متعدد بیو یوں کا فلسفہ

سوال ۲۵:اسلام میں متعد دبیویاں کرنے کا کیا فلسفہ ہے اور یہ حق صرف مر دوں کو کیوں ہے ؟
پہلا :متعددبیویوں کے مسئلہ کی تا ریخ
مختلف انسا نی معا شر وں اور اسلا م سے پہلے ادیا ن میںبھی یہ مسئلہ مو جو د تھا ،(۱)اسلام نے یہ کیا کہ اسے محدو د کر تے ہو ئے سخت اخلاقی و ا قتصا دی شر ائط سے مشر و ط کر دیا ہے، ان شر ائط کے بغیر کسی کو ایک سے زیا دہ شا دیا ں کر نے کا حق حا صل نہیں ہے ۔

دوسرا:چندبیویاں رکھنے کی وجہ:
اس کے لئے مختلف اسبا ب و عو امل ذکر کئے گئے ہیں ہم اختصا ر کے پیش نظر ان میں سے چند پیش کر تے ہیں ۔
۱ :شاد ی کے قا بل عورتوں کا مر دو ں سے زیا دہ ہونا:اکثر معا شروں میں شادی کے قا بل عورتوں کی تعدادمردوں سے زیا دہ ہو تی ہے ،ایگبرن اور نم کو ف لکھتے ہیں ۱۸۰۵ میں بڑے صحراؤں (Greate plains)کے سر خ پو ستوں کی ۲۳۰۰۰ کی تعداد میں ہر ۱۰۰ عورتوں کے مقا بلے میں صرف ۴۴ مرد مو جو د تھے۔ (۲)
امریکہ میں مورمن (mormon)نا می فر قہ بھی متعدد بیو یوں کو جا ئز سمجھتا ہے ان میں کئی بارمردوں کی کمی کی شکا یت سا منے آئی ہے مثلا ً ۱۸۷۰ میں صو بہ اٹھا (Utha)کے تین اطرا ف کے مورمنزمیں ۹۵۶عورتوں کے مقا بل ۸۵۴ مردموجودتھے۔(۳) برٹرینڈرسل لکھتاہے۔ موجودہ انگلینڈمیں دوملین عورتیں مردوں سے زیادہ موجودہیں،جنہیں عرف کی بناپربانجھ رہنا ہوگااوریہ ان کے لئے بہت بڑی محر ومیت ہے۔ (۴)
خوداس مسئلے کے بھی کئی اسبا ب و عو امل ہیں جیسے :  ۱: دنیا کے بعض مما لک جیسے تنز انیا میں لڑکیوں کی شر ح پیدا ئش لڑکو ں سے زیا دہ ہے بعض جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطا بق کچھ عرصہ پہلے رو س میں عورتوں کی تعدا د ۲۱ ملین مردوں سے زیادہ تھی۔(۵)
اب اگرہرمرد صرف ایک بیو ی پر اکتفا ء کر ے تو ہمیشہ ان حا لا ت میں بعض عورتوں کو نعمت ازدواج سے محروم رہنا ہو گا جب کہ متعددبیو یوں کے جوازکی صورت میں وہ عورتیں بھی شا دی کر کے گھریلوزندگی اوراس کے فوائد سے بہرہ مند ہو سکتی ہیں،البتہ اکثر جگہوں پر لڑکیوں کی تعدا دلڑکوں سے زیادہ نہیں ہوتی لیکن بعض دوسر ے اسبا ب کی بنا پر شا د ی کے قا بل لڑکیو ں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی ہے ۔
۲: بعض حوا دث جیسے جنگیں کی بنا پرزیا دہ مر دو ں کی اموات ہو جا تیں ہیں اور ا ن کی بیو یاں بغیرسرپرست رہ جا تی ہیں ،اسی طرح ایکسیڈنٹ ، غر ق ہو نا ، گر جا نا وغیر ہ جیسے حادثات میں زیا دہ نقصا ن مردکی جنس کو پیش آتا ہے، ایسی صورت کا فطری نتیجہ یہ ہو گا کہ شاد ی کے قابل لڑکیو ں کی تعدادمردوں سے بڑھ جا ئے گی، یو ر پ میں دو عا لمی جنگوںمیں تیس سال کے دورا ن مردوں کی بہت بڑی تعدا دقتل ہو گئی جس کی وجہ سے مر دوں کی تعدا د لڑکیوں اور بیوگا ن کے ساتھ شادی کے لئے کا