عورتوں سے مشورہ

سوا ل ۲۸ : عورتوں سے مشو رہ کر نے سے کیو ں رو کا گیا ہے ـ؟
مشو رے کا مقصد بہترین را ہِ حل اور بہترین عمل تک پہنچنا ہے، لہٰذا مشیر میں بڑے دقیق شرائط کی رعا یت ضرو ری ہے ،اسلا م میں بھی مشیر اور مشو رہ کی اہمیت کے بارے بہت سی روایات وارد ہیں۔

منا سب و نا منا سب خصوصیات
دینی نصوص میں مشو رہ کے بارے میں بہت سی خصو صیا ت اور ضرو ری نکا ت کا ذکر ہو ا ہے جیسے ایمان (۱) عقلمندی (۲) علم و مہا ر ت (۳) خیر خو اہی (۴) خو ف خدا(۵) تقویٰ (۶)دین دا ری (۷) ہمدردی و بردباری(۸)را ز دا ری(۹) جبکہبخل ، خو ف اور حر ص جیسے امو ر کو مشو رہ سے ما نع کہا گیا ہے ۔
حضرت علی ؑفر ما تے ہیں
بخیل بزدل اور حریص سے مشو رہ نہ کر و کیو نکہ ہر ایک میں ایسے عیوب و نقا ئص موجودہیں جو آپ کو حقیقت تک پہنچنے سے ما نع ہو سکتے ہیں۔(۱۰)
دوسری طرف سے طلبہ پر کی جا نے والی تحقیقات سے یہ با ت سامنے آئی ہے کہ پا نچ جذبا تی معا ملا ت ( شادی ، عشق، خو ف ، غم اور غصے ) میں سے چا ر مو ار دمیں عو رتیں مر دو ں سے زیا دہ شدید جذبا تی تھیں اور وہ ایک مو رد جس میں مر د عورت سے زیا دہ جذبا تی تھے غصے کے با رے تھا ،عورتیں نہ صرف ظریف ہیجا نا ت میں زیا دہ جذ با تی وا قع ہوئی ہیں بلکہ مثبت و منفی مو ار د میں جذبات کو بہتر تشخیص دے کر اس کا بہت جواب دیتی ہیں۔ (۱۱)
آٹو کلا ئن بر گ بھی لکھتے ہیں عورتیں زیا دہ تر گھریلو اشیا ء اور ذا تی کا مو ں میں دلچسپی بچوں، محتاجوں اور بے نواؤں کی دیکھ بھا ل وغیرہ میں عمو ماً مر دو ں سے زیا دہ جذباتی ہو تی ہیں۔ (۱۲)
نتیجہ یہ ہو ا کہ عورتوں کا قدرتی طو رپر جذبا تی پن ( جو کہ حکمت کے عین مطابق ہے ) اور ان کا معاشرے میں کم تر حا ضر ہو نا ( جو کہ ان کے تجر بے میںکمی کا با عث ہو تا ہے ) ان کے مشو روں سے استفا دہ کی محدودیت کا سبب سمجھا گیا ہے لہٰذا حضرت علی ؑ کی حدیث میں آیا ہے کہ :
ایاک ومشاور ۃ النسا ء فا ن رائیھن الی افن و عزمھن الی وہن
عورتوں کے مشورے سے بچو کیونکہ ان کی رائے کمزور اور عزم ناتواں ہوتا ہے ۔(۱۳)
البتہ ان دونو ں کا ازا لہ اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ ا ن عوامل وا سبا ب کو ختم کر دیا جائے لہٰذا دوسری حدیث میں آیا ہے :
’’ایاک و مشا ورۃ النسا ء الا من جرّ بت بکما ل عقل ‘‘
عورتوں کی مشا ور ت سے بچو مگر وہ عورتیں جن کی عقل کا کمال آزمایا جا چکا ہو ۔(۱۴)
یہ نوع کے لحا ظ سے عورتوں کا حکم ہے ورنہ بہت سے مرد عورتوں سے زیا دہ جذبا تی یا کم تجربہ کار ہوتے ہیں اور ان کے سا تھ مشو رے کا کو ئی فا ئد ہ نہیں ہو گا۔
