اسلا م میں غلامی کا تصور

سوال ۳۳: اسلام تو حریت و آزا دی کا مذہب ہے پھر اسلام نے غلامو ں اور لونڈیوں کے سسٹم کو مکمل طور پر ختم کیو ں نہیں کیا ؟
اسلام کی نظرمیں تمام انسان ایک ماں با پ سے ہیں، رنگ و ثروت،مقام و منصب اور قبیلہ وغیرہ کو ئی کسی کے لئے فخر و امتیا ز شما ر نہیں کر تا، بلکہ اسلام کی نظر میں صرف امتیا ز تقویٰ ہے، سب سے قابل ِ عزت وہ ہے جو سب سے زیا دہ پر ہیز گا ر ہے۔(۱)
اسلام لوگوں کو کنگھی کے دانتوں کی طرح برابر سمجھتا ہے، جیسا کہ رسول ؐخدا نے فرمایا!
الناس کلھم سواء کاسنان المشط(۲)
لوگ کنگھی کے دانتوں کی طرح برابر ہیں۔
اسلا م کی نظر میں قوموں کی بربادی اس سے ہے کہ جب ان کے درمیان قانون کے مطابق برابر ی نہ رہے اور قا نو ن معاشرے کے تمام طبقات پر برابر جاری نہ ہو سکے ۔
یہ نظریہ ارسطو کے اس نظرئیے کے برخلاف ہے جس میں وہ سمجھتا ہے کہ غلام فطری طور پر موجو د ہوتے ہیں، لہٰذا ہمیشہ رہیں گے، یعنی اس کے نزدیک خدا نے بعض کو خلق ہی غلامی وبردگی کے لئے کیا ہے ۔ (۳)
لیکن اسلام غلامی وبردگی کو فطری نہیں سمجھتا، نہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے دو طرح کے انسان پیدا کئے ہیںایک آزاد اوردوسرا غلام ، رومی، قدیم یونان اورعر ب والے غلاموں کے لئے کسی قسم کے اجتماعی و معاشرتی حقوق کے قائل نہیں تھے ، ان کے برخلاف اسلام نے غلاموں کو دوسرے لوگوں کی صف میں شمار کرتے ہوئے انہیں شخصیت و احترا م دیا اوران کے لئے مناسب حقو ق قرار دئیے ، اگر کہیں پر ان کے حقو ق میں اختلاف نظر آتا ہے تو یہ خود غلاموں اور معاشرے کی مصلحت کے پیش نظر ہے ورنہ غلاموں کی تحقیر و تذلیل مقصود نہیں تھی۔
اسلام نے دنیاکے اکثر حصوں میں جاری ظالمانہ اورغیر انسانی روش کے برخلاف ایک عادلانہ روش کی داغ بیل ڈالی اور بطور کلی غلاموں کے لئے ایسی صورت حال پیدا کی کہ وہ اسلامی معاشرہ میں اہم علمی و سیاسی عہدوں اور مقامات تک پہنچ سکیں ، حتیٰ کہ خاندان ِغلاماں کی حکومت بڑی مدت تک بہت سے مما لک پر برقرا ر رہی۔
دراصل اسلام نے غلاموں کے لئے انسانی رحم دلی کے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ جنہوں نے پوری دنیا کے غلاموں کو اسلام کے مرکز کی طرف کھینچ لیا اور وہ جب اپنے وطن کو لوٹے تو اب وہ دین ِ اسلام کے مبلغ و مروّج تھے اورایک آزاد انسان تھے۔
اسلام نے آزاد انسان کے غلام بنائے جانے کے راستے بند کر دئیے اور غلاموں کی آزادی کے راستے کھول دئیے ، یقینا دنیا میں غلامی کے نظا م میں تبدیلی کی بڑی وجہ اس بارے میں اسلام کا کردار تھا۔
کنیزوں کے بارے میں بھی یہی روش جاری تھی، کنیز کی ملکیت کا حکم نکا ح والا تھا جس کی وجہ سے مالک اس کا محرم بن جا تا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے جہاں غلاموں اوران کی آزادی پر اتنی زیادہ توجہ کی ہے اس نے کیوں غلامی کو یکد م ختم نہیں کر دیا اورغلام بنانے کے راستے مکمل ختم کیوں نہیں کئے ، اس سوال کے جواب میں چند بنیا دی امور پر توجہ ضروری ہے۔