فی نہیں رہی تھی، صرف جر منی میں چھ ملین سے زیا دہ عورتیں ایسی تھیں جن کے لئے شوہر نہیں مل رہے تھے ان میں بعض نے حکومت سے درخوا ست کی ایک سے زیادہ شا دی کر نے کا قا نو ن بنا یاجائے تا کہ قا نو ن شادی کے ذریعے وہ اجتماعی امن کے ساتھ ساتھ اقتصا دی و انسا نی ضرور توں کو بھی پور ا کر سکیں، چر چ کی مخا لفت کی وجہ سے ایسا قانو ن پا س نہ ہو سکا جس کے نتیجے میں اکثر عورتیں اپنی ما لی وانسا نی ضروریات پوری کر نے کے لئے خا ص محلوں اور سڑکوں کے کنا رے کھڑے ہو نے پر مجبورہو گئیں (۶)جس کی وجہ سے جر منی میں فسا دو بد کا ری کا رواج عا م ہو گیا۔
۳: عورتوں میں بیما ریوں کے مقا بل زیادہ مداخلت ہو نا اور دوسرے ہارمونزمردوں کے مقا بل ان کی تعدا د زیا دہ کرنے کابا عث بنتے ہیں، تحقیقا ت سے یہ با ت سامنے آئی کہ عورتوں میںپیدائش کے وقت سے لے کر بلو غ کی عمر تک مر دو ں سے زیا دہ بیما ریوں کا مقا بلہ کر نے کی صلاحیت ہو تی ہے اور نا منا سب حا لا ت اور مشکلات جیسے خور ا ک کی کمی اور بری غذائیں لڑکیوں سے زیا دہ لڑکوں کو متا ثر کر تی ہیں ، بطور کلی بیما ریوں کے ذریعے مر گ و میر کا سلسلہ عورتوں میں مردوں سے کمتر ہے،(۷) ایک نکتہ یہ ہے کہ مر دو ں میں مر دا نہ ہا ر مو نز ان میں سخت رویوںاور جنگی اورجھگڑالو طبیعت اجا گر کر تے ہیں جس کی وجہ سے لڑ ائیا ں ہو تی ہیں اور مر دوں کو جا نی و جسمانی نقصا ن اٹھا نا پڑتے ہیں جب کہ زنا نہ ہا ر مو نز ان میں آرام رویوں اور صلح جو یا نہ طبیعت کی تقویت کرتے ہیں، اسی طرح ٹیسٹوسرا ن (۸)نا می مر دا نہ ہا ر مو نز اور الٹو رو جن(۹) نا می زنا نہ ہا ر مو نز عورتوں اور مردوں کے کولیسڑول(۱۰) اور خو ن کے سرخ گلوبن پر مختلف اثرڈا لتے ہیں ،مردو عورت کے در میا ن اس ہارمونی اختلا ف اور اس کے نتیجہ میں پید ا شدہ ثا نو ی نتا ئج کی وجہ سے مردوں میں شرح اموات(Mortality) ۱۵سے ۲۵ سا ل کی عمر میں عورتوں سے ۴ سے ۵ گنا زیا دہ ہو تی ہے۔(۱۱)
لہٰذا عورت اور مر د میں مختلف اثر رکھنے والے ہا رمو نز کافرق ان اسباب میں سے ایک ہے جو عورتوں میں طو ل عمر اور مرد وں میں زیا دہ شرح اموات کا باعث بنتے ہیں ۔
۴ : عورتوں میں جسمانی و جنسی بلوغ عموما ً مردو ں سے کئی سا ل پہلے حا صل ہو جا تا ہے اورپھروقت گذرنے کے سا تھ سا تھ جس معا شرے میںصرف ایک بیوی ہی رکھ سکتے ہیں،وہاں شادی کے قابل عورتوں کی ایک بہت بڑی تعداد کے مقا بلے میں ایسے لڑکے قرارپاتے ہیں جو ابھی تک جنسی شعوروادراک سے عاری ہوتے ہیں یوںوہ عورتیں انسانی خوا ہشا ت کے پو را ہونے سے محروم رہ جا تی ہیں۔
