عورت کاگھرسے نکلنا

سوال ۲۶:عورت پریہ پابندی کیوں ہے کہ گھرسے با ہرنکلنے کے لئے شوہرکی اجازت لے ؟
مردکی سربراہی
اسلام میں خا ند انی نظا م شورائی نظا م ہے جس میں سرپرستی مردکی ہوتی ہے،(۱)یہ مسئلہ گھرکے افرادمیں سے ہرفردپرذمہ داری ڈالتا ہے اور ان کے لئے حقو ق و فرائض معیّن کرتاہے، مردپرلازم ہے کہ خاندان کی ضروریات پوری کرے اوران کی ترقی،خوشحالی اورمادی ومعنوی سلامتی کے لئے کوشش کرے،اس کے مقا بلے میں گھر کے دوسرے افرادپراس حوا لے سے بھی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جیسے گھرسے آناجانا کنٹرول ہواورمردکی موافقت سے انجا م پائے۔
دوسرے لفظوں میں گھرمعاشرے کا وہ بنیا دی مجمو عہ ہے جس کی سعاد ت و پستی معاشرہ کی سعادت و پستی میںبہت زیا دہ مو ثر ہو تی ہے، اس چھو ٹے لیکن اہم اجتما ع میں گھرکی سرپرستی مردکو حا صل ہے، وسعت ِقلبی ،تما م اراکین کی شراکت ان کے حقو ق کی رعا یت اوران کے دلو ں پر حکومت اورقدرت کے بجا ئے اقتدارکوعملی کرنے کی ضرو ر ت ہو تی ہے، اسی وجہ سے شو ہرکی ذمہ داری ہے کہ وہ بد اخلا قی نہ کرے ،بیوی کے ضر وری کا م سے گھر سے نکلنے پر پابندی نہ لگا ئے اور ایسا رویہ اپنائے کہ اسے ’’حسن ِ معا شرت‘‘کہہ سکیں،اس کے مقابل گھر کے دوسرے افرادپربھی لازم ہے کہ مردکے سا تھ ضرو ری مو ا فقت انجا م دیں اور اس کی گھرکی مفیدسرپرستی میں مددکریں اور اس کے حقو ق کا خیا ل رکھیں ۔

