عورت ومردکے حقوق میں فرق

سوال۲۲:اسلا م نے عورت اور مردکے حقو ق جیسے حق طلا ق میں فر ق کیو ں رکھا ہے ؟
عورت اور مر د بہت سے احکا م و حقو ق میں یکسا ں ہیں، صرف بعض شر عی قوانین احکا م ہوں یاحقوق میں فرق رکھتے ہیں ،اس فرق کی وجہ کو پا نے کے لئے ایک حکم وضع کر نے یا ایک قانو ن جاری کرنے کے مقصد و معیارپرتوجہ بہت ضرور ی ہے تا کہ اس فر ق کی مصلحت و غرض واضح ہو سکے،یہ عقلی حکم تو مسلّمات میں سے ہے کہ جو مو ارد ایک جیسے ہو ں وہاں حکم بھی ایک جیسا ہو گا اورجو موارد ایک جیسے نہ ہوں تو ان مختلف شر ائط کی منا سبت سے احکا م بھی مختلف جاری کئے جا ئیں گے، اس عقلی حکم کو سا منے رکھتے ہو ئے ہم اس سوا ل کے جوا ب کو مختلف صورتوں میں بیا ن کر تے ہیں ۔
پہلا:قانون سازی کا استحقاق اور اس کی خصوصیات
ایک شا ئستہ قا نو ن ہے کہ جو وا قعی و حقیقی مصالح و مفا سد پر مبنی ہے اور یہ چیزانسا ن کے تمام جسما نی و رو حا نی پہلو ؤں ، ضروریات ، خوا ہشا ت ، صلا حیتوں، منا سب انسا نی کما ل اور اس کمال تک پہنچنے کے طریقوں سے مکمل واقفیت پر موقو ف ہے، جب کہ رو ز بر وز علم و فکر کی ترقی کے ساتھ انسا ن کی جہا لت وا ضح ہو تی چلی جا رہی ہے ،یہی وجہ ہے کہ بشری قوانین مسلسل تغیر و تبد ل کا شکارہوتے رہتے ہیں۔
ولیئم جیمزکی نظرمیں انسا ن کی معلو مات ا سکی جہالت و لاعلمی کے مقا بل ایسے ہی ہیں جیسے دریا کے سامنے ایک قطرہ۔
آئن سٹا ئن کہتے تھے کہ بشرابھی تک راز خلقت کے عظیم رازکودرک نہیں کر سکااور قدرت کے رازوں میںسے صرف اصول ِزبا ن سے واقفیت حا صل کر سکا ہے، اتنا کچھ پڑھ لینے کے بعد بھی ابھی تک اس پہیلی کے حقیقی حل سے بہت زیا دہ دو ر ہے آیا اس حقیقی حل موجود ہے بھی کہ نہیں۔(۱)
اس بنا پر عقل تین دلیلوں کے ساتھ حکم کر تی ہے کہ اجتما عی و دنیا وی زندگی کی تدبیر و حی کے ذریعے انجام پانی چاہیے۔
۱۔ انسا ن انفرا دی طور پر اور اجتما عی طور پر اپنی صحیح پہچا ن بھی نہیں رکھتا جبکہ معرفت ِانسان اورمعرفت ِ کائنا ت کے حوا لے سے مجمو عا ت بہت زیاد ہ ہیں ۔
۲۔ انسا ن قوانین بنا تے وقت مکمل طورپرخودخواہی سے خالی نہیں ہوسکتا لہٰذا اس کا م کی مکمل اخلاقی صلا حیت نہیں رکھتا۔
۳۔ انسا ن میں غفلت ،نسیا ن اور خطا جیسی مشکلا ت سے بھی چشم پو شی نہیں کی جا سکتی ،مثلا ً بشری دانش مندوں اور مفکرّین کے درمیا ن عد الت کے با رے کو ئی متفقہ تعریف مو جو د نہیں ہے بسااوقات انسا ن ایک خلا ف ِعدالت کا م کو عدالت کے عین مطا بق سمجھتے ہو ئے اسے انسانی مناسبتوں میں استعما ل کر تاہے ۔

دوسرا:عورت اورمردکا تکوینی و تشریعی اشتراک
مغرب و مشرق کی سا بقہ تا ریخ و تمد ن کے بر خلا ف اسلام نے عورت اور مردکو بہت سے تکوینی و تشریعی امور میں یکساں شما ر کیا ہے ،جس کی چند مثا لیں درج ذیل ہیں ۔