۲ : علم نفسیا ت کی رو سے عورت اور مرد کی نفسانی ساخت ، جذبا ت اور میلا نا ت میں بنیادی فرق موجود ہے، بعض دانشورجیسے ڈا کٹر ما رسئیر(۱۲)ویل ڈیو رنٹ اشمنڈ ، ڈونتزلن اورسل وغیرہ قائل ہیں کہ عورتیں قدرتی طورپرایک شادی پسند (Monogamous)ہو تی ہیں اور فطری طورپرمتعدد شوہروں سے گریزاں ہوتی ہیں، عورتیں تو ایک مردکی حما یت و محبت کی پنا ہ کی طا لب ہوتی ہیں،اس وجہ سے عورتوں میں متعدد پسند ایک بیما ری ہے جب کہ مردذاتی طورپرمتعددپسند (polygamous) ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹراسکا ٹ (G.R.Scott)لکھتے ہیں مردبنیادی طور پر چندبیویاں پسند کرتاہے اور تمدن کی وسعت نے مردکی اس قد رتی خو اہش کو مہمیزدی ہے۔(۱۳)
البتہ یہ عا مل پہلے جتنی اہمیت نہیں رکھتا وہ چیز جس پر مکمل تو جہ دی جا نی چاہیے اور راہ ِحل تلاش کرناچاہیے، وہی پہلا عا مل ہے۔

۲۔۴:راہِ حل
ان حقا ئق کے مقا بل تین را ستے مو جو د ہیں ۔
۱: عورتوں کی ایک تعدا د ہمیشہ مکمل طو ر پر جنسی حوا لے سے محرو م رہے ،لیکن اس کی عقلی و منطقی توجیہ نہیں ہو سکتی کیو نکہ بعض انسا نوں کی طبعی قدرتی ضروریات پوری نہ کرنا اورانہیںدباناان پرظلم ہے ، اس کے علا وہ یہ راہ حل لمبی مدت کے لئے نا قابل ِ عمل ہے، دوسر ے لفظوں میںجنسی خواہشات کی سرکوبی ان افرادمیں سرکشی وتجا وزکا باعث بنے گی،جرمنی اوردوسرے بہت سے یورپی مما لک کا ایسا تجر بہ ہما ری اس با ت پر بہترین شا ہد ہے ۔
استا د شہید مر تضیٰ مطہر ی اس با ر ے میںلکھتے ہیں اگر ضرو رت مند عورتوں کی تعداد ضرو رت مند مردو ں سے زیادہ ہوجائے توپھرمتعددبیویاں رکھنے کو ممنو ع قراردینابشریت سے خیانت ہے ،کیو نکہ با ت صرف عورت کے حقو ق کی پامالی کی نہیں ، اس طریقے سے جوبحران معاشرے کو پیش آتا ہے وہ ہر دوسرے بحر ان سے کہیں زیا دہ خطرناک ہے جیسا کہ خا ندا ن دوسرے ہر مجموعے سے زیا دہ مقدس ہے ۔
جو عورتیں خا ندا ن سے محر وم ہو تی ہیں وہ مر دو ںکو اغوا و گمر اہ کر نے کی پو ری کو شش کریں گی اورمرد بھی اس حوا لے سے پہلے سے ڈگمگا رہے ہو تے ہیں فا رسی کی ضرب المثل ہے ’’چو گل بسیا شود پیلا ن بلغزند ‘‘ جب کیچڑ زیا دہ ہو جا ئے تو ہاتھی بھی پھسل جاتے ہیں اوریہاں توکم کیچڑ بھی پھسلنے کے لئے کا فی ہے ۔
کیابات یہیں ختم ہوجاتی ہے؟ نہیںبلکہ گھریلوعورتوں تک پہنچ جاتی ہے،جوعورتیں اپنے شوہروں کوخیا نت کرتے ہوئے دیکھتی ہیں تو وہ بھی انتقا م کے طورپرخیا نت کے با رے میں سوچنے لگتی ہیں اورنتیجہ وہ ہوتاہے جوڈاکٹررپورٹ کے نام سے مشہورہے اورخلاصہ کے طورپریہ ہے کہ امریکی عورتیں اورمردبے و فا ئی وخیا نت یعنی بدکردا ری میں ساری دنیاکوپیچھے چھوڑچکے ہیں۔(۱۴)
۲: دوسراراستہ یہ ہے کہ نا جا ئر تعلقا ت کی کھلی چھٹی دے کر معا شر ہ کو فسا دو بد کر داری میں مبتلا کر دیاجا ئے ،یہ وہی طریقہ ہے کہ جو عملا ً مغرب میںرائج ہے ،اس طریقے کا نتیجہ کاملاً لندن کے ملا زم ڈاکٹراسکا ٹ کی رپورٹ میں ملاحظہ کیاجاسکتا ہے،اس کی رپو رٹ میں آیا ہے کہ لندن میں ہردس بچوں میں سے ایک بچہ ناجا ئزاولادہے، ناجائزولادتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ان کی تعداد۱۹۵۷میں ۳۳۸۳۸افرا دسے بڑھ کر ۱۹۵۸ میں ان کی تعدا د ۵۳۴۳۳تک پہنچ چکی ہے۔(۱۵)
