی استغفار تک دسترسی حاصل کریں تو ضروری ہے کہ دو صفتوں کو خود سے دور کریں۔ پہلی غفلت و بے توجہی اور دوسری غرور و تکبر۔ غفلت یعنی یہ کہ انسان اصلاً متوجہ ہی نہ ہو کہ اس سے گناہ سرزد ہو رہا ہے۔ ایسے بہت سے افراد پائے جاتے ہیں جو گناہ پر گناہ انجام دیتے جاتے ہیں اور انھیں اپنے اس قبیح فعل کا احساس تک نہیں ہوتا۔ دروغ، غیبت، الزام تراشی وغیرہ اسی طرح کے گناہ ہیں۔ بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر انھیں متوجہ بھی کرایا جائے تو تمسخرانہ انداز میں قہقہہ بھی لگاتے ہیں۔ گناہ؟ گناہ یعنی کیا؟ ایسے افراد اصلاً ثواب و عذاب کے ذرہ برابر بھی معتقد نہیں ہوتے۔ بعض دوسرے ثواب و عذاب کے معتقد تو ہوتے ہیں لیکن مکمل طور پر غفلت اور بے توجہی کے اس قدر شکار ہوتے ہیں کہ اپنی ذات سے صادر شدہ فعل کا احساس بھی نہیں کر پاتے۔ اگر ہم اپنی روز مرہ زندگی ذرا سا جھانکنے کی کوشش کریں تو با سانی واضح ہو جائے گا کہ ہماری زندگی بھی کم و بیش ایسے ہی حالات سے دو چار ہوتی ہے۔ غفلت ایک بہت خطرناک شے ہے ۔شاید انسان کے لئے غفلت سے بڑا دشمن اور خطرناک شے کوئی نہ ہو۔غافل انسان کسی بھی قیمت پر استغفار نہیں کرتا ہے اس کی ساری زندگی گناہوں میں بسر ہو جاتی ہے اور اس کو احساس تک نہیں ہو پاتا فقط خواب غفلت کا شکار ہوکر رہ جاتا اور بس۔
قرآن کریم نے غفلت کے مد مقابل تقویٰ کو پیش کیا ہے۔ تقویٰ یعنی ہمیشہ اور ہر حال میں متوجہ رہنا۔ غافل شخص سینکڑوں گناہ کرنے کے بعد بھی اپنے گناہ کی طرف متوجہ نہیں ہو پاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں متقی و پرہیزگار شخص ہے جہاں چھوٹا سا گناہ اس سے سرزد ہو ا فوراً اپنے گناہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور جلد از جلد اس کی تلافی کی فکر میں مشغول ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: ”ان الذین اتقوا اذا مسہم طائف من الشیطان تذکروا‘‘ اگر شیطان متقی افراد کے پاس سے گزر بھی جاتا ہے تو یہ لوگ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ”فاذا ہم مبصرون‘‘ ایسے ہی لوگ با بصیرت ہوتے ہیں۔

غرور و تکبر راہ استغفار میں دوسری رکاوٹ ہے
انسان جہاں ذراسا کوئی چھوٹاسا کام انجام دے لیتا ہے فوراً مغرور ہو جاتا ہے۔ صحیفہ سجادیہ کی چھیالیسویں دعا میں ایک جملہ ہے: ”و الشقا الاشقائ لمن اغتربک ‘‘ یعنی شقی ترین شخص وہ ہے جو تیرے سامنے غرور و تکبر سے پیش آئے۔ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جہاں کوئی کار خیر انجام دیا فوراً یہ تصور کرلیتے ہیں کہ ہم نے خدا سے اپنا حساب بے باق کر دیا۔ اب ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ جملہ زبان تک نہ آئے لیکن دل میں تو بارہا آتا ہے اور یہی غرور ہے۔
خدانے اگر ہمارے لیے باب توبہ فراہم کردیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گناہوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کبھی کبھی یہی گناہ انسان کے وجود حقیقی کو بھی ضائع کر دیتے ہیں اور ا س کو حیات انسانی کے عالی مراتب سے ایک پست ترین حیوان میں تبدیل کردیتے ہیں۔
