قبلہ کیوں(ضرورت و اہمیت ِ قبلہ )

سوال۳۴:اگر خدا وند جسم نہیں رکھتا ہے تو پھر کعبہ بنانے کی کیا وجہ تھی؟ باوجود اس کے کہ خدا کسی خاص جگہ پر موجود نہیں ہے بلکہ ہر جگہ پر حضور رکھتا ہے ، فاینما تولوا فثم وجہ اللّٰہ توپھر صرف قبلہ رخ نما ز پڑھنے کی کیا وجہ ہے ؟
ایک : کعبہ کی تعمیر
اگر کعبہ خدا کا جسمانی گھر ہوتا یا وہ مکان ہوتاجہاں خدا حلول کرتا تو کہہ سکتے تھے کہ خدا جسم رکھتا ہے ،حالانکہ کعبہ کی تعمیر کے بارے وارد آیات اور تاریخی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ مکّہ کو برکات ِالٰہی ،بشر کی ہدایت (۱) اور عبودیت کے لئے محل اجتماعی کے نمونے کے طور پر ذکرکیا گیا ہے خدا وند نے اس مقامِ مقدس پر اپنی بے پناہ خیرات نازل کر کے اپنی رزاقیت کا اظہار کیا ہے(۲) اور یہ حقیقت بتلاتے ہو ئے کہ مقام قرب الٰہی تک پہنچنے کے لئے یہ جگہ قرار دی گئی ہے خداوندعالم نے لوگوں کی ہدایت کے لئے سلو ک ِبندگی کی کیفیت کی تصویر کشی کی ، جیسا کہ خاص ایام (ایام حج) میں خداوند نے کچھ تشریعی اعما ل کو تعیین کر کے انسانوں کی عبودی سیر کی کیفیت بیان کردی اوریہ تعلیم دی کہ آدمی کو اپنے نفس سے ہجرت اور اندر کو ہرطرح کی آلودگی و نجاست سے پاک کرتے ہوئے، تعلقات اورغیر الٰہی شکل و صورت ختم کرتے ہوئے اخلاص ، توجہ اور توبہ خالص کے ذریعے بارگاہ ربوبی میں حاضر ہوناچاہیے۔ (۳)
اس کے علاوہ اپنے گھر کو خدا نے مقام ِابراہیم ؑ، حرمِ امن اور استطاعت رکھنے والوں کے لئے حج کی نشانی قراردیا کہ ان میں سے ہر ایک سے عظمت پروردگار کا اظہار ہوتا ہے، اس سے بڑھ کر اور نشانی کیا ہوگی کہ ہرسال لاکھوں انسا ن اس مقام پر حاضر ہو کر خاص مناسک انجام دے کر خدا کی بارگاہ میں اپنی عبودیت کا اظہار کرتے ہیں ، یہ چیز دوسرے لوگوں کو بیدار کرنے اور تبدیل کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ (۴)
خداوند عالم نے اس گھر کی تعمیر کاحکم اس لئے دیا تا کہ لوگ نماز میں اس کی طرف رخ کریں اپنے مُردوں کو اس کی طرف منہ کر کے لٹائیںاورجانوروں کو اس کی طرف رخ کر کے ذبح کریں،اس طریقے سے یاد خدا ان کے دلوں میں رہے گی ، اس کے علاوہ کہ اس سے ظاہری طور پر متفرق دل سب یکسو ہو کر جمع ہوتے ہیں جس سے روحِ توحید و وحد ت زندہ ہوتی ہے اوراس کے وسیلہ سے اپنے دین کو زندہ کرتے ہیں ۔ (۵)
آپ نے ملاحظہ کیا ان تمام تحلیلات میں سے کسی میں بھی جسمانی و مادی غرض نہیں پائی جاتی کہ کوئی یہ کہہ سکے کہ کعبہ کی تعمیر خدا کے جسم نہ ہونے سے مناسبت نہیں رکھتی ، بلکہ اس عظیم مکانِ مقدس کی تعمیر کا مقصد صرف معنوی و غیر مادی حقائق کی نشانی و نماد قرارر دینا ہے۔

دو: ا ستقبال ِقبلہ کی وجہ
نماز میں روبقبلہ ہونا مختلف اسرار ورموز رکھتا ہے، ان میں سے بعض عرفانی، سیا سی اوراجتماعی حکمتیں درج ذیل ہیں :
