بچوں کے ساتھ رسول خدا ۖﷺکے حسن سلو ک

مصنف:
محمد علی چنارانی
بچّوں کا بوسہ لینا
‘پیغمبر اکرم ۖﷺ فرماتے ہیں،بچے خوشبودار پھول ہیں۔
بچوں کے ساتھ رسول خدا ۖکے حسن سلو ک میں سےایک ان کا بوسہ لینا بھی ہے۔اس سلوک کا اثر یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان گہری محبت پیدا ہوتی ہے اور دوسرے یہ کہ بچے کی محبت کی پیاس کوبجھانے کا یہ بہترین طریقہ ہے اوربوسہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں باپ بچے سے محبت رکھتے ہیں نیز یہی بوسہ بچے کے اندر بھی پیار محبت کے جذبے کو زندہ رکھنے کا سبب بنتا ہے اور بچہ اپنے والدین کے دل میں اپنے تئین رکھنے والی محبت سے آگاہ ہوجاتا ہے اور اس کے اندرایک نیا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلامؐ ۖاکثر اوقات لوگوں کے سامنے اپنے بچوں سے محبت کاا ظہار کرتے تھے۔اس کے دو فائدے تھے:
اول یہ کہ لوگوں کے سامنے بچوں کا احترام کرنے سے ان کی شخصیت بنتی ہے۔
دوسرے یہ کہ رسول خدا ۖاس سلوک سے لوگوں کوبچوں کی تربیت کا طریقہ سکھاتے تھے۔
اسلام میںاپنے بچے کا بوسہ لینے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔
پیغمبر اکرم ۖ ﷺنے فرمایا:
‘جو شخص اپنے بچے کا بوسہ لیتاہے،خدا وند متعال اس کے حق میں ایک نیکی لکھتا ہے اور جو شخص اپنے بچے کو خوش کرتا ہے ،خدا وند متعال قیامت کے دن اس کو خوش کرے گا۔(۱)
حضرت عائشہ کہتی ہیں:
‘ایک شخص رسول خدا ۖکی خدمت میں آیا اور کہا :کیا آپ ۖبچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟میں نے کبھی کسی بچے کا بوسہ نہیں لیا ہے۔رسول خداؐ ۖ نے فرمایا :میں کیا کروں کہ خدا وند متعال نے تیرے دل سے اپنی رحمت کو نکا ل لیا ہے؟(۲)
ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ
‘ایک شخص رسول خدا ۖﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا:میں نے آج تک کسی بھی بچے کا بوسہ نہیں لیاہے!جیسے ہی یہ شخص گیا پیغمبر ۖ ﷺنے فرمایا :میری نظر میں یہ شخص جہنّمی ہے۔(۳)
ایک اور روایت میں آیا ہے:
‘رسول خدا ۖ ؐنے حسن وحسین علیھما السلام کا بوسہ لیا۔اقرع ا بن حابس نے کہا:میرے دس فرزند ہیں اور میں نے کبھی ان میں سے کسی ایک کا بھی بوسہ نہیں
لیا ہے!رسول خدا ۖ نے فر مایا :میں کیا کروں کہ خدا وند متعال نے تجھ سے رحمت چھین لی ہے (۴)
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
‘اپنے بچوں کا بوسہ لیاکرو ،کیونکہ تمھیں ہر بوسہ کے عوض(جنت کا) ایک درجہ ملے گا۔(۵)
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
‘اپنے بچوںکا زیادہ بوسہ لیاکرو ،کیونکہ ہر بوسہ کے بدلے میں خدا وند متعال تمھیں (جنت میں) ایک درجہ عنایت فرمائے گا۔(۶)
ابن عباس ؓکہتے ہیں :
‘میں پیغمبر اکرمؐ ۖ کی خدمت میں تھاآپ ۖکے بائیں زانو پر آپ ۖ کے بیٹے ابراھیم علیہ السلام اور دائیں زانو پر امام حسین علیہ السلام بیٹھے تھے۔آنحضرت ۖکبھی ابراھیم علیہ السلام کا اور کبھی امام حسین علیہ السلام کا بوسہ لیتے تھے ۔(۷)

