خواتین اور اجتماعی عہدے

سو ا ل ۲۹ : عورتوں کو بعض اجتما عی عہدوں جیسے قضا وت و غیر ہ سے کیو ں محر و م کیا گیا ہے ؟
ایک: عد الت شر ط عہدہ
عو رت اور مر د انسا نیت میں اشتر ا ک کے با وجود جسما نی و ذہنی فر ق رکھتے ہیں گو یا نظا م خلقت نے انہیں الگ الگ ذمہ دا ریا ں نبھا نے کے لئے خلق کیا ہے۔ (۱)
قا نو ن خلقت نے گھر کی رو نق اور نسلو ں کی پرور ش کی ذمہ دا ری عو رت پر ڈا لی ہے اسی وجہ سے عورت میں جذبا ت و محبت کا زیا دہ حصہ رکھا گیا جب کہ سخت کا م اور بھا ری اجتما عی ذمہ داریا ں مر د کے کا ند ھوں پر ڈا لی گئی اور اسے قدرت و قو ت اور دور اند یشی سے زیا دہ حصہ دیا گیا ۔ لہٰذا اگر عدالت کے مطا بق عمل کریں تو جن اجتما عی کا مو ں میں زیا دہ د ور اندیشی ، مقاومت اور سختیا ں جھیلنے کی ضرورت ہو، ایسے کا م مر دوں کے ذمے قر ار دئیے جا ئیں اور جن کامو ں میں جذبات، محبت و عو اطف کی ضرو ر ت زیا دہ ہو وہ عو رتوں کے ذمہ قر ار دئیے جائیں۔(۲)
یہ بات سا منے رکھتے ہو ئے کہ عد الت کا تقا ضا یہ ہے کہ عو رت اور مر د کے درمیا ن بعض حقو قی ذمہ داریوں میں فر ق ہے ،قر آن فر ما تا ہے :
وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌوَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (بقرہ۲۲۸)
عورتوں کے لئے ان کی ذمہ دار یوں کی طرح حقو ق قر ار دئیے گئے ہیں اور مرد وںپر بر تری رکھتے ہیں خد ا وندعالم غلبے والا اورحکیم ہے۔
تفسیر مجمع البیا ن میں آیا ہے۔ (۳)
ایک دن ام سلمہ نے حضو ر اکر م ؐ سے عر ض کی مر دجہا د پرکیو ں جا تے ہیں جبکہ عو رتیں جہا د نہیں کرتیں اور ہما رے لئے نصف میراث کی وجہ کیا ہے ؟ کا ش میں بھی مرد ہوتی اور مردوں کی طرح جہا د پر جا تی اورایسے ہی سوالات جواب میں کہ یہ آیت کر یمہ نا زل ہوئی۔
’’خدا وندتعالیٰ نے تم میںسے بعض کو جو بعض پر بر تری عطا کی ہے اس کی آر زو نہ کر و ( یہ قدر تی اور حقو قی اختلا فا ت اس نظا م کی بقا ء اجتما ع اور اصولِ عد الت کی ضرور ت ہیں اس حا لت میں ) مرد اور عو رتیں ہر ایک اپنی کوشش و محنت کا پھل پا تے ہیں ( کسی کا حق پا ما ل نہیں ہو نا چاہیے ) خدا کے فضل و رحمت کی دعا کر و اور خدا ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔(۴)

دوسرا :خاندان میں حضور

اسلام نے عورتوں کے گھر میںحضو ر کی بہت تا کید فر ما ئی ہے، اس مطلب کی اہمیت کے واضح ہو نے کے لئے چند مطالب پر توجہ ضرو ری ہے !
۱ :خا ندا ن مختلف قسم کی کا ر کر دگی رکھتا ہے جن کا دا ئر ہ کا ر بہت وسیع ہے جو کہ ذہنی و نفسیا تی صحت ، معا شرہ پذیری اقتصا دی اور جنسیا تی کا ر کر د گی کو شا مل ہو جا تی ہے۔ (۵)
خلا صہ کے طور پر خاندان کی در ج ذیل کا ر کر دگیا ں شما ر کی جا سکتی ہیں ۔
الف :خا ند ان بچوں کی تر بیت کا سب سے پہلا مر کز ہے ۔
ب : خا ندا ن انسا ن کے جذبا ت و محبت کی پر ور ش و تربیت کا مرکز ہے ۔
پ : خا ندا ن اقد ارکی پر ور ش و رد وبدل کا مر کز ہے ۔
ت : خا ندا ن انسا نی رو ابط کے پید ا کر نے کی بنیا د ہے
ث : خا ندا ن و را ثتی اور جینٹک اصو ل منتقل کر نے کا سر چشمہ ہے ۔
ج : عورت کے ما ں بننے ، بچہ جننے وغیر ہ جیسی جسمانی و ذہنی ضرور یا ت خا ندا ن میں ہی پو ری ہو پاتی ہیں ۔
چ : با پ کی ذمہ دار ی اور خد مت کا ری کی شدید ضرورت خاندا ن میں ہے ۔
ح : ایک سا لم نسل کی بقا ء کی قد رتی اور معتد ل پشت پنا ہی خا ندا ن میں ممکن ہے ۔
خ : عہد وپیما ن شنا سی ، احساس ِذمہ دا ری ، اورقوانین و ضوابط کی قبولیت کے احسا س کی پرورش کی جڑیں خا ندا ن میں ہی ہیں۔ (۶)

