ur

امام صادق علیہ السلام کی صفات و خصوصیات


باقر شریف قرشی
امام جعفر صادق علیہ السلام بہت ہی بلند و بالا اخلاق کے مالک تھے، آپ کی ذات کی بلندی یہ تھی کہ جو آپ کے ساتھ برا سلوک کرتا آپ اس پر احسان کرتے تھے۔
بلند اخلاق
مو رخین نے آپ کے بلند اخلاق کے متعدد واقعات قلم بند کئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ تاریخ میں کچھ یوں رقم ہے کہ
حاجیوں میں سے ایک شخص کو یہ وہم ہوگیا کہ اس کی رقم کی تھیلی کھو گئی ہے، اب اس کو تلاش کرنے لگا وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نماز میں مشغول تھے وہ آپ کے پاس بیٹھ گیا حالانکہ وہ امام کو پہچانتا بھی نہیں تھا جب آپ نماز پڑھ چکے تو اس نے امام سے کہا: کیا آپ نے میری رقم کی تھیلی اٹھا ئی ہے ؟
امام نے بڑے ہی نرم لہجہ میں اس سے فرمایا : اس میں کیا تھا ؟۔
اس نے کہا : ایک ہزار دینار ۔
امام نے اس کو ایک ہزار دینار عطا کر دئے جب وہ ایک ہزار دینار لیکر اپنے گھر پہنچا تو اس کو اپنی گُمشدہ تھیلی مل گئی اب اُن ایک ہزار دیناروں کو لے کر امام کی خدمت میں پہنچا، آپ سے عذر خوا ہی کی اور ہزار دینار امام کو واپس دینے لگاامام نے انھیں لینے سے انکار کر دیا اور فر مایا: ’’جو ہم عطا کردیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے ‘‘۔اس شخص کو بہت تعجب ہوا اور اس نے امام کے متعلق سوالات کئے کہ یہ کون ہیں تو اس کو بتایا گیا : یہ امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں۔
اس نے بڑے تعجب سے کہا:
یقیناًمیں نے ان کی مانند کسی کو نہیں دیکھا۔(۱)
۲۔تواضع
امام جعفر صادق کی نمایاں صفت تواضع تھی، یہ آپ کی تواضع کا ہی اثر تھا جو آپ چٹائی (۲) پر بیٹھتے اور اچھے فرش پر بیٹھنے سے انکار فرما دیتے، آپ متکبرین کو حقارت سے دیکھتے تھے، کسی قبیلہ کے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اس قبیلہ کا سردار کو ن ہے؟
ایک شخص نے جلدی سے کہا :میں
امام نے فرمایا : ’’اگر تو اس قبیلہ کا سردار ہوتا تو، میں نہ کہتا ‘‘۔(۳)
آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ ایک سیاہ فام شخص آپ کا ملازم تھا جو آپ کے کام انجام دیتا تھاایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیااور اس کی اہانت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ نبطی (غیر مسلم) ہے ۔
امام نے اس کی تردید میں فرمایا :’’انسان کی اصلیت اس کی عقل ،اس کا حسب اس کا دین، اس کا کرم اور تقویٰ ہے اور سب انسان آدمیت میں برابر ہیں‘‘۔(۴)
بیشک تواضع انسان کے ذاتی صفات کی بلندی سے ہے جس سے انسان کی شرافت اور اس کا کمال نمو پاتا ہے ۔
۳۔صبر
آپ کے بلند اخلاق میں سے ایک عظیم صفت زمانہ کے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا تھا آپ کے سامنے آپ کے فرزند اسماعیل کے انتقال کا واقعہ پیش آیاجو علم و ادب میں علویوں کا چشم و چراغ تھا، امام کے اصحاب کی ایک جماعت نے جب آپ کو مد عو کیااور آپ کے سامنے کھانا پیش کیا تو آپ کے ساتھ بعض اصحاب نے عرض کیا :اے ہمارے سید و آقا !آپ پر آپ کے فرزند ارجمند کے غم کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں ؟
امام نے جواب میں فرمایا:’’میں ایسا کیوں ہوجائوں جیسا تم سمجھ رہے ہو ،اور اصدق الصادقین (یعنی میرے جد رسول اللہﷺ)سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے اصحاب سے فرمایا :میں میت ہوں اور تم کو بھی موت آئے گی ‘‘۔(۵)