۲۔۱:زمینی وجسمانی کعبہ نمائش ونشانی ہے اس حقیقی کعبہ کی طرف توجہ کے لئے کہ جو عالم مادی سے ماوراء مرتبہ رکھتا ہے، آیۃ اللہ حسن زادہ آملی اس بارے میں لکھتے ہیں :
نماز میں حقیقی کعبہ کی طرف توجہ کرو جو کہ دل ہے اور وہ عالم ِبدنِ انسان میں کعبہ کی مانند ہے اور بیت المعمور کی مانند ہے جو کہ چوتھے آسمان پر ہے اورعرش کی مانند ہے ۔ (۶)
۲۔۲: کعبہ اس لحا ظ سے کہ خد ا سے نسبت رکھتا ہے اور بیت اللہ کے نام سے مشہور ہے ایک خاص شرف و منزلت رکھتا ہے جس کا احترا م ضروری ہے ،اسی وجہ سے حکم دیاگیا ہے کہ اچھی معنوی حالت میں روبقبلہ ہونا چاہیے لیکن نامناسب حالات جیسے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ یا پشت نہ ہو جا ئے ،اما م خمینیؒ کے حالات زندگی میںآیاہے کہ آپ جب وضو کرتے تو اس کی تما م جزئیات کو روبقبلہ انجام دیتے ،حتیٰ کہ اگر بیسن اس طرح نہ ہوتا تو آپ چلو میں پانی لے کر ٹونٹی بند کر تے اور پھر روبقبلہ ہوکر وہ پانی چہرے یا ہاتھوں پر ڈالتے۔ (۷)
کعبہ کی خدا کی طرف نسبت ہونے کی وجہ ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کرنے سے خدا کی طرف دل کی توجہ زیادہ مبذول ہوتی ہے۔
اما م محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایا :جب نمازی قبلہ رخ کھڑا ہوتا ہے تو گویا اس نے خدا وند مہربان کی طرف رخ کر لیا ہے ۔(۸)
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا کسی خاص طرف یامکان میںموجود ہے بلکہ ایسا کرنادل کی توجہ اور اس توجہ کی محدودیت کے لحا ظ سے ہے ، دوسرے لفظوں میں چونکہ نفسانی خیالات اور مشغولیات خدا کی طرف دل کی توجہ کم کرتے ہیں ،اس لیے عبادت کا ایک خاص مرکز قرار دینا اوراس کی طرف دورانِ عبا دت رخ کرنا دل کو صاحب ِبیت کی طرف زیادہ متوجہ کر نے کا موجب بنتا ہے۔
سیسلاس رومانیہ کے مشہور مؤ رخ کارل لایل ( انگریز دانشمند) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کعبہ کی توصیف یوں بیان کی:
میلا د مسیح کے وقت کعبہ تما م عبادت گاہوں سے زیادہ محتر م اور اشرف تھا ، یہ معبد (عبادت گاہ) آج مقنا طیس کی طرح شرقِ بعیدسے انتہائے مغرب تک اور دہلی سے مراکش تک اطراف ِعالم سے دن میں کئی مرتبہ مسلمانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور ہر ایک مسلم صاحب بیت کے حضور متوجہ ہوتا ہے ۔(۹)