۲۔۱ : خا ندا ن اور عور ت کا حضور
عو رت کا خاندان میں جو مقام ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے بلکہ عورت کے بغیر خاندان کوئی معنی و مفہو م نہیں رکھتا، ہر معا شرے میں عورت کا خا ندان میں کردا ر بڑ ابنیادی اور باعظمت شما ر ہوتا ہے،(۲)اس مسئلہ پر بے تو جہی اور عو رتوں کے خا ندا ن میں کردا ر کو ختم کر نے یا کم کرنے کے بڑے خطر نا ک نتا ئج نکلتے ہیں ۔

۳ : عورت کی ملا زمت کے نتا ئج
عورت کی ملا زمت کئی مثبت و منفی نتا ئج رکھتی ہے ،اس سے بچوں پر بڑے منفی اثر ات پڑ تے ہیں اور خا ندا نی تعلقا ت و رو ابط میںگر م جو شی نہیں رہتی ۔
بعض عورتوں میں ما لی استقلا ل کا احسا س ان کے اندرمرکز(خاندان)سے گریزکے جذبات ابھارتا ہے، جس کی وجہ سے خا ند انی بند ھن کا برقرار رہنا خطرے میں پڑ جا تا ہے۔(۷)
۴ :را ہِ حل
عورتوں کو گھر سے با ہر کی فعالیتوں سے بطور ِمطلق روک دینا بعض حالات میں اچھاشمار نہیںکیا جا تا ، دوسر ی طرف سے عورت اور مر د کو اس جہت سے مسا وی و بر ابر سمجھنا بھی غلط ہے ،لہٰذا بہترین صورت یہ ہے کہ اس کے بارے میں اعتدا ل و تنا سب کی رعایت اور عورت و مرد کی جسما نی و ذہنی خصوصیات کو سامنے رکھنا انتہا ئی ضروری ہے، اس چیز کے پیش ِنظرکچھ کا م عورتوں کے لئے نا منا سب نظر آتے ہیں۔
الف : ایسے کا م جو مشکل اور تھکا دینے والے ہو ں او ر ان کے لئے بد نی قوت کی ضرورت ہو۔
ب : سخت (Hard)کا م جیسے فو جی مشقیں ، بعض انتظامی کا م یا ایسے کا م جن میں عموما ً برُ ے لوگوں (مجرمین) سے وا سطہ پڑتا ہو اور ان کے لئے سخت سزا ؤں کے احکام صا در کر نا پڑیں ۔
ج : ایسی ذمہ دا ریاں جن میں ذہنی پریشا نی و اضطر اب پیش آئے کیونکہ اکثر اجتما عی عہدے اسی کے مقتضی ہوتے ہیں ۔
د :ایسی ذمہ دا ریا ں جن میں بہت سا وقت صر ف کر نا پڑے ،جس سے عو رت کا گھر سے رابطہ محدود ہو جا ئے اور اس کی ما ں والی ذمہ دا ری پر اثر اندا ز ہو ں ،ہم سمجھتے ہیں کہ مذکو رہ با لا نمو نہ عمل عورت پر زبردستی لا گو نہیں کیا گیا بلکہ اس میں عو رت کے لئے رضا کا را نہ اندا زاپنایا گیا ہے، یورپ میں با وجو دا س کے کہ عورت کے لئے ہر طر ح کا کا م کر نے کی آزا د ی ہے پھر بھی اکثر عورتوں کی طرف سے ا ن کاموں کو اختیا ر نہ کر نا ثا بت کر تا ہے کہ یہ کا م ان کی طبیعت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت اور مر د دو مختلف مو رچوں میںمورچہ زن ہیں، اگر عورت اپنا مو ر چہ چھوڑ دے تو معاشرہ کو اس جہت سے نقصا ن اٹھا نا پڑ ے گا ،جو عورت اپنی ذمہ داریا ں چھوڑ کر مردانہ کا م کر نے کا حر ص کر تی ہے اس نے در حقیقت اپنے کر دا ر کی اہمیت کو نہیں پہچا نا، لہٰذا وہ اپنے آپ کو حقیرموجودسمجھتی ہے اور اس کاجھوٹی حقا رت کے ازا لے کے لئے مردوں کی جگہ پرپا ؤں رکھتی ہے ۔ (۸)