پہلا : غلامی کا خاتمہ
یک دم مکمل طور پرغلامی کا خاتمہ اس دور میں ممکن نہیں تھا کیونکہ :
۱۔۱ ـ: اس سے اس دور کے لوگوں کا اقتصادی نظا م مکمل طور پر تباہ ہوجاتا اور لوگوں کی زندگی پر سنگین ضرب پڑتی ، اس وجہ سے اسلام نے دوسرا طریقہ اپنایا کہ جس سے تد ریجی طور پر غلامی کا خاتمہ بھی ہوجائے اور معاشرے کا اقتصادی و اجتماعی نظام بھی تباہ نہ ہو، اس وجہ سے اسلام نے سب سے پہلے سب کو ترغیب و حکم دیا کہ سب کام کریں اور بے کاری و کاہلی اور عیاشی چھوڑ دیں تا کہ معاشرہ سابقہ روش کہ جس میں سارے کام غلاموں کے ذمہ تھے ،سے ہٹ جا ئے ، اس کے بعد اسلام نے غلاموں کی آزادی کے بہت زیادہ راستے قرار دئیے تا کہ تدریجی طور پر غلامی کا خاتمہ ہوسکے اورلوگ بھی فعال و سرگرم زندگی کے عادی ہوجائیں ۔
۱۔۲ :بعض مفکرّین غلاموں کی یکدم آزادی کو خطرناک سمجھتے ہیں، مونٹسکیو غلاموں کو بیک وقت آزاد کر نے کے حوالے سے لکھتے ہیں :
بہت سے غلاموں کا ایک خاص قانون کے ذریعے آزاد کردینا خلافِ مصلحت ہے کیونکہ اس سے معاشرے کا اقتصادی نظا م بگڑ جا ئے گا،بلکہ اس میں اجتماعی و سیاسی مفاسد پائے جاتے ہیں ، مثال کے طور پر ولسینی میںچونکہ آزاد شدہ غلاموں کوووٹنگ کا حق حاصل ہو چکا تھا جس کی وجہ سے انہیں اکثریت حاصل ہوگئی اور انہوں نے یہ قانون بنادیا کہ جوآزاد آدمی بھی شادی کرے گا ، پہلی رات دلہن ایک غلام کے پاس گذارے گی ، لہٰذا غلاموں کاآزاد کرنا تدریجی ہونا چاہیے اوروہ بھی ضروری تعلیمات و آداب سکھلانے کے ساتھ ، مثلاً قانون ساز اس طرح کا قانو ن بنا ئے کہ غلام اپنی کمائی سے اپنے آپ کو اپنے مالک سے خریدیں یا غلامی کی مدت محدود کردیں ۔(۴)
اس کام کو مکاتبہ کہتے ہیں کہ جو مو نٹسکیو سے صدیوں پہلے اسلام نے قانون کے طور پر وضع فرما دیا تھا اور اس کی تفصیلات فقہی کتابوں میں موجود ہیں۔
۱۔۳: گوسٹاولوبون لکھتے ہیں:
غلام ہمیشہ سے چونکہ غلامی میں زندگی بسر کرتے رہے ہیں، لہٰذا طفیلی زندگی کی وجہ سے ان میں تجربے کی کمی اور صلاحیتوں کا فقدا ن پیدا ہوگیا، اس وجہ سے اگر اسلام ان سب کو یک دم غلامیسے آزاد کر دیتا تو لیاقت اور ضروری تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لئے مستقل زندگی کا تشکیل دینا اوراسے چلانا ممکن نہ رہتا، جس کے نتیجے میںقدیم امریکن غلاموں کی طرح آزاد ی کے بعد وہ مکمل طو ر پر نابو د ہو جاتے ۔(۵)
اس وجہ سے اسلام کے قانون ساز نے غلاموں کی آزادی کے متعلق بنیادی اور مکمل پروگرام تشکیل دیتے ہوئے اس حقیقت کو بھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیا ۔
