حجاب

سوا ل ۳۰ : عو رتوں میں حجا ب ( پر د ہ ) کا کیا فلسفہ ہے اگر پردہ اچھی چیز ہے تو پھر مردو ں پر ضروری کیو ں نہیں کیاگیا؟پر دہ قرآ ن سے ثا بت ہے یا پرانے زما نے کی فر سو دہ رو ایات سے لیا گیا ہے ؟
لبا س پہننا اتنا ہی پر انا ہے جتنی انسا نی زند گی ،فکری مکا تب میں سے صر ف ایک مکتب فکر کے علاوہ سب اس پرعمل پیر اہیں ،وہ مکتب ِفکر ننگا ر ہنے کو تر جیح دیتا ہے۔ (۱)
انسان کی فردی واجتما عی خصو صیات سے مر تبط ہو نے کے علا وہ کم از کم انسان کی تین ضرور یا ت کو پور ا کر تا ہے۔
۱۔گر می اورسر دی سے بچاتا ہے۔ (۲)
۲۔عفت و حیا کی حفا ظت کر تا ہے۔ (۳)
۳۔خو بصورتی اور وقا ر کا با عث ہے۔ (۴)

پردہ اور اسلامی حجاب
حجا ب کی اصطلا ح کے معنی پر دے کے ،چھپا نے کے اورد ست رسی سے روکنے کے ہیں۔ (۵)
اس اصطلاح کے معنی صرف ظاہری پر دے میںمنحصر نہیں ہیں بلکہ دراصل عورت کو نا محر م مرد کی نظر سے چھپانا مقصود ہے ، لہٰذا ہرپر دہ حجا ب نہیں کہلا ئے گا ، حجا ب وہ پر دہ ہے جو کسی چیز کے پشت پر وا قع ہو نے سے حا صل ہو ۔
آیت حجا ب میں یو ں آیا ہے ا ورجہا ں بھی تا ریخ یا اسلامی حدیث میں آیتِ حجاب کی با ت کی گئی ہے اس مر اد یہی آیت ہے نہ کہ سو ر ہ نو ر کی آیا ت مرا د ہیں۔ جو با لخصو ص اسلا می پر دے کے با رے میں ہیں۔
وَإِذَا سَأَلْتُمُوہُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوہُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ (احزا ب / ۵۳ )
جب پیغمبر کی بیو یو ں سے کو ئی چیز ما نگو تو پر دے کے پیچھے سے مانگو ۔
عا م تصور کے بر خلا ف یہ آیت آنحضرتؐ کی بیو یو ں کے با رے میںنا زل ہو ئی اور وہ بھی زیادہ تر سیا سی واجتما عی مسا ئل کے حو الے سے (۶)نہ کہ نا محر م کے ساتھ را بطہ میں عورت کے پر دے کے با رے وا ر د ہو ئی،عو رت کے پر دے کے با رے لفظ حجا ب کا استعما ل (۷)ایک جدید اصطلا ح ہے، چو نکہ مذکور ہ با لا آیت کو عا م طور پر پر دے کی آیت سمجھا گیا ہے ،اسی وجہ سے بعض نے یہ گما ن کر لیا کہ اسلام چاہتا ہے کہ عورت ہمیشہ گھر میں بند رہے اور با ہر نہ نکلے اور پر دے کے پیچھے سے گفتگوکر ے۔ (۸)
ج:ویل ڈیو را نٹ نے کہا ’’یہ چیز مسلما نوں کے درمیا ن پر د ہ پو شی کی دلیل شما ر ہوتی ہے ،(۹) بعض نے یہ دعو ی کیا ہے کہ حجا ب ایرانیو ں کے ذریعے عربو ں اور اسلام میںداخل ہو ا حا لا نکہ حجاب سے مر بو ط آیا ت جو عورتوں کو نا محر م کے مقابل پر دے کا حکم دیتی ہیں ایرانیوں کے مسلمان ہونے سے پہلے نا زل ہو چکی تھیں،ویل ڈیو را نٹ (۱۰) کے بقو ل جا ہلیت کے دور میں عربو ں میں ایسا پرد ہ رائج نہیں تھا، عر بو ں کی عا دت تو اپنے آپ کو ظاہر کرنے کی تھی جسے اسلام نے وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی (احزا ب / ۲۳)کہہ کر منع کر دیا ۔