تیسر ا:عو رت کی عزت و احترام کی حفاظت
اسلام نے عو رت کی کر امت و شر افت اور اس کی عفت و پا کد امنی کی حفا ظت و پاسداری کوبہت اہمیت دی ہے، عور ت کے لئے اجتما عی عہد وں کی محدو دیت کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ اسے آئین ِالٰہی میں جو بلند مقا م عطا ہو ا ہے اس کی طرف اسے متو جہ کیا جا ئے اور اس کی پاکدامنی و عفت کی حفا ظت کے با رے میں کافی اطمینا ن حا صل کر لیا جا ئے تاکہ اس کے وسیع اجتماعی روابط اور اجنبیوں سے کھلے میل جو ل کی وجہ سے پیش آنے والے نقصا ن کو رو کا جا سکے۔ (۹)

عورت اور قضاوت
جو کچھ یہا ں بیا ن ہو ا اور عو رت کی گو اہی کے باب میںبیا ن ہو چکا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قضا وت (قاضی بننا) عورت کے لئے کئی جہات سے نامناسب ہے۔
۱۔ عورت کی زیا دہ ذہنی انر جی کا اندرو نی دنیا میں خر چ ہو نا اور اس کا زیا دہ جذبا تی پن اس میں واقعا ت کی مکمل تفتیش و تحقیق کو کم کر دیتا ہے، جو کہ قضا وت کے لئے انتہائی ضرور ی ہے ۔
۲۔ سخت فیصلے جیسے پھا نسی دینا یا دو سر ی سخت سز ائیں دینا عو رت کی طبیعت و عو ا طف سے مناسبت نہیں رکھتے اور عمو ما ً عور ت ان کو بر دا شت بھی نہیں کر سکتی جس کی وجہ سے اس کے اند ر تعا رضات اضطراب اور ذہنی دبا ؤ کا با عث بن سکتے ہیں ۔
لہٰذا عورت کا قا ضی نہ ہو نا اسلا م کے حکمت افر و ز احکا م میں سے ایک حکم ہے، جس کا فائد ہ خو د عورت کو ہے ،کیو نکہ قضا و ت صر ف علم کی محتا ج نہیں ہے کہ علم حا صل کر کے اس کمی کا ازا لہ کیا جا سکے، بلکہ مجر مو ں سے وا سطہ اور ان کے با رے سخت سزاؤں کا حکم کر نا عور ت کی لطیف طبیعت کے سا تھ مو ا فقت و منا سبت نہیں رکھتا ،تجربہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ جن بعض موار د میں عو رتوں کو عدالتی پر و گرا مو ں میں آزما یا گیا ان میں بعض عورتیں شدید ذہنی اعصا بی امرا ض میں مبتلا ہو گئیںاور بعض نے چند دنو ںکے بعد استعفیٰ پیش کر دیا ،لہٰذا عورت کو اس جیسے کا مو ں میں کھینچ لا نا عورت کے لئے کو ئی امتیا ز نہیں بلکہ اس کی شخصیت گر انے اور نا بو د کر نے کا سبب ہے ۔
اس کے علا وہ منصب قضا وت ایک واجب کفا ئی امر ہو نے کے نا طے حق ہو نے سے پہلے ایک شر عی حکم و تکلیف ہے، ا س لحا ظ سے بعض رو ایا ت میں آیا ہے ’’لیس للمرأۃ ‘‘ یعنی عورتوں کے ذمہ یہ تکلیف قر ا ر نہیں دی گئی ،لیس للمراء ۃ نہیں کہا گیا ہے جو کہ حق ہو نے پر دلا لت کر تا ہے ،لیس علی المر اۃ کہا گیا ہے جو تکلیف کو بتلا تا ہے ، پس عور ت کو قضا وت کا منصب نہ دے کر اس کی حق تلفی نہیں کی گئی بلکہ اس کی حا لت کے پیش نظر اس پر یہ تکلیف قر ار نہیں دی گئی ۔

(حوالہ جات)
(۱) مزید تفصیلا ت کے لئے دیکھیں :سید ھا دی حسینی اور دوسرے کتاب زن /ص ۲۷ ۔ ۴۹۲
(۲) الف :مرتضیٰ مطہر ی نظام حقو ق زن دراسلام بخش ہفتم / ص ۱۹۰ ۔ ۱۶۷ ، ب : نا صر مکا ر م تفسیر نمو نہ ج ۲ / ۱۶۴
(۳) فضل بن حسن طبر ی تفسیر مجمع البیا ن ج ۳ / ص ۷۳، تفسیر نمو نہ ج۳ / ص ۳۶۲، آیت / ۳۲ سورہ نسا ء
(۴) نساء (۴ )، آیت ، ۳۲
(۵) سید ہادی حسینی ، کتاب زن ، صفحہ ۵۳۱
(۶) ۔ خصوصیات روح زن ، صفحہ ۲۲
(۷) حوالہ سابق ، ص ۵۸۵، ۵۸۶
(۸) کتاب زن ، ص ۵۸۰ ، بہ نقل از، خصوصیات حیات روح زن ، ص ۲۸ ، ۲۹
(۹) محمد ی گیلانی ، شائستگی زنان برائے عہدہ داری قضاوت ۔فقہ اہل ابیت ، شما رہ تا بستان ۱۳۷۴،شمارہ۱۰،ص/ ۱۱۴