۱۔۴ ـ ـ: اس دور کی نئی تشکیل پانے والی حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ جنگی قیدیوں کو خاص مقامات (جیلوں میں) میں رکھ سکے جس کی وجہ سے اسیروں کو جنگجوؤں کے درمیان تقسیم کردیاجاتا اور وہ غلاموں کو اپنے ساتھ گھر لے جاتے تا کہ ان کی جان کی حفاظت بھی ہوسکے اورغلام اکٹھے ہو کر شورو بغاوت بھی برپا نہ کر سکیں ، دوسری طرف سے انہیں وہ کھا ناکھلاتے تھے جس کے مقابل ان سے کام لیتے تھے۔
مارشل بوازار،اس بارے لکھتے ہیں :
اسلام غلاموں کی جان کی حفاظت اور تجاوز سے بچا نے کی خاطر عرب قبائل کے قانون کے مطابق انہیں غلام اور کنیز کے عنوان سے تقسیم کرتے ہوئے آہستہ آہستہ انہیں عام شہریوں کے حقو ق سے بہر ہ مند کردیتا ہے۔ (۶)
۱۔۵ : مسلمانوں کی غیرمسلموں کے ساتھ جو جنگیں ہوتیں ان میں کافر مسلمان اسیروں کو غلام بنا لیتے تھے، لہٰذا اسلام کو مجبوراً مقابلے میں ویسا ہی کام کرنا پڑا، اگر اس کے علاوہ عمل کیا جاتا تو پھر اسیروں کے ٹھہرانے اوران کی بغاوت کو روکنے کے لئے کافی زیادہ اخراجات کی ضرورت تھی اور اسلام انہیں بھا گ کر دوبارہ دشمن کے محاذ کے ساتھ مل جانے سے نہیں روک سکتا تھا، دوسری طرف سے مسلمانوں کا غلامی میں چلے جانا مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو کمزور کرتا اور کافروں کے لئے مسلمانوں کے خلاف نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ بن جاتا ۔

دوسر ا:غلامی کی ممنوعیت میں اسلام کی سبقت
گذشتہ ادوار سے بردگی کے جتنے طریقے رائج ہو چکے تھے اسلام نے جنگ کے علاوہ باقی سب راستوں کو ناجائز قرار دے دیا ، بعض راستے یہ ہیں ۔
۲۔۱ ـ:اسیر اور غلام بنا نے کے لئے اچانک حملہ کرنا۔
۲۔۲ :مقروض ادائے قرض سے عاجز ہو جائے تو قرض خواہ قرض کے بدلے اسے غلام بنالیتا تھا۔
۲۔۳ :آزاد اشخاص کااپنی اولاد کو بیچ دینا۔
اسلام افراد کو غلام بنانے کے لئے کسی طریقے کوجا ئز نہیں سمجھتا سوائے ایک طریقے کے کہ کافر مسلمانوں کے خلاف جنگ کے دوران گرفتا ر ہوجائے، یہ مسئلہ بھی حالات و مکان کی شرائط اور رہبر مسلمین کی رائے کے تابع قرار دیا گیا ہے ، اگر وہ جنگی اسیروں کوغلام بنایا جانا مصلحت نہ سمجھتے تو پھر وہ کچھ مقدار مال فدیہ کے طور پر لے کر انہیں آزاد کر سکتا ہے یاانہیں معاف کر سکتا ہے۔ (۷)
آپ نے ملاحظہ کیا اسلام میں غلام بنانے کا صرف ایک طریقہ موجود ہے اور وہ ہے جنگ میں قیدی ہونا، اب ان لوگوں کو باقاعدہ طور پر حق حیات دینا جو خداوندتعالیٰ کا انکار کرتے ہوئے دین حق کے ساتھ جنگ پر قیام کرتے ہیں کیا، یہ فضل ِخدا نہیں ہے؟ اسلام نے ان کی زندگی کی ضمانت دی ہے اور جنگی قیدیوں کے قتل کو سوائے جنگی معرکہ کے ناجائز قرارد یا ہے، لیکن ان لوگوں کی آزادی کا دائرہ محدود کردیا ہے کہ جنہوں نے اپنی آزادی سے ناجا ئز فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا اور مومنین کے خلاف جنگ میں شرکت پر اقدام کیا تھا، اس کے باوجود اسلامی تعلیمات میں ان کی آزادی پر کافی زور دیا گیا ہے، ہم بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔(۸)