ابتدا ء میں ’’ستر‘‘ کی جو اصطلا ح فقہ میں را ئج تھی، وہ نامحرم مردوں کے سامنے عورتوں کاخود کو چھپانا اور چھپانے کا وسیلہ ہے، پس معلو م ہو گیا کہ عورتوں کے لئے اسلامی پر دے کا یہ مطلب قطعا ً نہیں کہ انہیں گھر وں میں بند کر دیں اور اس عظیم تعدا د کو اجتما عی سر گرمیوںسے رو ک دیا جا ئے بلکہ پر دے کا یہ مطلب ہے کہ عورتیں جب نا محر م مر دوں کے سامنے آئیں تو اپنے بد ن کو ان سے چھپا ئیں ان کے سامنے خودنمائی وجلو ہ گر ی نہ کر یں اور ان کی شر کت مختلف سر گرمیوں میں اسلامی و انسانی اصولوں پر استوار ہو نی چاہیے۔ (۱۱)

قرآن میں اسلامی پردہ
اسلامی پر دہ اسلام کے ضرور ی احکا م میں سے ہے۔ (۱۲)جس میں کو ئی مسلمان شک نہیں کر سکتا ہے، کیو نکہ قر آن مجید نے بھی اس کا واضح حکم دیا ہے اور بہت سی رو ایات بھی اس کے وجو ب پر دلالت کر تی ہیں ،یہی وجہ ہے کہ شیعہ و سنی فقہا ء نے بالاتفا ق اس کا فتوی دیا ہے ،جیسے نما ز رو زہ کسی خا ص زما نے سے اختصا ص نہیں رکھتے پر دہ بھی اسی طرح ہے لہٰذا اگر کو ئی پر دے کے کسی خا ص زمانے کے ساتھ اختصا ص کا دعویٰ کر تا ہے تو یہ دلیل ہے کہ خداوندعالم پہلی آیت میںمر د وں کو اور دوسری آیت میں مسلما ن عورتوں کو چشم چرانی سے رو کتا ہے اور فر ما تا ہے کہ بد ن کو نا محرم سے چھپا نے کی کو شش کریں ارشاد ہے ۔
قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَلِکَ أَزْکَی لَہُمْ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُونَ (نو ر / ۳۰)
اے پیغمبر ، مو من مر دوں سے کہہ دیں کہ اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کو بچا ئیں یہ کا م ان کی پا کیزگی کیلئے بہتر ہے اور خدا وند اسے جا نتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
آپ نے ملا حظہ کیا خدا وندتعالیٰ نے اس حکم کا فلسفہ روح کی پا کیز گی کو قر ار دیا ہے ،اس کے بعد والی آیت میں ارشا د ہے :
وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاٰبَآئِھِنَّ اَوْاٰبَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِھِنَّ اَوْ اَبْنَآئِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِھِنَّ اَوْ نِسَآئِھِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآئِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ ۔ وَتُوْبُوْآ اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن(نورہ۳۰)
اے پیغمبرؐ مو منہ عورتوں سے کہہ دیں اپنی آنکھیں بند رکھیں اور عفت اپنا ئیں اپنا دامن نا محرموں سے چھپائیں اپنی زیب ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں اور محروموں پر سوائے ان حصوں کے جو ظاہر ہوں ، اپنی چا دروںکو اپنے گریبا ن تک نیچے کرلیں تاکہ سر ، گردن ،سینہ اور کا ن چھپ جا ئیں اپنے پا ؤں اس لئے زمین پرنہ ماریں کہ پو شید ہ زینت ظا ہر ہو جا ئے ، اے مو من بندو! سب خدا کی طر ف تو جہ ا ور رجو ع کر و تا کہ فلاح پا جا ؤ۔
