عورت کی گواہی

سوال ۲۷:عورتوں کی گو اہی کی مر دو ں سے کم ارز ش و قدرہو نے کی کیا وجہ ہے کیا یہ دونوں میں فرق نہیں ہے ؟
اسلام میں عو رت کی گو اہی بھی مرد کی گو اہی کی طرح ایک اصو ل کے طو رپر مسلّم ہے اگرچہ بعض مواردمیں عو رت و مرد کی گو اہی کیفیت واعتبا ر کے لحا ظ سے فر ق رکھتی ہے ،بعض جگہو ں پر صرف عورت کی گوا ہی بھی مقبول ہے اور بعض جگہوں پر صرف مرد کی گوا ہی مقبو ل ہے اور بہت سی جگہو ں پر ہر ایک کی گو اہی اکیلے یا باہم مل کر مقبو ل ہے، صرف خا ص مو ا رد میں دو عو رتوں کی گو اہی ایک مر د کے بر ا بر ہے ۔
اسلا م کے عد التی قوانین میں شہا دت ( گو اہی ) کے اسر ار و حکمت کو پا نے کے لئے چند نکا ت پر توجہ کر نا بہتر ہے ۔؎

پہلا : اعتبا ر شہا دت
کسی وا قعہ کے با رے میںگو اہی و اظہارِ علم اس صورت میں قضا وت اور فیصلے کا با عث بن سکتا ہے کہ زیادہ سے زیا دہ معتبر اور قا بل اعتما د ہو،دوسر ی طر ف سے گو اہ کی با ت کا اعتبا ر اس کی نفسیا ت شنا سی سے بہت گہراربط رکھتا ہے اور دوسر ی با ت یہ ہے کہ عو رت اور مر د کے درمیا ن مختلف جسما نی و روحانی خصو صیا ت پائی جاتی ہیں، ان میں سے بعض تغیرات درج ذیل ہیں ۔

۲۔۱:خو د اعتما دی
تحقیقا ت کی بنا پر مر دو ں میں خو د اعتما دی عورتوں سے زیا دہ ہو تی ہے، مر د بڑے بڑے عظیم مقا صد لے کر اٹھتے ہیں اور ان تک پہنچنے کی کو شش کر تے ہیں جب کہ عو رتو ں میں خوداعتما دی کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مختصر مد ت کے چھو ٹے اہدا ف کو مد نظر رکھتی ہیں، (۱)یہ خصوصیا ت
ہے عورت کے مرد کی بہ نسبت زیا دہ جذبا تی ہو نے کے علا وہ ا س کی جذبا تی کیفیت بھی مر د سے گو اہی دینے میں بہت اثر اندا ز ہو سکتی ہیں، جس میں خو د اعتما دی کی کمی ہووہ کسی با ت کے اثبا ت یا ردّ میں زیا دہ کا میا ب نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اند رونی یا بیر و نی عو امل سے متا ثر ہو کر شک و تر دید کا شکا ر ہو جائے گا ۔
۲۔۲ :جذبات و احساسات
عورت اورمردکے درمیا ن جذبا ت کے حوا لے سے واضح فر ق پا یا جا تا ہے،عورت مردسے زیادہ جذباتی ہوتی ہے ،اسی خصوصیت کے ساتھ وہ پیدا ہو تی ہے اور زند گی گزارتی ہے مردانرجی باہرکی دنیا میں صر ف کر تے ہیں اور ان کی اصلی توجہ اپنے ما حول و معاشرے کو کنٹرول کرنے پرمرکوزہوتی ہے جب کہ عورتوں کی زیا دہ تو جہ اپنی اندر کی دنیا اور جذبا ت پر صر ف ہوتی ہے، وہ زندگی میں تعلقا ت کے پہلو ؤں پر زیا دہ تو جہ کر تی ہیں، دونوں میں یہ فر ق بھی گو اہی دینے میں بہت مو ثرہوسکتا ہے کیو نکہ جو تما م تو جہ اور ذہن قو ت و انر جی با ہر کے ما حو ل کے اوپر تسلط اور کنٹرول میں صرف کرتا ہے ا س کی نسبت جس کی بیشتر تو جہ اپنے اندر ونی حا لا ت پر مرکوزرہتی ہے اور بیرونی عوامل پرزیا دہ تو جہ نہیں دے پاتاوہ زیا دہ رو شن اورواضح ادر ا ک سے بہرہ مند ہو تاہے یہی وجہ ہے کہ اس کی گو اہی کا اعتبا ر بھی زیا دہ ہو گا۔

