ur

دوستی کے دس اہم اصول

مصنف:
گروہ محققین

۱ حسن ظن
دوسروں سے بدگمانی سے پرہیز کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا، آپسی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے ۔ باہمی بدگمانی تہمت، غیبت، بدگوئی اور بد خواہی کا باعث ہوتی ہے اور ایمان کو نیست و نابود کردیتی ہے ، انسان کوانسان کا دشمن بنا دیتی ہے ۔رفتار و گفتار میں حسن ظن ان تمام خطرناک زہریلی چیزوں کا تریاق ہے ۔
یہاں تک کہ بہت سے ایسے موارد جہاں پر دوسروں کی باتیں اور حرکتیں ممکن ہے ہماری بدگمانی کا سبب ہوں وہاں پر بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی بات اور عمل کو صحت پر حمل کریں اور اس کی کوئی دلیل تلاش کریں تاکہ بدگمانی میں مبتلا نہ ہونے پائیں۔ یہ حالت لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتی ہے اور زندگی کو مزید شیریں بنا دیتی ہے۔

۲۔ خوش کلامی
جو بات زبان پر آتی ہے وہ دوست آفریں بھی ہو سکتی ہے اور دشمن تراش بھی، باعث محبوبیت بھی ہو سکتی ہے اور سبب نفرت و بیزاری بھی، وحدت و یکجہتی بھی پیدا کر سکتی ہے اور اختلاف و تفرقہ بھی ڈال سکتی ہے، کسی مومن کو خوش بھی کر سکتی ہے اور اسے رنجیدہ بھی کر سکتی ہے۔
روایات میں طیب الکلام کے عنوان سے جو کچھ آیا ہے وہ کلام کا مثبت اور کارساز پہلو ہے اور ہر طرح کی بدگوئی ، تند اور مردم آزاری سے پرہیز کرنا ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نیک کلامی کو حسن خلق کی ایک سرحد فرمایاہے اور ایک دوسری حدیث میں مومن پر مومن کے ۳۰ حقوق میں سے ایک حق یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ اپنے برادر مومن سے پسندیدہ اور اچھی گفتگو کرے۔
کتنے ایسے دل ہیںجو بری اور ناسنجیدہ باتوں سے ٹوٹ گئے اور کتنے ایسے دل ہیں جو پسندیدہ اور خوش کلامی کی وجہ سے آپس میں جڑ گئے اور ان میں الفت و محبت پیدا ہو گئی ہے۔

۳۔ احوال پرسی و عیادت
دوسروں کی احوال پرسی بالخصوص بیماروں کی عیادت، الفت و محبت پیدا کرنے اور روابط کو مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ اور مسلمانوں کے اجتماعی و سماجی حقوق میں سے ایک اہم حق ہے۔ البتہ عیادت کے متعدد آداب و احکام ہیں منجملہ: مریض کے پاس کم بیٹھنا، اس سے امیدوار کرنے والی باتیں کرنا، اسے دلداری دینا، اسے تندرستی اور سلامتی کی خوشخبری دینا، اس سے طلب دعا کرنا وغیرہ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ: ان یسلم علیہ اذا لقیہ و یعودہ اذا مرض۔جب اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے اور جب وہ مریض ہو تو اس کی عیادت کو جائے۔
﴿بحارالانوار ، ج۱۷،ص۷۴۲﴾
روایات میں آیا ہے کہ جو شخص کسی مومن سے ملاقات کے لئے جاتا ہے تو گویا وہ خدا سے ملاقات کرتا ہے اور اس کا ثواب خدا کے ذمہ ہے اور مومنین کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب وہ باحیات ہوں تو ان سے ملاقات کو جاؤ اور جب انتقال کر جائیں تو ان کی قبروں کی زیارت کو جاؤ۔

۴۔ عفو و درگذر
عفو و درگذر ایک ایسا پانی ہے جو غضب، کینہ اور انتقام کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور انسان کو روحی سکون ، اطمینان اور زندگی سے لذت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔’ عفو و درگذر میں ایک ایسی لذت ہے جو انتقام میں نہیں ۔‘‘
اگر آپ دیکھیں کہ آپ کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو ئی ہے، آپ کی ناقدری اور اہانت ہوئی ہے یا آپ کے ساتھ بد زبانی ہو ئی ہے تو آپ اسے معاف کردیں اور اسی کی طرح جواب نہ دیں گے تو آپ نے اپنی کرامت و بزرگواری کوثابت کیا ہے اور ثواب الٰہی کے بھی مستحق ہوئے ہیں ۔ قرآن کریم میں آیا ہے : فَمَنْْ عَفَا وَٲَصْْلَحَ فَٲَجْْرُہُ عَلَی اﷲِ .
﴿سورۂ شوریٰ،آیت۰۴﴾
جو شخص عفو و درگذر کرے اور اصلاح کرے اس کا ثواب و اجر خدا پر ہے۔ بے شک عفو و درگذر اس شخص کی جانب سے زیادہ پسندیدہ اور قابل ستائش ہے جو انتقام لینے کی قدرت رکھتے ہوئے معاف کردے ۔

