عورت کے قاتل سے قصاص

سوال ۲۴:اگرکوئی مردکسی عورت کو قتل کر دے تو ایسا کیو ں ہے کہ اگر مقتو لہ کے ورثا اس قا تل سے قصا ص لینا چا ہیں تو پہلے انہیں اضا فی دیت ادا کر نا ہو گی تا کہ قا تل سے قصاص لے سکیں کیا یہ عورت کے کم اہم ہو نے کی دلیل نہیں ہے ؟
پہلا : عورتوں سے مر بو ط حقوق کے احکا م کو اسلا م کے خا ند انی حقو ق کے پو رے نظام کے تنا ظر میں دیکھنا چاہیے ۔
دوسرا: اسلا می نکتہ نظر سے عورت اور خا ندا ن کے حقو ق کے چند اصول ہیں ۔
۱: عورت و مرد کے مشترکات و اختلا فا ت اور ان کے لو ازما ت و نتا ئج پر تو جہ کر نا ضروری ہے۔
۲: اعتدا ل کی رعا یت کرتے ہو ئے کسی قسم کی افرا ط و تفر یط اور جا نبد ار انہ نظر سے بچا جائے۔
۳: انجا م اور خلقت ِانسا ن کے اصلی ہد ف پر تو جہ اور انسا نی تعلقا ت کو منظم کیا جائے، وہ بھی اس طرح ہو کہ انسا ن کے دنیا وی مصالح کے حصو ل کے سا تھ سا تھ وہ اُخروی خیروبرکت اور کما ل مطلو ب و جا وید سے بھی محر وم نہ رہے۔
۴: انسا نی شرا فت و کرامت کی حفا ظت اسلا م کی بنیا دی تعلیما ت میں سے ہے ۔
اس بنا پراسلام عورت کے لئے زیادہ مقا م و مرتبہ کا قا ئل ہے یہا ں تک کہ حضور اکرمؐ نے ارشادفرما یا:
الجنۃ تحت اقد ام امہا تکم (۱)
جنت تمہا ری ما ؤں کے قدموں تلے ہے ۔
تاریخی تجربات سے بھی ثا بت ہو چکا ہے کہ کسی معا شرے کی تر قی و تنز لی میںعورت بہت اہم عا مل و سبب شمارہوتی ہے،ماں بیٹے کے لئے تشکیل ِ شخصیت کا سب سے اہم عامل ہو نے کے علا وہ اس کی تربیت کی پو ری عمار ت کی بنیا د بھی فراہم کرتی ہے ۔
تیسرا: شریعت ِ اسلام کی تعلیم کے مطابق ماں بچے کی پرور ش و تر بیت کا اہم ترین فریضہ اس کے عمرکے اہم ترین دور میں سنبھا لتی ہے، اس ذمہ دا ری کا فطری لا زمہ یہ ہوگا کہ عورتیں زیاد ہ وقت اپنے گھر میں رہیں ،ایسی صورت میں ان کے اخرا جا ت کہیں اور سے پو رے ہوناچا ہئیں، اس بنا پر اسلام نے مر د کی ذمہّ داری قرار دی ہے کہ وہ عورت اور بچے کی خد مت کی ذمہ داری سنبھا لے اور ان کی زندگی کے تما م اخرا جات پو رے کر ے پس عورت پور ی نو ع انسا نی کی خدمت میں مصروف ہے اور انسانی معا شرے کی تشکیل اور تربیت وپرور ش عورت کے مہرومحبت کے دا من میں انجا م پا تی ہے جب کہ مرد کا کا م ان کی خد مت کر نا ہے ۔
عورت اپنی اس ذمہ داری پر تب عمل کر سکتی ہے کہ جب مرد ا س کے زند گی کے تما م اخراجا ت کا بوجھ اپنے کندھوں پراٹھا لے تاکہ اس کی پشت پنا ہی ہو سکے ،خدا نے بعض مو ا رد میںکما ئی کے ایسے طریقے مر دو ں کے لئے ذکر کئے ہیں جن میں عورتوں کی کما ئی سے زیا دہ فائد ہ ہو سکتا ہے یعنی اسلام نے عو رتوں کے اقتصا دی ومالی استقلا ل کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے مردوں پر کچھ تکا لیف معیّن فرما ئی ہیں اور پھران کی منا سبت سے کچھ حقوق بھی مقررفرمائے ہیں ،درحقیقت یہ حقوق اگرچہ مردکے نا م سے معیّن فرمائے ہیں لیکن ان کا فا ئدہ عورت اور اولا د کو ہو تا ہے یعنی اگر اس مقررشدہ ما لی کما ئی کے مقا م سے وہ خرچے پورے نہ ہوسکیں جومردکے ذمے ہیں تو اس کا نقصان گھر کے دوسر ے سب افراد کو ہو گا۔
