معصوم دہم ،پیشوائے ہشتم امام رضا علیہ السلام

بقلم: ق۔ح۔مہدوی

نور ہدایت کا طلوع
مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہی اور روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ:
حضرت امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ایک نہایت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھیں نہایت پاکیزہ اور با فضیلیت تھیں عقل و دین کے لحاظ سے اپنے زمانے میں مشہور تھیں، فرائض کی پابند اور مستحبات پر عمل پیرا تھیں اور ہر وقت ذکر و تسبیح میں مصروف رہا کرتی تھیں۔
آپ (س) خود فرماتی ہیں کہ جب حجت الہٰی حضرت رضا (ع) میرے رحم میں منتقل ہوئے تو مجھے ہر وقت احساس رہتا تھا کہ ایک غیر معمولی شخصیت اور خدا کے خاص بندے میرے شکم میں قرار پائے ہیں۔ میرے وجود میں معنویت اور عشق الہٰی کا جذبہ روز بروز بڑھتا گیا اور مجھے کبھی بھی بھاری پن یا تکلیف اور دشواری کا احساس نہیں ہوتا تھا۔
میرے فرزند تنہائیوں میں میرے مونس و انیس تھے۔ جب میں سونے لگتی تو پیوستہ تسبیح و حمد و تہلیل اپنے جسم کے اندر سے سن لیا کرتی تھی اور میں سمجھ جاتی تھی کہ یہ میرے فرزند ہیں جو اللہ کے ذکر و تسبیح میں مصروف ہیں۔
اور جب یہ نور الہی طلوع ہوا اور امام (ع) اس عالَم میں وارد ہوئے تو اپنی دونوں ہاتھوں کے بل بیٹھ گئے اور سر آسمان کی جانب اٹھایا اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دینے لگے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں راز و نیاز اور مناجات میں مصروف ہوئے اور شہادتین زبان مبارک پر جاری کیں۔ جب میرے شریک حیات حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام داخل ہوئے تو آپ (ع) نے مجھے مبارکباد دی اور میں نے بیٹا آپ (ع) کے حوالے کیا اور امام (ع) نے امام رضا علیہ السلام کے دائیں کان میں اذان کہی اور بائیں کان میں اقامہ پڑھی اور پھر آب فرات میں سے تھوڑا سا پانی امام علیہ السلام کو پلایا۔ (۱)

تمام زبانوں پر عبور
مرحوم شيخ صدوق، شيخ حرّعاملی و دیگر اکابرین بحوالہ ابوصلت ہروی نقل کرتے ہیں:
حضرت دنیا کی تمام زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ہر علاقے کے لوگوں سے ان ہی کی زبان میں مکالمہ فرمایا کرتے تھے۔ لہجے اور کلمات و الفاظ کی ادائیگی میں اہل زبان سے زیادہ فصیح تھے اور یہ بات لوگوں کے لئے حیرت کا باعث تھی۔
ابوصلت کہتے ہیں: ایک روز میں نے امام علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ اتنی زبانوں پر کیونکر عبور رکھتے ہیں اور اتنی آسانی سے مکالمہ کرتے ہیں یہ سب آپ نے کیسے سیکھا؟
امام (ع) نے فرمایا: اے ابا صلت! میں حجت اللہ اور خلیفۃاللہ ہوں اور اللہ جس کو اپنے بندوں پر اپنا خلیفہ و جانشین و راہنما قرار دیتا ہے اسے تمام زبانوں اور اصطلاحات سے آگہی بخشتا ہے تاکہ وہ عام لوگوں کی زبان سمجھے اور ان کے ساتھ ان ہی کی زبان میں بات چیت کرے اور بندگان خدا بھی اپنے امام کے ساتھ اپنی زبان میں بات کرسکیں۔
اس کے بعد امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: کیا آپ نے امیرالمؤمنین (ع) کا یہ قول نہیں سنا ہے کہ فرمایا: ہم اہل بیت عصمت و طہارت پر فصل الخطاب عطا ہوا ہے اور پھر فرمایا:
فصل الخطاب سے مراد یہ ہے کہ ہمیں تمام لوگوں کی زبانوں اور اصطلاحات سے آگہی بلکہ نہ صرف انسانوں کی زبانوں سے آگہی بلکہ تمام مخلوقات کی زبانوں سے آشنائی ہوتی ہے چاہے وہ کسی بھی نسل سے ہوں اور دنیا کے کسی بھی گوشے میں بھی ہوں۔ (۲)