۱: انسا نی حقیقت و ما ہیت میں اور اس کے لوا زم میں بر ابری۔(۲)
۲: نسا نی تکا مل قر ب خدااور عبو دیت میں برا بری۔(۳)
۳: حق و با طل اور کفروا یما ن کے اختیا ر کے امکا ن میں برابری۔(۴)
۴: اکثر تکا لیف اور ذمہ دا ریوں میں برا بری۔(۵)
۵: عورتوں کے لئے اجتما عی، سیا سی اور اعتقا دی استقلا ل اور حق شر کت۔(۶)
۶: عورتوں کا اقتصادی استقلا ل جب کہ چند سا ل پہلے تک مغرب عورتوں کی ملکیت کا قا ئل ہی نہیں تھا ۔(۷)
۷: ما ں کے با پ کی طرح خا ندا نی حقو ق جب کہ ما ں کے حقوق اس کی ذمہ داریوں اور مشقتوںکے پیش نظر زیاد ہ ہیں ۔(۸)

تیسرا:عورت ومرد کے درمیا ن جسمانی ساخت کافرق
عورت اور مرد انسا نیت میں اشتراک کے باوجو د ایک دوسرے کے ساتھ کئی طرح کے فرق بھی رکھتے ہیں ،اس مسئلہ کی جزئیا ت پر تحقیقات کا سلسلہ ۲۴۰۰ سا ل پرانا ہے،افلاطون نے عورتوں کی روحانی، جسمانی اورعقلی قوتوں کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے اس اختلاف کومقداری کمی شما ر کیا ہے، وہ(افلا طو ن ) مدعی تھے کہ عورت اور مردکی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مشا بہ ہیں، عورتیں بھی وہی کا م کرسکتی ہیں جو مرد انجا م دیتے ہیں، عورتیں بھی انہی اختیا را ت کی حامل ہو سکتی ہیں جومردکو حاصل ہیں افلاطون کے برخلاف ان کے شاگردارسطوقائل تھے کہ عورت اور مردکی صلاحیتوں میں فرق ہے اور قا نو ن خلقت نے جو ذمہ دا ریا ں ہر ایک کو سونپی ہیں اور جو حقو ق ان کے لئے قراردئیے ہیں وہ کا فی حد تک ایک دوسرے سے فرق رکھتے ہیں؟
پروفیسرریک (مشہو رامریکی ما ہرنفسیا ت )کہتے ہیں:مردوں کی دنیا عورتوں کی دنیا سے نمایاں فرق رکھتی ہے عورت اگر مردکی طرح فکریا عمل نہیں کرسکتی تو اس کی وجہ یہ کہ عورت و مرد کے جسم ایک دوسرے سے فرق رکھتے ہیں۔(۹)
اس کے علا وہ ان دونوں کے احسا سا ت کبھی بھی ایک جیسے نہیں تھے اور نہ ہی دونوں مشکلات و حوا دث کے مقا بلے میں ایک جیسے رد عمل کا مظاہر ہ کرتے ہیں ،عورت اور مرد جنسی تقا ضو ں کے لحا ظ سے ایک دوسرے سے مختلف عمل کر تے ہیں، دونوں ان دو ستا روں کی ما نند ہیں جو دومختلف مداروں پر حرکت کر رہے ہیں، دونوںایک دوسر ے کو سمجھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو کا مل کر سکتے ہیں لیکن کبھی بھی ایک نہیں ہو سکتے ،اسی وجہ سے ایک دوسرے کے عاشق ہو سکتے ہیں، اکٹھے زندگی گزارسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے اخلا ق و صفا ت سے اکتاہٹ بھی محسو س نہیں کرتے۔(۱۰)