اس حدیث شر یف کی رو سے جس سے مشو رہ ما نگا جا ئے اس میںکما ل عقل اور علم ضرور ی ہے اورعلم و تجربہ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لحاظ سے عورت ہونا معیوب یا رکاوٹ نہیں ہے، دوسری طر ف سے جن امو ر میں عو رتوں کی معلو ما ت زیا دہ ہو تی ہے وہاں عورتوں سے مشو رہ کا حکم دیا گیا ہے۔
رسول خد ا ؐ نے فر ما یا :
ائتمروا النساء فی بناتھن
بیٹیو ں کے مربو ط مسا ئل کے با رے میں عورتو ں سے مشو رہ کر و
قرآن میں بعض خا ندا نی مسا ئل کے با رے عورت اور مرد دونو ں کی رائے کو اعتبا ر دیا گیا ہے ۔
فَإِنْ أَرَادَا فِصَالاً عَن تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا
اگرما ں اور با پ با ہمی مشو رے سے بچے کو دوسا ل سے پہلے دودھ چھڑوانا چاہیں توان پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔( بقرہ /۲۳۳)
یہا ں تشا ور سے مرادبا ہمی رضا مندی اور مشو رہ ہے کیونکہ بچے کی تر بیت کے حوالے سے ما ں جو کچھ جا نتی ہے با پ اسے نہیں جا نتا اگر دونوں کا اتفاق نہ ہو تو اس سے بچے کا نقصا ن ہو گا۔
ہما ری تو ضیحا ت سے واضح ہو گیا کہ جن عو رتوں سے مشو رہ کر نے سے رو کا گیا ہے ان سے مراد ناتجر بہ کا ر عورتیں ہیں یا وہ جو خو اہشا ت کے تا بع ،کم عقل اور دنیا وی زیب و زینت کا شکا ر ہو کر حقا ئق سے آنکھیں بند کر لیتی ہیں، لیکن جو عو رتیں دنیا وی زیب و زینت سے منہ مو ڑ کر معقولیت پسندی کی رو ش اپنا لیتی ہیں وہ مر دوںکی طرح مشو رے کی قابلیت رکھتی ہیں،اُستاد تقی جعفری کے بقول ایاک و مشا ورۃ النسا ء ، الامن جربت بکما لعقل ہونا جیسی روایات اسلام کے خاندانی نظا م میں شو را ئی نظا م جس میں سر پر ستی مر د کو حا صل ہو ،کی تا ئید کر تی ہے۔(۱۵)
لہٰذا جن روایا ت میں مشو رئہ النساء سے رو کا گیا ہے ان میں سب عورتیں شا مل نہیں ہو سکتی ، خود رسول خد اؐ اور آئمہ اطہا ر کی علمی سیرت سے بھی ثا بت ہے کہ یہ ہستیاں بھی عورتوں کو مشور وں میں شریک فرما تی تھیں۔ (۱۶)

(حوالہ جات)

(۱) تفسیر فرا ت کو فی / ص ۶۲۵
(۲) بحا ر الانو ا ر ج ۷۲/ ص ۱۰۵
(۳) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۴) حوالہ سابق / ص ۱۰۵
(۵) حوالہ سابق / ص ۹۸
(۶) حوالہ سابق / ص ۱۰۰
(۷) امالی شیخ صدوق /ص ۳۰۶
(۹/ ۸) حوالہ سابق
(۱۰) سید جعفر شہید ی ترجمہ نہج البلا غہ خطبہ نمبر ۵۳ (ما لک اشتر کے نا م )
(۱۱) کا رل ہا ف مین ۔ روا ن شنا می عمو می از نظر یہ تا کا ر بر دج ۲
(۱۲)حوالہ سابق ، ص / ۶۵
(۱۳) نہج البلا غہ خطبہ
(۱۴) بحا ر الانوا ر ج ۱۰۳ ، / ص ۲۵۳
(۱۵) محمد رضارجب نژا د ، خر د زیبا / ۹۱
(۱۶) حوالہ سابق /ص ۴