ur

قمر بنی ہاشم حضرت ابوالفضل العباس (علیہ السلام)

مصنف:گروہ محققین
ولادت با سعادت

4 شعبان المعظم ۲۶ ہجری قمری مدینہ منورہ میں آپ (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت ہوئی، حضرت عباس کی ولادت سے کائنات خوشیوں سے مملو ہو گئی۔ ا میر المؤمنین (علیہ السلام) نے آپ (علیہ السلام) کے کانوں میں اذان و اقامت کہی۔ ولادت باسعادت کے ساتویں دن ایک دنبہ ذبح کروا کر عقیقہ کیا اور فقراء میں تقسیم کیا۔

امیر المؤمنین (علیہ السلام) حضرت عباس (علیہ السلام) سے انتہائی محبت کرتے تھے، اپنی گود میں بٹھاتے تھے اور آستینوں کو الٹ کر بازوپر بوسہ دیتے تھے اور آنسو بہاتے تھے ایک دن ام البنین (علیہ السلام) مادر گرامی حضرت عباس (علیہ السلام) اس ماجرا کو دیکھ رہی تھیں، انہوں نے گریہ کرنے کی وجہ دریافت کی تو امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا” یہ ہاتھ حسین (علیہ السلام) کی مدد اور نصرت میں کاٹے جائیں گے میں اس دن کو یاد کر کے رو رہا ہوں”۔

تربیت حضرت عباس (علیہ السلام)

وہی گھرانہ جس میں جوانان جنت کے سرداروں نے تربیت پائی اسی میں حضرت عباس (علیہ السلام) کی بھی تربیت ہوئی اور شروع سے ہی عترت پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے درس انسانیت، شہامت، اخلاق، صداقت اور فداکاری سیکھا۔ آپ کی ذاتی استعداد اور خاندانی تربیت اس چیز کا باعث بنی کہ جسمانی رشد کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معنوی کمالات بھی حاصل کیے جناب عباس (علیہ السلام) نہ صرف قد و قامت میں ممتاز اور منفرد تھے بلکہ خردمندی، دانائی اور انسانی کمالات میں بھی اپنی مثال آپ تھے وہ جانتے تھے کہ کس دن کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور انہیں حجت خدا کی نصرت ومدد کرنا ہے، وہ عاشورا ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے تاریخ میں ملتا ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب آپ (علیہ السلام) کی تمام اولاد آپ (علیہ السلام) کے اطراف میں نگران و پریشان اور گریہ کناں کھڑی تھی عباس (علیہ السلام) کا ہاتھ حسین (علیہ السلام) کے ہاتھ میں دیا اور یہ وصیت کی” کربلا میں حسین (علیہ السلام) سے جدا نہ ہونا”۔

حضرت عباس (علیہ السلام) کی ازدواجی زندگی

حضرت عباس علیہ السلام نے اٹھارہ سال کی عمر میں امام حسن علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دور میں عبد اللہ بن عباس کی بیٹی حضرت لبابہ کے ساتھ شادی کی۔ عبد اللہ بن عباس راوی حدیث، مفسر قرآن، اور امام علی (علیہ السلام) کے بہترین شاگرد تھے۔ اس خاتون کی شخصیت بھی ایک علمی گھرانے میں پروان چڑھی تھی اور بہترین علم و ادب کے زیور سے آراستہ تھیں جناب عباس (علیہ السلام) کے ہاں دو بیٹے پیداہوئے حضرت عبید اللہ اور حضرت فضل جو بعد میں بزرگ علماء اور فضلا میں سے شمار ہوئے حضرت عباس (علیہ السلام) کے پوتوں میں سے کچھ افراد راویان حدیث اور اپنے زمانے کے برجستہ علماء میں شمار ہوتے ہیں یہ نور علوی جو جناب عباس (علیہ السلام) کی صلب میں تھا نسل در نسل تجلی کرتا رہا اور ہمیشہ کے لیے زندہ و جاویداں بن گیا۔

شجاعت حضرت عباس (علیہ السلام)