بچوں کے ساتھ انصاف کرنا
ایک اہم نکتہ جسے والدین کو اپنے بچوں کے بارے میں ملحوظ رکھنا چاہئے یہ ہے کہ وہ بچوں کے درمیان عدل وانصاف سے کام لیں ۔کیونکہ بچوں کو ابتداء سے ہی عدل وانصاف کا مزہ چکھنا چاہئے تاکہ اس کی خوبی کو محسوس کریںاور اس سے آشنا ہوجائیں اور اسے اپنی زندگی اور معاشرہ کے لئے ضروری سمجھیں اور بے انصافی ،ظلم اورہر طرح کے امتیازسے پرہیز کریں۔کیونکہ بچوں کی زندگی میں کوئی چیز چھوٹی نہیں ہوتی،لہذاعدل وانصاف کے نفاذ میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
‘پیغمبر اسلام ۖؐنے ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ جس کے دو بچے تھے ،اس نے ایک کا بوسہ لیا اور دوسرے کا بوسہ نہیں لیا ۔آنحضرت ۖ ؐنے فرمایا:تم نے کیوں ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام نہیں لیا ۔
ابی سعید خدری کہتے ہیں :
‘ایک دن رسول خدا ۖ اپنی بیٹی فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے۔علی علیہ السلام بسترپر محو آرام تھے،حسن اور حسین علیھما السلام بھی ان کے پاس تھے ۔انہوںنے پانی مانگا ،رسول خدا ۖ ان کے لئے پانی لائے۔حسین علیہ السلام آگے بڑھے،پیغمبر اکرم ۖ ؐنے فرمایا :تمہارے بھائی حسن( علیہ السلام) نے تم سے پہلے پانی مانگا ہے۔فاطمہ نے فر ما یا :کیا آپ ۖحسن علیہ السلام سے زیادہ محبت رکھتے ہیں؟آنحضرتؐ ۖنے فرمایا :میرے نزدیک دونوں برابر ہیں کوئی بھی ایک دوسرے سے برتر نہیں ہے ‘لیکن عدل وانصاف سے کام لینا ضروری ہے ۔ہر ایک کو اپنی باری پر پانی پینا چاہئے(۸)’
انس کہتے ہیں:
‘ایک شخص پیغمبر اکرم ۖؐ کے پاس بیٹھا تھا ۔اس کا بیٹا آگیا ۔باپ نے اسے چوم کر اپنے زانو پر بیٹھالیا ۔اس کے بعد اس کی بیٹی آگئی ۔(بوسہ لئے بغیر)اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔پیغمبر اکرم ۖنے فر مایا :تم نے کیوں ان کے درمیان عدل وانصاف سے کام نہیں لیا ؟(۹)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
‘اپنے بچوں کے درمیان اسی طرح عدل وانصاف سے کام لو ،جس طرح تم خود چاہتے ہو کہ تمھارے ساتھ عدل وانصاف کیا جائے۔(۱۰)’

پیغمبر اسلامؐ ۖ کا حضرت فاطمہ زہراکو بوسہ دینا
پیغمبر اسلامؐ ۖاپنی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سے بہت محبت کر تے تھے، باوجودیکہ حضرت فاطمہ کی شادی ہو چکی تھی اور بچے بھی ہو چکے تھے ،آنحضرت ۖ ان کا بوسہ لیتے تھے۔
ابان ا بن تغلب کہتے ہیں:
‘پیغمبر اسلا م ۖاپنی بیٹی فاطمہ کو بہت بوسہ دیتے تھے۔(۱۱)’
امام باقر علیہ السلام اور امام صادق علیہ السلام نے فر مایا:
‘پیغمبر اکرم ۖرات کو سونے سے پہلے فاطمہ کو بوسہ دیتے تھے اور اپنے چہرے کو ان کے سینہ پر رکھ کر ان کے لئے دعا کرتے تھے۔(۱۲)’
حضرت عائشہ کہتی ہیں:
‘ایک دن رسول خدا ۖنے فاطمہ کے گلے کا بوسہ لیا۔میں نے آنحضرتؐ سے کہا :اے رسول خداؐ فاطمہ  کے ساتھ آپ جیسابرتائو کررہے ہیںایسا دوسروں کے ساتھ نہں کرتے؟پیغمبر ۖنے فرمایا:
اے عائشہ !جب مجھے بہشت کا شوق ہوتا ہے تومیں فاطمہ کے گلے کا بوسہ لیتاہوں۔(۱۳)’

کس عمر کے بعد بچے کابوسہ نہیں لینا چاہئے؟
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو کس عمر کے بعد نہیں چومنا چاہئے؟اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں ائمہ دین کی احادیث کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
اسلام نے بچوں کی تربیت کے سلسلے میں چھ سے دس سال تک کی عمر پر خاص توجہ دی ہے اور اپنے پیرئوں کو ضروری ہدایتیںدی ہیںاور لوگوں کی جسمی اور روحی حالت کے مطابق قوانین الٰہی بنائے گئے ہیں۔اس طرح عملی طریقے سے بچوں کے جنسی رجحانات کوکنٹرول کیا ہے تاکہ ان میں اخلاقی برائیاںپیدا نہ ہوں۔
اس لئے ،اسلام چھ سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو جنسی میلانات کو ابھار نے والی ہر چیز سے دور رکھتا ہے اوروالدین کو ہدایت دیتا ہے کہ اپنے بچوں کے جنسی رجحات کو قابو میں رکھنے کے لئے مناسب ماحول فراہم کریں۔
رسول خدا ۖ ﷺنے فرمایا:
‘چھ سال کی لڑکی کا کوئی مرد بوسہ نہ لے اوراسی طرح عورتیں بھی چھ سات سال کی عمر کے بعد کسی لڑکے کو چومنے سے پرہیز کریں۔(۱۴)’