ضروری نہیں ہے کہ انسان ایک مدت تک گناہوں میں غرق رہے تب ہی گناہوں کاا حساس کر سکتا ہے بلکہ گناہ ، گناہ ہے خواہ ایک گناہ ہو یا گناہوں کا انبار۔ گناہ کو قطعاً حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ روایت میں”استحقار الذنوب‘‘کے عنوان سے ایک باب ہے جس کے تحت گناہوں کو حقیر فرض کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ خدا کے مغفرت کرنے کی وجہ یہ نہیںہے کہ گناہوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے لہذا وہ معاف کریگا بلکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ انسان اس کے ذریعے خدا تک واپس آسکتا ہے اور خدا تک برگشت نہایت اہم ہے کہ روایات میں جس کے لئے نہایت تاکید کی گئی ہے۔
بہر حال حقیقاً وہی استغفار قابل ستائش ہے جو حقیقی اور دل کی گہرائیوں سے ہو۔ زبان سے توبہ اور استغفار کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ استغفار کی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر شرمندہ ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا قوی ارادہ رکھتا ہو۔روایت میں وارد ہوا ہے : ”من استغفرہ بلسانہ و لم یندم بقلبہ فقد استحضری بنفسہ‘‘ یعنی جو شخص زبان سے اسغفار کرے اور دل سے شرمندہ اور نادم نہ ہو ایسا شخص در حقیقت اپنے نفس کی تضحیک کرتا ہے۔ یہ استغفار نہیں ہے۔ استغفار سے مراد یہ ہے کہ انسان واقعی خدا وند عالم کی طرف برگشت کرے اور اس کی بارگاہ میں دعا کرے کہ وہ اس کے گناہوں کو بخش دے۔

دعا ایمان کو قوی اور الہی وعدوں کو پورا کرتی ہے
دعا انسان کو خدا سے نزدیک کرتی ہے۔ معارف دینی کو انسان کے دل میں اثر انداز اور قائم رکھتی ہے۔ دعا ایمان کو قوی کرتی ہے یعنی دعا کئی زاویوں سے برکتوں اور رحمتوں کی حامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بارہا دعا اور بندگان صالح کے ذریعے کی گئی دعاؤں سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ انبیائے الہی مسائل و مشکلات کے وقت خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے تھے ۔خدا سے مدد کی التماس کرتے تھے۔ ”فدعا ربہ انی مغلوب فانتصر‘‘ جو حضرت نوح ٴ سے منقول شدہ دعا ہے یا حضرت موسیٰ کی زبانی قرآن فرماتا ہے: ”فدعا ربہ ان ہٰولائ قوم مجرمون‘‘ ۔
قرآن کریم میں خدا وند عالم نے متعدد آیتوں میں دعاؤں کی قبولیت اور استجابت کا وعدہ فرمایا ہے مثلاً: ”وقال ربکم ادعونی استجب لکم‘‘ یعنی تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعاؤں کو مستجاب کروں گا ۔اسی طرح ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ”وسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ بکل شئی علیماً‘‘ یعنی اگر چہ خدا عالم ہے اور ہماری حاجتوں سے آگاہ بھی ہے مگر اس کے باوجود تم خدا سے طلب کرو۔ دعائے ابو حمزہ ثمالی میں امام سجادٴ اسی طرف اشارہ فرماتے ہیں : ”ولیس من صفاتک یا سیدی ان تامر باموال و تمنع العطیۃ‘‘ پروردگار تیری یہ صفت نہیں ہے کہ اپنے بندوں کو طلب کرنے کا حکم دے اور ان کے طلب کرنے پر انہیں عطا نہ کرے یعنی خد اکے کرم اور اس کی قدرت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ کہتا ہے کہ مجھ سے طلب کروتو در حقیقت اس نے ارادہ کر لیا ہے کہ استجابت بھی کرے۔ ”واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان‘‘ ۔یعنی جب بھی میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو اے پیغمبر آپ کہدیجئے کہ میں ان کے قریب ہی ہوں ان کی دعاؤں کو سنتا اور استجاب کرتا ہوں۔ اگر کوئی شخص خدا سے کچھ طلب کرتا ہے تو فوراً اس کو حاصل ہو جاتا ہے: ”بکل مسئلۃ منک سمع حاضر و جواب عتید‘‘ یہ خدا کا قطعی اور سچا وعدہ ہے یعنی خدا ہر طلب و دعا کا جواب دیتا ہے لیکن اس وعدے کے ساتھ کچھ شرائط بھی ہیں جن میں سے ایک عمل صالح ہے: ”من عمل صالحاً فلنفسہ و من اسائ فعلیہ‘‘ ۔ قرآن مجید میں خدا نے اپنے بندوں سے جا بجا وعدے فرمائے ہیں۔ مثلاً: ”انا لا نضیع اجر من احسن عملاً‘‘ یعنی جو شخص کار خیر انجام دیتا ہے خدا اس کی جزا اور اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ ایک جگہ فرماتا ہے: ”من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشائ لمن یرید‘‘ یعنی اگر کوئی انسان دنیا کو اپنا ہدف بنا لے تو ہم اس کے ہدف تک رسائی میں اس کی مدد کرتے ہیںلیکن کب ؟ جب وہ کوشش کرے ، جستجو کرے اقدام کرے اور آگے بڑھے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے: ”و من اراد الآخرۃ و سعی لھا سعیھا و ہو مومن فاولئک کا ن سعیہم مشکوراًکلاً ۔۔۔ ہولائ و ہولائ‘‘ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جو لوگ آخرت کی خواہش کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں سعی و کوشش کرتے ہیں ہم ان کی بھی مدد کرتے ہیں۔
ایک آیت میں دنیا کا تذکرہ ہے اور دوسری میں آخرت کا اور دونوں میں شرط یہ ہے کہ سعی و کوشش کی جائے۔ اگر انسان سعی و کوشش کرے تو خدا وند عالم یقینا اسے اس کے مقصد تک پہنچاتا ہے۔ یہ سنت الہی ہے۔ خدا کسی کی بھی زحمتوں اور کوششوں کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
خدا وند عالم ایک دوسری آیت میں یوں وعدہ فرماتا ہے: ”وعد اللہ الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما یستخلف الذین من قبلہم‘‘۔کوئی بھی قوم اگر عمل صالح انجام دے تو خدا اس قوم کو زمین پر خلیفہ بنا دے گاساری زمین کی قدرت اس قوم کے ہاتھ میں ہوگی۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح بھی ہو ورنہ فقط ایمان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ فقط ایمان سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
ایک دیگر آیت کریمہ میں خدا وند عالم وعدہ فرما رہا ہے: ”و الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا‘‘ یعنی اگر کوئی راہ خدا میں قدم اٹھائے تو خدا یقینا اس کی راہنمائی کرے گا۔
البتہ ضروری نہیں ہے کہ دعا ہمیشہ معجزاتی طور پر قوانین الہی کو توڑتی ہوئی مستجاب ہو بلکہ دعا کا خاصہ ہے کہ دعا قوانین طبیعی کے دائرے میں قبول ہوتی ہے۔ وعدہ خدا حق ہے لیکن یہ وعدہ بھی حق ہے کہ اگر انسان اپنے ہدف تک رسائی کے لئے عملی اقدام نہ کرے اور فقط بارگاہ الہی میں دعا کرتا رہے تو دعا قبول نہیں ہوگی۔ ہو سکتا ہے کسی اور وجہ سے مستجاب ہو جائے لیکن استجابت کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ قوانین طبیعی کے خلاف دعا کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دعا قوانین طبیعی کی مخالفت کے باوجود بھی قبول ہو جاتی ہے لیکن ایسا بہت ہی کم ہو تا ہے۔ جب دعا دل کی گہرائیوں اور پوری توجہ کے ساتھ کی جائے اور اگر ایسی دعا میں عملی اقدام بھی شامل ہوجائے تو دعا کی استجابت کے امکانات نہایت روشن ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر قدرت خدا سے مایوس نہ ہوتے ہوئے مستقل دعا کی جاتی رہے تو بھی قبولیت دعا قوی ہو جاتی ہے۔ لہذا اگر باربار دعا کرنے پر بھی کوئی حاجت پوری نہ ہو تو مایوس نہیں ہونا چاہیے مخصوصاً ملک و قوم سے متعلق مسائل میں۔ جس وقت فرعون کی ظالمانہ اور استکباری حکومت میں حضرت موسیٰ متولد ہوئے تو آپ کی والدہ گرامی نہایت شش و پنج میں مبتلا تھیں کیونکہ یہ واضح اور مسلم تھا کہ اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر لڑکا قتل کر دیا جائے گا۔ اگر حضرت موسیٴ کی جگہ کوئی لڑکی پیدا ہوئی ہوتی تو آپ کی والدہ قطعاً پریشان نہ ہوتیں۔ بہر حال ایک طرف ماں کی محبت اور دوسری طرف فرعون کا حکم۔ اسی درمیان خدا کی جانب سے مادر موسیٰ پر وحی ہوئی: ”واوحینا الی ام موسیٰ ان ارضعیہ‘‘ یعنی ہم نے مادر موسیٰ کی طرف وحی کی کہ موسیٰ کو دودھ پلائیں۔ ”فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیہم‘‘ پس اگر خطرہ محسوس کرو تو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کردو۔ خدا وند عالم نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور ہر بار ایک نئی ظرافت اور لطافت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ الغرض مادر موسیٰ نے خطرے کا احساس کرتے ہی بچے کو دریائے نیل کے حوالے کر دیا۔ عجیب و غریب کیفیت ہے کہ ایک ماں اپنے نو مولود بچے کو دریا کے حوالے کردے لیکن خدا نے مادر موسیٰ سے اس طرح فرمایا: ”انا رادوہ الیک و جاعلوہ من المرسلین‘‘ اس آیہ کریمہ میں خدا نے مادر موسیٰ سے دو وعدے فرمائے۔ پہلا یہ کہ اس بچے کو واپس کردیں گے اور دوسرا یہ کہ اس بچے کو مرسلین میں سے قرار دیں گے۔ جب بچے کو دریا میں بہا دیا گیا تو خواہر موسیٰ سے کہا: ”وقالت لاختہ قصیہ‘‘ جاؤ دیکھو کیا ہو رہا ہے! جیسے ہی صندوق فرعون کے محل کے نزدیک سے گزرا: ”فالتقتہ آل فرعون‘‘ فرعون کے خانوادے نے صندوق باہر نکال لیا۔ اُدھر خدا نے خانوادہ فرعون کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس بچے کی پرورش کرے۔ فرعون کی زوجہ، آسیہ نے کہا کہ کیا اچھا ہوگا اگر ہم اس بچے کی پرورش کر لیں۔: ”قرۃ عینی لی و لک و حرمنا علیہ المواضع‘‘۔ بچے نے دودھ پینے سے انکار کر دیا لاکھ کوشش کی گئی مگر جناب موسیٰ نے دودھ نہیں پیا۔ اس درمیان خواہر موسیٰ آگے بڑھیں اور کہا: ”ہل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم ‘‘ آیا میں ایسے گھرانے کی نشاندہی کروں جو تمہارے لئے اس بچے کی پرورش کردے۔