امام سمندر علم امام اس کے قطرے
مرحوم علاّمہ مجلسی و اور بعض دیگر اکابرین نے کہا ہے:
امام رضا (ع) کے صحابی "علیّ بن ابی حمزہ بطائنی” حکایت کرتے ہیں:
ایک روز ہم امام علیہ السلام کی خدمت میں تھے کہ تیس حبشی غلام آپ (ع) کی مجلس میں وارد ہوئے۔ ایک حبشی نے اپنی مقامی زبان میں امام علیہ السلام کے ساتھ مکالمہ کیا اور امام (ع) بھی جواب دیتے رہے اور بات چیت کرتے رہے اس کے بعد امام (ع) نے کچھ درہم اس حبشی شخص کو دیئے اور اس کو کچھ ہدایات دیں اور اس کے بعد وہ حبشی افراد اٹھ کر چلے گئے۔
میں نے حیرت کی ساتھ عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! گویا آپ نے اس حبشی کے ساتھ اس کی مقامی زبان میں بات چیت کی، آپ نے انہیں کس چیز کا حکم دیا؟
امام (ع) نے فرمایا: اس غلام کو میں نے دوسروں سے زیادہ عقلمند پایا چنانچہ میں نے اسی کو منتخب کیا اور اس کو ہدایات دیں کہ اپنے دوستوں اور ہمراہیوں کے امور اپنے ہاتھ میں لے اور ان کے مسائل پر غور کیا کرے اور ہر ماہ ان میں سے ہر ایک کو 30 درہم بھی ادا کیا کرے۔ اور اس حبشی نے بھی میری ہدایات قبول کرلیں اور میں نے اس کو کچھ درہم بھی دیئے تا کہ وہ میری ہدایت کے مطابق اپنے دوستوں کے درمیان بانٹ لے۔
علی بن حمزہ بطائنی کہتے ہیں: اس کے بعد امام علیہ السلام نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا ان بندگان خدا کے ساتھ میرے سلوک اور ان کے ساتھ میری بات چیت نے آپ کو حیرت زدہ کردیا؟ تعجب نہ کریں کیونکہ "امام کی منزلت و مرتبت ان حدود سے بہت اونچی ہے جہاں تک آپ اور آپ جیسے افراد تصور کرتے ہیں، جو کچھ تم نے اس مجلس میں دیکھا ایک پرندے کی چونچ میں ایک قطرہ پانی جیسا ہے جو اس نے سمندر سے اٹھایا ہوتا ہے۔ کیا سمندر سے ایک قطرہ پانی اٹھانے سے سمندر کے پانی کی مقدار پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے۔
اس کے بعد امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: توجہ رکھیں اور جان لو کہ بے شک امام اور امام کا علم ایک بے انتہا اور بے ساحل سمندر کی مانند ہے جو کبھی بھی ختم والا نہیں ہے اور اس کے اندر مختلف موجودات اور جواہرات ہوتے ہیں اور جب کوئی پرندہ اس میں سے پانی اٹھا لے تو پانی میں سے کچھ کم نہیں ہوا کرتا۔ نیز امام کے علوم بے انتہا اور بے پایان ہیں اور ہر کوئی امام کے تمام علمی مراحل اور اطلاعات و معلومات کی حدود کا ادراک نہیں کرسکتا۔ (۳)

کام سے قبل اجرت کا تعین
مرحوم کلينی سلیمان بن جعفر سے حکایت کرتے ہیں:
ایک روز ہم امام رضا (ع) کے ہمراہ کسی کام کی غرض سے گھر سے نکلے اور واپسی پر امام (ع) نے فرمایا: آج رات میرے گھر آئیں اور میرے مہمان بنو۔ چنانچہ میں نے دعوت قبول کرلی۔ ہم امام علیہ السلام کے دولتکدے میں داخل ہورہے تھے تو ایک دوسرے صحابی ” مُعتّب” بھی ہمارے ہمراہ امام (ع) کے گھر مشرف ہوئے۔
ہم جب گھر میں داخل ہوئے تو خدام اور غلاموں کو دیکھا جو مویشیوں کے لئے طویلہ بنا رہے تھے۔ ایک سیاہ فام شخص بیچ گارا بنا بنا کر دوسروں کو دے رہا تھا۔ امام علیہ السلام نے دریافت کیا: یہ کون ہے تو خدام نے کہا: یہ ہماری مدد کررہا ہے اور جب کام ختم ہوگا توہم اسے اجرت بھی دیں گے۔
امام (ع): کیا اس کے لئے تم نے اجرت معین کی ہے؟
عرض ہوا: نہیں! ہم جو بھی اسے دیں گے وہ راضی ہوجائے گا۔
