ur

تربیت کرنے والوں کی آگاہی اور باہمی تعاون

39

مصنف:آیت اللہ ابراہیم امینی

تربیت کرنے والوں کی آگاہی اور باہمی تعاون
بچے کی تربیت کوئی ایسی سادہ اور آسان سی بات نہیں ہے کہ جسے ہر ماں باپ آسانی سے انجام دے سکیں ۔ بلکہ یہ کام بہت سی باریکیوں اور ظرافتوں کا حامل ہے ۔ اس میں سینکڑوں بال سے باریک تر نکات موجود ہیں ۔ مربی کا تعلق بچے کی روح سے ہوتا ہے ۔ وہ روحانی ، نفسیاتی علمی اور تجرباتی پہلوؤں سے آگاہی کے بغیر اپنی ذمہ داری بخوبی انجام نہیں دے سکتا ۔ بچے کی دنیا ایک اور ہی دنیا ہے اور اس کے افکار ایک اور ہی طرح کے افکار ہیں اس کی سوچوں کا انداز مختلف ہوتا ہے ، جس کا بڑوں کے طرز تفکر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا بچے کی روح نہایت ظریف اور حساس ہوتی ہے اور ہر نقش سے خالی ہوتی ہے اور ہر طرح کی تربیت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتی ہے ۔ بچہ ایک ایسا چھوٹا سا انسان ہوتا ہے ، جس نے ابھی تک ایک مستقل شکل اختیار نہیں کی ہوتی جب کہ ہر طرح کی شکل قبول کرنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے ۔ بچے کے مربی کو انسان شناس اور بالخصوص بچوں کا شناسا ہونا چاہیے ۔ تربیت کے اسرار و رموز پر اس کی نظر ہونی چاہیے ۔ انسانی کمالات او رنقائص پر اس کی نگاہ ہونے چاہیے ۔ اس کے اندر احساس ذمہ داری بیدار ہونا چاہیے اور اسے اپنے کام سے دلچسپی بھی ہونا چاہیے ۔ اسے صابراور حوصلہ مند ہونا چاہیے اور مشکلات سے ہراسان نہیں ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازین تربیت کے قوانین سو فیصد کلی نہیں ہوتے کہ جنہیں ہر جگہ پر اور ہر کسی کے لیے قابل اعتماد قرار دیا جا سکے ۔ بلکہ ہر بچے کی اپنی جسمانی ساخت اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی ہی خصوصیات ہوتی ہیں لہٰذا اس کی تربیت، اس کی جسمانی ساخت ، عقلی قوتوں ، حالات اور ماحول کے تقاضوں کی مناسبت سے ہونی چاہیے ۔ ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کی جسمانی ساخت کا صحیح طرح سے جائزہ لیں اور اسی کے پیش نظر اس کی تربیت کریں ورنہ ممکن ہے ان کی کوششوں کاوہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکے جو ان کی خواہش ہے ۔
مرداور عورت کو چاہیے کہ ماں باپ بننے سے پہلے بچے کی تعلیم و تربیت کے طریقے سے آگاہی حاصل کریں ۔ اس کے بعد بچے کی پیدائش کے لئے اقدام کریں ، کیوں کہ بچے کی تربیت کامرحلہ اس کی ولادت سے بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہوجاتاہے ۔ اس حساس عرصے میں بچے کی لطیف اور حساس طبیعت کوئی شکل اختیار کرتی اور اس کے اخلاق، کردار ، عادات حتیٰ کہ افکار کی بنیاد پڑتی ہے ۔
یہ صحیح نہیں ہے کہ ماں باپ اس حاس عرصے میں غفلت سے کام لیں اور تعلیم و تربیت کو آئندہ پر ٹال دیں ۔ یعنی تعلیم و تربیت کو اس وقت پر اٹھانہ رکھیں کہ جب بچہ اچھے یا برے اخلاق و کردار یا اچھی یا بری عادتوں کے بارے میں تقریبا ایک مزاج اختیار کرچکا ہو ۔ کیونکہ ابتدائی مراحل میں تربیت عادتوں کے تبدیل کرنے کی نسبت کہیں آسان ہے ۔ عادت کا تبدیل کرنا اگرچہ ناممکن نہیں تا ہم اس کے لیے بہت زیادہ آگاہی، صبر ، حوصلہ اور کوشش کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سب تربیت کرنے والوں کے بس کی بات نہیں ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اصعب السیاسیات نقل العادات
