نماز کا عربی میں پڑھنا

سوال ۳۵: کیا نماز عربی کے علاوہ کسی اور زبان میںپڑھی جاسکتی ہے؟
نماز کا عربی میں پڑھنا کئی حکمتیں رکھتا ہے، ذیل میں بعض کی طرف اشار ہ کیا جاتا ہے۔
۱۔عربی زبان الفاظ ،جملہ بندی اور معنی کے لحا ظ سے بہت غنی زبان ہے، خصوصاً دینی معارف میں اور دوسری زبانیں اس کے ساتھ بالکل ہی قابل ِ قیاس نہیں ہیں،جو تحقیقات کی گئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ بعض قرآنی مفا ہیم کا دوسری زبانوں میں ہم معنی لفظ موجود ہی نہیں، سب سے زیادہ پڑھی جانے والی یہ آیت ہے بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم اس کا کسی زبان میں دقیق ترجمہ نہیں ہو سکتا، یعنی کوئی مترجم اس کے اندر استعمال ہونے والے الفاظ کا ترجمہ نہیں کر سکتا ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کے کئی مترجمین اکثر موارد میں لفظ کا ترجمہ لانے کے بجائے وہی قرآن کا لفظ ہی استعما ل کر تے ہیں جس وجہ سے قرآنی الفاظ بہت سی دوسری زبانوں میں داخل ہوچکے ہیں ، مثلاً مارماڈوک، (قرآن کے انگلش میں ترجمہ کرنے والے مشہور مترجم ہیں) نے کہیں بھی اللہ کے ترجمہ کے طور پرگاڈ (God)کو استعمال نہیں کیا بلکہ اللہ (Allah) ہی استعمال کرتے ہیں اوراس لفظ اللہ کو کئی لحا ظ سے لفظGod پر ترجیح دیتے ہیں، لہٰذا اگر نماز کو کسی دوسری زبان میں پڑھیں گے تو بہت سی معنوی دقتوں کو ہاتھ سے دے بیٹھیں گے۔
۲۔قرآنی سورتوں کی لطافت و خو بصورتی اوراعجاز ان کے عربی ہونے میں ہے اور ترجمہ کرنے کی صورت میں یہ سب ختم ہوجائے گا، انسانی خوبصورت ترین ترجمہ بھی کلامِ خداوندتعالیٰ کی لطافت و خوبصورتی اور نغماتی آہنگ کا حامل نہیں ہو سکتا۔
مارماڈوک پیکٹل قرآن کے انگلش ترجمے میں لکھتے ہیں: قرآن کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ قرآن کی نغمانی لَے اور دلنشین آہنگ انسا ن کو متغیرکر دیتی ہے اوراسے قرآن کے سامنے خشوع وخضوع اور گریہ وجوش پر مجبور کر دیتی ہے۔(۱)
۳۔عربی زبان صرف ایک قو م کی زبان نہیں ہے بلکہ ہمارے دین کی زبان ہے اوراس سے واقفیت ہمیں پیغامِ خدا، قولِ پیغمبر و آئمہ معصومین ؑ سے بلا واسطہ آشنا کر تی ہے، نماز کا عربی ہونا مسلمانوںکے لئے دین اور کتاب الٰہی کے ساتھ دائمی ارتباط کا باعث ہے اوراس سے دینی معارف سے بلاواسطہ اور بہتر استفادہ کے لئے راہ ہموار کر تی ہے ۔
۴۔اجتماعیات کی نظر میں زبان نقل و انتقال اور ثقافت کی بقاء و دوام کا ایک بہترین ذریعہ ہے ، ثقافتیت (Acculturation) اوراشتراکیت ( قومیانہ ) (Socialization)بہت زیادہ حد تک زبان کے مدیون ہیں اگر جدید استعمار (Nio-Colonialism)اپنی پور ی قو ت کے ساتھ اپنی زبان کو رواج دینے کی کوشش کر تا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنی ثقافت کو پھیلانے اور ملّتوں کواپنی ماہیت سے اجنبی کرنے کے لئے زبان و ادبیات سے بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