ا س آیت میں با لخصو ص عورتوں کے پر دے کے حو الے سے دو مو ارد کی طر ف اشا ر ہ کیا گیا ہے۔
۱۔ سر چھپا نا
۲۔ زینت (میک اپ ) کو چھپا نا
خُمر، خما ر کی جمع ہے اس کپڑے کو کہتے ہیںجس سے سر چھپا یا جا ئے۔(۱۳)یعنی روسری یا سر پو شی، جیوب جیب کی جمع ہے جس کے معنی سینہ و گریبا ن کے ہیں۔ (۱۴)
صاحبتفسیر مجمع البیا ن فرما تے ہیں مدینہ کی عو رتیں اپنے دوپٹے کی اطراف پشت پر ڈال لیتی تھیںاور ان کا سینہ گر دن اور کا ن ننگے رہتے تھے، اس آیت نے انہیں حکم دیا کہ اپنے دو پٹوں کو سینہ و گر دن پر ڈالیں تا کہ یہ جگہیں بھی ڈھک جا ئیں ۔(۱۵)
فخر را زی لکھتے ہیں ’’خدا وندتعالیٰ نے ضر ب اورعلیٰ کے لفظ استعما ل کر کے القا ء کے با رے مبا لغہ کیا ہے تاکہ ان حصو ں کے مکمل چھپا نے کے وجو ب کو بتا یاجاسکے۔ (۱۶)
ابن عبا س اس جملہ کی تفسیر میں فر ما تے ہیں کہ عورت پر با ل سینہ ، گردن اور گلے سے نیچے والی جگہ کو ڈھا نپنا ضرو ری ہے۔(۱۷)
بعض نے دعوی کیا ہے کہ حجا ب اگر بے پردگی سے مقابلہ کے معنی میں ہو تو یہ قا بل قبو ل ہے لیکن قرآن میں کہیں بھی با ل چھپا نے کے با رے میں کوئی حکم نہیں آیا ہے۔
یہ با ت مکمل طور پر غلط ہے کیو نکہ مسلما ن عورتیں تو اس آیت کے نز ول سے بھی پہلے اپنے بال ڈھانپتی تھیں مسئلہ صر ف سینہ ، گر د ن ، کا ن اور گر د ن کے نچلے حصے کا تھا، اس آیت میں روسری (دوپٹہ) کا ذکر ہے، کیادوپٹہ سر اور با ل چھپا نے کے علا وہ کسی کا م آتا ہے ؟
اس کے علا وہ چھپانے کا میزان متعدد روایات میں وارد ہے۔ (۱۸)
بالخصوص زینت کے بارے میں بھی یہ سوال ہوتا ہے کہ آیا یہ بدن کی جاذبیت و زینت جیسے زیورات کو شا مل ہے یا صر ف اس زینت کو شا مل ہے کہ جو بدن کے اوپر انجا م دیں یعنی میک اپ؟ (۱۹)
کلی جو ا ب تو یہ ہے کہ اپنی آرا ئش و زیبا ئش جا ئز ہے لیکن نا محر م کے سامنے خو د نما ئی جا ئز نہیں ہے اپنی دیکھ بھا ل اور آرا ئش و زیبا ئش تو فطری عمل ہے۔ (۲۰)
خو بصورت پسند ی کی حس انسا ن میں ہر طر ح کے ہنر و آرٹ کا سر چشمہ ہے یہ قد رتی میلا ن سنورے ہو ئے انسان میں بڑے اہم و پر ا ر زش ذہنی و نفسیا تی اثر ا ت وجو د میں لا تا ہے ۔
اپنے آپ کو سنو ا رنا اور بد حا لی و بے نظمی سے پر ہیز انسان کے فطری نظا م اور ذ وق سلیم سے مر بو ط ہے ،بگڑی ہو ئی صو رت بکھر ے ہو ئے با ل اور ظا ہری صفا ئی کی رعا یت نہ کر نا انسان کی شخصیت کو دوسروں کی نظر وں میں گر ا دیتا ہے اور دشمنو ں کی طعن و تشنیع کا باعث بنتا ہے۔ (۲۱)