۴۔سخاوت
امام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور ان میں سب سے زیادہ نیکی اور احسان کرنے والے تھے ، راویوں نے آپ کی سخاوت کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں ،ان ہی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اشجع سلمی آپ کے پاس آیا تو آپ علیل تھے، جب اس نے آپ کی بیماری کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: ’’بیماری کو چھوڑ دو تم اپنی ضرورت بیان کرو ‘‘۔اس نے کہا :
أَلْبَسَکَ اللہ ُ مِنْہُ عَافِیَۃً
فِنَوْمِکَ المُعْتَرِ وَف أَرَقِک
یُخْرِجُ مِنْ جَسْمِکَ السَّقَامَ کَمَا
أَخْرَجَ ذُلَّ السَّوَالِ مِنْ عُنُقِکْ
’’خدا نے تم کو نینداور بیداری کے عالم میں اپنے لطف سے لباس عافیت پہنایا‘‘۔
’’خدا تمہارے جسم کی بیماریاں اسی طرح دور کرتا ہے جس طرح اس نے تم سے بھیک مانگنے کی رسوائی کو دور کیا ہے‘‘۔
امام اشعار کی دوسری بیت سے اس کی ضرورت سے آگاہ ہو گئے تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا: ’’تیرے پاس کچھ ہے ؟‘‘۔اس نے کہا :چار سودینار ،آپ نے اس کو عطا کرنے کا حکم دیدیا ۔(۶)
راویوں نے فقیروں کے ساتھ آپ کے احسان کے متعلق بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں آپ ان کو کھانا اور لباس عطا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے عیال کیلئے کھانے اور لباس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہتاتھا، آپ کے کرم کی حالت یہ تھی کہ ایک شخص کا آپ کے پاس سے گذر ہوا اس وقت آپ کھانا نوش فرما رہے تھے اس شخص نے سلام نہیں کیااور امام نے اس کو اپنے ساتھ کھانا نوش کرنے کی دعوت دی تو بعض حاضرین نے امام کے ایسا کرنے پر اعتراض کیااور آپ سے کہا: سنت ہے کہ وہ پہلے سلام کرے پھر اس کی دعوت کی جا ئے حالانکہ اس نے سلام نہیں کیا ہے ؟امام مسکرائے اور اس سے فرمایا :’’ھذا فَقہ عراق فیہ بُخل‘‘۔(۷) ’’یہ عراقی فقہ ہے اور اس میں بخل پایا جاتا ہے‘‘ ۔
۵۔مخفی طور پر آپ کے صدقات
امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے دادا امام زین العابدین کی طرح رات کی تاریکی میں فقیروں کی مدد کرتے تھے حالانکہ وہ آپ کو پہچانتے بھی نہیں تھے، آپ رات کی تاریکی میں روٹی، گوشت اور درہموں سے بھرے ہوئے تھیلے اپنی پیٹھ پر لاد کر ضرورت مندوں کے پاس جاتے اور ان کے درمیان تقسیم کرتے تھے جبکہ وہ لوگ آپ کو پہچانتے بھی نہیں تھے ،آپ کے انتقال کے بعد ان کومعلوم ہوا کہ ان کے ساتھ صلہ ٔ رحم کرنے والےامام جعفر صادق علیہ السلام تھے۔ (۸)
آپ کے صلہ ٔ رحم کے بارے میں اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے مجھے امام جعفر صادق نے پچاس درہم کی تھیلی دے کر فرمایا :’’اس کو بنی ہاشم کے ایک شخص کو دے آئو اور اس کو یہ مت بتانا کہ میں نے یہ پچاس درہم تمھیں دئے ہیں ‘‘۔میں نے وہ پچاس درہم لیکر اس شخص کو پہنچا دئے، جب میں نے وہ پچاس درہم اس شخص کو دئے تو اس نے مجھ سے سوال کیا :یہ درہم تمھیں کس نے دئے ہیں ؟میں نے اس کو بتایا کہ یہ اس شخص نے دئے ہیں جو تم سے اپنا تعارف کرانا نہیں چاہتا ۔علوی نے کہا : یہ شخص میرے لئے ہمیشہ اسی طرح رقم بھیجتا رہتا ہے جس سے ہماری زندگی بسر ہو رہی ہے ،لیکن جعفر کثرت مال کے باوجود میرے پاس کو ئی درہم نہیں بھیجتا ۔(۹)