عربی زبان جو کہ ثقافت، ادبیات اور دینی معارف کی حامل ہے اس کے ساتھ مسلمانوں کا دائمی تعلق ناقابل اجتناب ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلامی معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنی تہذیب وتمدّن سے تہی دست ہوجا ئے گا، اسی وجہ سے شارع مقدس نے پانچ وقتی نمازوں کے ذریعے دین کی زبان کے ساتھ تعلق کو دوام عطا کر دیا ہے تا کہ اس طریقے سے اسلامی تہذیب و تمدن تمام نسلوں تک پہنچ سکے اور غیروں کی ثقافتی یلغار کے مقابل اس کے دوام و استحکام کی ضمانت حاصل ہوجائے۔
۵۔انسانوں کے درمیان وحدت کا ایک ذریعہ زبان ہے اور نماز انسانی وحدت کا بڑا خوبصورت نمونہ ہے، خداوندعالم کی عبادت پوری دنیا میں ایک جیسے افعال واذکار کے ساتھ وہ چیز ہے کہ جس کی پوری دنیا میں کہیں بھی مثال نہیں ملتی۔
ڈاکٹر محمد جواد شریعت آقا رحیم ارباب کے ساتھ اپنی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ تقریباً ۱۳۳۲ شمسی میں ہم چند جوان بحث و مباحثہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ نماز کو عربی میں پڑھنے پر کیا دلیل ہے اور کیوں نماز فارسی میں نہیں پڑھ سکتے؟ بالآخر ہم نے طے کرلیا کہ نماز فارسی میں پڑھیں گے اوراسی طرح پڑھنا شروع کردی، جب ہمارے والدین کو پتہ چلا تو وہ اس بارے میں فکر مند ہوئے ، انہوں نے آپس میں مل کر یہ طے کیا کہ ہمیں سمجھا یا جائے اگر ہم باز نہ آئیں تو کوئی دوسرا طریقہ سوچا جا ئے ، ان کی نصیحتوں کا ہمارے اوپر کوئی اثر نہ ہو ا تو وہ ہمیں ایک عالم دین کے پاس لے گئے ، اس عالم کو جب پتہ چلا کہ ہم فارسی میں نماز پڑتے ہیں تو اس نے بڑ ے برے طریقے سے ہمیں ڈانٹا ، نجس و کافر تک کہہ دیا اس کی اس حرکت نے ہمیں اس عمل پر اور پختہ کر دیا۔
بالآخر والدین میںسے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ ہمیں آیۃ اللہ رحیم ارباب کی خدمت میں لے جائیں، سب نے اس کی تائید کی، انہوں نے جاکر حآج آقا سے اجازت طلب کی اورآپ نے ایک وقت معیّن فرما دیا کہ فلاں وقت انہیں لے آؤ، ہم ۱۵ افراد تھے، معیّن وقت پر ہمیں آپ کی خدمت میں لے جایا گیا ، پہلی نظر میں ہی آپ کی نورانی شخصیت نے ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لیا ، آپ دوسروں سے مختلف تھے اور ہمیں بھی احسا س ہوگیا کہ ہمارے سامنے جو شخصیت ہے یہ دوسروں سے فرق رکھتی ہے،آقا نے سب سے پہلے ہماری آؤ مہمان نوازی کا حکم دیا، اس کے بعد ہمارے والدین سے فرمایا آپ تو فارسی میں نماز نہیں پڑھتے لہٰذا فی الحال آپ لوگ جاسکتے ہیں اور ہمیں ان بچوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیں ، جب وہ لو گ چلے گئے تو آپ نے فرمایا آپ سب ہر ایک اپنا تعارف کروا ئیںاوراپنی تعلیم اور موضوع کے حوالے سے بھی بتا ئیں، اس کے بعد ہماری تعلیم ، کلاس اور موضوع ( سبجیکٹ) کے حوالے سے سوالات کئے اور فزیکس ، الجبرا اور ریاضی وغیرہ کے کچھ مسائل ہم سے پوچھے کہ جن میں سے اکثر کے جوابات ہم نہ دے سکے ، جو بھی صحیح نہ دے سکتا آپ بڑ ی محبت سے اسے صحیح جواب بتلاتے ، جب آپ نے ہم سب کے علمی زعم و گمان کوختم کردیا توفرمایا: آپ لوگوں کے والدین پر یشان ہیں کہ آپ لوگ فارسی میں نماز پڑھتے ہو شاید وہ نہیں جا نتے ، میں تو ایسے افراد کو بھی جانتا ہوں جو نعوذ باللہ نما ز پڑھتے ہی نہیں ہیں، آپ پاک دل جوان ہیں جو ماشاء اللہ دین دار بھی ہواور باہمت بھی،میںنے بھی جوانی میں آپ کی طرح فارسی میں نماز پڑھنا چاہی تھی لیکن مشکلات پیش آگئیں اور نہ پڑھ سکا ، اب آپ نے میری جوانی کی خواہش کو پورا کیا ہے بہت خوب ، اس دور میں سے پہلی مشکل جو مجھے پیش آئی وہ سورہ حمد کا دقیق ترجمہ تھا، آپ نے تو ماشاء اللہ اس مشکل کو حل کر لیا ہوگا، اب آپ میں سے جو دوسروں سے زیادہ ماہر ہے مجھے بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ترجمہ بتلائے، ہم میں سے