تیسرا:غلاموں کے حقوق
اسلام نے غلام اورآقا و مالک کے روابط مکمل طور پر انسانی وعدالتی بنیادوں پر استوار کیے ہیں اور ان روابط میںہر طرح کے ظلم و تجاو ز کا راستہ بند کردیا ہے، اسلام نے اپنے اخلاقی اصولوں کے ذریعے غلامی اورغلاموں کے حقوق کو بالکل ایک نئی شکل میں پیش کیا ہے۔
رسولؐ ِخدا نے ایک دن دیکھاایک شخص سواری پر سوار ہے اوراس کا غلام اس کے پیچھے پیدل آرہا ہے توآپؐ نے فرمایا اپنے غلام کو بھی سوار کر لو وہ تمہارا بھائی ہے اوراس کی روح بھی تمہاری روح کی طرح ہے ۔(۹)
چوتھا: غلاموں کی آزادی کے طریقے
اسلام نے غلاموں کی تدریجی آزادی کے لئے کئی نئی راہیں متعارف کروائیںمثلاً:
۴۔۱ : غلام کی آزادی کو بہت بڑی عبادت قرار دیا ، ہمارے آئمہ ؑ نے بھی اس عبادت پر عمل کو بہت اہمیت دی،مثال کے طور پر اما م سجادؑ نے اپنی حیات ِطیبہ میں تقریباً ایک لاکھ غلام آزاد کئے۔ (۱۰)
۴۔۲ :بعض گناہوں کا کفارہ غلام کی آزادی کو قراردیا۔
۴۔۳ :ام ّ ولد کی خرید و فروخت ممنو ع قرار دی، یہ حکم خو د ان کنیزوں کی آزادی کاموجب بنا کہ جو اپنے مولا کے بیٹے کی ماں بن گئیں ۔
۴۔۴:بیٹے کی اپنے ماں اور باپ پر ملکیت کو ممنو ع قراردیا ، یہ حکم بھی امّ ولد یا بیٹا اگر اپنے ماں باپ کو خرید لے تو ان کی آزادی کا موجب بنا۔
۴۔۵ : غلاموں کو اپنے آقا کے ساتھ عقد کتابت باندھنے کا اختیار دیا کہ اس کے ذریعے کام کر کے اپنی آزاد ی حاصل کرسکیں یا غلامی کی مدت کو محد و د کر لیں، ا س مسئلہ سے بھی جو باہمت غلام تھے انہوں نے کوشش کر کے آزاد ی حاصل کر لی ۔
۴۔۶:ایک جنگ میں پیغمبر اکرمؐ نے غلاموں سے آزادی کے لیے یہ شرط رکھی کہ تم میں سے جو بھی دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے گا آزاد ہو جا ئے گا،یہ کام مسلمانوں کے فائدہ میں ہونے کے علاوہ خود ان کے لیے بھی مسلمانوں کے عقیدہ و مکتب سے واقفیت حاصل کر نے کا باعث بنا، جس سے ان کے لئے قبول ِ اسلام کاراستہ ہموار ہوسکتا تھا۔ (۱۱)
مارشل بوازار،اسلام کی مسئلہ غلامی کے حوالے سے اختیار کی گئی روش کی خصوصیات شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم غلام اور کنیز کے مسئلہ سے مربوط ہے جو اسلام کی انسان دوستی کی علامت ہے ، مسلمانوں کو غلاموں کی آزادی اورانہیں ان کی مہارت کے مطابق مختلف کاموں پر لگانے کی ترغیب دی گئی اوراس انسانی ہمدردی کے پروگرام کو بہتر طور پر رائج کرنے کے لئے بیت المال سے اسلام نے مالی امدادکے طور پر ان کے لیے حصہ قرار دیا، اسی طرح کہ غلاموں کی زندگی کی صورت حال بہتر بنانے ، انہیں آزاد کر نے اوران کے لائق کاموں پرانہیں لگانے کے لئے زکواۃ سے حصہ قرار دیا ہے ۔ (۱۲)