۲۔۳ :جذبات کا شکا ر ہونا
عورت مردسے زیادہ جو شیلی ا ورجذبا تی ہو تی ہے اس با رے ٹر ومن اور میلر کافی افراد کے ردّعمل پر تحقیقا ت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ جن موا قع پر خو ف ،نفرت ، غصے اور ترحم کی حا لت پیدا ہو تی ہے ان میں عورت اور مرد کے رد عمل میںکمیت اور کیفیت دونوں طرح کا اختلا ف ہو تا مختلف ہو تی ہے ۔ (۲)
جوتجرباتی تحقیقا ت ان جذبا ت کے فشا ومنبع کے با ر ے انجا م دی گئی ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہیجانی فعالیت کا تعلق بد ن کے کسی خا ص حصے کے بجا ئے پو رے بد ن سے ہے ،اندرو نی ترشحا تی غدودوں اور بعض با ئیو کیمیکل عوامل اس کا با عث بنتے ہیں، عورت میں اندرو نی غدود کی کمتر ترشح اس کے زیا دہ جذبا تی و ہیجا نی ہو نے کی علا مت ہے ۔
دوسری طرف سے کسی کی گو اہی جتنی باریک بین اور گہری ہو گی اتنا زیا دہ اعتبا ر اسے حا صل ہو گا اور جتنا زیا دہ جذبا ت و ہیجا نا ت سے متاثرہوکراس میں ذاتی فہم کو دخل ہوگا اس کا اعتبا ر اتنا ہی کم ہو گا ،در نتیجہ قاضی کا فیصلہ کہ جس کے بارے میں کا فی حساسیت مو جو د ہو تی ہے ،طرفین کے لئے زیا دہ باعث اطمینان ہو نا چا ہیے اور اس میں کسی بے انصا نی کا شا ئبہ تک نہیں ہو نا چاہیے، واضح ہے کہ جذبا تی پن کسی مو ضوع کی تشخیص اور اس کے متعلق اظہا ر ِنظر میں منفی اثر رکھتا ہے ۔

دوسرا:عورت کی گو اہی کی قبولیت
اگربعض مو ار د میں مر د کی گو اہی ما ننا اور عو رت کی گو اہی نہ ما ننا با عث بن سکتا ہے کہ عورت میںکو ئی نقص ہو یا مر د کی اس پر بر تری ہو تو اس کے بر عکس یعنی جن موا رد میں مردکی گو اہی کچھ ثابت نہیں کر سکتی وہاںصرف عو رت کی گوا ہی معتبر ہے۔ (۳)
تو یہاںبھی وہی با ت کریں کہ عورت کو مر د پر بر تری دی گئی ہے،حا لا نکہ ان میں سے کوئی بھی کسی کی فضیلت و بر تر ی کی دلیل نہیں ہے،بلکہ یہ اس لئے کہ حقا ئق روشن ہو سکیں اور واقعیت تک پہنچا جا سکے ،یہ اختلا ف و فرق اس موضو ع اور ا س کے بارے افر ا د کی آگاہی و علم کی کیفیت سے مربوط ہے ۔

تیسر ا :نا گوار امور کے با رے گواہی
قتل و زنا جیسے امو ر میں دو عو رتوں کی گو اہی کا ایک مر د کی گو اہی کے بر ابر ہو نا مکمل طو ر پر عورت کی نفسیا ت سے منا سبت رکھتا ہے کیو نکہ عورت مرد کی نسبت زیا دہ با حیا ہو تی ہے اور اس حیاوحجاب کی وجہ سے زنا جیسے مو ا قع سے رخ پھیر لیتی ہے اور اسے غو ر سے نہیں دیکھ سکتی ہے جب کہ مر د میں ا س حوا لے سے تجسس زیاد ہ ہوتاہے اور یہ امر اس میں دیکھنے کی تحریک کو پید ا کر تا ہے، عو رت اس جیسے موا رد کو دیکھنے اور سمجھنے میں اشتبا ہ کر سکتی ہے اور جب گو اہ کی تعد ا د دو گنا ہو گی تو اس اشتبا ہ کا امکا ن کم ہو جا ئے گا ۔
اسی طرح عورت مر د سے زیا دہ جذبا تی ہو تی ہے، مر د کا رو یہ اس کی نسبت سخت ہوتا ہیعو ر ت کی یہ خصو صیت جو کہ اس کے لئے بہت ضرو ری ہے خو داپنے طبعی و وضعی اثرا ت رکھتی ہے، جن پر توجہ بہت ضرور ی ہے، اس خصو صیت کا طبعی اثر یہ ہے کہ عو رت جب تکلیف دہ منا ظر کو دیکھتی ہے (جیسے قتل ) تو شدید متا ثر ہو جا تی ہے اور اس منظر کو غور سے نہیں دیکھ سکتی اسی وجہ سے ممکن ہے قاتل اور قتل کی کیفیت کے حو الے سے اشتبا ہ کا شکا ر ہو جا ئے اور اس کی گوا ہی بہت دقیق نہ ہو،اس کے سا تھ ایک اور گوا ہ کے مل جا نے سے خطا کا احتما ل کمتر ہو جا تا ہے ۔

(حوالہ جات)
(۱) ۔ کتاب زنقل از ہائڈ جانٹ ، روان شناسی زن / ص ۸۸
(۲) کتاب زن /ص ۴۳۳ نقل از رو انشنا سی اختلا فی زن و مر د / ص ۸۳
(۳) جیسے بچے کی ولا دت کا اثبا ت ، با کر ہ ہو نے کا اثبا ت یا عو رتوں کے عیوب کا اثبات جہا ں ان امو ر کے حو الے سے اختلا ف واقع ہو۔