امام (ع) اس بات پر بہت غضبناک ہوئے اور ان کی جانب بڑھے تو میں آگے بڑھا اور عرض کیا:
یابن رسول اللہ (ص)! آپ اتنے آزردہ اور غضبناک کیوں ہوئے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے کئی بار ان سے کہا ہے کہ اس طرح مزدور نہ لایا کریں مگر یہ کہ ان کی اجرت پہلے سے ہی معین کرلیں۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ کسی کی خدمات حاصل کریں اور اس کی اجرت کا پہلے سے تعین نہ کریں تو بعد میں ممکن ہے کہ آپ جتنی بھی رقم اس کو ادا کریں وہ پھر بھی اپنے آپ کو صاحب حق تصور کرے اور اپنے آپ کو مزید رقم کا مستحق سمجھے لیکن اگر آپ پہلے سے اجرت کا تعین کریں تو جب اسے اس کی اجرت ادا کی جاتی ہے تو وہ شکریہ ادا کرے گا کیونکہ اس نے اپنی پوری اجرت وصول کی ہے اور اگر پھر آپ اجرت کے علاوہ مزید رقم بھی اسے دے دیں تو وہ اس کو آپ کی طرف سے محبت اور لطف سمجھے گا اور وہ اس محبت و لطف کو ہرگز نہیں بھولے گا۔ (۴)

لوگوں کے ساتھ طرز سلوک
مرحوم شيخ طوسی رضوان اللّہ تعالی عليہ اپنی کتاب "الرجال” لکھتے ہیں:
ایک روز امام رضا علیہ السلام کی اصحاب کا ایک گروہ آپ (ع) کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے اور یونس بن عبدالرحمن بھی حاضر تھے جو امام (ع) کے معتمد اور اہم و بلندمرتبہ انسان تھے۔
وہ آپس میں بات چیت کررہے تھے کہ اتنے میں اہل بصرہ میں سے ایک گروہ نے داخلے کی اجازت مانگی۔
امام علیہ السلام نے یونس سے فرمایا: فلان کمرے میں جائیں اور یادرکھیں کہ کوئی بھی رد عمل ظاہر نہ کریں؛ مگر یہ کہ آپ کو اجازت ملے۔
اس کے بعد امام (ع) نے بصریوں کو داخل ہونے کی اجازت دی وہ داخل ہوئے تو یونس بن عبدالرحمن کے خلاف چغل خوری میں لگ گئے اور ان کی بدگوئی کرتے ہوئے انہیں برا بھلا کہنے لگے۔
امام (ع) اپنا سر مبارک جھکا کر بیٹھی تھے اور بالکل خاموش تھے حتی کہ بصری اٹھ کر چلے گئے اور اس کے بعد آپ (ع) نے یونس بن عبدالرحمن کو باہر آنے کی اجازت دی۔
یونس غم و حزن اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ امام علیہ السلام پر وارد ہوئے اور عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! میں آپ پر فدا ہوجاؤں میں ان لوگوں کے ساتھ میری معاشرت ہے جبکہ میں نہیں جانتا تھا کہ یہ لوگ میرے بارے میں ایسی باتیں کریں گے اور مجھ پر اس طرح کے الزامات لگائیں گے۔
امام علیہ السلام نے لطف بھرے لب و لہجے میں یونس بن عبدالرحمن سے فرمایا: اے یونس! غمگین نہ ہوں۔ لوگوں کو یہ سب کہنے دیں اور جان لیں کہ ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جب آپ کا امام آپ سے راضی و خوشنود ہو فکرمندی کی کوئی بات نہیں ہے۔
اے يونس! ہمیشہ لوگوں کے ساتھ ان کی معرفت و دانائی کی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات کرنے اور ان کے لئے ان کی معرفت و دانائی کی حدود میں معارف الہی بیان کرنے کی کوشش کریں اور ایسی باتیں بیان کرنے سے پرہیز کریں جو ان کے فہم و ادراک سے بالاتر ہیں۔
اے یونس! جب آپ کے ہاتھ میں ایک نہایت قیمتی گوہر ہو اور لوگ کہہ دیں کہ یہ پتھر یا ڈھیلا ہے تو اس طرح کی باتیں آپ کے اعتقادات اور افکار میں کتنی حد تک مؤثر ہونگی؟ اور کیا لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے آپ کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچتا ہے؟
یونس کو امام (ع) کے کلام سے سکون ملا اور عرض کیا: نہیں ان کی باتیں میرے لئے ہرگز اہمیت نہیں رکھتیں۔