اور ان سب سے بڑھ کر غلام کی آزادی اس کی اپنی خواہش کے مطابق اورپھر اسے ضروری سرمایہ دینا اور اگر کوئی کنیز اس کے ساتھ شادی پر راضی ہو تو اسکی شادی کرا نا ہے تا کہ زنا وغیرہ سے بچ سکے۔(۱۳)
اسلام کا غلاموں کی آزادی پر زور دینا اورپھر اسے کام وغیر ہ کے لئے سرما یہ دینا غلام کی صرف ظاہری آزادی نہ سمجھی جا ئے بلکہ یہ عمل ان کی اقتصادی آزادی کی ضمانت بھی دیتا ہے اور آئندہ کسی مالدار شخص کے ذریعے اس سے استفادہ کرنے کی راہیں بھی بند کر دیتا ہے۔
امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قوا نین آزادشدہ غلاموں کی ذرا برابر مالی مدد نہیں کرتے تھے، اکثر سیاہ پوش غلام اقتصادی دشواری اور بے کاری کی وجہ سے اپنی آزادی پر زیادہ خوش نہیں ہوتے تھے بلکہ آزادی کے بعد کچھ عرصہ آوارگی اور بے کاری کے دھکے سہہ کر خود ہی اپنے سابقہ مالک کی طرف لوٹ آتے، حالانکہ اسلام نے اپنے دور اندیش طریقے کے ساتھ انسانوں کی بے کاری کو رد کرتے ہوئے غلاموں کی آزادی کے بعد معاشرہ کے اقتصادی اعتدال سے خارج نہ ہوجانے کی پہلے سے منصوبہ بندی کر لی ، اسلام نے اپنے ماں ، باپ ، رشتہ داروں ، یتیموں، غریبوں ، ہمسایوں ، مسافروں ، ملازموں اورغلاموں کے ساتھ اچھے برتاؤ کا جو حکم دیا وہ بھی اس موضوع میں شامل ہے ۔(۱۴)
صدر اسلام میں خصوصاً حضور اکرمؐ کی زندگی میں غلام نہ صرف آزاد کئے جاتے تھے بلکہ تعلیم و تربیت اورضروری حفاظت سے بھی بہر ہ مند ہوتے تھے،جس کے موارد ذکر کرنے کی ضرورت نہیںہے، صرف زید بن حارثہ کی داستان کی طرف اشارہ ہی کافی ہے ،یہ ایک آزاد شدہ غلام تھے ،آپ صحابی اورکاتب وحی و حدیث کے منصب پر فائز تھے اورآپ کا بیٹا اسامہ عظیم اسلامی لشکر کا سپہ سالا ر تھا، بلا ل حبشیؒ بھی مدینہ کی گورنری کے منصب پر فائز ہوئے ، بعد کے زمانوں میں قطب الدین ایبک بھی ایک غلام تھے جنہوں نے ہندو ستان میں ایک بڑی حکومت کی بنیاد رکھی۔(۱۵)

(حوالہ جات)
(۱) سور ہ حجر ات / ۱۴
(۲)صدوق من لا یحضر ہ الفقیہ ج۴، ص ۳۷۹
(۳) شارل منٹسکیو، روح القوانین ترجمہ علی اکبر مہتدی، ص ۴۱۵
(۴) مونٹسکیو، روح القوانین ص ۴۲۸
(۵) گوسٹا ولوبون ، تمدن اسلام و غرب ۴۸۲
(۶) مارشل بوازار ، اسلام و حقو ق بشر ترجمہ دکتر محسن مو ٔیدی ص ۴۹
(۷) المیزان ج۶، زین العابدین قربانی ، اسلام و حقو ق بشر
(۸) صادق ایرجی ، بردگی در اسلام
(۹) تاریخ بردگی ص۷۴
(۱۰) رسول جعفریان ، حیات فکر ی و سیاسی اما مان شیعہ ص ۲۸۰
(۱۱)الف تفسیر المیزان ج ۶، ب موسوی زنجانی ، اسلام و مسئلہ آزادی ، بردگی ، پ : حجتی کرمانی ، از بردگی روم قدیم تا مار کسیسم ،ت؛ ناصر مکار م شیرازی ، فرآور ھای دینی ،ث : بیدار فکر، بردہ داری دررو م باستان ج : اسد اللہ مبشری ، حقو ق بشر، ح : محمد علی گرامی ، نگاہی بہ بردگی ، خ صادق ایرجی ، بردگی دراسلام ،د ؛ مصطفی حسینی بردگی از دید گا ہ اسلام
(۱۲) بقرہ / ۱۷۷
(۱۳) نور/۳۳
(۱۴) سورہ نور/ ۳۹
(۱۵) مارشل بوازار حوالہ سابق ، ص ۴۸۔۴۹