اولادکی سرپرستی

ضرور ی ہے :

پہلا:قا نو ن سا ز ی
۱ـ: قا نو ن سا ز ی میں عمو ما ً عام اور غا لب لوگو ں کی صورت حا ل مد نظر رکھی جا تی ہے نہ کہ چند مخصوص افراد کی صورت حا ل البتہ جہا ںاستثناء کی ضرور ت ہووہا ں تبصرے کے عنو ان سے جزئی قوانین بنائے جا تے ہیں ۔
۲: قوانین اورحقوقی قواعدزیادہ ترتمام حقوقی نظام میں موردِتوجہ ہوتے ہیں اور مسئلہ تربیت وحضانت بھی اسلام کے مد نی حقو ق کے مجمو عے کی جزء ہے جب تک پورے مجمو عے پر توجہ نہ کی جائے اس کافلسفہ واضح نہیں ہو سکتا ۔
۳: حصانت میں چندامورموردتوجہ ہوتے ہیں جیسے ماںکی عطو فت و شفقت ،با پ کی شفقت ، بچے کی محبت ، بچے کے آئند ہ و مستقل سے مربوط مسا ئل جیسے زند گی میں نمو نہ وماڈل اور طریقہ ٔ کا ربچے کے تربیتی مسا ئل، اس کے اقتصا دی حقوق، اس کی ما دی ضروریات پوری کرنااور ماں باپ کی آئندہ کی زند گی وغیرہ۔

دوسرا:اسلام میں حق ِ حصانت
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کے حیا ت بخش آئین نے ان مسائل کو کس طرح لیاہے اور ان کاکیا حل پیش کیا ہے ؟
۱: اسلام نے بچے کی تما م مادی ضروریات کی ذمہ داری باپ پرڈالی ہے حتیٰ کہ جب بچہ ماں کی گودمیں ہوتاہے اس وقت بھی اس کے تما م اخرا جات باپ کے ذمے ہیں اورما ں اس حوالے سے کوئی ذمہ داری نہیں رکھتی ۔
۲: مشہو ر فقہا کے فتویٰ کے مطا بق بیٹے کا حق ِحضا نت دو سا ل تک اور بیٹی کا حق حضا نت سات سال تک ما ں کو سو نپا گیا ہے ۔
۳: ما ں کی حصا نت بچے پر حق کے طورپرہے اور اس کے حقوق میں سے شمارکی گئی ہے ،جب کہ باپ کی حصانت ایک تکلیف شرعی کے طورپرہے اس بناء پرما ں جب چاہے بچے کے معاملات سے اپنے آپ کوالگ کرلے لیکن باپ یہ کام نہیں کرسکتا ۔
۴: عورت و مرد دو نو ں بچے کی حصا نت و تر بیت کے با رے میں اپنی با ہمی رضا مندی سے کسی اور طریقے کا انتخا ب بھی کر سکتے ہیں کہ جس میں بچے کی بہتری ہو۔
۵ : اگر ما ںکسی وجہ سے بچے کو سنبھا لنے کی صلا حیت نہ رکھتی ہو تو اس بچے کے معا ملات با پ کے سپردکردئیے جا ئیں گے، اسی طرح اگرباپ اس قا بل نہ ہو تو ما ں اسے سنبھا ل سکتی ہے لیکن اس صورت میں اگرماں قبو ل نہ کرے یاماں باپ دونوں بچے کو سنبھا لنے کی صلا حیت نہ رکھتے ہوں توایسی صورت میں قا ضی کے حکم کے سا تھ کسی اورکوبچے کی ذمہ داری سونپی جا ئے گی ۔
ملکی آئین یعنی قا نو ن ِمد نی میں بچے کی مصلحت کو سا منے رکھتے ہو ئے یہ با ت بھی کی گئی ہے کہ اس سے یہ ذمہ دار ی لی جا سکتی ہے جسے اس کی اولو یت حا صل تھی، یہا ں ایرا ن کے آئین کی شق نمبر۱۱۷۳ کا حوالہ دیا گیا ہے کہ جس کے مطابق اگرماں با پ بچے کی صحیح دیکھ بھا ل نہ کریں یا دونوں اخلا قی طو ر پر پستی کا شکا ر ہو ں جس کی وجہ سے بچے کی جسما نی صحت یا اخلا قی تر بیت خطرے میںپڑ جا ئے تو عدا لت بچے کے رشتہ داروںیاسرپرست کے تقاضے یاازخودنو ٹس کے مطا بق بچے کی حصانت کے با رے مناسب فیصلہ کر سکتی ہے ۔ لہٰذا عدالت مذکو رہ با لا صور تِ حا ل میں با پ یا ما ں سے بچے کی حضا نت چھین کر کسی تیسر ے شخص کے سپر د کر سکتی ہے ۔

تیسرا:احکا م ِحصانت کی حکمت
۳۔۱: بچہ ابتد ائی زند گی میںما ں کی محبت و شفقت اور اس کی دیکھ بھا ل کا سخت محتا ج ہو تا ہے، یہاں تک کہ کوئی چیزبھی اس عمرمیں ماں کی محبت و شفقت اور دیکھ بھا ل کی جگہ نہیںلے سکتی،ماں بھی اس با رے میںحد سے زیادہ فکرمندہوتی ہے، لہٰذا اس عمرمیں ما ں کو حق کفالت دینے کی حکمت مکمل رو شن ہے ۔
۳۔۲ : بچہ بچپن میں دوسر وں کی نقل کر تا ہے اور تدریجا ً اس کی شخصیت تشکیل پاتی اوربنتی رہتی ہے دوسری طر ف سے بچی کو ز نا نہ عا دا ت اور عا طفا نہ خصا ئل اپنا ناہو تی ہیں جس کے لئے اسے اپنی ہم جنس شخصیت کی ضرور ت ہو گی لہٰذااسے ما ں کے پا س زیا دہ مد ت رہنے کی ضرورت تاکہ اس کی شخصیت اپنی جنس کی تقلید کے زیر ِسا یہ پر ور ش پا سکے، اس کے مقا بل بیٹے کو اپنی جنس کی تقلید کے زیرسا یہ تربیت پا نا چاہیے، لہٰذا اسے با پ کے ساتھ زیا دہ وقت رہنا چاہیے اور جتنا جلدی ہو سکے اسے با پ کے ساتھ ملحق ہو جا نا چاہیے۔
۳۔۳: ما ں کی کفالت کی مد ت جتنی کم ہو گی اس کے لئے زیادہ فا ئد ہ مند ہے تاکہ وہ اپنی نئی زندگی شروع کر نے کے لئے آ زادا ور فا رغ ہو جائے ،لیکن اگر بچے کی حضا نت عورت کے لئے لمبی مدت کی ہو تو ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے نئی زند گی شر و ع کرنے کے امکا نا ت ہی ختم ہوجا ئیں اورا س کی پہلی ازدواجی زندگی کی شکست اس کے لئے دا ئمی نا کا می بن جا ئے گی کیو نکہ جو مردبھی اس عورت سے شادی کر ے گا اس کی خوا ہش یہی ہو گی کہ اسے کسی دوسرے کا بچہ پا لنانہ پڑے جب کہ عورت میں ایسا نہیں ہے، عورت اپنی شفقت و عطو فت کی بنا پر مر د کی اولا د کی تر بیت پرآما دہ ہوجا تی ہے ۔