۳: تیسراراستہ یہ ہے کہ قا نو ن کی حد ود میں جا ئز طریقے سے چند بیو یا ں رکھنے کا را ستہ کھو لا جائے اور اسلا م نے اس بہترین اور حکیما نہ ترین راستے کو کھو لا اور ان مردوںکو ایک سے زیا دہ بلکہ چاربیویاں رکھنے کا حق دیا ہے کہ جو عدل وانصاف کے ساتھ ان کی ضروریا ت پو ری کرسکیں اور اس بارے میں بہت تا کیدی احکا م کی تشریع فرمائی ہے ، اس طریقے سے عورتوں کے حقوق مردوں کے کند ھو ں پر ڈالے گئے ہیں نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لئے یہ طریقہ نقصان دہ نہیں ہے بلکہ ان کے منا فع و مصالح کو اچھے طریقے سے پو را کرتا ہے ۔
اس با رے میں اسلا م کی بعض شر ائط و احکا م درج ذیل ہیں :
۱۔زیا دہ کی حد
اسلا م نے متعدد بیو یوں کے اختیا ر کرنے کو چا ر کی حد تک محدود کیا ہے قرآن فر ما تا ہے :
فَانکِحُواْ مَا طَابَ لَکُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَی وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ (۱۶)
پاک عورتوں سے شا د ی کر و ،د و ،تین یا چا ر سے ۔
۲۔عدا لت کی رعا یت :
بیویوں کے حق میں اصول عدا لت کی رعایت کے بارے میںقرآن فر ما تا ہے :
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَۃ(۱۷)
اگرتمہیں خوف ہے کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک عورت اختیار کرو ۔
اما م صادق علیہ السلا م فر ما تے ہیں : اگر کسی کی دو بیو یا ں ہو ں اور وہ ان کے درمیان اپنے تعلق اور ما لی تقسیم کے لحا ظ سے عدالت کے سا تھ عمل نہ کر ے تو اس حا ل میں جہنم کی طرف لے جایاجائے گا کہ اس کے دونوں ہا تھ بند ھے ہو ں گے اور آدھا بد ن ایک طر ف جھکا ہواہوگا۔(۱۸)
استاد مطہر ی لکھتے ہیں :
اسلا م کی نظرمیں عدالت کی شر ط کو اس حدتک اہمیت حا صل ہے کہ عورت و مر د نکاح میں باہمی رضا مندی سے بھی یہ شر ط نہیں رکھ سکتے کہ دوسر ی بیو ی پہلی بیو ی کے ساتھ غیر مسا وی شرائط کے سا تھ زندگی گزارے گی یعنی اسلام کی نظرمیں عدالت کی برداری ایک تکلیف شرعی ہے اورمرداپنی بیوی کے ساتھ شرط کرکے بھی اسے ختم نہیں کرسکتا۔(۱۹)

۳۔ ما لی ذمہ دا ری
اسلام نے عورت کا نان ونفقہ مردکے ذمے لگا یا ہے لہٰذا اگرکوئی متعدد بیویوں کا خرچہ نہیں اٹھا سکتا تو اس کو یہ حق نہیں ہے کہ ایک سے زیادہ شا دیا ں کرے۔
۴۔جنسی و قلبی ضرورت پو ری کرنا
امام صا دق علیہ السلام نے فرمایا :اگر کو ئی زیا دہ بیویاں کرے اور ان کی جنسی ضرورت پوری نہ کرسکے جس کی وجہ سے اس کی بیوی زنا کی مرتکب ہوجا ئے تو اس کا گنا ہ اس مردکے ذمے ہے۔(۲۰)