کعبہ رمز حضور قلب ہے ، اما م خمینیؒ اس بارے لکھتے ہیں قبلہ کے لفظ میں بڑا باریک نکتہ موجود ہے جس سے غافل نہیں رہنا چاہیے ’’قبلہ‘‘ لغت کے اعتبار سے ہمارے عمل کا نام ہے نہ کہ کعبہ کانام ہے لیکن چونکہ یہ عمل کعبہ کی طرف رخ کرکے انجام دیا جاتا ہے اس وجہ سے تدریجی طور پر خود کعبہ کو قبلہ کہا جانے لگا، قبلہ ( بروزن جِلسہ و وجھہ) کھڑے ہونے کے انداز اور کسی مقام کی طرف حضور دل کے ساتھ رخ کرنے کو کہتے ہیں ، اس حالت میں خبردار کھڑے ہونے کا انداز فوجی پریڈ کے وقت کھڑے ہونے والاہو تا ہے ،البتہ اس میں مقابل خانہ خدا ہوگا اور بدن کے تمام اعضاء کے ساتھ ہوگا وہ بھی مکمل توجہ اور نظم کے ساتھ، پس قبلہ یعنی کسی خاص مقام کی طرف توجہ کرنا لیکن اس خصوصیت کے ساتھ کہ اس توجہ میں غیر سے قطع تعلق اور خدا سے تعلق برقرار ہو ا س طرح کہ عمل میں یہ حقیقت نظر آئے ۔(۱۰)
۲۔۳ :کعبہ کی طر ف توجہ کرنے کے اسرارمیں سے ایک سیا سی واجتماعی پہلو ہے ، جابر بن حیان نے اما م صادق علیہ السلام سے پوچھا ، آیا کعبہ کا نماز کا مرکز ہونے کے لحاظ سے اہمیت زیادہ ہے یا حج کا مرکز ہونے کے لحا ظ سے؟ آپ نے فرمایا نماز کے لحا ظ سے ، کیونکہ بہت سے مسلمان پوری زندگی میں حتیٰ ایک بار بھی مکہ نہیںجا سکتے، لیکن ہر مسلمان دنیا میں جہاں بھی ہو ہر روز پانچ مرتبہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے ۔
کہہ سکتے ہیں کہ ہر دن رات پانچ بار تما م مسلمانوں کی نظر یں کعبہ میں جمع ہوتی ہیں، گویا دنیا کے تما م مسلمان دن رات میںپانچ مرتبہ آپس میں نظریں ملاتے ہیں اوران کی آواز وہاں پہنچتی ہے، مغرب و مشرق میں مسلمانوں کی تکبیر کعبہ میں سنی جاتی ہے ، ایسی مرکزیت دنیا کے کسی اوردین میں نہیں پائی جاتی اور نہ کبھی پائی جائے گی ۔(۱۱)
دوسرے لفظوں میں کعبہ اہل ایما ن کے دلوں کے لئے مقنا طیس ہے اور مسلمانوں کی وحد ت واستقلال کی علامت ہے، کعبہ اور نماز کا تعلق دائمی ہے، اگر کوئی فضا سے کرۂ زمین پر نمازیوں کی صفوں کا مشاہد ہ کرے تو اسے مختلف دائرے نظرآئیں گے جن سب کی مرکزیت کعبہ کو حاصل ہے اور توحید مسلمانوں کی صفوں ، دل و جان اور فکر و قلب کا نکتہ ارتکازہے۔(۱۲)
گلیڈ سٹون (انگلینڈ کے سابقہ وزیر اعظم) نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ میں کہا:
جب تک محمدؐ کا نام اذانوں میں بلند ہو تا رہے گا، کعبہ اپنی جگہ موجود رہے گا اور قرآن مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے موجود رہے گا، تب تک اسلامی ممالک میں ہماری سیا سی بنیادیں مضبوط نہیں ہو سکیں گی ۔(۱۳)
پروفیسرراجر گارودی ( فرانس کے مسلمان فلسفی) لکھتے ہیں :
نماز میں انسا ن اپنی طرف لوٹ آتا ہے ، پوری کائنات کو اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے اوراس طرح پہلے مومن شخص تعریف پر اکسایا جاتا ہے ، نماز میں دنیا کے سب مسلمان اپنی مساجد کے محرابوں کے مقابل منظم صفوں میں پوری ہمدلی و حضورِ عمیق کے ساتھ اپنے مرکزاوربنیاد کی طرف کھنچے جاتے ہیں۔ (۱۴)