’’مشکل ترین سیاست لوگوں کی عادات کو تبدیل کرنا ہے ’’ (۱)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
للعادۃ علی کلّ انسان سلطان
عادت انسان پر مسلط ہوجاتی ہے ۔ (۲)
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’العادۃ طبع ثان‘‘
’’عادت فطرت ثانیہ بن جاتی ہے ‘‘ ۔ (۳)
ترک عادت اس قدر مشکل ہے کہ اسے بہترین عبادتوں سے شمار کیا گیا ہے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’افضل العبادۃ غلبۃ السعادۃ‘‘
’’ بری عادت پر غلبہ پالینا افضل ترین عبادتوں میں سے ہے ‘‘(۴)
بچے کو راہ کمال پر تربیت دینے کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی اہم ہے کہ ماں باپ اور دیگر تمام مربیوں کے درمیان فکری اور عملی طور پر تربیت کے تمام پروگراموں میں اور ان کے اجراء کی کیفیت میں ہم آہنگی اور تفاہم موجود ہو ۔ اگر ماں باپ اور دیگر لوگ کہ جن کا بچے کی تربیت میں عمل دخل ہو مثلاً دادا اور دادی و غیرہ ان کے درمیان تربیتی پروگراموں میں اتفاق اور ہم آہنگی موجود ہو اور ان کے اجراء وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں اور ایک اچھا اور ممتاز بچہ پروان چڑھا سکتے ہیں ۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی تربیت کے بارے بے اعتناء یا تربیتی امور میں خلاف سلیقہ رکھتا ہو تو مراد حاصل نہیں ہوسکتی کیونکنہ تربیت کے مسئلہ میں مکمل یقین اور ہم آہنگی ضروری ہے ۔
بچے کو اپنے فریضے سے آگاہی ہونا چاہیے ۔ جب ماں باپ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور دادا دادی اور تو بچہ حیران و پریشان ہوجاتا ہے ۔ اسے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرے ۔ بالخصوص اگر ان میں سے ہر کوئی اپنے نظریے پر زور دے رہا ہو ۔ ایسی صورت میں نہ فقط یہ کہ اچھا نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ ایسا ہوتا تربیت میں نقص کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ تربیت کی بڑی مشکلات میں سے یہ ہے کہ بچے کے بارے میں باپ کچھ فیصلہ کرے اور ماں یا دادی اس میں دخالت کرکے اس کے برخلاف عمل کرے یا پھر اس کے الٹ مسئلہ ہو ۔ مربیوں کے درمیان ایسے اتفاق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے کہ جس سے بچہ واضح طور پر یہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس کی خلاف ورزی کا خیال اس کے ذہن میں نہ آئے ۔
کبھی یوں ہوتا ہے کہ باپ ایک خوش اخلاق اور اچھا تربیت یافتہ بچہ پروان چڑھانا چاہتا ہے لیکن ماں بداخلاق اور بے تربیت ہوتی ہے اسے تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ یہ مشکل بہت سے گھرانوں میں نظر آتی ہے ۔ ایسے خاندانوں میں پرورش پانے والے بچے عموماً اچھی اور صحیح تربیت کے حامل نہیں ہوتے کیونکہ ایک تربیت یافتہ اور صالح فرد کی تربیت اس کی ناصالح بیوی کے سبب بے اثر ہوجاتی ہے ۔ اس صورت میں صحیح تربیت بہت مشکل امر بن جاتا ہے البتہ ایسی دشواریں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تربیت کی ذمہ داری سے دست بردار ہوجائیں ۔