پیغمبر اسلامؐ ۖکا امام حسن اورامام حسین علیھما السلام کو چومنا
پیغمبر اکرم ۖ اپنی بیٹی فاطمہ زہراء کا بوسہ لینے کے علاوہ ان کے بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیھما السلام سے بھی محبت کرتے تھے اور ان کا بوسہ لیتے تھے۔
ابو ہریرہ کہتے ہیں:
‘پیغمبر اکرم ۖ ؐہمیشہ حسن و حسین علیھما السلام کابوسہ لیتے تھے۔انصار میں سے عینہ نے کہا:میرے دس بچے ہیں،اور میں نے کبھی ان میں سے کسی ایک کا بوسہ نہیں لیاہے۔آنحضرت ۖنے فر مایا :جورحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا ۔(۱۵)’
سلمان فارسی ؓکہتے ہیں:
‘میںرسول خدا ۖ کی خدمت میں حاضر ہوا،دیکھا کہ آپ ۖ حسین علیہ السلام کو اپنے زانو پر بٹھا کر کبھی ان کی پیشانی اور کبھی ان کے ہونٹوںکا بوسہ لے رہے ہیں(۱۶)
ابن ابی الدنیا کہتے ہیں :
‘زیدا بن ارقم نے جب عبیداللہ ابن زیاد کی مجلس میں دیکھا کہ وہ فاسق ایک چھڑی سے امام حسین علیہ السلام کے لبوں سے بے ادبی کر رہا ہے تو انہوں نے
عبیداللہ ابن زیاد سے مخاطب ہو کر کہا:
چھڑی کو ہٹا لو!خدا کی قسم میں نے بارہا پیغمبر اکرم ۖؐکوان دونوںلبوںکا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ جملہ کہنے کے بعدزیدرونے لگے، ابن زیاد نے کہا :خدا تیری آنکھوں کو ہمیشہ رلائے،اگرتم بوڑھے نہ ہوتے اورتمہاری عقل زائل نہ ہو گئی ہوتی تو میں ابھی تمہاری گردن مار دینے کا حکم دے دیتا۔(۱۷)’
زمخشری کہتاہے:
‘رسول خدا ۖنے حسن علیہ السلام کو آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیا ۔اس کے بعد انھیں اپنے زانو پر بٹھالیا اور فرمایا :
میں نے اپنے حلم ،صبر اورہیبت کو انھیں بخشا اس کے بعد حسین علیہ السلام کو آغوش میں لے کر ان کا بوسہ لیا اور انھیں بائیں زانو پر بٹھا کر فرمایا :
میں نے اپنی شجاعت اورجودو کرم کو انھیں بخشا(۱۸)
…………..
۱۔کافی ج٦،ص٤٩،مکارم الاخلاق،ص١١٣،بحارالانوارج٣٣،ص١١٣
۲۔صحیح بخاری ج٨ ص٩
۳۔بحار الانوارج١٠٤ ص٩٩،وسائل الشیعہ ج١٥،ص٢٠٢ ،کافی ج٦ ص٥٠
۴۔بحارالانوار ج١٠٤ ،ص٩٣
۵۔ وسائل الشیعہ ج١٥ ،ص١٢٦
۶۔وسائل الشیعہ ج١٥،ص ١٢٦
۷۔بحار الانوار ج٤٣ ،ص١٦١ وج٢٢ ،ص١٥٣ ،مناقب ابن شہر آشوب ج٣ص٢٣٤
۸۔مجمع الزوائدج٩،ص١٧١
۹۔مجمع الزوائدج ٨ ،ص١٥٨ ،مکارم الاخلاق،ص١١٣
۱۰۔بحار الانوار،ج١٠٤ ،ص٩٢ ،ح١٦
۱۱۔بحار الانوار ،ج٨،ص١٤٢
۱۲۔بحارالانوارج٤٣ ،ص ٤٢ تا٥٥
۱۳۔ذخائر العقبی ،ص٣٦ ،ینابیع المودۃ،ص٢٦٠
۱۴۔مکارم الاخلاق،ص١١٥
۱۵۔مستدرک حاکم ج٣،ص١٧٠،الادب المفرد،بخاری ص٣٤
۱۶۔بحارالانوارج ٣٦،ص٢٤١،کمال الدین وتمام النعمۃص١٥٢ ،الخصال ج٢،ص٧٦ ،کفایۃالاثرص ٧
۱۷۔الصواعق المحرقہ ص١٩٦ ،احقاق الحق ج١٠ ،ص٧٤٦
۱۸۔ربیع الابرار ،ص٥١٣