اگر خدا وند عالم ارادہ کر لے تو ا سطرح حالات و کوائف کو کسی کے بھی حق میں ڈھال دیتا ہے۔ خواہر موسیٰ کو اس بات پر مامور کر دیا کہ وہ اپنے اندر شجاعت پیدا کریں اور فرعون کے محل تک آ جائیں اور فرعون کے سامنے اس طرح کی تجویز رکھیں۔ فرعون نے مثبت جواب دے دیا۔ خواہر موسیٰ گئیں اور مادر موسیٰ کو اپنے ساتھ لے آئیں۔ جیسے ہی موسیٰ نے اپنی ماں کی خوشبو محسوس کی فوراً دودھ پینا شروع کر دیا۔ یہ ہے قدرت خدا! فرعون اور فرعونیوں کے ذہن و گمان میں قطعاً ایسی کوئی بات پیدا نہیں ہوئی کہ یہی موسیٰ کی حقیقی ماں ہو سکتی ہے۔ خدا اس طرح اپنا وعدہ پورا کرتا ہے: ”فرددناہ الی امہ‘‘ ہم نے اس بچہ کو اس کی ماں کی طرف پلٹا دیا۔ ”کی تقر عینہا ولا تحزن‘‘ تاکہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک انہیں حاصل ہو جائے اور وہ غمزدہ نہ ہوں۔ ”ولتعلم ان وعد اللہ حق‘‘ ساتھ ہی یہ بھی جان لیں کہ خدا کا وعدہ حق رہتا ہے۔ یہ وہ وعدہ ہے جس کو خود مادر موسیٰ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا لیکن دوسرا وعدہ: ”وجاعلوا من المرسلین‘‘ یہ وہ وعدہ تھا جو مادر موسیٰ سے بعثت موسیٰ کے متعلق کیا گیا تھا جو برسوں کے بعد محقق ہونے والا تھا۔ اس وعدہ کے تحت جناب موسیٰ بطور رسول مبعوث ہونے والے اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و جور سے نجات دلانے والے تھے۔ تاریخی مسلمات کی رو سے یہ وعدہ بھی تقریباً چالیس سال کے بعد پورا ہوا اور جناب موسیٰ نے بنی اسرائیل کو راہ نجات کی طرف ہدایت فرمائی۔
خدا اپنے وعدے اس طرح پائے تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ خدا وند عالم مسلمانوں کو فاتح و ظفریاب دیکھنا چاہتا ہے لیکن کب؟ اسی وقت جب مسلمان خواب غفلت سے بیدار ہوں۔ اٹھیں اور اس سلسلہ میں سعی و کوشش کریں ۔وعدہ الہی یہ ہے کہ اگر کوئی قوم راہ خدا میں جہاد کرے اور با ایمان بھی ہو تو یقینا فتح یاب ہوگی۔ ”ولما رآی المومنون الاحزاب قالوا ہذا ما وعدنا اللہ و رسولہ و صدق اللہ و رسولہ‘‘ جس وقت جنگ احزاب میں قریش، سقیف، یہودیوں اور دوسرے مختلف گروہوں نے ایک ساتھ مدینے کا محاصرہ کر لیا اور مسلمانوں پر حملہ کردیا تھا اس وقت خود مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک گروہ مومنین پر مشتمل تھا اور دوسرا غیر مومنین پر۔ غیر مومنین کہہ رہے تھے: ”ما وعدنا اللہ و رسولہ الا غروراً‘‘ یعنی ہم فریب کھا گئے ہیں ۔اسلام ہمارے امن و امان اور عزت کی حفاظت نہیں کرسکا۔ دوسری طرف مومنین کا گروہ تھا جو یہ کہہ رہا تھا: ”ہذا ما وعدنا اللہ و رسولہ‘‘ یعنی یہ وہی وعدہ ہے جو خود خدا اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا۔ وعدہ خدا و رسول اس واقع طرح ہوتا ہے: ”ان الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ و الذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت‘‘ وہ لوگ جو مومن ہوتے ہیں راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور وہ لوگ جو ایمان نہیں رکھتے راہ طاغوت میں جہاد کرتے ہیں۔اگر مسلمان میدان جنگ میں ڈٹا رہے اور خدا کی قدرت سے مایوس نہ ہو تو یقینا فتح اسی کی ہوگی لیکن اگر مایوس اور پسپا ہوگیا تو وعدہ خدا بھی بہر حال پورا نہیں ہوگا۔ پس اگر دشمن حملہ کردے تو تعجب کا مقام نہیں ہے بلکہ یہ تو وعدہ الہی ہے جو پورا ہو رہا ہے:
”ہذا ما وعدنا اللہ و رسولہ و صدق اللہ و رسولہ ما زادہم الا ایماناً و تسلیماً‘‘۔