ur

بینکوں کا سود

سوال ۶۰:بینکوں میں چھو ٹی مدت کے لیے یا لمبی مدت کے لیے پیسے رکھنے پر جو سود ملتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟
دوکے علاوہ تمام مراجع:اگربینک اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے وکیل ہو اور شر عی معاملات کے ذریعے شرعی معاملہ انجام دے تو سود (پرافٹ)لینے میں کوئی ڈر نہیں لیکن اگر مقرو ض ہو سود کی شرط کے ساتھ توجائزنہیں۔(۱)
بہجت : بینک میں رکھے پیسوں پرسودلیناربا اور حرام ہے مگر یہ کہ بنک کے ساتھ شرعی معاملہ انجام دے ،مثلاً بینک کسٹمر کو اس سود کے مقابلے میں کوئی شے بیچے (وہ جو کچھ ہو)اس شرط کے ساتھ کہ وہ کچھ رقم ایک معین مدت تک بینک کو قرض دے گا۔ (۲)
وحید خراسانی : اگر اس میں سود کی شرط نہ ہو اور اپنے آپ کو اس کا مستحق نہ سمجھے تو لے سکتے ہیں ، اگرچہ یہ جانتا ہو کہ بینک اسے سود دے رہا ہے۔ (۳)

(حوالہ جات)
(۱)خامنہ ای ،ا جو بتہ الاستفتاء ات س ۱۹۲۴و۱۹۴۰؛ نوری؛ توضیح المسائل؛مسائل مستحدثہ؛تبریزی؛ استفتاء ات؛س۲۱۲۰؛ مکارم؛استفتاء ات ج ا؛س۱۳۸۳ و ۱۳۷۷؛ فاضل؛جا مع المسائل ؛ ج ا س۱۰۹۴ و ج ۲ س ۱۰۰۳؛صافی؛ جامع الاحکام ؛ ج ۲؛ س۱۹۹۰ و ۱۹۹۱ و دفتر امام وسیستانی
(۲)بہجت ،توضیح المسائل ،م۲۲۸۳
(۳) وحید خرا سانی ، تو ضیح المسائل ۲۸۵۰