میڈم کلیو ڈلسن کہتی ہیں:ایک ما ہر نفسیا ت عورت ہو نے کے نا طے میرا سب سے بڑا مشغلہ مر دو ں کی نفسیا ت کا مطا لعہ رہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے میری ڈیوٹی لگا ئی گئی کہ عورت اور مرد کی نفسیا تی عمل کے بارے تحقیق کروں تو میں ان تحقیقا ت میں اس نتیجے پر پہنچی کہ عورتیں جذبا تی ہوتی ہیں جب کہ مر د اپنی عقل کے تابع ہو تے ہیں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ عورتیں عقل میں مر دو ں کے بر ابر ہو تی ہیں بلکہ ہو سکتا ہے اس لحا ظ سے عورتیں مردوں سے بڑ ھ کر ہو ں لیکن عورتوں میں جو نقطہ ضعف ہے وہ ان کا شدید جذباتی پن ہے۔(۱۱)
مردہمیشہ عملی فکر کر تے ہیں ،بہتر فیصلے کر تے ہیںاوربہتر انتظا م و ہدایت کرتے ہیں، مردوں کی روحانی برتری ایک مرابت امتیا ز کے طور پر ان کے جسما نی و روحا نی فر ق اور ان کی خا ص کا رکردگی سے مربوط نہیں ہے بلکہ روحانی برتری ایما ن و عمل یعنی تقویٰ کی بنیا د پر معّین کی جائے گی،یہ فرق قدرتی چیزہے عورتیں اس با رے جتنا بھی احتجاج کرلیں بے فائدہ ہے، عورتیں چو نکہ مردوں کی نسبت زیا دہ جذبا تی ہوتی ہیں، لہٰذا انہیں یہ با ت قبو ل کرنا ہوگی کہ وہ اپنی زندگی میںمردوں کی نگرانی و نگہبانی کی محتا ج ہیں،جو کام مسلسل فکر کے محتا ج ہیں عورتیں ان سے جلد اُکتا جا تی ہیں۔(۱۲)
عورتیں اکثرگھریلوکا موں اورذاتی اشیا ء میں ز یا دہ دلچسپی لیتی ہیں اور ایسے کا م پسند کرتی ہیں جس میں زیا دہ اِدھر ُادھرنہ جاناپڑے یا ایسے کا مو ں کو پسند کر تی ہیں کہ جن میں محبت وہمدردی کے زیا دہ مو ا قع ہو ں جیسے بچوں ، معذروںاور بے نو اؤں کی حفا ظت و دیکھ بھا ل عورتیں عمو ما ً مردوں سے زیا دہ جذباتی ہوتی ہیں۔(۱۳)

ڈاکٹرالیکس کا رل عورت و مردکے درمیان تخلیقی فر ق کو گہر ا شما ر کر تے ہو ئے کہتے ہیں :
چونکہ اس اہم اور اصلی نکتہ پر عورتوں کی حامی تنظیمیں تو جہ نہیںکرتیں لہٰذا وہ سمجھتی ہیں کہ عورت ومردایک جیسی تعلیم و تربیت ، کام،اختیارات اورایک جیسی ذمہ داریاں سنبھا ل سکتے ہیں، عورتوں کوچاہیے کہ مردوں کی اندھی تقلیدکے بجائے اپنی طبیعت و فطرت کی جہت میںاپنی صلا حیتیںاستعمال کریں ،انسانی تکمیل کی راہ میںعورتوں کی ذمہ دار یاں مر دوں سے کہیں زیاد ہ بڑھ کرہیں ،اسے معمو لی سمجھ کر چھو ڑ نہ دیں ۔

چوتھا:تشریعی فرق کیمعیارات
عورت اور مردمیں تکو ینی فرق کی جڑیںتوبشرکی خلقت میں پائی جا تی ہیں نہ کہ معاشرتی تعلیمات میں ،اب سو ال یہ ہے کہ یہ اختلا ف کس معیا ر کے سا تھ عورت و مرد کے درمیان اجتما عی و حقوق تفریق کا با عث بنتا ہے ؟