بنابریں خو بصور ت لبا س زیب تن کر نا، مسو اک کر نا، با لو ں کو کنگی کر نا، با لوںکو تیل وغیرہ سے منظم کر نا ،خوشبو لگا نا ، اچھی انگو ٹھی پہننا ، بالآخر عبا د ت کے وقت اپنے آپ کو سنو ارنا سُنت اور مستحبات میں سے ہے اور مسلمانو ںکے رو زانہ کے کا مو ں میں سے ہے۔ (۲۲)
اما م حسن مجتبیٰؑ نما ز کے وقت اپنے بہترین لبا س زیب تن فرما تے تھے اور جب کوئی اس بارے میں سوا ل کر تا تو آپ جو اب میں فرما تے:
اِنَ اللّٰہَ جَمِیْلٌ وَ یُحِبُّ الْجَمٰا لَ فَاَتَجمَّلُ لِرَبِّی (مجمع البیا ن ج ۴۔۳ ص ۶۷۳)
خد اوندعالم خو بصورت ہے اور خو بصورتی کو پسندفرماتا ہے، میں اپنے رب کے لئے زیب وزینت کرتا ہوں،
پس خد اوندعالم اپنی آرا ئش سے منع نہیں فرماتابلکہ وہ جو شرعا ً ممنو ع ہے، وہ خو د نما ئی اور اجتما عا ت میں اپنی زینت ظاہر کر کے دوسر وںکے جذبات کو ابھارناہے ۔
وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُولَی(احز اب / ۳۳ )
وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِن زِیْنَتِہِنَّ (نو ر /۳۱)
عرب عو رتوں کے پا ؤں میں عمو ما ً پا زیب ہو تی تھیں وہ دوسروں کو یہ بتلا نے کے لئے کہ ان کے پا ؤں میں پازیب ہیں ،وہ پا ؤں کو زور سے زمین پر ما رتیں ،قرآن نے انہیں اس کام سے روکا۔
شہید مطہری فر ما تے ہیں :
اس حکم سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جو کا م بھی دو سروں کی تو جہ طلب کر ے جیسے تیز خو شبو لگانا جاذبِ نظر میک اپ کر نا وغیرہ یہ سب ممنو ع ہیں ،بطور کلی عورت معاشرے میں ایسا کا م نہیں کر سکتی جو نا محرم مردوں کی توجہ کا باعث ہو اوران کے جذبات بھڑکائے ۔ (۲۳)
قرا ٓن فرما تا ہے :
وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا (نو ر / ۳۱)
عورت کی زینت دو طرح کی ہے ۔
۱۔وہ زینت جو ظاہر ہو جیسے لبا س ، سر مہ، انگو ٹھی اور چو ڑی ان کا چھپا نا وا جب نہیں ہے
۲۔وہ زینت جو پنہاں و پو شید ہ ہو تی ہے مگر یہ کہ اسے جا ن بو جھ کر ظاہر کر دیا جا ئے جیسے گوشوارے اور گلو بند اس طر ح کی زینت کا چھپا نا وا جب ہے ،قرآن نے اسی معیا ر کے ساتھ بوڑھی عورتوں کے پرد ے کے با رے میں نر می کی اور انہیں سر سے دوپٹہ اتا رنے کی اجا زت دی ہے، (۲۴) اس کے با وجو د بھی انہیں خود نمائی کی اجا زت نہیں ہے۔
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاء اللَّاتِیْ لَا یَرْجُونَ نِکَاحاً فَلَیْْسَ عَلَیْْہِنَّ جُنَاحٌ أَن یَضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃٍ (نو ر / ۶۰)
بو ڑ ھی عورتیں جنھیںاب نکا ح کی کو ئی امید نہیں ا ن پر کو ئی گنا ہ نہیں ہے اس میں کہ وہ سرسے دو پٹہ اتا ردیں اس حا ل میں کہ اپنی زینت ظا ہر نہ کریں ۔
دوسر ی آیت جس میں اسلامی پر دے اور اس کے فلسفے کو صر احت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے :
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَاء الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْْہِنَّ مِن جَلَابِیْبِہِنَّ ذَلِکَ أَدْنَی أَن یُعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْْنَ وَکَانَ اللَّہُ غَفُوراً رَّحِیْماً (احزاب/۵۹)
اے پیغمبر :اپنی بیو یو ں ، بیٹیوں اور مومنین کی عو رتوںسے کہہ دیں کہ اپنی چادرو ں کو اپنے اوپر گرالیں یہ عمل اس لحا ظ سے کہ وہ پہچا نی جا ئیں اور مورداذیت قرار نہ پا ئیں (احتیا ط کے ) زیا دہ نز دیک ہے اور خد اوند تعالیٰ بخشنے والا اور رحم والا ہے ۔
اس کے با وجو د اگر بعض اوبا ش مو من عو رتوں کو تنگ کرنے سے با ز نہ آئیں تو اس صو رت میں اسلامی حا کم کی ذمہ دا ری ہے کہ ان نفسیا تی مر یضو ں کے ساتھ سختی سے پیش آئے ، پس پر د ہ اور عو رتوں کو مو رد اذیت قر ار نہ دینا صر ف ایک اخلا قی مشو ر ہ نہیں ہے بلکہ ایک اسلامی اور حکومتی حکم ہے، جیسا کہ ارشا د ہے :
لَئِن لَّمْ یَنتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُونَکَ فِیْہَا إِلَّا قَلِیْلاً o مَلْعُونِیْنَ أَیْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلاً (احز ا ب / ۶۰ ، ۶۱)
اگر منافق ،وہ جن کے دلوں میں مرض ہے اور مدینہ میں بے سکونی پھیلانے والے اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو ہم تمہیں ان پر نگیختہ کریں گے اور ان پر مسلط کردیں گے پھر وہ مدینہ میں تمہارے پڑوس میں صرف تھوڑی مدت ہی رہ سکیں گے وہ رحمت سے دور شدہ ہیں، جہاں ملیں انہیں پکڑلیں اور سختی کے ساتھ انہیں قتل کیا جائے۔
ان آیا ت میں تین اہم مطلب قا بل تو جہ ہیں جلبا ب جس کے معنی اوڑھنی کے ہیں ، اس کا نز دیک کر نا ،اسلامی پر دہ کا فلسفہ ہے اور مز احمت کر نے والوں کی سزا ۔(۲۵)

واجب پردہ
لغت کی کتا بوں (۲۶) اور شیعہ تفا سیر جیسے علا مہ طبا طبا ئی (۲۷)فیض کا شا نی (۲۸)اور سنی تفا سیر جیسے قر طبی (۲۹)کے مطا بق ’’جلباب‘‘ چا در کی ما نند کو کہتے ہیں یہ نہ دو پٹہ ہے اور نہ خمار ، ابن عبا س اور ابن مسعو د سے رو ایت ہو ئی ہے کہ اس سے مرا د عبا ء ہے اس کے مطا بق جلبا ب وہ کھلا لبا س ہے جو پو رے بد ن کو ڈ ھانپ لے ، نیز جیسا کہ بڑ ے مفسرین جیسے شیخ طو سی و طبر ی نے کہا ہے سا بقہ دو ر میں عورتو ں میں دو طر ح کا دو پٹہ را ئج تھا، چھوٹے دو پٹے کہ جنہیں خما ر یا مقنعہ کہا جا تا ہے کہ عمو ما ً گھروں میں عو رتیں یہی استعمال کرتی تھیں ۔ بڑے دو پٹے جنہیں عورتیں با ہر جاتے وقت لیتی تھیں اس کو جلبا ب کہا جا تا تھا جو کہ مقنعہ سے بڑ ا ہو تا اور چا د ر سے چھو ٹا اور آج کل جو چادر عورتیں لیتی ہیں اسی کے مشا بہ تھا جو کہ سر سے لے کر پو رے بد ن کو ڈھا نپ لیتا تھا۔(۳۰)جلباب کو نز دیک کر لینا ’’ید نین علیھن من جدابیبھن ‘‘ یہ کنا یہ ہے کہ اپنے جلباب کے ساتھ چہرہ سرا ور گر دن کو ڈ ھا نپ لیں۔ (۳۱)
