مو سیقی

سوال ۳۲ : مو سیقی انسان پر کیا اثر ات ڈالتی ہے بعض اس کی تعریف کر تے ہیں اور بعض اس کے نقصانات بتلا تے ہیں حقیقت کیا ہے اچھی چیزہے یا بری ؟
مو سیقی کی مختلف اقسا م ہیں اور ہر قسم کا اثر اور کا ر کر دگی مختلف ہے، شا ید مو سیقی جیسی کو ئی چیز بھی تنو ع پذیرنہ ہو، اس کی مختلف اقسام میں اس حد تک وسیع اختلاف پا یا جا تا ہے کہ سب سے زیا دہ لذت بھی اس سے حا صل کی جا سکتی ہے اور سخت ترین تکلیف بھی اسی سے دی جا سکتی ہے ،آج کے دو ر میں مو سیقی کی کچھ اقسا م کے ساتھ بیما ریو ں کا علا ج کیا جا رہا ہے جب کہ مو سیقی کی بعض اقسا م رو ح و ذہن پر بُرے اثر ات ڈا لتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ مو سیقی پر بعض تحقیقا ت کرنے والوں نے مو سیقی کی بعض اقسا م جیسے مغرب میں رائج زور دا ر سا زوں والی مو سیقی کے تبا ہ کن اثرات کے بارے میں وا رننگ دے رکھی ہے کہ ان میں سے بعض کا تعلق انسا ن کے عقل و شعو ر اور اعصاب سے ہے ۔
توجہ کر نی چا ہیے کہ:
۱۔مو سیقی کے حدو د اور ان کی تا ثیرا تی کیفیت مختلف اور ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہے اور یہ فرق کئی لحاظ سے ہیں ،جیسے مو سیقی کی مختلف اقسام کے سننے والوں کی الگ الگ خصوصیات (ان پرجسما نی ، روحا نی اور نفسیا تی سطح کے لحا ظ سے اثرپذیری)مو سیقی سننے کی مقدار اور کیفیت اور اس ما حو ل کی مختلف شرائط ہیں کہ جن میں مو سیقی بجائی یا سنی جارہی ہے ۔
۲۔مو سیقی کا شر عی حکم حتما ً اس کے جسما نی یا ذہنی اثر ات کے تا بع نہیں ہے ،وہ چیز جو دینی نظر میں اہمیت رکھتی ہے وہ معنو ی اثرا ت ہیں، جو چیز بھی انسان کو یادِخدا سے غا فل کر دے اسے شہوات اور ما دی ہو یٰ و ہو س کا شکا ر کر دے یا ا س کی عمر کو فضو ل اور لغو کا مو ں میں مشغو ل کر دے اور اسے اعلی انسانی کما لا ت کے پا نے اور تقر ب الی اللہ سے رو ک دے، اسلا م ایسے کا موں کو پسند نہیں کرتا، ہو سکتا ہے کہ مو سیقی کی کو ئی قسم جسمانی لحا ظ سے کسی قسم کا کوئی نقصا ن نہ رکھتی ہو ،لیکن انسان کی معنو ی منزلت کو تبا ہ کر دے، اسے یا د خدا سے دو ر کر دے، اس میں دنیا طلبی کی روح اجا گر کردے اور اس کے اندر خو اہشا ت کو ابھا ر دے تو ان وجو ہ کی بنا پر اسلام کی نظر میں مو سیقی حرا م ہو گی ،البتہ اگر مو سیقی جسمانی نقصا ن کا باعث بنے تو اس لحا ظ سے بھی اسلام کی نظر میں حرا م ہو گی لیکن اسلا م کی بنیا دی نظر تو اس کے معنو ی اثرا ت پر ہے نہ کہ ما دی و جسمانی اثرات پر ۔