امام اللہ کی مرضی اور دار آخرت کی خاطر اپنے صدقات کو مخفی رکھتے تھے۔
۶۔ حاجت روائی میں سبقت کرنا
جب کو ئی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے میں کو تاہی کرتا تھاتو آپ اس کی حاجت پوری کرنے میں بہت جلدی فرماتے، آپ سے اس کے بارے میں کہا گیا: آپ کسی کی حاجت روائی میں اتنی جلدی کیوں کر تے ہیں؟ تو امام نے فرمایا: ’’میں اس چیز سے خوف کھاتا ہوں کہ کو ئی دوسرا شخص اس کی حاجت پوری کردے اور مجھے اس کا اجر نہ مل سکے ‘‘۔
اسی طرح امام ہرطرح کے کرم و فضیلت کے لئے ایک نمونہ تھے ۔
۷۔آپ کی عبادت
امام جعفر صادق اپنے آباء و اجداد کی طرح اللہ کی عبادت اور اطاعت کیاکر تے تھے، آپ اپنے زمانہ کے لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے، آپ اپنے خالی اوقات کو نماز میںصَرف کرتے ،آپ واجب نماز کی نافلہ نمازیں بہت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ بجالاتے، اکثر ایام میں روزہ رکھتے۔
جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ اس کا بہت ہی شوق کے ساتھ استقبال کرتے، آپ سے بہت سی وہ دعا ئیں نقل ہوئی ہیں جن کو آپ ماہ رمضان کے دنوں اور رات میں پڑھا کرتے تھے۔
آپ نہایت ہی خضوع کے ساتھ حج بیت اللہ انجام دیتے تھے، سفیان ثوری سے روایت ہے:
خدا کی قسم میں نے جعفر بن محمد کو جس طرح مشعر میںکھڑے ہوکرتضرع اور گریہ و زاری کرتے دیکھا اس طرح کسی بھی حاجی کو نہیں دیکھا ،جب آپ عرفات پہنچے تو آپ نے لوگوں کے ایک جانب ہو کر موقف میں دعاکی ۔(۱۰)
بکربن محمد ازدی سے روایت ہے :
میں نے طواف کیا تو میرے ہی ایک پہلو کی طرف ابو عبد اللہ نے طواف انجام دیا جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے خانہ ٔ کعبہ اور حجر اسما عیل کے مابین دو رکعت نماز ادا کی اور میں نے آپ کو سجدہ میں یہ کہتے سُنا :
”سَجَدَ وَجْھِْ لَکَ تَعَبُّداً وَرِقّاً،لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ حَقّاً حَقّاً، اَلْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئ،وَھَاأَنَا ذَا بَیْنَ یَدَیْکَ، ناصیتْ بِیَدِکَ، فَاغْفِرْلِْ،اِنَّہُ لَایَغْفِرُالذَّنْبَ الْعَظِیْمَ غَیْرُکَ فَاغْفِرلِْ ”۔(۱۱)
امام جعفر صادق عبادت میںاس شخص کیلئے اسوئہ حسنہ تھے جو توبہ کرے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔
مختصر حکمت آمیز کلمات
راویوں نے امام صادق علیہ السلام کے متعدد مختصر حکیمانہ کلمات نقل کئے ہیں جو انسان کے لئے مختلف امور تمام ضروریات اور بلند و بالا اسوۂ حسنہ ہیں ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :
امام جعفر صادق فرماتے ہیں:
۱۔’’جب تم کسی مسلمان سے کو ئی بات سنو تو اس کواپنے اندر موجود کسی اچھا ئی پر حمل کرواور اگر تمہارے اندر وہ چیز محمول نہیں ہو پا رہی ہے تو اپنے نفس کی ملامت کرو‘‘۔(۱۲)
۲۔’’خداوند عالم جسے معصیت کی ذلت سے اپنی اطاعت کی عزت کی طرف لے جاتا ہے تو اسے بغیر مال کے غنی ، بغیر انیس و مو نس کے مانوس ،اوربغیر قوم و قبیلہ کے عزت عطا کر تا ہے ‘‘۔
۳۔’’تم لوگوں میں کفر کی حد سے وہ شخص زیادہ قریب ہے جواپنے مومن بھا ئی کی لغزش کو اس لئے بچا کر رکھے تاکہ کسی دن اسے ذلیل کر سکے ‘‘۔
۴۔’’بیشک گناہ ،رزق سے محروم کر دیتا ہے‘‘ ۔(۱۳)
۵۔’’سب سے بڑا گناہ ہم پر نازل ہونے والی چیز کا انکار کرنا ہے‘‘(۱۴)
۶۔’’ہر مرض کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے‘‘۔(۱۵)