۴۔ ایک مرد اٹھ جا نے سے جہا ں ایک انسا نی جا ن کا نقصا ن ہو تا ہے و ہا ں گھر کی ما لی ضروریا ت پو ر ی کرنے والے اہم ذریعے کا فقدا ن بھی لا زم آتا ہے جس کی وجہ سے گھر کے سب افرا د مشکل کا شکا ر ہو جا تے ہیں ۔
۵۔ قصا ص و دیت کی حقیقت و ما ہیت در اصل تنبیہ ہے نہ کہ انسا نی جا ن کی قیمت لہٰذا عورت یامردجب اس گنا ہ کے مر تکب ہو تے ہیں توسز ا کا دیا جا نا ضر ور ی ہے تا کہ معا شر ے کا عمومی نظم وانسق محفو ظ رہے ،البتہ سزا سے مجرم اور قا نو ن شکن کیلئے تنبیہ کے علا وہ ان کے گھر یلو افر اد کوبھی نقصان ہوتا ہے لہٰذاقا نو ن ساز کو اس نقصا ن کے ازا لے کو سا منے رکھنا چاہیے،یہ خیا ل نہ کیا جائے کہ قاتل مردسے قصاص کرنے کے لئے مقتو ل عورت کے ور ثہ جو نصف دیت انہیں ادا کرتے ہیں یہ اس خا طرہے کہ عورت کی اہمیت کم تر ہے یا اسے انسا ن نہیں سمجھا گیا ،اگرانسا نی جان کی قیمت لگا نے کا مسئلہ ہو تا تو پھر خداکا ارشا د سا منے رکھیں ۔
مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْْرِنَفْسٍ أَوْفَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعا (۲)
اگر کو ئی کسی کو ( نا حق ) قتل کر ے تو گو یا اس نے تما م لوگو ں کو قتل کیا ہے اور اگر کوئی کسی کو ( عورت ہو یا مر د ) زند ہ کر ے تو گو یا اس نے پو ری انسا نیت کو زند ہ کیا ہے۔
آپ نے ملا حظہ کیا قرا ٓن کی نظر میں ایک بے گنا ہ انسا ن تما م انسا نو ں کے بر ابر ہے ،دیت ایک قا نون کے طو رپر نو ع افرا د کے لئے قر ار دی گئی ہے اور مر د اپنی شخصی ذمہ داریو ں کے علاوہ عمو ما ً خاندان کی مالی واقتصا دی ذمہ دا ریوں کا حامل ہوتاہے اوراس کے اٹھ جا نے سے خاندان کو ما لی حوالے سے بھی بہت مشکلا ت پیش آجا تی ہیں جن کا جہاں تک ہو سکے ازا لہ کیا جا نا چاہیے ۔
۶۔ قا تل مردکی نصف دیت کی مقتو ل عورت کے ورثاسے اد ائیگی قا تل کے گھر والے دوسرے افرا دکا حق ہے نہ کہ خو د قا تل کا ،لہٰذا اس سے مر د کی عو رت پر اہمیت و بر تری لا زم نہیں آتی جیسا کہ آئمہ معصومینؑ نے فر ما یاہے :
ادوانصف الدیہ الی اھل الرجل
نصف دیت قا تل مرد کے گھر والوں کو ادا کرو۔(۳)
۷۔ اکثر حقو قی مسا ئل میں ضروری نہیں ہے کہ وہ معنو ی قدر و قیمت کے لحاظ سے ہو ں یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ اگر دو چیزیں اہمیت اور قدر و قیمت میںبرا برہو ں تو ا ن کے حقو ق بھی مسا وی ہوںیااس کے برعکس جیساکہ ایک عا لم ومتقی شخص کی اہمیت اور قدر و قیمت ایک جا ہل اور بے دین شخص سے زیا دہ ہے لیکن دونوں کی دیت بر ابر ہے، لہٰذا عورت اور مر د کی دیت یا بعض دوسرے حقو ق کے برا بر نہ ہو نے سے قطعا ً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اسلام کی نظر میں مر د کی اہمیت عورت سے زیا دہ ہے ۔

(حوالہ جات)
(۱) لسان المیزان ، ابن حجر العسقلانی ، ج ۶ ، ص ۱۲۸
(۲) ما ئد ہ / ۳۲
(۳)(وسائل الشیعہ ج باب ۳۳)،ج ۳۸۳۵