موسیقی کے عقل پر اثرات:۔
عقل کی خصوصیا ت اور شا ن یہ ہے کہ معتد ل ہو ( حد اعتدال میں رہے ) اور متین ہو یعنی اپنی پختگی و استو اری کو با قی رکھتے ہو ئے ممکنہ طور پر لذ ت و نشا ط کا شکار نہ ہو، خیا لی تحریک انسان میں اس حد تک آگے چلی جا تی ہے وہ اس کو طرب کی حالت سے دو چا ر کر دیتی ہے، مو سیقی کا یہ اثر عقل سے اس کی فعالیت، سو چ، دقت ِ نظر اور وا قع بینی کی صلا حیت چھین لیتا ہے۔
موسیقی کا دل دا دہ نو جو ان اپنے اندر کی افسر دگی ختم کر نے کے لئے ٹیپ کا بٹن دبا تا ہے تاکہ مو سیقی کیسٹ سے چل پڑے اور وہ اس پر سر ہلا ئے، لیکن جو جو ان معقول ہے، جب اپنے اندر افسر دگی و دل تنگی پا تا ہے تو کو شش کر تا ہے کہ اس کی وجہ تلاش کر ے وہ راسے تلا ش کر کے اس کا حل ڈھو نڈتا ہے تا کہ اس کے ذریعے اپنے اندرخو شی کے معقول عوا مل فر اہم کر ے ۔
مو سیقی کا دلدادہ نو جو ا ن اپنے اندر تحریک اور احسا سا ت ابھا رنے کے لئے وقتی اور غیر حقیقی علا ج ڈھو نڈتا ہے، وہ اپنی خو اہشا ت مو سیقی میں پاتا ہے، وہ اپنی عقل و خرد کو کبھی یہ زحمت نہیں دیتا کہ دیکھے اصل مشکل کیا ہے، غلطی کہا ں واقع ہوئی اور اس کے سامنے کون سا راستہ یا کنوا ں ہے ۔ آیا غیر مخلص دوست نے اسے غلط راستے پر ڈالا یا اس کی اپنی سستی و کاہلی اسے اپنے دینی و الٰہی و ظائف کی انجا م دینے میںما نع ہو ئی ہے جس کی وجہ سے وہ ادا سی محسو س کر رہا ہے ۔ پس یہ جو کہا گیا ہے کہ ’’مو سیقی عقل کو سلا دیتی ہے‘‘ صرف اڑا ئی ہو ئی با ت نہیں ہے بلکہ کئی جگہوں پر ایک حقیقت ہے، حقیقت سمجھنے کے لئے آنکھیں کھو لنا چاہئیں نہ کہ بند کر لی جا ئیں، مو سیقی عقل و خر د کو سلا دیتی ہے یعنی انسان ایسے کا مو ں میںمشغو ل ہو جا تا ہے کہ جس سے وہ تدریجا ً اپنے آپ، اپنی ضروریات اور ان کے علا ج سے غا فل ہو تا چلاجا تا ہے ،نیز با قا عدہ جا نچ پڑتال کے ذریعے مشکلات اور اس کے راہ حل سے غا فل ہو جا تا ہے ،انسان ایسی مشکلات رکھتا ہے کہ جن کا علا ج عقل و ہو ش ،ار ادہ اور مو جو دہ صور ت حال کی تبد یلی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ،لیکن جب دیکھتا ہے کہ مو سیقی کی کیسٹ نے اس کی مشکل حل کر دی ہے تو صر ف اسی کو اپنے درد کا علا ج سمجھنے لگتا ہے، یہا ں پر اس کا درد گہر ا ہو کر شدت اختیا ر کر جا تا ہے وہ اور زیا دہ مو سیقی میں گم ہو جا تاہے، یہاں تک کہ معمولی سا ز و آواز سے مطمئن نہیں ہو تا اور اسے شدید مو سیقی کی ضرو ر ت محسو س ہوتی ہے، افلاطو ن کہتا ہے جب مو سیقی کا ردھم بدلتا ہے تو معا شرتی قوانین کی اساس بھی بد ل جا تی ہے بلکہ اب تو عقل کو کنا رے کر دیا ہے حا لا نکہ عقل معاشرہ کی اسا س و بنیا د ہے، جب تصو رروعمل کی تشخیص عقل سے ہو گی تو عمل بھی متین و مستحکم ہو گا، لیکن جب عقل میں بھی جمو د پیدا ہو گیا تو عمل میں جمود و سستی پیدا ہو جا ئے گی، یہ گا نے سن کر جو ان چھچھو را پن اختیا ر کرتے ہیں، معلو م ہو تا ہے کہ ان کی عقل متانت سے ہٹ کر خفیف ہو چکی ہے، اب عقل کے بجا ئے جذبا ت اس پر حا کم ہیں ۔ (۱)

(حوالہ )
(۱) محمد تقی صدیقین اصفہانی غنا مو ضو عاً و حکماً ص۸