ایسی صورت میں تربیت کی ذمہ داری اور بھی ہواہوجاتی ہے ۔چاہیے کہ ایسی صورت میں اولاد کی تربیت کے بارے میں زیادہ توجہ دی جائے۔ اپنے اخلاق و کردار کی پوری طرح اصلاح کی جائے اور بچوں کی زیادہ دیکھ بھال سے کام لیا جائے اور ان سے زیادہ سے زیادہ مانسیت پیدا کی جائے ۔ اچھے کام اور خوش رفتاری کے ذریعے بچوں کی توجہ اپنی طرف جذب کی جائے اور ان کے لیے بہترین نمونہ عمل بن جایا جائے ۔ اپنے بچوں سے تفاہم پیدا کیا جائے ۔ اچھائی برائی اور نیکی بدی کا مفہوم ان کے سامنے کامل طور پر واضح کیا جائے ۔ ایسا عمل کیا جائے کہ بچہ خودبخود اچھے اور برے اخلاق کے درمیا ن تمیز کرسکے اور برائیوں سے متنفر ہو جائے ۔ اگر مرّبی عاقل ، تدبر، صابر، اور حوصلہ مند ہو تو کسی حد تک اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے اور اپنی بیوی کی غلط تربیت اور بدآموزی کی اثرات زائل کرسکتا ہے ۔ بہر حال یہ ایک مشکل اور اہم کام ہے لیکن کے علاوہ چارہ بھی نہیں ۔
ایک دانشور کا قول ہے :
وہ خاندان کہ جس میں ماں اور باپ کی تربیت کے بارے میں ہم فکر ہیں اور اپنے کردار اور رفتار کو اس کے مطابق ڈھالتے ہیں تو بچے کے اعصاب کے لیے مناسب ماحول مہیا ہوجاتا ہے ۔ خاندان ایک ایسا چھوٹا سا معاشرہ ہے کہ جس میں بچے کی اخلاقی خصوصیات ایک خاص صورت اختیار کرتی ہیں ۔ وہ خاندان کہ جس کے افراد ایک دوسرے سے دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں اس کے بچے عموماً متین ، خوددار اور انصاف پسند ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس وہ گھر کہ جس میں ماں باپ کے درمیان روزروز کی نوک جھونک اورتو تکرار رہتی ہے اس کے بچے کج اخلاق ، بہانہ ساز اور غصیلے ہوتے ہیں ۔(۵)
تربیت ۔ عمل سے نہ کہ زبان سےبہت سے ماں باپ ایسے ہیں جو تربیت کے لیے وعظ و نصیت اور زبانی امر و نہی کافی سمجھتے ہیں ۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ جب وہ بچے کو امر و نہی کررہے ہوتے ہیں ، اسے زبانی سمجھا بجھارہے ہوتے ہیں تو گویا وہ تربیت میں مشغول ہیں اور باقی امور حیات میں وہ تربیت سے دست بردار ہوجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے ماں باپ ننھے بچے کو تربیت کے قابل نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے کچھ نہیں سمجھ سکے گا ۔ جب بچہ رشد و تمیز کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ تربیت کا آغاز کرتے ہیں ۔ جب وہ خوب و بد کو سمجھنے لگے تو اس کی تربیت شروع کرتے ہیں ۔ جب کہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے ۔ بچہ اپنی پیدائش کے روز ہی سے تربیت کے قابل ہوتا ہے ۔ وہ لحظہ لحظہ تربیت پاتا ہے اور ایک خاط مزاج ہیں ڈھلتا چلا جاتا ہے ، ماں باپ متوجہ ہوں یا نہ ہوں ۔ بچہ تربیت کے لیے اس امر کا انتظار نہیں کرتا کہ ماں باپ اسے کسی کام کا حکم دیں یا کسی چیز سے روکیں بچے کے اعصاب اور حساس و ظریف ذہن روز اوّل ہی سے ایک کیمرے کی طرح تمام چیزوں کی فلم بنانے لگتے ہیں اور اسی کے مطابق اس کی تعمیر ہوتی ہے او ر وہ تربیت پاتاہے ۔ پانچ چھ سالہ بچہ تعمیر شدہ ہوتا ہے اور جو ایک خاص صورت اختیار کرچکا ہوتا ہے اور جو کچھ اسے بننا ہوتا ہے بن چکتا ہے ۔ اچھائی یا برائی کا عادی ہوچکتا ہے لہٰذا بعد کی تربیت بہت مشکل اور کم اثر ہوتی ہے بچے تو بالکل مقلد ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ اور ادھر ادھر رہنے والے دیگر لوگوں کے اعمال، رفتار اور اخلاق کو دیکھتا ہے اور اس کی تقلید کرتا ہے وہ ماں باپ کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں کے طرز حیات اور کاموں کو اچھائی اور برائی کا معیار قرار دیتا ہے اور پھر اسی کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ بچے کا وجود تو کسی سانچے میں نہیں ڈھلا ہوتا وہ ماں باپ کو ایک نمونہ سمجھ کر ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہے ۔ وہ کردار کو دیکھتا ہے باتوں اور پند ونصیحت پر توجہ نہیں دیتا ۔ اگر کردار گفتار سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ کردار کو ترجیح دیتا ہے ۔