یعنی ایسا نہ ہو کہ چا در یا بڑے کو ٹ ( ما نتو ) صر ف فیشن و ڈیزا ئن کے طو ر پر لئے جا ئیں اور پورے بد ن کو نہ ڈ ھا نپیں ، چا در اس طر ح عورتوں کے لئے پہننا جا ئز نہیں ہے کہ بد ن نہ ڈ ھا نپے اور وہ عورتیں نا محر م مر دوں سے میل جو ل بھی رکھتی ہیں اور ’’کا سیات عا ریا ت ‘‘(۳۲)شما ر ہو ں ۔
قرآن حکم دیتا ہے کہ عو رتیں پو ری احتیا ط کے سا تھ اپنی چا در لیں اور انہیں چھو ڑ نہ دیں تاکہ ثابت ہو جائے کہ وہ عفت و طہا ر ت والی ہیں ، آیت کے ا ٓخر میں جو تعلیل مذکو ر ہے اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اسلا م کا یہ وہ پر دہ ہے جو خو د بخو د پو رے بد ن پر محیط ہو اور پلید دل لوگو ں کو مایوس کر دے۔ (۳۳)

پردے کی ضرورت
خدا و ند تعالیٰ نے اسلا می پر دے کے با رے میں فر ما یا :
ذَلِکَ أَدْنیٰ أَنْ یُعْرَ فْنَ فَلاٰ یُؤذَیْنَ
اس طریقے سے وہ پہچا نی جا ئیں گی (کہ اصل و شر یف خا ندا ن سے آزا د عورتیں ہیں کنیز نہیں۔ )

لہٰذا او با شوں کی طر ف سے انہیں اذیت نہیں کی جا ئے گی ،بعض لوگ کہتے ہیں کہ آج کے دو ر میں جب کنیز و غلا م کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے تو یہ حکم بھی ختم ہو جا ئے گا ؟ اس کا جو ا ب یہ ہے کہ کنیز وں کو بھی چھیڑنا اور اذیت دینا (۳۴)جا ئز نہیں ہے، وہ جو اہم با ت ہے یہ ہے کہ حضو ر اکر م ؐ کے دورمیں عورتیں با پر دہ تھیں اور اس کے فوائد میں سے یہ ہے کہ جب عو رت پر دے کے ساتھ با وقا ر طریقے سے گھر سے نکلتی ہے اور عفت وپاکدامنی کی رعایت کر تی ہے تو پلید،او با ش لو گ انہیں چھیڑنے کی جر أ ت خو د میں نہیں پاتے ، جو بیما ر دل شکا ر کے چکر و ں میں ہوتے ہیں وہ ایسے افرا د کو منا سب شکا ر نہیں سمجھتے جس کا حریم محفو ظ ہو ( با پر دہ ہو)رو ایات میں ہے’’المرأۃ ریحانۃ‘‘ عورت گل کی مانند ظریف ہے، جب ایسا ہے تو باغبا ن پر لا زم ہے کہ اس کی حفاظت کر ے ور نہ گل چین سے محفو ظ نہیں رہے گی ۔ قرآن نے آئیڈیل عورتوں کو جو کہ جنت میں جا ئیں گی پو شید ہ مو تی جو کہ صد ف میں محفو ظ ہو تا ہے کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔
کَأَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَکْنُون (۳۵)
اس کے علا وہ قرا ٓن انہیں قیمتی جو اہر ات، جیسے یا قو ت و مر جا ن کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے کہ جنھیں جوہری خا ص تجو ریوں میں محفو ظ رکھتا ہے تا کہ جعلی جو اہرات کی طر ح ہر کسی کی دست رس میں قر ار نہ پائیں،(۳۶)علا مہ طبا طبا ئی اسی تفسیر کو انتخا ب فر ما تے ہیں ۔(۳۷)