امام علیہ السلام نے ایک بار پھر یونس بن عبدالرحمن سے مخاطب ہوکر فرمایا: اسی طرح جب آپ نے اپنے امام کی معرفت حاصل کی ہو اور جب آپ نے حقیقت کا ادراک کیا ہو تو لوگوں کے افکار اور ان کی باتیں آپ کے اوپر ہرگز اثرانداز نہیں ہونی چاہئیں لوگ جو بھی چاہیں بولیں۔(۵)

اگر توبہ کریں تو نجات پائیں گے؟
بعض روايات میں منقول ہے:
ایک دن ایک منافق نے امام رضا علیہ السلام سے عرض کیا: آپ کے بعض شیعہ اور دوست مست کرنے والے مشروبات استعمال کرتے ہیں!؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کا شکر کہ وہ جس حال میں بھی ہوں ہدایت یافتہ ہیں اور ان کے عقائد صحیح اور صراط مستقیم پر استوار ہیں۔
اسی وقت بیٹھک میں موجود دوسرے منافق نے کہا: آپ کے بعض شیعہ نبیذ پیتے ہیں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: رسول اللہ (ص) کے بعض اصحاب بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
منافق نے کہا: نبیذ سے میری مراد شہد کا شربت نہیں بلکہ میری مراد نشہ آور شراب ہے۔
یہ بات سن کر امام (ع) کے چہرہ مبارک سے پسینہ چھوٹا اور فرمایا: خداوند متعال اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ اپنے مؤمن بندے کے دل میں ہماری محبت بھی رکھے اور شراب کی محبت بھی اس کے دل میں ہو اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوگا [کہ ایک مؤمن بندے کے دل میں ہماری محبت بھی ہو اور وہ شراب سے بھی محبت کرے]۔
امام (ع) قدرے خاموش رہے اور فرمایا: اگر کوئی اس فعل کا ارتکاب کرے اور اس سے محبت نہ رکھتا ہو او اپنے فعل سے نادم ہوجائے تو وہ روز قیامت خدائے مہربان و ہمدرد، رؤف و عطوف اور رحمدل پیغمبر (ص) اور حوض کوثر کے کنارے موجود امام و رہبر کے پاس حاضر ہوگا اور دیگر بزرگ ہستیوں کے پاس جو اس کی نجات و شفاعت کے لئے آئیں گے لیکن تم اور تمہاری طرح کے لوگ برہوت کے دردناک اور جلادینے والے عذاب میں گرفتار ہونگے۔ (۶)

ختم قرآن يا قرآن میں تفکر و تدبر
مرحوم شیخ صدوق، طبرسی اور دیگر بزرگوں نے ابراہیم بن عباس کے حوالے سے حکایت کی ہے کہ:
جتنا عرصہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں گذارا اور میں نے امام کی محفلوں اور مجلسوں میں شرکت کی میں نے دیکھا کہ امام علیہ السلام ہر سوال کا بہترین، زیباترین اور فصیح ترین جواب دیا کرتے تھے اور تمام علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھے اور آپ (ع) کا جواب قائل و مطمئن کردینے والا ہوتا تھا۔
مامون بھی ہر موقع و مناسبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امام (ع) سے پیچیدہ سوالات پوچھ لیتا تھا مگر امام علیہ السلام کبھی بھی جواب دینے سے عاجز نہیں ہوئے۔
امام (ع) کے تمام جوابات قرآن مجید کی آیات سے مستند ہوا کرتے تھے اور ساتھ ہی امام (ع) تین دن میں قرآن مجید ختم کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ "اگر چاہوں تو اس سے کم مدت میں بھی ختم قرآن کرسکتا ہوں لیکن میں تلاوت کرتے وقت ہر آیت میں تدبر و تأمل بھی کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ آیت کس موضوع میں کس واقعے کی مناسبت سے اور کب نازل ہوئی ہے اور تدبر و تأمل کے سوا کسی بھی آیت سے نہیں گذرتا چنانچہ ختم قرآن تین روز میں ممکن ہوجاتا ہے۔ (۷)

قیامت اور سوال و جواب اہم ترین نعمت
مرحوم شيخ صدوق بحوالۂ حاکم بيہقی نقل کرتے ہیں:
ایک روز حضرت علیّ بن موسی الرّضا عليہما السلام نے فرمایا: دنیا میں کوئی بھی حقیقی نعمت نہیں ہے۔
مجلس میں موجود بعض اہل دانش نے عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: لتسئلنّ يومئذٍ عن النّعيم (پھر تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور بضرور جواب طلب ہو گا)۔ (۸) جس میں "نعیم” سے مراد ٹھنڈا اور لذیذ پانی ہے، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
امام علیہ السلام نے اونچی آواز میں ارشاد فرمایا: آپ نے اس کی یوں تفسیر کی ہے ـ اور آپ لوگوں میں سے بعض نے بعض دوسروں کے لئے بھی بیان کیا ہے ـ کہ گویا اس سے مراد لذیذ طعام ہے اور بعض نے اسے میٹھی اور آرام بخش نیند سے تعبیر کیا ہے۔
بتحقیق کہ میرے والد نے اپنے والد امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (امام صادق (ع)) نے فرمایا: خداوند متعال نے اپنے بندوں کو بعض نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور یہ سب نعمتیں خدا کے تفضل اور خدا کے لطف کا نتیجہ تھیں تا کہ بندگان خدا ان سے استفادہ کریں اور ان سے بہرہ مند ہوں اور خداوند متعال نعمتوں کے حوالے سے کسی سے سوال نہیں کرتا اور ان پر احسان بھی نہیں جتاتا کیونکہ لطف و مہربانی کے عوض کسی پر احسان جتانا، بھونڈا اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ لہذا:
قرآن مجید کی آیت مبارکہ کا مطلب ہم اہل بیت رسول اللہ (ص) کی ولایت و محبت ہے جس کے حوالے سے روز قیامت خداوند متعال ـ توحید و یکتا پرستی اور رسول اکرم (ص) رسالت و نبوت کے بعد ـ ہم ائمہ اہل بیت (ع) کی ولایت و امامت کے بارے میں بھی سوال فرمائے گا۔
اور اگر انسان ان سوالات کا جواب دے سکے اور سوال دینے سے عاجز نہ آئے تو جنت میں وارد ہوگا اور اس کی دائمی اور ابدی نعمتوں سے بہرہ مند ہوگا ایسی نعمتوں سے بہرہ مند ہوگا جو باسی اور فاسد نہیں ہوتیں اور زائل ہونے والی نہیں ہیں۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد نے اپنی بزرگوار آباء و اجداد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا: یا علی! سب سے پہلی چیز جس کے بارے میں موت کے بعد سوال کیا جائے گا خدائے سبحان کی وحدانیت و یکتائی اور میری نبوت و رسالت ہے جس کے بعد آپ اور آپ کے فرزندوں کی ولایت و امامت سے سوال ہوگا اسی کیفیت و ترتیب سے جو اللہ تعالی نے مقرر فرمائی ہے۔ پس اگر انسان صحیح اور کامل طور پر اقرار کرے گا بہشت جاویداں میں داخل ہوگا اور اس کی بےانتہا نعمتوں سے بہرہ مند ہوگا۔ (۹)

تھیلی میں زہر آلود ہتھیار
مرحوم راوندی محمد بن زید رزامی کے حوالے سے حکایت کرتے ہیں:
ہم امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں تھے کہ ایک خارجی داخل ہوا جس نے اپنی تھیلی میں ایک زہر آلود ہتھیار چھپا رکھا تھا۔
خارجی نے اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ چونکہ رسول اللہ (ص) کے فرزند نے اس زمانے کے طاغوت (یعنی مأمون) کی ولایت عہدی قبول کرلی ہے لہذا میں ان سے ایک سوال پوچھتا ہوں اور اگر انھوں نے صحیح جواب نہ دیا تو اس ہتھیار سے انہیں قتل کردیتا ہوں۔
خارجی نے امام علیہ السلام سے سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں بشرطیکہ اگر میرا سوال صحیح ہوا اور تم قائل ہوئے تو جو کچھ تم نے تھیلی میں چھپا رکھا ہے اسے تھیلی سے نکال دو اور توڑ کر پھینک دو۔
