شطرنج کی حرمت

سوا ل۳۱ : شطر نج کی حر مت کی کیا دلیل ہے بعض فقہا کے نز دیک یہ جا ئزہے پس یہ کیسے ہو گیا کہ ایک چیز جو حرا م تھی اب حلا ل ہو گئی ،کیا دینی احکا م واضح نہیں ہیں؟
احکا مِ الٰہی کے بیا ن میں چند نکا ت پر توجہ ضروری ہے۔
پہلا :احکا م ِخد ا مصا لح اور مفا سد کی بنا پر قر ار دئیے جا تے ہیں اور مصا لح و مفا سد کا دا ئر ہ وسیع ہے جن میں جسما نی، روحانی، فر دی ، اجتما عی ، دنیا وی اور اُخر و ی سب پہلو شا مل ہیں۔
دو سرا:احکا م ِخد ابشر کی ضرو ریات ( ثابت ہو ں یاغیرثابت) کے مطابق ہیںجو ثابت ضروریات ہیں ان کے لئے ثابت احکا م ہیں اورجو ضر وریا ت غیر ثا بت ہیں ان کے لئے احکام بھی غیر ثابت جاری کئے جاتے ہیں۔
تیسرا: احکام خدا مو ضو عا ت کے تا بع ہو تے ہیں، ہر مو ضو ع اپنا مخصو ص حکم رکھتا ہے لہٰذا احکام ثبات و تغیر کے تا بع ہوں گے ،اگر مو ضو ع ثابت ہو تودینی احکا م بھی ثا بت اور اگر مو ضو ع تبدیل ہو جا ئے تواحکا م ثابت نہیں رہ سکیں گے مثلا ً انگو رکھا نا حلا ل ہے لیکن اگر وہی انگور شراب میں بد ل جا ئے تو اس کا کھا نا حر ام ہو جا ئے گا ۔
چو تھا: مو ضو ع کا تبدیل ہو نا کئی طرح سے ہوتا ہے ان میں سے ایک قسم استحکا م ہے ( شے کی ماہیت بد ل جا ئے ) جیسا کہ اوپر والی مثا ل میں آ پ نے دیکھا ایک اور قسم اس عنو ان کا بدلنا ہے جو اس مو ضو ع پر منطبق ہے جیسے ہر وہ شے جس میں کو ئی حلا ل منفعت نہ ہو اس کا لین دین جا ئز نہیں ہے، اسی وجہ سے سا بقہ دور میں خون کی بیع جا ئز نہیں تھی کیو نکہ اس وقت اس میں حلا ل منفعت نہیں تھی لیکن آج خو ن کی بو تل لگا کر بیما روں کی جا ن بچا ئی جا سکتی ہے اب خو ن حلا ل منفعت رکھتا ہے باوجود اس کے کہ خون کی ما ہیت میں کو ئی تبدیلی وا قع نہیں ہوئی بلکہ وہ عنو ان بدلا ہے جو خو ن پر منطبق تھا یعنی اب خو ن ان امور کا مصدا ق بن گیا ہے کہ جو حلا ل منفعت رکھتا ہے، لہٰذا اب اس کی خر ید وفروخت جا ئز ہو گی ۔
پا نچوا ں :آلا ت ِقما ر کے ساتھ کھیل اسلام میں حر ا م ہے اور شطر نج کے سا تھ کھیل اس لئے حرا م ہے کہ یہ قما ر کے آلا ت میں شما رہوتا ہے، اگر چہ اس پر شر ط نہ لگائی جا ئے ،لہٰذا جب تک یہ عنوان شطرنج پر صادق رہے گا اس کا حکم حرمت رہے گا ہاں اگر مجتہد شطرنج کے بارے تشخیص دے کہ فلاں صورت میں یہ قما ر کا مصدا ق نہیں ہے تو اس کا حکم بھی بدل جا ئے گا۔
چھٹا : بعض فقہا جیسے آیۃ اللہ سیستا نی اور آیۃ اللہ صافی شطرنج کو مطلقاً حر ام سمجھتے ہیں ، کیوںکہ ان کی نظرمیں شطر نج کی حرمت کا ملا ک اس کا آلہ قما ر ہو نا نہیں ہے بلکہ خو د شطرنج حرمت کیلئے موضو ع مستقل ہے، لہٰذا آلہ قما ر ہو یا ہو نہ ہو اس حکم میں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن بعض دوسرے فقہا جیسے امام خمینی ؒ، رہبرمعظم سید علی خا منہ ای ، آیۃ اللہ فاضل ، آیۃ اللہ مکا رم، اور آیۃ اللہ بہجت شطرنج کو آلہ قمار ہونے کے عنوان سے حرا م سمجھتے ہیں اس مبنیٰ کی بنا پر اگر شطرنج آلہ قمار ہونے سے خارج ہو جائے تو پھر حرام نہیں رہے گا،لہٰذا اس مسئلہ میں ہر کسی کو اپنے مرجع کی طر ف رجوع کرنا چاہیے۔