شہید مطہر یؒ اس با رے میں لکھتے ہیں: کبھی انسان کی حر کا ت و سکنا ت زبا ن رکھتی ہے اور کبھی لبا س چال ڈھا ل اور بو لنے کا اند از معنی دا ر ہے، وہ زبا ن بے زبا نی سے کہتا ہے اپنا دل میر ے حو الے کر دو میر ے پیچھے آؤ مجھے چھیڑو ، لیکن کبھی بر عکس ہو تا ہے زبا ن بے زبا نی کے سا تھ کہتا ہے اس حر یم کے نز دیک نہ آنا۔ (۳۸)
پر دے کے با رے میں اکثر تحریریں عورت کے پر دے پرزور دیتی ہیں جبکہ مرد کے پردے پر کم تر تو جہ دی گئی ہے ،یہ ایک طبعی و عا دی با ت ہے کیونکہ عورت مظہر جما ل و خو بصو رتی ہے، جب کہ مر د مظہر شیفتگی ہے ،جو عو رت پر مر مٹتا ہے ، اگر چہ مر دوں کا پر دہ بھی اجتما عی و ثقافتی حو الو ں سے بہت اہمیت رکھتا ہے، اسی وجہ سے قر ا ٓن نے معا شر ہ کے استحکا م کے لئے عو رت اور مر د دونو ں کے پر دے پر بہت تو جہ کی ہے۔
یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً(اعراف / ۲۶)
اے بنی آدم ہم نے تمہارے لئے لباس نازل کیا جو تمہا رے بدن (شرمگاہ) کو چھپاتا ہے اورتمہارے لئے زینت ہے ۔
مردوں کے با رے فرما یا :
قُل لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ (نو ر / ۳۰)
مو من مردوں سے کہہ دیں اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں۔
عورتوں کے با رے میں فر ما یا :
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ (نو ر / ۳۱ )
مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنی آنکھیں (نگا ہ ہو س آلود) بند کرلیں اور اپنے دا من عفت کی حفا ظت کریں۔

(حوالہ جات)

(۱) مصطفوی ،انسانیت از دید گا ہ اسلامی ، س ۱۲۹
(۲) سو رہ نحل / ۸۰
(۳) سور ہ نور / ۳۱،۳۰/ ۵۹،احز اب / ۵۹،۶۰
(۴) اعرا ف / ۲۶
(۵) راغب اصفہانی ۔ المفر دا ت فی غرا ئب القر آن ، نیز سید علی اکبر قرشی قامو س قرآن
(۶) مرتضیٰ مطہر ی مسئلہ حجا ب / ۷۴
(۷) حجا ب کی اصطلاح قرآن میں سا ت مو رد میں استعما ل ہو ئی ہے لیکن کہیں بھی اسلامی حجا ب کے معنی میں استعما ل نہیں ہو ئی
(۸) مسئلہ حجا ب / ص ۷۳
(۹) ویل ڈیورا نٹ ، تا ریخ تمد ن ج ۱ / ص ۴۳۳
(۱۰) مسئلہ حجا ب / ص ۲۲
(۱۱) مرتضیٰ مطہری ، مسئلہ حجا ب / ص ۷۳، نیز رجو ع کریں تفسیر نمو نہ ج ۱۷ / ص ۴۰۱، ۴۰۴
(۱۲) اصل حجا ب کا قانو ن صرف فقہ کی ضرو ریا ت میں سے نہیں ہے بلکہ ضروریا ت دیں میں سے ہے جس پر قرآن کی صریح نص شا ہد ہے صرف ظہو ر قرآن اس کی دلیل نہیں ہے کہ جس میں اختلا ف کی گنجا ئش نکل سکے ۔
(۱۳) مفردا ت راغب / ص ۱۵۹، تفسیر مجمع البیا ن / ص ۲۱۷
(۱۴) مجمع البیا ن /ص۲۱۷
(۱۵) حوالہ سابق
(۱۶) التفسیر الکبیر ج ۲۳ / ص ۱۷۹
(۱۷) مجمع البیا ن / ص ۲۱۷قا ل بن عبا س تغظی شعر ھا و صد ر ھا و تر ائبہا و سو الفہا