اس شخص نے امام (ع) کی شرط سن لی تو حیرت زدہ ہوا اور تھیلی میں رکھا ہوا ہتھیار نکال کر توڑ دیا اور عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! اس کے باوجود کہ آپ جانتے ہیں کہ مامون طاغی اور ظالم ہے آپ اس کے امور میں کیوں داخل ہوئے اور آپ نے اس کی ولیعہدی کیوں قبول کی ہے حالانکہ یہ لوگ کافر ہیں؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: ان لوگوں کا کفر زیادہ بڑا ہے یا شاہ مصر اور اس کے درباریوں کا کفر زیادہ بڑا تھا؟ کیا یہ لوگ بظاہر مسلمان نہیں ہیں اور خدا کی وحدانیت کے معتقد نہیں ہیں؟
امام علیہ السلام نے اس کے بعد ارشاد فرمایا: حالانکہ حضرت یوسف (ع) نبی تھے اور نبی کے بیٹے اور نبی کے پوتے تھے اس کے باوجود انھوں نے مصری بادشاہ سے درخواست کی کہ انہیں خزانے، اموال اور مملکت مصر کے دیگر امور کی ذمہ داری سونپ دے اور حضرت یوسف فرعون مصر کے مقام پر بیٹھتے حالانکہ فرعون مصر کافرِ محض تھا۔ اور میں بھی رسول اللہ (ص) کے فرزندوں میں سے ایک ہوں مگر میں نے مملکت کے امور میں مداخلت کی درخواست نہیں دی بلکہ انھوں نے مجھے یہ عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا اور میں مجبوری کی بنا پر قلبی طور پر رضا و رغبت کے بغیر اس مقام میں قرار پایا ہوں۔
اس شخص نے امام (ع) کا جواب پسند کیا اور شکریہ ادا کرکے اپنی گمان باطل سے باہر نکلا۔ (۱۰)

شاعر اہل بیت (ع) کو تحائف
ابو صلت ہروی نقل کرتے ہیں:
ایک روز شاعت اہل بیت عصمت و طہارت (ع)، دعبل خزاعی شہر مرو میں امام رضا (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! میں نے آپ اہل بیت (ع) کی شان میں ایک قصیدہ کہا ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ قصیدہ آپ کو پڑھ کر سناؤں۔
امام (ع) نے فرمایا: پڑھ لیں۔
پس دعبل نے امام (ع) کے حضور قصیدہ سنانا شروع کیا اور جب اس شعر پر پہنچے: (۱۱)
دیکھ رہا ہوں کہ اہل بیت (ع) کے حقوق اور امور نااہلوں کے درمیان بٹ گئے ہیں اور ان کے ہاتھ تمام حقوق سے خالی ہیں؛ تو امام (ع) رونے لگے۔ اور فرمایا: سچ بولا آپ نے اے خزاعی! آپ نے حقیقت بیان کی ہے۔
اور جب دعبل نے یہ شعر پڑھا کہ "جب اہل بیت (ع) تنگ دستی سے دوچار ہوجائیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے غاصبین سے رجوع کریں تو وہ (غاصبین) ہر قسم کے حقوق ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور اہل بیت (ع) کے ہاتھ خالی رہتے ہیں” تو امام علیہ السلام نے اپنے ہاتھ دبائے اور اپنی ہتھیلیوں کو الٹایادیا اور فرمایا: بے شک خدا کی قسم انھوں نے ہمارے سارے حقوق کو غصب کرکے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
اور جب دعبل نے یہ شعر پڑھا کہ:
بے شک میں دنیا میں اس کے حالات سے خائف رہا ہوں لیکن مجھے امید ہے کہ موت کے بعد آپ اہل بیت (ع) کی محبت کی برکت سے امن و آسائش سے بہرہ مند ہوجاؤں۔ تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
اے دعبل! خداوند متعال آپ کو قیامت کی سختیوں اور شدائد سے امن و امان میں رکھے۔
اور جب دعبل نے یہ شعر پڑھا:
اور نفس زکیہ (حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام) کی قبر بغداد میں واقع ہے ـ خداوند متعال نے انہیں عالی ترین غُرفوں (کمروں) اور اخروی مقامات میں جگہ عنایت فرمائی ہے۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
اے دعبل! کیا آپ چاہیں گے کہ میں بھی دو اشعار آپ کے قصیدے پر اضافہ کردوں؟
دعبل نے کہا: کیوں نہیں یابن رسول اللہ (ص)!