دوسرا: انسانی ضرورت پوری کرنا
مر د کے حقو ق کی ر عا یت کا تقا ضا یہ ہے کہ عورت مر د کی مو ا فقت کے ساتھ گھر سے با ہر جائے،علا مہ سید محمد حسین فضل اللہ تفسیر من وحی القر آن میں کہتے ہیں کہ نکا ح کا لا زمہ کچھ عہد و پیمان ہوتے ہیں کہ جن کی پا بندی عورت اور مر د دونو ں پر لا زم ہو تی ہے ، پس عورت پر وا جب ہے کہ مردکی انسانی ضرورت پوری کرے اوراس کی خواہش کے آگے مادی یامعنوی رکاوٹیںپیدا نہ کرے،اسی ضرورت کا تقاضایہ ہے کہ عورت مردکی مرضی کے بغیرگھرسے باہرنہ جائے۔(۲)
تیسرا:عورت کو خطر ات کا در پیش ہو نا
عموما ً عورت کو مر د کی نسبت باہرزیا دہ خطرہ درپیش ہو تاہے، عورت کو اوباشوں کی طرف سے چھیڑچھا ڑکا خطرہ رہتا ہے، لہٰذا مردکواپنے اطمینا ن اور عورت کی حفا ظت کی خا طر عورت کے باہرآنے جا نے کے حو الے سے مطلع ہو نا چا ہیے ،عو رت کو اسی خطر ے کے پیش ِ نظر مر د کویہ حق دیا گیاہے کہ اس مسئلے پر نظر رکھے ۔
دوسر ی طرف سے مرد کی ذمہ دار ی گھر یلو ضروریا ت پو ر ی کر نا ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ مردباہرجاکرکا م کرے،جب کہ عورت کے ذمے ایسی کو ئی ذمہ داری نہیں ہے، لہٰذا مر دکا گھر سے نکلناضرور ی ہے، اب عورت کااجا زت لینا بے معنی سی بات ہوگی جب کہ اس کاباہرجانا ضروری بھی نہیں ہے ۔
البتہ ہمیشہ یہ بات نہیں ہے کہ عورت کا با ہر جا نے کے لئے مر د سے اجازت لینا ضروری ہو بلکہ بعض مواردمیںعورت کا گھرسے با ہرجا نا بغیر اجا زت شو ہر کے بھی جا ئز ہے ۔
۱: واجب علو م کی تحصیل کے لئے یا ایسی شرعی تکالیف کی انجا م دہی کے لئے کہ جس کے لئے گھر سے نکلنا ضرو ری ہو، آیۃ اللہ جوادی آملی عورت پر علوم کی تحصیل کی ضرورت کے با رے فرماتے ہیں ایک سوا ل یہ کیا جا تا ہے کہ اگر عورت اور مرد مسائل اور علمی کما لا ت کے لحا ظ سے کو ئی فرق نہیں رکھتے تو پھر عو رت کو تحصیل ِعلم کے لئے مردسے اجا زت لینے کی ضرور ت کیو ںہے ؟ اس سوا ل کا جواب یہ ہے کہ علم کی تحصیل دوقسم پر ہے ایک قسم ،وہ علو م ہیں کہ جن کی تحصیل واجب عینی ہے، ان جیسے علو م کی تحصیل سے مر د عورت کو رو ک نہیں سکتا، اگرروکے تب بھی اس کی اطا عت وا جب نہیں، جب کہ دوسری قسم وہ علو م ہیں کہ جن کی تحصیل واجب کفا ئی ہے، اس قسم میں اگر اس حد تک کوئی تحصیل ِعلم نہ کرے کہ واجب کفا ئی ادا ہو سکے تو اس صورت میں عورت پر ان کی تحصیل واجب عینی ہوجا ئے گی، جس سے مردکوروکنے کا حق نہیں ہے ۔
وہ مواردجن میں مردعو رت کوبا ہرنکلنے سے رو ک سکتا ہے عور ت شر ط کر سکتی ہے کہ میں اس شرط پر گھرکے کا م انجا م دوں گی کہ اتنا وقت مجھے تحصیل ِعلم کے لئے دیا جا ئے ،جس میں ،میں تحصیل ِعلم کر سکوں ،یہ عورت کے اختیا ر میں ہے جیسا کہ حضرت زینب علیہا السلام نے نکاح کے وقت ایسی شرط کی تھی ،اگر معا شرے میں یہ با ت عملی ہو جا ئے اور لوگوں کی سو چ میں بھی تر قی وا قع ہو جائے تو پھر عورت کوکبھی ایک قا بل ِخریدو فروخت جنس کے طور پر نہیں سمجھا جا ئے گا۔(۳)
۲: حق کی خاطر، جیسے عد الت جا نا اپنے حق کو ثابت کر نے کے لئے یا گواہی دینے کیلئے وغیرہ۔
۳: بعض فتا ویٰ کے مطا بق اگر عو رت شا د ی سے پہلے نو کر ی کر رہی تھی تو شا د ی کے بعد بھی اسے جاری رکھ سکتی ہے اور شا دی اس سے ما نع نہیں ہو گی ۔
۴: عورت نکا ح کے وقت گھر سے با ہر جا نے کی شر ط کر ے ۔
۵: اگرمردعورت کے نا ن و نفقہ کو ادا نہ کر ے اور عو رت خر چہ پو را کر نے کے لئے باہر جانے پرمجبورہوجائے،اسی طرح ہر ضرو ری کا م جس کے لئے عو رت کاباہرجانا ضروری ہو۔(۴)

(حوالہ جات)
(۱)محمد تقی جعفری زن از دید گا امام علی ؑ / ص ۵۱
(۲) محمد تقی جعفری زن از دید گا امام علی ؑ / ص ۵۱
(۳) عبد اللہ جو ا دی آملی ، زن در آئینہ جلا ل و جما ل / ص ۴۲۱، ۴۲۲
(۴)مزید تفصیلا ت دیکھیں: الف مر تضیٰ مطہر ینظام حقوق زن در اسلام ، ب :ربانی خلخانی ،زن در اسلام ،پ : محمد حسین طبا طبا ئی ، زن در اسلام ،ت: سید مسعودمعصو می ،ا حکا م رو ابط ،زن و مر د