ur

ماں باپ کی ذمہ داری


مصنف:آیت اللہ ابراہیم امینی

اسلام کی نظر میں ماں باپ کا مقام بہت بلند ہے ۔ اللہ تعالی نے، رسول اکرام نے اور آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس بار ے میں بہت تا کید کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی آیات اور روایات موجود ہیں ۔ ماں باپ سے حسن سلوک کو بہترین عبادات میں سے شمار کیا گیا ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے ۔
وقضی ربک الا تعبد و االا آیاہ و لاوالدین احسنا
اورتیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرو ۔ (۱)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے ۔
تین چیزین بہترین عمل ہیں :
۱۔ پابندی وقت کے ساتے نماز پنجگا نہ کی ادائیگی ۔
۲۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک
۳۔ را خدامیں جہاد(۲)
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماں ماپ کو یہ مرتبہ کیوں اور کیوں کرملا ہے ؟ کیا اللہ تعالی نے انہیں یہ مقام بلا وجہ عطا کردیا ہے یا ان کے کسی قیمتی عمل کی وجہ سے ؟ ماں باپ بچے کے لیے کون سابڑا کام انجام دیتے ہیں کہ جس کے باعث وہ اس قدر مقام و خدمت کے لائق قرار پاتے ہیں ۔ باپ نے ایک جنسی جذبے کی تسکین کے لیے ایک خلیہ حیات رحم مادر میں منتقل کیا ہے ۔ یہ سیل ماں کی جانب سے ایک اور سیل کے ساتھ مل کرمرکب ہو جاتا ہے جو ایک نئے وجود کے طور پر رحم مادر میں پرورش پاتا ہے ۔ جونو ماہ کے بعد ایک ننھے منے بچے کی صورت میں زمین پر قدم رکھتا ہے ۔ ماں اسے دودھ او رددسری غذا دیتی ہے ۔ اسے کبھی صاف کرتی ہے، کبھی کپڑ ے بدلتی ہے، اس کی تری اور خشکی کا خیال رکھتی ہے، ان مراحل میں باپ خاندان کے اخراجات پورے کرتا ہے اوران کی دیکھ بھال کرتا ہے ۔ کیاماں باپ کی ان کاموں کے علاوہ کوئی ذمہ داری نہیں ؟ کیا انہی کاموں کی وجہ سے ماں باپ کو اس قدر بلند مقام حاصل ہے ؟ کیا صرف ماں باپ اپنی اولاد پر حق رکھتے ہیں اور اولاد اپنے مان باپ پر کوئی حق نہیں رکھتی ؟ میرے خیال میں ایسا یک طرفہ حق تو کوئی بھی قبول نہیں کرتا ۔ احادیث معصومین علیم السلام میں ایسے حقوق اولاد بھی بیان فرمائے گئےہیں کہ جن کی ادائیگی ماں باپ کی ذمہ داری ہے ۔ ان میں سے چند احادیث ہم ذیل میں ذکر کر تے ہیں :
۱۔ پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا :
چنانچہ جس طرح تیرا باپ تجھ پر حق رکھتا ہے تیری اولاد بھی پر حق رکھتی ہے۔(۳)
۲۔پیغمبر اکر مﷺ نے فرمایا :
جیسے اولاد اپنے ماں باپ کس نا فرمانی کی وجہ سے عاق ہو حاتی ہے اسی طرح سے ممکن ہے ماں باپ بھی اپنے فریضے کی عدم ادائیگی کے باعث اولاد کی طرف سے عاق ہو جائیں ۔(۴)
۳۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا :
خدا ایسے ماں باپ پر لعنت کرے جو اپنی اولاد کے عاق ہونے کا باعث بنیں۔(۵)
۴۔ اما م سجاد علیہ السلام نے فرمایا :
تیر ی اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اس پر غور کر کہ وہ بری ہے یااچھی ہے بہر حال تجھی سے وجود میں آئی ہے اوراس دنیا میں وہ تجھی سے منسوب ہے اور تیری ذمہ دار یہے کہ تو اسے ادب سکھا، اللہ کی معرفت کے لیے اس کی راہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کی مددکر، تیرا سلوک اپنی اولاد کے ساتھ ایسے شخص کاساہونا چاہیے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھی جزا ملے گی اور بد سلوکی کے باعث اسے سزاملے گی ۔(۶)
۵۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
‘کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری وجہ سے تیرا خاندان اور تیرے اقربا بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوجائیں ۔ (۷)
۶۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
جو کوئی بھی یہ چاہتا ہو کہ اپنی اولاد کو عاق ہونے سے بچائے اسے چاہیے کہ نیک کاموں میں اس کی مدد کرے۔(۸)
۷۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:
‘جس کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے خوب ادب و اخلاق سکھائے ، اسے تعلیم دینے کے لیے کوشش کرے، اس کے لیے آرام و آسائش کے اسباب فراہم کرے تو وہ بیٹی اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گی ۔(۹)
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
یا ایہا الذین آمنوا قو اانفسکم و اہلیکم ناراً وقودہا الناس و الحجارۃ ۔
اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں ۔(۱۰)
بچے نے جب کہ ابھی وضع زندگی کے بارے میں کوئی راستہ متعین نہیں کیا ہوتا اور سعادت و بدبختی ہر دو کی اس میں قابلیت ہوتی ہے اس سے ایک کامل انسان بھی بنایا جا سکتا ہے اور ایک گھٹیا درجے کا حیوان بھی ۔ ہر انسان کی سعادت اور بدبختی اس کی کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کی ذمہ داری ماں باپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ اصولاً ماں باپ کا معنی یہی ہے ۔ ماں باپ یعنی انسان ساز اور کمال بخشنے والے دو وجود ۔ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لیے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق ، مہربان، انسان دوست ، خیرخواہ، حریت پسند، شجاع ، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند ، با ایمان فرض شناس ، سالم ، محنتی ، تعلیم یافتہ ، اور خدمت گزار بننے کی تربیت دیں ۔
ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کو اس طرح سے ڈھالیں کہ وہ دنیا میں بھی سعادت مند ہو اور آخرت میں بھی سرخرو۔ ایسے ہی افراد در حقیقت ماں باپ کے عظیم مرتبے پر فائز ہو سکتے ہیں نہ وہ کہ جنہوں نے ایک جنسی جذبہ کے تحت اولاد کو وجود بخشاہے اور اسے بڑا ہونے کے لئے چھوڑدیا ہے کہ وہ خود بخود تر بیت پائے ۔

پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
باپ جو اپنی اولاد کو بہترین چیز عطا کرسکتا ہے وہ اچھا ادب اور نیک تربیت ہے ۔ (۱۱)
خصوصاً ماں کی اس سلسلے میں زیادہ اہمیت ہے ۔ حتی کہ دوران حمل بھی اس کی خوراک اور طرز عمل بچے کی سعادت اور بدبختی پر اثر انداز ہوتا ہے ۔
پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:
خوش نصیب وہ ہے کہ جس کی خوش بختی کی بنیاد ماں کے پیٹ میں پڑی ہو اور بدبخت وہ ہے جس کی سعادت کا آغاز شکم مادر سے ہوا ہو ۔(۱۲)
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
الجنۃ تحت اقدام الامہات ۔ (۱۳)
جو ماں باپ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنادیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ایسے ماں باپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا اس بے گناہ بچے نے تقاضا کیا تھا کہ تم اسے وجود بخشو کہ اب وجود میں لانے کے بعد اسے تم نے گائےکے بچھڑے کی طرح چھوڑدیا ہے ۔ اب جب کہ تم اس کے وجود کا باعث بن گئے ہو تو شرعاً اور عقلا ً تم ذمہ دار ہو کہ اس کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کرو ۔ لہٰذا تعلیم و تربیت ہر ماں باپ کی عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے ۔
اس کے علاوہ ماں باپ معاشرے کے سامنے بھی جواب وہ ہیں ۔ آج کے بچے ہی کل کے مرد او رعورت ہیں ۔ کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پاناہے ۔ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسی پر عمل کریں گے ۔ اگر ان کی تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تراور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کی نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضروری ہے کہ کل کا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرارپائے ۔ کل کی سیاسی ، علم اور سماجی شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گی ۔ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہیں ۔ آج کے بچے کل کے مربی قر ار پائیں گے ۔ اور اگر انہوں نے اچھی تربیت پائی ہوگی تو اپنی اولاد کو بھی ویسا ہی بنالیں گے اور اسی طرح اس کے برعکس ۔ لہٰذا اگر ماں باپ چاہیں تو آئندہ آنے والے معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں اور اسی طرح اگرچاہیں تو اسے برائی اور تباہی سے ہمکنار کرسکتے ہیں ۔ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کی حوالے سے بھی ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہیں ۔ اگر وہ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو انہوں نے گویا معاشرے کی ایک عظیم خدمت سرانجام دی ہے او روہ اپنی زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینی طور پر بارگاہ الٰہی میں جواب دہ ہوں گے ۔
تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ماں باپ اولاد کی تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں اساتذہ ، انجینئرز، ڈاکٹرزاور علماءکے کاموں پر بھاری ہیں ۔ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پروان چڑھاتے ہیں اور ایک لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجینئر وجود میں لاتے ہیں ۔
خاص طور پر مائیں بچوں کی تربیت کے بارے میں زیادہ ذمہ داری رکھتی ہیں اور تربیت کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھا گیا ہے ۔ بچے اپنے بچپن کا زیادہ عرصہ ماؤں کے دامن میں ہی گزارتے ہیں ۔ اور آئندہ زندگی کے رخ کی بنیاد اسی زمانہ میں پڑتی ہے ۔ لہٰذا افراد کی خوشبختی اور بدبختی اور معاشرے کی ترقی او رتنزلی کی کنجی ماؤں کے ہاتھ میں ہے ۔ عورت کا مقام وکالت وزارت ، اور افسری میں نہیں یہ سب چیزیں مقام مادر سے کہیں کم تر ہیں۔ مائیں کامل انسانوں کی پرورش کرتی ہیں اور صالح وزیر، وکیل ، افسر اور استاد پروان چڑھاتی ہیں اور معاشرے کو عطا کرتی ہیں ۔
جو ماں باپ پاک، صالح اور قیمتی بچے پروان چڑھاتے ہیں نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اولاد اور معاشرے کی خدمت کرتے ہیں بلکہ خود بھی اسی جہان میں ان کے وجود کی خیر وخوبی سے بہرہ مند ہوتے ہیں ۔ نیک اولاد ماں باپ کی سرافرازی کا سرمایہ ہوتی ہے اور ناتوانی کے زمانے میں ان کا سہارا ہوتی ہے ۔ اگر ماں باپ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو اسی دنیا میں اس کا نتیجہ دیکھیں گے اور اگر اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو اسی دنیا میں اس کا ضرر بھی دیکھ لیں گے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
بری اولاد انسان کے لیے بڑی مصیبتوں میں سے ہے ۔ (۱۴)
حضرت علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایاہے:
بری اولاد ماں باپ کی آبروگنوادیتی ہے اور وارثوں کو رسوا کردیتی ہے ۔(۱۵)
پیغمبر اسلام ﷺنے فرمایا:
خدا رحمت کرے ان ماں باپ پر جنہوں نے اپنی اولاد کو تربیت دی کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں ۔(۱۶)
لہٰذا جو ماں باپ بن جاتے ہیں ان کے کندھے پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑتی ہے او ریہ ذمہ داری خدا کے حضور بھی مخلوق کے روبرو بھی اور اولاد کے سامنے بھی ہے ۔ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کردیا تو ان کے لئے ایک عظیم خدمت انجام دی ہے ، وہ دنیا و آخرت میں اس کا نیک صلہ پائیں گے ۔ لیکن اگر انہوں نے اس معاملے میں کوتاہی کی تو خود بھی نقصان اٹھائیں گے اور اپنی اولاد اور معاشرے کے ساتھ بھی خیانت اور ناقابل بخشش گناہ کے مرتکب ہوں گے ۔
حوالہ جات
(۱)۔ بنی اسرائیل 23
(۲)۔اصول کافی ج 2 ص 158
(۳)۔مجمع الزوائد ، ج 8 ، ص 146
(۴)۔ بحار ، ج 10 ،ص 93
( ۵)۔ مکارم الاخلاق ، ص 518
(۶)۔مکارم الاخلاق ص 484
(۷)۔غررالحکم ص 802
(۸)۔مجمع الزوائد ج 8 ص 146
(۹)۔مجمع الزوائد ۔ ج 8 ۔ ص 158
(۱۰)۔سورہ تحریم ۔ آیہ 6
(۱۱)۔مجمع الزوائد ۔ ج 8 ص 159
(۱۲)۔بحار الانوار ۔ ج 77 ۔ ص115۔133
(۱۳)۔مستدرک ۔ ج 2 ۔ ص 638
(۱۴)۔غرر الحکم ۔ ص 180
(۱۵)۔غررالحکم ۔780
(۱۶)۔مکارم الاخلاق۔ ص 517