ur

حیات طیبہ اور اسلام : رہبر عالم اسلام سید علی خامنہ ای

حیات طیبہ اور اسلام
آپ جس وقت عبادت خدا انجام دیتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، کسی غریب کی مدد کرتے ہیں یا کوئی دوسرا نیک عمل انجام دیتے ہیں تو آپ کو اندرونی لذت حاصل ہوتی ہے۔ یقینا آپ نے اس روحانی لذت کا احساس کیا ہو گا۔ یہ احساس کسی مادی فعل کی انجام دہی کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ اس احساس کا مشاہدہ فقط وہی افراد کر سکتے ہیں جو خدا پر اعتقاد رکھتے ہیں ۔ ہر مومن کی زندگی میں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ،کسی کی زندگی میں کم اور کسی کی زندگی میں زیادہ ۔ بعض اوقات انسان ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اپنی اس حالت کو برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کر سکتا ہے۔ البتہ انسان کی مادی زندگی اس کو اس روحانی حالت سے باہر نکال دیتی ہے اور اسی لئے یہ روحانی حالت شاذ و نادر ہی حاصل ہو پاتی ہے ۔
وہ افراد جو خدا پر ایمان کامل نہیں رکھتے ہیں اس طرح کی روحانی کیفیات سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے ۔ ایسے نہ جانے کتنے افراد ہوں گے کہ مادی زندگی گذارنے کی بنا پر انھوں نے اپنی ساری زندگی میں ایک دفعہ بھی اس لذت بخش کیفیت کا احساس نہیں کیا ہوگا ۔
اسلام اسی ہدف کے تحت نازل کیا گیا تھا کہ انسان کو اس عظیم مقام کی طرف لے جائے جو اس کی منزل مقصود ہے ۔ اسلام قلوب کو منور و روشن کرنے آیا تھا ، برائیوں کی جگہ نیکیوں کو رائج کرنے آیا تھا کہ ان راہوں سے ہم مذکورہ روحانی و معنوی لذت کا احساس کر سکیں اور نہ فقط محراب عبادت میں بلکہ اپنی روز مرہ زندگی میں بھی یعنی ہر طرح کے امور میں یاد خدا کو فراموش نہ کریں ۔
اگر دنیا میں ایسے افراد پیدا ہو جائیں کہ جن کا سارا ہم و غم یاد خدا ہو تو ہر طرح کا ظلم و جور ، ناانصافی ، جنگ ، فساد وغیرہ خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔ اگر ایسے افراد پیدا ہو گئے تو ان کی حیات کو بھی حیات طیبہ کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن حیات طیبہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان فقط عبادت گذار ہو ، نماز بجا لاتا ہو ، روزہ رکھتا ہو وغیرہ وغیرہ اور بقیہ امور زندگی سے قطع نظر کر لے بلکہ حیات طیبہ سے مراد یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں باہمی امتزاج پایا جاتا ہو ۔
حیات طیبہ سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک ملت اپنی ترقی و فلاح و بہبود کے لئے کوشش کر رہی ہے ، معاشیات ، سماجیات ، تعلیم ، ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے میدانوں میں کام کر رہی ہے تو ضروری ہے کہ ساتھ ہی ساتھ اس ملت کے قلوب یاد خدا سے مملو بھی ہوں یعنی دنیاوی و اخروی امور کے ساتھ ساتھ خدا سے رابطہ بھی برقرار رہے ۔ یہی اسلامی حکومت کا ہدف ہے ۔ یہی وہ ہدف ہے کہ جس کے لئے انبیائے کرام کو مبعوث کیا گیا ، اسلام نازل کیا گیا ، قرآن نازل کیا گیا ، مصلحان عالم نے بھی اپنی زندگی میں اسی ہدف کو بیان کیا ۔