۵۔ مشکل کشائی
مصائب و مشکلات میں گرفتار لوگوں کو دیکھنا انسان کو خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد دلاتا ہے اور ان نعمتوں کے شکرانہ میں بہتر تو یہی ہے کہ ہر شخص اپنی قدرت و قوت بھر دوسروں کی مشکل کشائی کرے ، ان کی مدد کرے اور ان کے چہروں سے رنج و غم کے گرد و غبار ہٹائے۔
خاص طور جس بات کی تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے مانگنے اور حاجت و نیاز کو بیان کرنے سے پہلے ہی برادر مومن کی مشکل حل کرنے اور مشکل کشائی کے لئے اقدام کرنا چاہئے ۔
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: جب کوئی مجھ سے لو لگائے اور میں درخواست سے پہلے اسے کچھ نہ دوں تو درحقیقت جو کچھ میں نے اسے دیا ہے اس کی قیمت میں پہلے ہی اس سے لے چکا ہو ں اس لئے کہ اس نے اپنی عزت و آبرو کو بیچ دینا ہے۔ ﴿الکافی،ج۴،ص۲۲﴾

۶۔ عذر قبول کرنا
لغزش اور خطا کی بنا پر دوسروں سے معذرت چاہنا اور دوسروں کی معذرت خواہی کو قبول کرنا مکارم اخلاق اور کمال کی نشانی ہے۔
اگر ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ سامنے والا جو عذر بیان کررہا ہے وہ غلط ہے تب بھی تاکید کی گئی ہے کہ ہم اس کی معذرت قبول کریں۔ اسلئے کہ یہ برتاؤ ، عزت و آبرو کا محافظ ہے اور مزید پردہ دری اور بے آبروی سے روکتا ہے اور آپسی میل محبت اور دوستی کا سبب بنتا ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اقبل اعذار الناس تستمتع باخائھم۔لوگوں کے عذر کو قبول کرو تاکہ ان کی بھائی چارگی سے فائدہ اٹھا سکو۔﴿شرح غرر الحکم،ج۲،ص۵۱۲﴾
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ایک دن اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور فرمایا: میرے بیٹو! میں تمہیں ایک ایسی نصیحت کرتا ہوں کہ جو بھی اس پر عمل کرے گا وہ گھاٹے میں نہیں رہے گا؛ اگر کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور داہنے کان میں ناپسند باتیں کہے اس کے بعد دوسری طرف جاکر بائیں کان میں تم سے معذرت چاہے کہ میں نے کچھ نہیں کہا تو اس کے عذر کو بھی قبول کرلو۔ ﴿کشف الغمہ،ص۸۱۲﴾

۷۔ لالچ سے دوری
جو شخص دوسروں کے مال و منال پر نظر رکھتا ہے اور حرص و طمع اسے مال کی زیادتی پر ابھارتی ہے وہ لوگوںکی نظر سے گر جاتا ہے ۔اس لئے کہ حرص وطمع ذلت کا سبب ہے اور اس سے نجات ،عزت بخش اور محبوبیت کاباعث ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب محمد حنفیہ سے فرمایا: فان احببت ان تجمع خیر الدنیا و الآخرۃ فاقطع طمعک ما فی ایدی الناس۔ اگر تم خیر دنیا وآخرت چاہتے ہوتو لوگوں کے پاس موجود مال کو لالچ کی نگاہ سے نہ دیکھو۔﴿من لایحضرہ الفقیہ،ج۴،ص۹۱۳﴾
روح کی بے نیازی ، بلند ہمتی ، قناعت اور پرہیزگاری کا جذبہ انسان کو لالچ کا غلام بننے سے بچاتی ہے اور دوسروں کے مال و ثروت پر نظر رکھنا باعث ذلت و رسوائی بھی ہے اور روحی و وجدانی عذاب کا سبب بھی ۔