آپ (علیہ السلام) نے اپنی گرانقدر زندگی کے چودہ سال امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے ساتھ گزارے اس کے علاوہ آپ (علیہ السلام) کے ننہال( قبیلہ بنی کلاب) جو شجاعت، بہادری اور شمشیر زنی میں معروف تھے آپ کی شجاعت ان دو خاندانوں کی تاثیر تھی گویا عباس (علیہ السلام) شجاعت کے دو سمندروں کا آپس میں ملنے کا نام ہے تاریخ نے اس ہاشمی نوجوان کے جنگ صفین کے بعض کرشموں کو قلمبند کیا ہےملتا ہے کہ:
صفین کی جنگ کے دوران ایک نقاب پوش نوجوان امیر المؤمنین کے لشکر سے نکلا جس کی ہیبت سے دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور دور سے خاموش تماشائی بن گئے معاویہ کو اس بات پر غصہ آیا اس نے اپنی فوج کے شجاع ترین آدمی” ابن شعثاء” کو میدان میں جانے کا حکم دیا کہ جو ہزاروں آدمیوں کے ساتھ مقابلہ کر سکتا تھا اس نے کہا” اے امیر مجھے لوگ دس ہزار آدمی کے برابر سمجھتے ہیں آپ مجھے ایک نوجوان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں معاویہ نے کہا پس کیا کروں ابن شعثا نے کہا میرے سات بیٹے ہیں میں ان میں سے کسی ایک کو بھیجتا ہوں تا کہ اس کا کام تمام کر دے معاویہ نے کہا بھیج دو اس نے ایک کو بھیجا اس نوجوان نے پہلے وار میں اسے واصل جہنم کر دیا دوسرے کو بھیجا اس کا بھی وہی حال ہوا اسی طر ح تیسرے چوتھے اور ساتویں تک سارے کے سارے واصل جہنم ہوگئے معاویہ کی فوج میں زلزلہ آ گیا آخر کار خود ” ابن شعثا” میدان میں یہ رجز پڑھتا ہوا آیا اے جوان تو نے میرے سات بیٹوں کو قتل کیا ہے خدا کی قسم تمہارے ماں باپ کو تیری عزا میں بٹھاؤں گا اس نے تیزی سے حملہ کیا تلواریں چمکنے لگیں آخر اس نوجوان نے ایک کاری ضرب سے ” ابن شعثاء” کو زمین بوس کر دیا سب کے سب مبہوت رہ گئے امیر المؤمنین نے وا پس بلا لیا نقاب ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا یہ نو جوان کون تھا یہ قمر بنی ہاشم یہ بار ہ سالہ نوجوان شیر خدا کا شیر تھا۔

وفاداری حضرت عباس (علیہ السلام)

جناب عباس (علیہ السلام) نے جب سے آنکھ کھولی تھی (علیہ السلام) مدینہ میں قبیلہ بنی ہاشم ہی میں رہتے تھے اور امام حسن (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) کو اپنے ارد گرد دیکھا اور ان کی مہر ومحبت کے سائے میں پروان چڑھے اور امامت کے چشمہ علم ومعرفت سے سیراب ہوتے رہے، آپ (علیہ السلام) ہمیشہ امام حسین (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ رہتے تھے جوانی کو امام (علیہ السلام) کی خدمات میں گزار دیا بنی ہاشم کے درمیان آپ (علیہ السلام) کا خاص رعب و دبدبہ تھا جناب عباس (علیہ السلام) بنی ہاشم کے تین جوانو ں کو حلقہ بنا کر ہمیشہ ان کے ساتھ چلتے تھے جو ہمیشہ امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے اور ہر وقت ان کا دفاع کرتے او را س رات بھی جب معاویہ کے مرنے کے بعد ولید یزید کی بیعت کے لیے امام حسین (علیہ السلام) کو دارالخلافہ بلایا تینوں جوان جناب عباس (علیہ السلام) کی نظارت میں دارالخلافہ گئے اور امام (علیہ السلام) کے حکم کے مطابق باہرکھڑے رہتے تھے اور امام (علیہ السلام) کے حکم کا انتظار کرتے تھے۔

یزید کی بیعت کا انکار کرنے پر امام (علیہ السلام) کو یزید کے مقابلے میں قیام کرنا پڑا اس سفر میں بھی جناب عباس امام (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ تھے اور پروانے کی طرح امام (علیہ السلام) کے گرد چکر لگا رہے تھے کہ کہیں میرے مولا کو کوئی گزند نہ پہنچے ۔