اسلام میں تبدیلی فرق کی درجہ بندی
اینی بیزانٹ (Annie besant)لکھتی ہیں ‘‘کہا جا تا ہے کہ مغرب میں ایک بیو ی کا قانون ہے لیکن در حقیقت یہ چند بیویوں کا قا نون ہے وہ بھی بغیر ذمہ دا ری اٹھا ئے ،جیسے ہی ایک مردکا عورت سے جی بھرجاتاہے وہ اسے چھوڑدیتا ہے اور وہ عورت آہستہ آہستہ سٹرکوںکے کنارے کھڑے ہو نے والی عورت بن جا تی ہے ،کیو نکہ اس کا سابقہ عا شق اب اس کی ذمہ دار ی سنبھالنے پر تیا ر نہیں، جو عورت ایک بیو ی یا ماں کے عنوان سے اس گھرمیں رہ رہی ہے جہا ں دوسری بیویاں بھی موجودہیں،وہ سوگنابہترصورت حال میںہے،میں جب ہزا روں عورتوں کوسڑکوں کے کنارے رات کو کھڑے پاتی ہوں تومجھے یقین ہو جا تا ہے کہ مغرب اسلا م کو چند بیویوں کے رکھنے کی اجازت دینے پرسرزنش نہیں کر سکتا ،عورت کے لئے یہ با ت کہیں بہتر ہے کہ وہ خوش خبری واحترام کے ساتھ چندبیویوں والے اسلامی ما حو ل میں ایک مردکے ساتھ زندگی گزارے اوراپنے قانونی وشرعی بیٹے کواپنی گودمیں اٹھا ئے اورہر جگہ اسے عزت و احترام کی نگا ہ سے دیکھا جا ئے، بجا ئے اس کے کہ ہرروزشوہربدلے اورہوسکتا کہ اسے ناجائزبیٹاکسی ویرانے یا سڑک کے کنا رے چھو ڑنا پڑے جسے نہ قانون کی حما یت حاصل ہو اور نہ کو ئی پنا ہ گاہ اور وہ عورت ہر رات ہر راہ چلنے والے کی ہوس کی بھینٹ چڑھتی رہے۔ (۲۱)
آئزک ٹیلر نے محمڈن ازم کے با رے میںاپنی تقریر میں جو کہ ویو ز ہمپٹن میں کلیسا کی کا نگر یس میں کی گئی، (۲۲) اعلا ن کیا کہ اسلامی ممالک میں را ئج چند بیو یو ں کا قانو ن کہیں بہتر ہے اس سے کہ غیر قانونی چندبیویوں کے طریقے سے جو مسیحی مما لک میں روا ج پاچکا ہے رو ا ج ہو اسلام میں اس کی بالکل اجا زت نہیں،(۲۳)مسیحی عالم اوڈو تلا نے (odottulla)ٹورنٹومیں ایک کا نفر نس میں کہا کہ مغرب چند بیو یو ںکی اجاز ت نہ دے کر منا فقا نہ عمل کررہاہے کیو نکہ مقرر طلاقو ں کے ذریعے عملا ً یہی کچھ یہاں بھی ہوتا ہے ۔
اس بنا پرمغرب میں ایک بیوی کا قا نو ن در حقیقت چند بیو یا ں رکھنے کا غیر منظم اور بغیر ذمہ دا ری کے عمل بن جا تا ہے اور یہ اعترا ف بھی آپ سن لیں کہ اسلام نے اپنے چند بیو یو ں والے حکم کے ذریعے عملا ً ایک بیو ی کے طریقے کو حفاظت بخشی ہے،را برٹ آئی ہیوم لکھتے ہیں(۲۴) بعض معقول محقق سمجھتے ہیں کہ حضرت محمد ؐ نے بطو ر کلی عورتوں کی حیثیت کو وقا ر و عظمت عطا کی ،انہیں ایسی اقتصادی آزادی دی جو ابھی تک بعض مغربی مسیحی ممالک میں نہیں دی گئی اور متعددبیویوں کے عمل کے جو اس وقت را ئج تھا، لو گ جتنی بیو یا ں چاہتے رکھ لیتے ،آپ نے اس کے لئے حدود معیّن کئے ہیں جو کہ بہت ضروری اور مفید تھے، آپ نے دختر کشی کی رسم جو کہ اس وقت عرب میں باقا عدہ رواج رکھتی تھی مکمل طورپر ختم کر دی اور متعدد بیویوں کے عمل کو صر ف اس صورت میں جا ئز قراردیاکہ شوہرتما م بیویوں کے ساتھ مکمل عد الت کا رو یہ اپنا سکتا،ہو اس شر ط کے ساتھ درحقیقت آپ نے ایک بیو ی کے عمل کورواج دیا۔(۲۵)