امام علیہ السلام نے فرمایا: اور ایک قبر طوس میں ہے کہ کیا مصائب و مظالم جھیلے ہیں اس کے مالک نے ور اس کے وجود کو جفا کے زہر نے آگ لگا رکھی ہے یہاں تک کہ وہ قیامت تک جلتا رہے گا۔
اور خداوند متعال اپنی حجت (امام زمانہ مہدی آخر الزمان (عج)) کو بھیج دے گا جو ہم اہل بیت (ع) کی تمام مصیبتوں کو رفع دفع فرمائیں گے۔
دعبل نے عرض کیا: یہ قبر (جو طوس میں ہوگی) کسی کی ہے اور یہ کون ہے جو طوس میں دفن ہوگا؟۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ میری قبر ہے اور بہت زیادہ عرصہ نہیں گذرے گا کہ طوس پیروان اہل بیت (ع) اور میرے زائرین کے اجتماع کا مقام بنے گا۔
پس جس نے بھی طوس غریب الوطنی میں طوس کے مقام پر معرفت کے ساتھ میری زیارت کی وہ بخشا جائے گا اور قیامت کے روز میرے ساتھ اٹھایا جائے گا۔
اس کے بعد امام (ع) نے دعبل سے فرمایا: تھوڑا انتظار کریں اور یہیںٹھہریں۔
امام علیہ السلام اسی کے بعد گھر کی اندرونی میں داخل ہوئے اور چند لمحے بعد امام کا خادم باہر آیا اور 100 دینار دعبل کے حوالے کئے۔ اور کہا: میرے مولا و آقا نے فرمایا کہ یہ رقم اپنا سفر خرچ قرار دیں۔
دعبل نے کہا: خدا کی قسم! میں رقم لینے کے لئے حاضر نہیں آیا اور رقم لوٹاتے ہوئے کہا: اگر ممکن ہو تو امام علیہ السلام کے لباسوں میں سے ایک لباس مجھے عطا کیا جائے۔
خادم رقم لے کر امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام (ع) نے وہی رقم اپنے ایک لباس مخصوص کے ہمراہ دعبل کے لئے بھیجا۔
دعبل نے لباس اور رقم لے کر وداع کیا اور راستے میں انہیں بہت سے واقعات بھی پیش آئے جو تاریخ میں ثبت ہیں۔ جب دعبل اپنی منزل مقصود تک پہنچے تو دیکھا کہ ان کی نہایت محبوب کنیز نابینا ہوگئی ہے اور زمانے کے تمام طبیب اس کے علاج سے عاجز آگئے ہیں چنانچہ انھوں نے امام (ع) کے لباس کا ایک حصہ اس کی آنکھوں پر رکھا اور اس کی آنکھیں اسی وقت روشن ہوئیں اور بینائی لوٹ آئی… (۱۲)
محدثین اور مؤرخین نے دعبل خزاعی کے حوالے سے نقل کیا ہے:
ایک روز میں خراسان میں امام علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہوا؛ چند لمحے بیٹھا رہا حتی کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: اے دعبل! ہمیں کوئی شعر سنائیں۔
اور میں نے وہ اشعار سنائے جو میں نے خود اہل بیت (ع) کی منقبت میں کہے تھے۔
میں نے بعض اشعار سنائے تو امام علیہ السلام شدت سے روئے یہاں تک امام بیہوشی کے عالم میں پہنچ گئے۔
امام علیہ السلام کے خادم نے کہا: خاموش ہوجائیں اور میں خاموش ہوگیا حتی کہ امام (ع) ہوش میں آئے اور فرمایا:
اے دعبل! اپنے اشعار دہرائیں۔
میں نے اپنے اشعار دہرائے اور امام (ع) کی پہلی کی سے حالت ہوئی اور میں خاموش ہوگیا۔
امام جب ہوش میں آئے تو اشعار دہرانے کا حکم دیا اور امام (ع) کی حالت پھر بھی پہلی کی سی ہوئی اور جب ہوش میں آئے تو پھر بھی اشعار دہرانی کا حکم دیا چنانچہ چوتھی مرتبہ میں نے اپنے اشعار مکمل طور پر پڑھ لئے۔ اور آخر میں امام (ع) نے تین مرتبہ فرمایا:
أحسنت ، أحسنت ، أحسنت ۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے مجھے تین ہزار درہم سِکّوں کی شکل میں عطا فرمائے نیز آپ (ع) نے مجھے نہایت قیمتی کپڑے بھی عطا کئے۔ (۱۳)

سخاوت میں حرمت و آبرو
مرحوم کلينی اور بعض دیگر بزرگ امام رضا (ع) کے صحابی یسع بن حمزہ سے نقل کرتے ہیں:
ایک روز امام رضا (ع) کی مجلس میں مختلف طبقات کے نمائندے حاضر تھے اور حلال و حرام کے بارے میں سوال پوچھتے اور جواب سن رہے تھے کہ ایک بلند قامت شخص اٹھا اور سلام کے بعد عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! میں آپ کے دوستوں اور آپ کے بزرگوار اور عظیم الشان آباء و اجداد اور اہل بیت رسول (ص) کے محبین میں سے ہوں اور اس وقت میں مکہ معظمہ کا مسافر ہوں مگر میری رقم اور سفر کا سازوسامان کھو گیا ہوں اور اگر ممکن ہو تو میری مدد فرمائیں تاکہ میں اپنے وطن اور شہر و دیار (خراسان) کی طرف لوٹ سکوں؛ اور چونکہ میں صدقے کا مستحق نہیں ہوں لہٰذا گھر پہنچ کر آپ سے لی ہوئی رقم آپ کی طرف سے صدقے کے طور پر غرباء میں بانٹوں گا۔
امام (ع) نے فرمایا: خداوند مہربان آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے، یہیں بیٹھے رہیں۔
امام (ع) لوگوں کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہوئے اور ان کے مسائل کے جوابات دیئے یہاں تک کہ سوال و جواب کی مجلس برخاست ہوئی اور لوگ اٹھ کر چلے گئے لیکن میں (یسع بن حمزہ)، سلیمان جعفری اور خیثمہ مجلس میں موجود رہے۔
امام (ع) نے فرمایا: مجھے گھر کے اندر جانے کی اجازت ہے؟
سلیمان جعفری نے کہا: آپ کے قدم مبارک ہوں! آپ خود صاحب اجازت ہیں۔
امام (ع) اٹھ کر ایک کمرے میں چلے گئے اور چند لمحے بعد امام (ع) نے دروازے کی پشت سے آواز دی اور فرمایا: وہ خراسانی مرد کہاں ہے؟
خراسانی نے کہا: میں یہیں ہوں میرے مولا!