حضرت عباس (علیہ السلام) کربلا میں

کربلا میں امام حسین (علیہ السلام) نے حضرت عباس (علیہ السلام) کو اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا، خیام حسینی (علیہ السلام) کی حفاظت و نگہبانی آپ کے ذمہ تھی۔ عصر تاسوعا جب لشکر عمر ابن سعد نے خیام حسینی (علیہ السلام) کو گھیر ے میں لینے کی کوشش کی تو امام حسین (علیہ السلام) نے جناب عباس (علیہ السلام) کو دشمن کی طرف بھیجا تا کہ معلوم کر سکیں کہ دشمن کا کیا ارادہ ہے ؟ جب چند ساتھیوں کے ساتھ حضرت عباس (علیہ السلام) قوم اشقیاء کے پاس جاتے ہیں اور وہ جنگ کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں تو جناب عباس (علیہ السلام) وہاں پر جوابی کاروائی کرنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں اپنے مولا (علیہ السلام) کو آگاہ کرتا ہوں اور حکم لیتا ہوں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب عباس (علیہ السلام) مطیع محض حجت خدا تھے اور ان کے اشارے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے اور جب آ کر امام حسین (علیہ السلام) کو دشمن کے ارادے سے آگاہ کرتے ہیں تو امام (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بنفسی یا اخی اے میرے بھائی تجھ پر میری جان قربان ہو جائے تو جانتا ہے کہ مجھے عبادت خدا سے عشق ہے جاؤ دشمن سے کہو کہ ہمیں آج کی رات مہلت دے دے یہاں پر دو تین باتیں قابل غور ہیں علماء فرماتے ہیں کہ “کلام الامام امام الکلام” ہوتا ہے اور فدیہ کا اصول یہ ہے کہ مفضول کو افضل پر قربان کیا جاتا ہے اور یہاں پر حجت خدا یہ فرما رہی ہے کہ میں تجھ پہ قربان ہو جاؤں یہ جناب عباس (علیہ السلام) کے مقام و منزلت کی رفعت کی علامت ہے دوسری بات یہ کہ کسی شجاع انسان کے لیے انتہائی سخت ہوتا ہے کہ وہ کسی کمینے دشمن کے پاس جا کر ایک رات زندہ رہنے کی مہلت مانگے یہ جناب عباس (علیہ السلام) کی اطاعت امام اور بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حکم امام (علیہ السلام) کو بجا لاتے ہیں۔بنی ہاشم اور اصحاب کے شہید ہو جانے کے بعد حضرت عباس (علیہ السلام) نے امام (علیہ السلام) سے جنگ کی اجازت طلب کی تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا عباس (علیہ السلام) تم میری فوج کے سپہ سالار ہو الغرض امام (علیہ السلام) نے کہا عباس (علیہ السلام) اگر جاتے ہی ہو تو جانے سے پہلے ایک دفعہ بچوں کے لیے پانی لاؤ جناب عباس (علیہ السلام) ہمیشہ کی طرح اطاعت کرتے ہوئے مشکیزہ اٹھایا اور ہلکے سے اسلحہ کے ساتھ دریائے فرات کی طرف چل پڑے جب علی (علیہ السلام) کے اس شیر بیٹے نے میدان کی طرف رخ کیا توفوج اشقیاء بھیڑوں کیطرح بھا گ رہی تھی۔ دریا میں داخل ہو گئے اور مشکیزے کو پانی سے بھرنے کے بعد پانی کو چلو میں لیا اور پھینک دیا یہ عباس (علیہ السلام) کی وفا کی معراج ہے کہ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے اہل بیت (علیہ السلام) کی پیاس کی یاد میں خود بھی پانی نہ پیا ۔ واپسی کا ارادہ تھا عمر ابن سعد نے اعلان کیا کہ ساری فوج کو جمع کیا جائے اور عباس (علیہ السلام) پر حملہ کیا جائے کہیں پانی خیام حسینی (علیہ السلام) تک نہ پہنچ جائے، چاروں طرف سے لشکر یزید نے عباس ابن علی (علیہ السلام) پر حملہ کیا آپ (علیہ السلام) کی یہی کوشش تھی کہ پانی کا مشکیزہ محفوظ رہے اور پانی خیام حسینی (علیہ السلام) تک پہنچ جائے پانی کے مقابلے میں اپنے جسم کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے تھے دشمن نے آپ (علیہ السلام) کے دونوں بازو قلم کر دیے اور یوں یہ مطیع امام (علیہ السلام) اور سقائے اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) شہادت کے رفیع درجے پر فائز ہو گیا۔

یہ وہ عظیم ہستی ہے کہ جس کے بارے میں امام زین العابدین امام سجاد (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں کہ
” خدا وند متعال کے ہاں چچا عباس (علیہ السلام) کا ایسا عظیم مقام ہے جس پر تمام شہداء روز قیامت رشک کریں گے ”
اسی طرح صادق آل محمد (علیہ السلام) جناب عباس (علیہ السلام) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ
” کان عمنا العباس نافذ البصیرۃ، صلب الایمان جاہد مع ابی عبد اللہ (علیہ السلام) و ابلی بلاء حسنا و مضی شہیدا ”
(ہمارے چچا عباس (علیہ السلام) عمیق بصیرت اور مستحکم ایمان کے مالک تھے، امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کیا، بہترین امتحان دے کر مقام شہادت پر فائز ہو گئے”۔

منابع

ارشاد شیخ مفید.
اعیان الشیعہ.
بحار الانوار.
تاریخ طبری.
حیاۃ الامام الحسین ابن علی (علیہ السلام).
زندگانی قمر بنی ہاشم (علیہ السلام)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