بیٹی اپنی ماں کو دیکھتی ہے اور اس سے آداب زندگی ، شوہر داری ، خانہ داری اور بچوں کی پرورش کا سلیقہ سیکھتی ہے اور اپنے باپ کو د یکھ کے مردوں کو پہچانتی ہے ۔ بیٹا اپنے باپ کے طرز زندگی سے درس حیات لیتا ہے ، اس سے بیو ی اور بچوں سے سلوک کرنا سیکھتاہے اور اپنی ماں کے طرر عمل سے عورتو ںکو پہچانتا ہے اور اپنی آئندہ زندگی کے لیے اسی کو دیکھ کر منصوبے بنا تا ہے ۔
لہٰذا ذمہ دار اور آگاہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ ابتدامیں ہی اپنی اصلاح کریں ۔ اگر ان کے اعمال ، کردار اور اخلاق عیب دار ہیں تو ان کی اصلاح کریں ۔ اچھی صفات اپنائیں نیک اخلاق اختیار کریں اور پسندیدہ کردار ادار کریں ۔ مختصریہ کہ اپنے آپ کو ایک اچھے اور کامل انسان کی صورت میں ڈھالیں اس کے بعد نئے انسانوں کی تولید اور پرورش کی طرف قدم بڑھائیں ۔ ماں باپ کو پہلے سو چنا چا ہیے کہ و ہ کس طرح کا بچہ معاشر ے کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں یہ پسند ہے کہ ان کا بچہ خوش اخلاق ، مہربان ، انسان دوست ، خیر خواہ ، دیندار ، با مقصد، شریف ، آگاہ، حریت پسند ، شجاع ، مفید ، فعال ، اور فرض شناس ہو تو خود انہیں بھی ایسا ہی ہو نا چاہیے تاکہ وہ بچے کے لیے نمونہ عمل قرار پائیں ۔ جس ماں کی خواہش ہو کہ اس کی بیٹی فرض شناس ، خوش اخلاق ، مہربان ، سمجھدار ، شوہر کی وفادار ، باتمیز ، ہر طرح کے حالات میں گزربسر کر لینے والی اور نظم و ضبط حیات حاصل کرے ۔ اگر ماں بد اخلاق ،بے ادب ، سست ، بے نظم ، بے مہر ، کثیف ، دوسروں سے زیادہ توقع با ند ھنے والی اور بہانہ ساز ہو تو وہ صرف و عظ و نصیحت سے ایک اچھی بیٹی پروان نہیں چڑھا سکتی ۔
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں ۔
بچوں کو احساسات اور جذبات کے اعتبار سے وہی لوگ صحیح تربیت دے سکتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے بچپن میں اور باقی تمام عمر صحیح تربیت پائی ہو ۔ جوماں باپ آپس میں ناراض رہتے ہوں اور چھوٹی باتوں پر جھگڑتے ہوں ، یا جن لوگوں نے کاروبار کے طور پرپرورش کا سلسلہ شروع کیا ہو اور انھیں تربیت دینے کا کوئی ذوق و شوق نہ ہو ۔ اور جو بچوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ، خود حوصلے سے عاری ہوں اور غصیلی طبیعت رکھتے ہوں اور جنہیںخود اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو وہ بچوں کے جذبات اور احساسات کو صحیح راستے پر نہیں ڈال سکتے (۶)
ڈاکٹر جلالی مزید لکھتے ہیں : بچے کی تربیت جس کے بھی ذمے ہوا سے چاہیے کہ کبھی کبھی اپنی صفات کا بھی جائزہ لے اور اپنی ذمہ داریوں کے بار ے میں سو چے اور اپنی خامیوں کو دور کرے (۷)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
من نصب نفسہ اماماً فلیبدا بتعلیم نفسہ قبل تعلیم غیرہ و لیکن تادیبہ بسیرتہ قبل تادیبہ بلسانہ و معلّم نفسہ و مؤدبہا احق بالاجلال من معلم النّاس و مؤدبہم ۔