امام (ع) نے انہیں دروازے کی طرف بلایا اور دروازے کے اوپر سے دوسو درہم خراسانی مسافر کو عطا کرتے ہوئے فرمایا: یہ دو سو درہم ہیں؛ ان سے سفر کے اخراجات فراہم کریں اور انہیں تبرک کے طور پر استعمال کریں اور میری طرف سے صدقہ دینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ اور پھر فرمایا: اب جلدی سے چلے جائیں تا کہ ہم ایک دوسرے کو دوبارہ نہ دیکھ سکیں!
خراسانی مرد رقم لے کر باہر نکلا اور چلا گیا اور امام باہر تشریف لائے اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔
سلیمان جعفری نے عرض کیا: یابن رسول اللہ (ص)! ہماری جان آپ پر فدا ہو آپ نے ایسا کیوں کیا اور اس مرد پر مہربانی فرمائی اور سخاوت فرمائی اور پھر آپ نے اس شخص سے اپنا چہرہ چھپا لیا؟۔
امام (ع) نے فرمایا: میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ غریب الوطن شخص مجھ سے شرمندہ ہوجائے اور ذلت و خواری محسوس کرے۔ کیا آپ لوگوں نے نہیں سنا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ خفیہ طور پر نیکی کرنے والے کو ستر قبول حَج جتنا ثواب عطا فرمائے گا اور اعلانیہ طور پر گناہ کرنے والے کو خداوند متعال تنہا چھوڑ کر ذلیل و خوار کرتا ہے… (۱۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔عيون أخبارالرّضا عليہ السلام : ج 1، ص 20، ح 2، ينابيع المودّۃ : ج 3، ص 166، حليۃ الا برار: ج 4، ص 339، ح 5.
۲۔عيون أخبارالرّضا عليہ السلام : ج 2، ص 228، ح 3، إ ثبات الہداۃ : ج 4، ص 279، ح 91، إ علام الوری طبرسی : ج 2، ص 70.
۳۔قرب الا سناد: ص 144، بحارالا نوار: ج 26، ص 190، ح 2.
۴۔ کافی : ج 5، ص 288، ح 1.
۵۔بحارالا نوار: ج 2، ص 65، ح 5، بہ نقل از کتاب رجال کشّی .
۷۔بحارالا نوار: ج 27، ص 314، ح 12، بہ نقل از مشارق الا نوار: ص 246.
۸۔إ علام الوری طبرسی : ج 2، ص 63، عيون أخبارالرّضا عليہ السلام : ج 2، ص 180، ح 4، کشف الغمّۃ : ج 2، ص 316، بحار: ج 49، ص 90، ح 3.
۹۔ سورہ تکاثر: آيہ 8.
۱۰۔ تفسيرالبرہان : ج 4، ص 502، ح 5، بہ نقل از توحيد شيخ صدوق .
۱۱۔ الخرايج والجرايح : ج 2، ص 766، ح 86.
۱۲۔ بہ ترجمہ و مضمون اشعار اکتفاء شدہ است .
۱۳۔ إ علام الوری طبرسی : ج 2، ص 66 68، عيون أخبارالرّضا عليہ السلام : ج 2، ص 263، ح 34، رجال کشّی : ص 504، ح 970، بحار: ج 49، ص 239، ح 9.داستان مفصل ہے چنانچہ یہاں اسی مقدار پر اکتفا کیا گیا۔
۱۴۔تجريد الا غانی : ج 2، ص 2087.