ur

تین عادتیں کمال ایمان؛ ترجمہ و تشریح ۔رہبر معظم سید علی خامنہ ای رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص میں یہ تین عادتیں ہوں اس میں ایمانی صفات کامل ہو جائیں گی: جب کسی چیز سے راضی و خوشنود ہو تو یہ خوشی اور پسندیدگی اسے باطل کی حدود میں داخل نہ کر دے جب غصہ آئے تو وہ دائرہ حق سے خارج نہ ہو جائے جب قوت و طاقت حاصل ہو تو جو چیز اس کی نہیںہے اس کی طرف دست درازی نہ کرے۔ شرح: روایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایمان انہی تین عادتوں تک محدود ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ جس شخص کے یہاں یہ تینوں صفتیں ہوں اس کے یہاں گویا ایمان کی سبھی صفات جمع ہیں۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک صفت، نیک صفات کا گلدستہ ہے اور ایک صفت پیدا ہونے سے صفات حسنہ کے بہت سے پھول کھل جاتے ہیں۔ کسی کی خوشنودی اور محبت اس کو باطل کی طرف نہ کھینچ لے جائے کہ وہ اس کا دفاع کرنے لگے یا اسی طرح کسی سے غصہ و ناراضگی ہے جو غلط روئی کا باعث بنتی ہے۔ جب قوت و اقتدار مل جائے تو انسان ایسا کوئی کام نہ کرے جو اس کو نہیں کرنا چاہئے۔ (تحف العقول، صفحہ 43)