جو شخص دوسروں کا پیشوا بنے،اسے چاہیے کہ پہلے وہ اپنی اصلاح کرے پھر دوسروں کی اصلاح کے لیے اٹھے اور دوسروں کو زبان سے ادب سکھانے سے پہلے اپنے کردار سے ادب سکھائے اور جو اپنے آپ کو تعلیم اور ادب سکھاتا ہے وہ اس شخص کی نسبت زیادہ عزّت کا حقدار ہے جو دوسروں کو ادب سکھاتا ہے ۔ (۸)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
وقّروا کبارکن یوقّرکم صغارکم ۔
تم اپنے بزرگوں کا احترام کرو تا کہ تمہارے بچے تمہارا احترام کریں ۔(۹)
پیغمبر اکرم ﷺ نے حضرت ابوذر سے فرمایا:
جب کوئی شخص خود صالح ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی اس کے نیک ہوجانے کے وسیلے سے اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کو بھی نیک بنادیتا ہے ۔(۱۰)
امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں:
ان سمت ہمّتک لاصلاح النّاس فابدء بنفسک فانّ تعاطیک صلاح غیرک و انت فاسد اکبر العیب۔
اگر تو دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس سلسلے کا آغاز اپنی ذات کی اصلاح سے کر اور اگر تودوسروں کی اصلاح کرنا چاہے اور اپنے آپ کو فاسد ہی رہنے دے تو یہ سب سے بڑا عیب ہوگا ۔ (۱۱)
تو یہ سب سے بڑا عیب ہوگا ۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
انّ الوعظ الّذی لا یمّجہ سمع و لا یعولہ نفع ما سکت عنہ لسان القول و نطق بہ لسان الفعل۔
جس نصیحت کے لیے زبان گفتار خاموش ہو اور زبان کردار گویا ہو کوئی کان اسے باہر نہیں نکال سکتا اور کوئی فائدہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔ (۱۲)
ایک خاتون اپنے ایک خط لکھتی ہے:
۔۔۔ میرے ماں باپ کے کردار نے مجھ پر بہت اثر کیا ہے انہوں نے ہمیشہ میرے ساتھ اور میرے بہن بھائیوں کے ساتھ مہربانی کی ہے ۔ میں نے کبھی بھی ان کےکردار اور گفتار میں برائی نہیں دیکھی ۔ خود ہماری بہت عادت ویسی ہی ہوگئی ۔ میں ان کا اچھا اخلاق اور کردار بھلا نہیں سکتی ۔ اب جب کہ میں خودمان بن گئی ہوں تو کوشش کرتی ہوں کہ کوئی برا کام خاص طور پر اپنے بچوں کے سامنے مجھ سے سرزد نہ ہو ۔ میرے ماں اور باپ کا کردار میری زندگی میں میرے لئے نمونہ عمل بن گیا ۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کی بھی اس طرح سے تربیت کروں ۔
ایک اور خاتون اپنے خط میں لکھتی ہیں:
۔۔۔ جب میں اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے یاد آتا ہے ۔ کہ میری ماں چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایسے ہی چیختی چلاتی تھی ۔ اب جب کہ میں خودماں بن گئی ہوں تو میں دیکھتی ہوں کہ تھوڑی سی کمی کے ساتھ وہی میری حالت بھی ہے ۔ اس کی ساری بد اخلاقیاں مجھ میں پیدا ہوگئی ہیں اور عجیب مسئلہ یہ ہے کہ میں جتنا بھی کوشش کرتی ہوں کہ اپنی اصلاح کروں نہیں کر پاتی ہوں ۔ یقینی طور پر میرے لئے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ماں باپ کا کردار اور اخلاق اولاد کی تربیت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے : کہ ماں اپنی تربیت کے ذریعے ایک دینا کو بدل سکتی ہے بالکل درست بات ہے ۔
حوالہ جات
(۱)۔غرر الحکم ص 181
(۲)۔غررالحکم ۔ص 580
(۳)۔غررالحکم ۔ ص 26
(۴)۔ غرر الحکم ۔ص 176
(۵)۔روان شناسی تجربی کو دک ص 191۔
(۶)۔روان شناسی کودک۔ ص 296۔
(۷)۔ روان شناسی کودک ص 297۔
(۸)۔نہج البلاغہ ۔کلامت قصار نمبر 73
(۹)۔غرر الحکم ۔ ص 78
(۱۰)۔مکارم الاخلاق ۔ ص 546
(۱۱)۔غرر الحکم ص 278
(۱۲)۔غرر الحکم ص 232