استا د مطہر ی اس با رے لکھتے ہیں
آپ کو تعجب ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ مشرق میں متعددبیویوں کا حکم درحقیقت وہ سب سے بڑا عا مل ہے کہ جس نے ایک بیو ی کے طریقہ کوبچا یاہے، جب اس متعددبیویوں کا قانون کے تمام تقا ضے پورے ہوں اورشادی کے قا بل عورتوں کی تعدا دزیادہ ہوجائے،اب اگرانہیں شادی شدہ زندگی گزارنے کا موقع نہ دیا جائے اورجومردمتعددبیویوں کے لئے اخلاقی،ما لی اورجسما نی شرائط رکھتے ہوں انہیں متعددبیویوں کی اجا زت نہ دی جا ئے توپھرعشق بازی وبے راہ روی جیسے عوامل ایک بیوی کے طریقے کی جڑیں کا ٹنے کے لئے کا فی ہیں ۔(۲۶)
یہا ں یہ سوا ل پیش آتا ہے کہ چند شو ہرکیوں ایک عورت کے لئے جا ئز نہیں ؟ اس کا جو اب یہ ہے کہ :
۱۔ متعدد بیویوں کی بڑی وجہ یعنی عورتوں کی تعدا د کا زیا دہ ہو جا نا، عمو ماً مر دو ں میں نہیں پا ئی جاتی ۔
۲۔ یہ عمل عورت کی طبیعت اورذہنی میلا ن کے خلا ف ہے،عورت قد رتی طور پر اس عمل سے گر یز کرتی ہے ،یہی وجہ ہے پو ری انسا نی تا ریخ میں ایک سے زیادہ شوہرکاعمل رو اج نہیں پا سکا،تبت کے بعض قبائل یا قبیلہ تو دا میں ایسا عمل را ئج ہے جو کہ ایک نادرموردہے۔

(حوالہ جات)
(۱)شہید مطہر ی نظا م حقو ق زن د ر اسلام / ص ۳۹۵۔۳۱۳
(۲) W.F.Oghborn & M.F. Nimkuff. Sociology , Boston, 1958,P. 585
(۳)رقعہ آریا نپو ر ۔ ج۱ زمینہ جا معہ شنا سی ( تر ھا ن دھند ا /۳۳،حوالہ سابق
(۴)مرتضیٰ مطہری،نظا م حقوق زن در اسلا م / ص ۳۱۸
(۵)Why Polygam Is Allowed In Islam, P 26
(۶) Sec. op.GiT,24
(۷)کتاب زن ص ۱۱۵،۱۱۶
(8) Testostorne
(9) Progestrone & Estrogen
(10)Chlostrole
(۱۱) کتاب زن/ ص ۱۱۷، ۱۱۶
(12)Dr meceir see : conduct and its disorders biologically considered P.242-3
(13)Why poligamy is allowed in islam. P25, qouted from history of prostitution P 24
(۱۴) مرتضیٰ مطہری ، نظا م زن در اسلا م /ص۳۲۷۔۳۳۰
(۱۵)مرتضیٰ مطہر ی نظام حقو ق زن در اسلا م / ص ۳۲۴
(۱۶،۱۷ ) نسا ء / ۳
(۱۸) محمد ، محمد ی ری شہری ، میز ان الحکمۃ ج ۵ / ص ۲۲۷۰حمدیت / ۷۹۱۳
(۱۹) مرتضیٰ مطہر ی نظام حقوق زن در اسلام / ص ۷۱۸
(۲۰) میز ان الحکمۃ ج۵ / ص۲۲۷۲حدیث۱۷۹۱۵
(21Why Polygamyis allowed in islam P33-43
(22)Wolverhmapton (on october. 1881
(23)The times , london, saturday , 8th october , 1887, quotedin : Why polygamy in islam . P. 36.
(۲۴) مرتضیٰ مطہر ی ،نظا م حقو ق ازدر اسلا م / ص ۳۳۰
(۲۵)مرتضیٰ مطہری ،نظام حقوق ازدر اسلام /۳۳۰
(۲۶)محمد تقی جعفری زن از دید گا امام علی ؑ / ص ۵۱