۴ : قبلہ رخ کھڑا ہونا بہت سے ماضی کے واقعات اور اقدار کی یادلاتا ہے، مکہ کہ جہاںحضرت بلال ؒ کو شکنجے دئیے جاتے ، جہاںحضرت اسماعیل ؑکی قربانی دی گئی اور جہاںحضرت علی ابن ابی طالب ؑکی ولادت ہوئی وغیرہ۔
جہاں سے حکومت ِ عدل الٰہی کے لئے اما م مہدی علیہ السلام قیام فرمائیں گے، جہاں حضرت ابراہیم ؑکے امتحان ہوئے، جہاں سب انبیاء الٰہی اور اولیاء عبادت کر تے رہے ، کتنا اچھا ہو اگر نمازی نماز شروع کر نے سے پہلے ان سب عظمتوں پر ایک سر سری نظر ڈالے۔(۱۵)
۲۔۵:قرآن کے قبلہ رخ ہونے والے حکم کی برکتوں میں سے ایک یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کی علمی ترقی کا باعث ہے، قرآن فرماتا ہے:
فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوِہَکُمْ شَطْرَہُ (۱۶)
اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لو اور تم مسلمین جہاں بھی ہوں نماز کے وقت رُخ مسجد الحرام کی طرف کرلو ۔
وَمِنْ حَیْْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّواْ وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ(بقرہ۱۵۰)
اے رسول جس طرف سے بھی تم نکلواپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف کر لیا کرواور جہاں کہیں بھی تم ہو اپنے چہرے اُس کی سمت کر لیا کرو ۔
آیت میں شطرکے معنی سمت اور جہت کے ہیں ، جو لوگ دورہیں ان کے لئے بالکل کعبہ کی طرف یامسجدالحرام کی طرف رخ کرنا بہت مشکل ہے لیکن اس جہت کی طرف رخ کرنا جس میں کعبہ ہے یہ آسان ہے ، قرآن کا یہی حکم مسلمانوں میں جغرافیہ، ہئیت ،ہندسہ اور ریاضی کی تر قی کا باعث بنا اور مسلمانوں نے قبلہ نما ایجاد کیا، کیونکہ قبلہ کی جہت یابی اورتشخیص کے لئے ان علوم میں مہار ت کی ضرورت تھی۔
۲۔۶:جیسے دنیاوی معاملات میں ا نسا ن کو نظم اور پروگرام کی ضرورت ہوگی ہے عبادات بھی اسی طرح ہیں ، نماز اوراس کے احکام کہ جن میں سے رو بقبلہ ہونا بھی ہے ، یہ عبادات و معنویات میں نظم و انضباط کی بہت بڑ ی مثال ہے۔

(حوالہ جات)

(۱) سورہ آل عمران /۹۶
(۲) بقرہ /۱۲۵
(۳) تفسیرالمیزان ج ۱، ص ۲۹۸
(۴) تفسیر المیزا ن ج۳، ص ۳۵۴
(۵) تفسیر المیزان ج۶، ص ۱۴۲
(۶) ہزار و یک نکتہ ص ۱۰۰، نکتہ ۱۰۳، حسین دیلمی ، ہزار و یک نکتہ دربارہ نماز ص ۶۲
(۷) سرگذشت ہای ویژہ ای از زندگی اما م خمینی ج ۳، ص ۳۱
(۸) محمد فرید ، نہاو ندی ، رموز نماز یا اسرار الصلوۃ ص ۶۵
(۹) پیامبر السلام از نظر دانشمندان شرق و غرب،ص ۲۱۲
(۱۰) حسین انصاریان ، عرفان اسلامی ج۵، ص ۱۷۲۔۱۷۳، اما م خمینی ، آداب الصلوۃ ص ۱۲۸
(۱۱) محمد محمدی ری شہری مناظرہ در رابطہ با مسائل اید لٔو ژیک ص ۸۴،۸۵
(۱۲) محسن قرا ئتی ، پر توی از اسرار نماز، ص۱۰۹
(۱۳) ناصر مکارم شیرازی ، تفسیر نمونہ ج ۴، ص ۴۳۸
(۱۴) نقل از محسن کازرونی ، خلوت گہ راز ص ۱۹۸
(۱۵) محسن قرا ئتی ، تفسیر نماز ، ص ۵۰
(۱۶)بقرہ / ۱۴۴