(۱۸) محسن فیض کا شا نی ، تفسیر میں لکھتے ہیں خد ا وند نے اس آیت میں ان زینتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے لوگو ں کے لئے ایجا د کی ہیں اور لوگوں کو فطر ی طو ر پر ان سے استفا دہ کا الہا م کیا ہے اور وا ضح ہے کہ فطر ت صرف ان چیز وں کا الہا م کر تی ہے جن میں انسا ن کے وجو د کی بقا ء مضمر ہو ( المیزان ج ۸ / ص ۷۹
(۱۹) مسئلہ حجا ب ص ۱۳۱
(۲۰) علا مہ طبا طبا ئی آیت ۳۲ سور ہ اعراف کی تفسیر میں لکھتے ہیں خد ا وندعالم نے اس آیت میں ان زینتوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے لوگوں کے لئے ایجا د کی ہیں اور لوگوں کو فطری طور پر ان سے استفا دہ کا الہا م کیا ہے
(۲۱) احمد صبور ا دو آبا دی ، آئین بھز پستی در اسلام ج ۱ / ص ۵۷
(۲۲)محمد با قر مجلسی ،المتقین ص ۳۔۵،۱۰،۱۲،۹۱،۱۰۷
(۲۳) مر تضیٰ مطہری ، مسئلہ حجا ب /ص۱۴۶۔ ۱۴۷
(۲۴) وسا ئل شیعہ ج ۱۴ / ص ۱۴۰
(۲۵) ایسے افر اد کی سز ا اسلا م کی نظر میں بہت سخت ہے امر بالمعر وف و نہی عن المنکر کے بعد بھی اگر یہ لو گ اپنے عمل سے با ز نہ آئیںتو پھر انہیں اسلامی معا شرہ سے دور کر دیا جا ئے ( مسئلہ حجا ب / ص ۱۶۴ ) اگر پھر بھی با ز نہ آئیں تو پھر انہیں حکو مت اسلامی کے سا تھ محا رب سمجھا جائے گا جس کی سز ا قرآ ن کے مطا بق مو ت ہے ( المیز ان ج ۸ / ص ۳۶۰ )
(۲۶) مسئلہ حجا ب / ص ۱۵۸ ، ۱۵۹ الجلیا ب القحیص او لتو اب، الو اسع ، الجلبا ب ثو ب او سع من الغما ر دو ن الر دا ء تغطی بہ المر ا ۃ را سہاو صدرھا
(۲۷) المیز ان ج ۱۶ / ص ۳۶۱ وھو ثو ب تشمل بہ المرا ۃ فیغطی جمیع بد نہا
(۲۸) محسن فیض کا شا نی ، تفسیر المیز ان ج ۱۶، /ص ۳۶۱
(۲۹)الجا مع الا حکا م القر آن (تفسیر قر طبی ) ج ۱۴/ ص ۵۶
(۳۰) جلبا ب کے با رے کہا گیا ہے کہ وہ خا ص چا در ہے جو عو رتیں گھر سے باہر جا تے ہو ئے لیتی ہیں اور اس سے سر اور چہر ا چھپا تی ہیں البیا ن فی تفسیر القرا ٓن ج ۸ /ص۳۶۱، مجمع البیا ن ج ۸۔۷/ ص ۵۷۸
(۳۱) مجمع البیا ن ص / ۵۸۰، المیز ان ج ۱۶، / ص ۳۶۱
(۳۲)کاسیات عا ریا ت وہ عو رتیں ہیں جنہوں نے ظاہر ا ً اپنے آپ کو ڈھا نپ رکھا ہے لیکن درحقیقت برہنہ ہو تی ہیں رسو ل خد اؐ نے (صنفا ن من اہل النا ر لم ارھما قو م معھم سیا ط کا ذنا ب البقر یضربو ن بہا النا س ونساء کا سیا ت عاریا ت ممیلا ت ما ئلا ت رؤو سہن کا سنتہ البخت الما ئلۃ لا ید خلن الجنۃ ولا یجد ن ریحیہا )وہ عورتیں جو پر دہ کر تی ہیں لیکن بر ہنہ ہیں، کجر وی کر تی ہیں اور دو سر وں کو کجر وی پر ما ئل کر تی ہیں ،ان کے سر او نٹ کی گو ھا ن کی طر ح ایک طر ف کج ہیں، یہ جنت نہیں جا ئیں گی اورنہ جنت کی خو شبو سو نگھ سکیں گی ‘‘ محمد محمد ی ری شھری میز ا ن الحکمۃ ج ۲ / ص ۹۹۴
(۳۳) مسئلہ حجا ب ص ۱۶۰،۶۱
(۳۴) آسیب شنا سی حجا ب / ص ۱۹
(۳۵) واقعہ / ۲۳
(۳۶) وسا ئل الشیعہ ج ۱۴ / ص ۱۳۰
(۳۷) حمید ہ عا مری ، گسترہ عفات زندگی کتا ب زمان شما رہ ۱۲ / ص ۱۱۲
(۳۸) مسئلہ حجا ب / ص ۱۴۳