قمار کے نقصانات
خدا وندتعالیٰ قما ر کو شراب خوری ، بت پرستی اور پلید شیطانی کاموں کے زمرہ میں شمار کرتے ہو ئے اس سے اجتناب کاحکم دیتا ہے، ارشا د ہے :
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون (ما ئد ہ / ۹۰)
اے ایما ن والوں بتحقیق شر اب، قمار ،بت اور ازلا م سب پلید اور شیطانی کام ہیں پس ان سے پر ہیز کر و تا کہ شا ید تم فلا ح پا جاؤ
’’میسر‘‘ کے معنی قمار کے ہیں، لہٰذا قمار بازی کرنے والے کو یاسر کہتے ہیں یہ اس لحا ظ سے ہے کہ جوئے با ز دوسر وں کے ما ل کو آسا نی کے ساتھ بغیر کسی زحمت و مشقت کے حا صل کر لیتا ہے ۔(۱)
امام رضا ؑسے منقو ل ہے کہ المیسرہو القمار (۲)
متعدد رو ایات کی بنا ء پر جو کہ رسولِ خد ا ؐ او ر آئمہ طا ہرین ؑ سے مر وی ہیں آلا تِ قما ر کے سا تھ کھیل کو میسر کہا گیا ہے، جا بر جعفی نے اما م با قر ؑسے رو ایت کی ہے کہ رسو ل اکر م ؐ سے سوا ل کیا گیا کہ میسر کیا ہے ؟ تو آ پؐ نے فر ما یا ہر وہ جس کے سا تھ قما ر بازی (جو ا ) ہو، حتیٰ کہ قاب یا اخروٹ کی با زی بھی۔ (۳)
قیل یا رسول اللّٰہ ما المیسر؟ فقال ﷺکل ما تقو م بہ حتی الکعاب والجوز
بعد والی آیت میں ہے کہ شیطا ن تمہارے درمیا ن دشمنی اور کینہ ایجا د کر نے اور تمہیں یادِخد ا اور نما ز سے رو کنے کی کو شش کر تا رہتا ہے، قما ر با زی اور شراب خوری شیطان کے حربے ہیں، کیا پھر بھی تم اس کا م سے با ز نہیں آؤ گے، جیسا کہ ارشا د ہے :
إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُون (ما ئد ہ / ۹۱)
دوسر ی آیت میں شر اب خوری اور قما ر کو ایک رد یف میں ذکر کر کے اسے کبیرہ گنا ہوں میں سے شما ر کیا گیا ہے، اگر چہ ہو سکتا ہے اس پر کو ئی منفعت بھی مرتب ہو، لیکن اسکے نقصا نات اس کے فا ئد ے سے کہیں زیا دہ ہیں۔
یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِقُلْ فِیھِمٰااِثْمٌ کَبِیرٌوَ مَنافِعُ لِلنّٰاسِ وَ اِ ثْمُہُمٰاأَکْبَرُمِنْ نَفْعِہِمٰا
دوسر ی آیت میں یو ں آیا ہے :
حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّہِ بِہِ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَکَّیْْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِکُمْ فِسْقٌ (ما ئد ہ / ۳)
اس آیت سے معلو م ہو تا ہے کہ ازلام (۴)کے ذریعے تقسیم کا طریقہ کا ر بھی قما ر کی ہی قسم تھی جسے اسلام میں حرا م کر دیا گیا ہے ۔ پس قما ر با زی اگر شر ط کے سا تھ ہو تو چاہے آلا ت قما ر کے ساتھ ہو یا کسی اور طر یقے کے ساتھ حرا م ہے اور میسرو ازلام کے عناوین میں دا خل ہے اور دوسروں کے احوال میں نا جا ئز تصر ف کا ایک مورد ہے کہ جسے قر آن نے حرا م کیا ہے۔
لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ(۵)
ایک او ر اہم نکتہ قما ر کا نفسیا تی اثر ہے، قما ر با ز ( جو ئے با ز ) ہمیشہ ہا رنے والا ہے اگر چہ جیت جائے، کیو نکہ جیتنے کی صور ت میں اس کا حر ص اور بڑھتا ہے کہ مزید کھیلے اور یقینا ہر با ر وہ جیتے گا تو نہیں بعد والی با زیو ں میں وہ ہا ر جا ئے گا، لہٰذا بغیر زحمت کے حا صل شدہ ما ل کو جلدی ہا تھ سے دے بیٹھے گا ، اخلا قی لحا ظ سے یہ قسا وت قلبی کا با عث بنتا ہے کہ اکثر وہ اس حد تک چلا جا تا ہے کہ دوست کی تما م زندگی ، گھر اور امو ا ل سب اس سے لے لینا چاہتا ہے اور اس کو اور اس کے گھر والوں کو بد بخت کر کے اورا ن کے ما ل کے سا تھ خو د عیش و عشرت میں مشغو ل ہو جا نا چاہتا ہے بعض روایات میں وا رد ہو ا ہے (۶) کہ قریش اس حد تک جو ا با ز ی میں آگے چلے جا تے تھے کہ اپنے بچو ں اور بیو یو ں کو بھی گر وی رکھ دیتے اور بیچ دیتے تھے اس وجہ سے آلا تِ قما ر کے ساتھ با زی کو حتیٰ بغیربر د و باخت کے بھی حرا م کہا گیا ہے تاکہ کو ئی اس خطر نا ک وا دی میں دا خل نہ ہو ،دوسر ے لفظو ں میں یہ احتما ل بھی ہے کہ آلات قما ر کے ساتھ بازی کی حر مت حریم کے طو ر پر ہو یعنی اسلامی معا شر ہ با لکل ہی ان جیسے امور کے نزدیک نہ جا ئے، دوسری طر ف سے جو ہا رتا ہے وہ اپنی ذہنی و ما دی شکست کے ازالے کے لئے بازی جا ری رکھتا ہے اور غصے کی وجہ سے ہو سکتا ہے اپنی پو ری زند گی دا ؤ پر لگا دے، اب اپنی شکست کو بھو لنے کے لئے وہ شر اب اور دو سرے نشے کی پنا ہ لے گا شا ید اسی وجہ سے قما ر کو شر اب کے ساتھ ذکر کیا گیا ہو ،بعض کھیلو ں کے حوالے سے بالخصوص جیسے شطرنج جان لینا چاہیے کہ فقہ واجب و حر ام کے درمیا ن اس کی آخر ی حد مشخص کر تی ہے ، لیکن دوسرے سائیڈافیکٹ ضمنی اثرات تو آپ کو خو د دیکھتے ہیں ،شا نتا ل شودہ فر انس کے مشہو ر شطرنج باز کہتے ہیں کہ شطرنج کھیلنے سے ذہن کے تما م سوتے خشک ہوجا تے ہیں اور ذہنی و فکری فعالیت مکمل طور پر بے کا ر ہو جا تی ہے ،پا سکا لی نظریہ کے مطابق شطرنج کا مغز کے اوپر دبا ؤ باعث بنے گا کہ انسان میں حو ا س کا خلل پید ا ہو جا ئے اور وہ پاگل پن میں مبتلا ہو جا ئے۔
بعض کے نزدیک شطرنج کا ایک نقصا ن کھیلنے والوں کے درمیا ن دشمنی کا پیدا ہو نا ہے الخین ( شطرنج کا ایک مشہو ر کھلا ڑی ) کہتا ہے شطرنج کے کھیل میں جیتنے کے لئے حریف سے نفرت ضرور ی ہے، سب سے بڑ ھ کر شطرنج کا کھیل انسان کی عمر ضا ئع کر تا ہے، اس کے اعصاب کو برباد اور نفسیات کو نامو زو ں کر دیتا ہے۔

(حوالہ جات)

(۱) سید علی اکبر قرشی ، قا مو س قرآن ج ۷ / ص ۲۶۳
(۲) وسا ئل الشیعہ ج ۱۲ / ص ۱۱۹
(۳) وسا ئل الشیعہ ج ۱۲ / ص ۱۱۹
(۴) عرب میں دو طرح کے ازلا م یعنی مخصوص تیر تھے ازلام امر و نہی
(۵) بقرہ / ۱۸۸ ، نسا ء / ۲۹،۱۶۱،توبہ / ۳۴
(۶) وسا ئل الشیعہ ج ۱۲ / ص ۱۱۹۔ ۱۲۱