۷۔’’دل کو اس کی جگہ سے ہٹانے سے زیادہ پہاڑوں کوہٹاناآسان ہے‘‘۔(۱۶)
۸۔’’جب تمہارے دنیاوی امور صحیح ہو جا ئیں تو اپنے دین کو متہم کرو‘‘۔(۱۷)
۹۔’’دو مو من جب کبھی ایک دوسرے سے ملاقات کریں تو اُن میں وہ شخص زیادہ صاحب فضیلت ہے جس کے دل میں اپنے دوست سے محبت زیادہ شدید ہو تی ہے‘‘۔(۱۸)
۱۰۔’’کو ئی بندہ اس وقت تک مو من نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر خوف و رجا مو جود نہ ہوں اور خوف وامیداس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک وہ اُن چیزوں پر عمل پیرا نہ ہو جس سے ڈرا جاتا ہے اورجن کی امید کی جا تی ہے‘‘۔(۱۹)
۱۱۔’’میں اپنے ان برادران کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں جو مجھے میرے عیوب کی نشان دہی کرائیں‘‘۔(۲۰)
۱۲۔’’وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جس کی زبان سے کہے ہوئے لفظ اس کے اعمال اور آثار کے خلاف ہو، لیکن وہ ہمارے شیعوں میں سے ہے جس کی زبان اور دل ایک ہو ،ہمارے احکام کی اتباع کرے، ہمارے اعمال کے مانند اعمال انجام دے‘‘۔(۲۱)
۱۳۔’’سچی نیت والے کا دل بھی صحیح و سالم ہوتا ہے‘‘(۲۲)
۱۴۔’’اپنی طرف سے اپنے بھا ئی کو بُرا بھلا کہنے کی ابتدا نہ کرو‘‘۔(۲۳)
۱۵۔’’تمہارا راز تمہارے خون کے اندر پوشیدہ ہے لہٰذا اسے کسی دوسرے کی رگوں میں جا ری نہ کرو‘‘۔(۲۴)
۱۶۔’’حرام کما ئی کا اثراولاد میں ظاہر ہو تا ہے‘‘۔(۲۵)
۱۷۔’’جس کی نیت صحیح ہو تی ہے اللہ اس کا رزق زیادہ کرتا ہے‘‘۔(۲۶)
۱۸۔’’جس شخص سے تمھیں اپنے جھٹلائے جانے کا خوف ہو اس سے گفتگو نہ کرو، جس سے تمھیں انکار کا خوف ہو اس سے سوال نہ کرو ، اس سے مطمئن نہ ہوجس سے تمھیں دھوکہ کا خوف ہو‘‘۔(۲۷)
۱۹۔’’امر بالمعروف برائی کو دور کرتا ہے ،صدقہ پروردگار عالم کے غضب کوخاموش کردیتا ہے، صلہ ٔ رحم سے عمر میں اضافہ اور فقر و تنگدستی دور ہو تی ہے اور’’ لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ‘‘ کہناجنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے‘‘۔(۲۸)

حوالہ جات
۱۔حیاۃالامام جعفر صادق ،جلد ۱، صفحہ ۶۶۔
۲۔النجوم الزاہرہ جلد ۵ ،صفحہ ۱۷۶۔
۳۔الطبقات الکبریٰ جلد ۱،صفحہ ۳۲۔
۴۔حیاۃ الامام جعفر صادق، جلد۱ ،صفحہ ۶۶۔
۵۔مناقب آل ابی طالب ،جلد ۴،صفحہ ۳۴۵۔امالی طوسی ،جلد ۱صفحہ ۲۸۷۔
۶۔تاریخ اسلام، جلد ۶، صفحہ ۴۵۔مرآۃ الزمان، جلد ۶، صفحہ ۱۶۰۔تہذیب الکمال، جلد ۵، صفحہ ۸۷۔
۷۔حیاۃالامام صادق ، جلد ۱،صفحہ ۶۴۔
۸۔حیاۃالامام صادق جلد ۱،صفحہ ۶۴۔
۹۔مجموعہ ٔ ورّام، جلد ۲، صفحہ ۸۲۔
۱۰۔حیاۃالامام صادق ،جلد۱،صفحہ ۷۱۔
۱۱۔قرب الاسناد ،صفحہ ۲۸۔
۱۲۔جمہرۃ الاولیاء ،جلد ۲،صفحہ ۷۹۔
۱۳۔الغایات ،صفحہ ۱۰۰۔
۱۴۔الغایات ،صفحہ ۸۵۔
۱۵۔جامع الاخبار، صفحہ ۲۲۔
۱۶۔تحف العقول ،صفحہ ۳۰۵۔
۱۷۔الحکم الجعفریہ ،صفحہ ۴۶۔
۱۸۔محاسن صفحہ ،۲۰۹۔
۱۹۔مجموعۂ ورّام جلد ۲،صفحہ ۱۸۵
۲۰۔تحف العقول، صفحہ ۳۶۶۔
۲۱۔اصول کافی ،جلد ۲صفحہ ۱۹۶۔
۲۲۔حیاۃالامام جعفر صادق ،جلد ۴، صفحہ ۴۸۱۔
۲۳۔امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۴۔
۲۴۔ امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۱۔
۲۵۔امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۷۔
۲۶۔المحاسن، صفحہ ۲۰۷۔
۲۷۔تذکرہ ابی حمدون ،صفحہ ۸۵۔
۲۸۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳،صفحہ ۱۱۶۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