۸۔ کسی کو اذیت نہ دینا
کبھی کبھی نیک افراد کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو ایک چیونٹی کو بھی اذیت نہیں پہونچاتا تھا، لیکن دوسری طرف کتنی نفرت، مذمت اور لعنت ہے جو ایذا رسانی کرنے والوںپر نچھاور کی جاتی ہیں۔
دنیا وآخرت کی عزت و آبرو اور لوگوں کے نزدیک محبوبیت ، دوسروں کو اذیت نہ پہونچانے میں پوشیدہ ہے۔چاہے وہ زبانی او رعملی اذیت ہو یا مالی اور معیشتی نقصان یا ظاہری آبرو اور اجتماعی ایذا رسانی۔ جو شخص دوسروں کو اذیت پہونچانے سے پرہیز کرتا ہے در حقیقت وہ اپنے آپ کو بہت سے آزار و اذیت سے بچا لیتا ہے ۔ اسی حقیقت کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایاہے: جو شخص لوگوں کو اذیت دینے سے دست بردار ہوتا ہے بے شک وہ ان کو اذیت دینے سے ایک ہاتھ کو روکتا ہے لیکن لوگ اسے ایذائ رسانی سے بہت سے ہاتھوں کو روکتے ہیں۔ ﴿الکافی،ج۲،ص۸۱۱﴾

۹۔ راز داری
کبھی ایک راز کا تعلق انسان کی زندگی، حیثیت اور عزت و آبرو سے متعلق ہوتا ہے اور اس راز کو فاش کرنا، اس کی بے عزتی اور ہلاکت کا باعث ہوتا ہے اور کبھی راز کو فاش کردینا انسان یا سماج کے ساتھ خیانت شمار کیا جاتا ہے۔ پس اپنی زبان اور منھ کو رازداری کا عادی بنائیں اور اس طرح دوسروں کے حقوق ان کی حیثیت اور سماجی وحدت و یکجہتی کی حفاظت کریں۔ اس لئے کہ دوسروں کے راز کو فاش کرنا کینہ،عداوت اور اختلاف و تفرقہ کا سبب ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام قابل اعتماد برادران دینی اور ان کے سلسلہ میں ذمہ داری کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:
واکتم سرہ و عیبہ و اظہر منہ الحسن۔اس کے راز اورعیب کو پوشیدہ رکھو اور اس کی نیکیوں کو ظاہر کرو۔
﴿الاختصاص،ص۱۵۲﴾
لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض لوگ اس کے برخلاف عمل کرتے ہیں، ان کی زبان کبھی بھی دوسروں کی خوبیاں اور اچھائیاں بیان کرنے کے لئے نہیں کھلتیں ، بلکہ وہ دوسروں کی بدگوئی اور عیوب بیان کرنے میں بہت تیز و طرار ہوتے ہیں!!

۱۰۔آئینہ ہونا
برادران دینی و ایمانی کے ساتھ صادقانہ برتاؤ کے سلسلہ میں ایک مشہور و معروف حدیث ہے کہ ‘ المومن مرآۃ المومن‘‘ یعنی مومن، مومن کا آئینہ ہے۔
﴿تحف العقول،ص۳۷۱﴾
آئینہ کے خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بے لوث اوربے غرض ہوتا ہے ، اشیاء کو بڑا بنا کر نہیں دکھاتا، خود انسان کو اس کے عیوب دکھاتا ہے اور ہم آئینہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے عیوب کو ہمیں بتانے اور دکھانے کا ذریعہ ہے، تاکہ ہم انھیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ آئینہ خوبیوں اور خوبصورتیوں کو بھی دکھاتا ہے صرف عیوب اور کمیوں کو ہی نہیں۔
دوسروں سے صادقانہ برتاؤ ، دلسوزی و رأفت کے ساتھ تنقید ، ارشاد ورہنمائی ، خیرخواہی و نصیحت ، ایک دوسرے کے لئے باہمی آئینہ ہونے کے اہم مصادیق میں سے ہیں۔
رسول خدا (ص)نے ارشاد فرمایا:
مومن اپنے برادر مومن کا آئینہ ہے، اس کے پیٹھ پیچھے اس کا خیرخواہ ہوتا ہے اور اس کی موجودگی میں جو چیز اس کے لئے نازیباہوتی ہیں انھیں اس سے دور کرتا ہے۔
﴿قاموس الاخلاق و الحقوق،ص۲۳۰