ایک نے ہاتھ اوپر اٹھا تے ہوئے کہا میں بہتر ترجمہ کر سکتا ہوں، تو آپ نے فرمایا خوب اب ہمارا مخاطب ایک شخص ہے یہ بہتر ہے میں ۱۵ جوانوں کا مقابلہ تو نہیں کر سکتا ،آپ نے ا س نوجوان سے پوچھا کہ بسم اللہ کا تر جمہ کیسے کر و گے ، اس نے عام ترجمے کو بیان کر دیا بنام خداوند بخشندہ مہربان، آپ نے تبسم فرمایا اور کہا میں نہیں سمجھتا کہ یہ بسم اللہ کا ترجمہ ہو ،بسم کا ترجمہ تو بنام ٹھیک ہے لیکن اللہ کا ترجمہ تو کیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ یہ ذات خدا وند کا ذاتی نام ہے اور ذات کے نام کا تو ترجمہ نہیں کیا جا تا، مثلاً کسی کا نام حسن ہو تو اسے خوبصورت نہیں کہیں گے، اگر حسن کو یہ کہیں گے تو وہ ناراض ہو جائے گا، لفظ اللہ اسی طرح علم ِذات ہے، اسے اسی طرح ہی لائیں گے، ترجمہ نہیں کریں گے اس کے بعد ’’رحمن‘‘ کا ترجمہ پوچھا تواس نے جواب دیا بخشنے والا، آپ نے فرمایا یہ ترجمہ زیادہ غلط تو نہیں ہے لیکن کامل بھی نہیں ہے، کیونکہ رحمن خدا کی وہ صفت ہے جو رحمت کے شمول پر دلالت کر تی ہے اور بخشنے والے ترجمے میں شمول کے معنی پر دلا لت موجود نہیں ہے، رحمن یعنی وہ خدا جو اس دنیا میںمومن پر بھی رحم فرمائے اور کافر پر بھی اور سب کو لطف و رحمت یعنی نعمت ِرزق و سلامتی جسم عطا فرمائے، اس کے بعد آپ نے رحیم کا ترجمہ پوچھا ، ہمارے ساتھی نے مہربان بتلایا،آپ نے فرمایا میرے بارے مہربان کہنے سے میں اچھا محسوس کروں گا (آپ کانا م بھی رحیم تھا) لیکن رحیم قرآن کا لفظ ہے اور خدا کا نام ہے لہٰذا اس کا صحیح ترجمہ ہو نا چا ہیے ، اگر آپ اس کا ترجمہ بخشائندہ کرتے تو ایک بات تھی چو نکہ رحیم یعنی وہ جو اگلے جہان میں مومنین کے گناہوں کو بخش دے گا، پس بسم اللہ کا ترجمہ غلط تو نہیں لیکن کامل نہیں ہے، اس میں کچھ غلطیاں ہیں، میں بھی جوانی میں ایسا ہی کرنا چاہتا تھا لیکن ترجمہ میںمجھے مشکل پیش آئی تو میں اس مقصد سے منحرف ہوگیا ، یہ تو صرف پہلی آیت تھی، اگر الحمد کی دوسری آیت کی بات کریں توموضوع بہت زیادہ مشکل ہو جائے گا، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے باوجود آپ اسی پر مصّر ہیں تو پھر میرا مشور ہ یہ ہے کہ نماز ضرور پڑھو اگرچہ فارسی میں ہوکیونکہ پڑھنا بالکل چھوڑ دینے سے بہتر ہے،آپ کی بات کے جواب میں ہمارے پاس سوائے شرمندگی کے کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا، ہم نے معذرت کی اور جو نمازیں فارسی میں پڑھی تھیں ان کی قضا بجالانے کے علاوہ آئندہ عربی میں نماز پڑھنے کا وعدہ کیا۔(۲)

(حوالہ جات)
(1) The meaning of the Glorious quran . muhammad M.Pick thall world legue-Rabita, 1977.iii
(۲) [مجلہ پر سمان پیش شمار ہ ۴، ص ۶۔۷ ، مزید تفصیلات کیلئے دیکھیں ، حمید رضا شاکرین ، چرا نماز عربی بخوانم www.halgheh.net