اگر قا نون سا ز قا نو ن بنا تے وقت تما م اختلا فات کو سامنے رکھیں تو یہ نا ممکن اور نا قابل عمل کا م ہے اور اگرہرقسم کے اختلاف سے صرف ِنظرکر ناچاہیںتو یہ قا نو ن سا زی کے اصول کے خلاف ہے، اس سے معا شرتی ضرورتوں کو مکمل طور پر پور انہیںکیا جا سکتا کیونکہ قا نو ن سا زی حقیقی و وا قعی مصالح و مفا سد کی بناپرہوناچا ہیے کیونکہ حقو قی قواعد و قو انین صرف اعتبا ری امو ر نہیں ہیں، پس وہ تخلیقی اختلافات جو وا قعی مصا لح و مفا سد کا باعث بنتے ہوں وہ ان تکا لیف و حقو ق میں فرق کاباعث بنیں گے اوراگریہ چیز’’ضرورت بالقیا س‘‘ کا تقا ضا ہے یعنی اگراحکام وتکا لیف حقا ئق و وا قعیا ت کیساتھ تناسب رکھتے ہو ںتو فردواجتما ع کی سعا دت کے ضا من ہو ں گے اور چو نکہ مقصدمرد و عورت کی ہدایت و اصلاح ہے ،لہٰذا احکا م وحقوق کو واقعی مصالح و مفا سد کی بنا پر تشریع کیا جانا چاہیے اور ان کی مکمل رعایت کی جانی چاہیے۔
وہ امتیازات جو وا قعی مصالح و مفا سد میں اختلا ف کا با عث بنتے ہیں تین خصوصیا ت کے حا مل ہوتے ہیں ۔
۱: انسا ن کی عمر کے آغا ز سے اختتا م تک انہیں دوا م و ثبات حا صل ہو چو نکہ قانون دا ئمی ہو گا۔
۲: لوگو ں کے تما م طبقا ت کو شا مل و عا م ہو، چو نکہ قا نو ن اس طرح کی کلیت رکھتا ہے ۔اس کی وضا حت یہ ہے کہ قا نو ن پو ری نو ع اورغالب اکثریت کے لیے بنا یاجا تا ہے نہ کہ چند گنے چنے افرادکے لئے، بلکہ ہرہرفردکیلئے جداگا نہ قا نو ن بنا نا نا ممکنا ت میں سے ہے ،ہا ں قانون کو عملی کرتے ہو ئے تا حد امکا ن فردکے حا لا ت و شر ائط کو مد ِنظر رکھا جانا چا ہیے، شا ید نفسیات و طبیعات کے ما ہرین حضرات نے جو بہت سے تکو ینی فر ق ذکرکئے ہیں وہ اگرچہ مکمل طورپرتما م عورتوں اورمردوں میں عمومیت نہ رکھتے ہوں لیکن نوعی طور پر ایسا ہی ہے کہ عورتیں مردوں کی نسبت زیا دہ جذباتی ہوتی ہیں اور یہ با ت گذ ر چکی ہے کہ قا نو ن نوعِ افراد کے لئے بنایا جا تاہے۔
۳: ایسااختلا ف جو کہ کیف و کم اور مشارکت میں مو ثر ہو ،معا شر تی ضر ورتیں پو ری کر نے کے لئے ضرور ی ہے مثلا ً صرف جلد کی رنگت کا سفیدیا سیا ہ ہونا کا م کے نتیجے میںکو ئی فرق پیدانہیں کرتا، اگر اجرت صرف کا م کے نتیجے کے لحا ظ سے معیّن کی جا ئے تو سیاہ رنگ مزدور کا سفید رنگ مزدورسے کوئی فرق نہیں ہوناچاہیے،لیکن چونکہ قیادت یاناظمیت ہونے کے لئے انتظا می صلاحیتوں اورزیادہ سمجھداری کا ہونا ضروری ہے یا بچے کی ذمہ دا ری کے لئے ما لی مضبوطی کا ہونا ضروری ہے اور یہ امور نوعی طورپر مردوں کی ذمہ دا ریوں سے میل کھا تے ہیں لہٰذا قا نون سازیہ تکلیف مردوں کے ذمے قراردیتاہے،مثال کے طورپر لڑکیاں بچپن میں شفقت و محبت اور شیرخوارگی کی محتا ج ہو تی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس دو ر میں بچے کی تربیت کی ذمہ دا ری ما ں کو سونپی گئی ہے ،لیکن جب اسکی عمر بڑھ جا ئے کہ جس میں بچے میں زیا دہ استقلا ل آچکا ہو تا ہے، اس کے اخراجا ت پو رے کر نا ہوتے ہیں، اس مر حلے میں بچے کی ذمہ دا رباپ کو سو نپی گئی ہے ۔
چو نکہ عورت و مر د کے در میا ن تکو ینی و قدر تی فر ق و تفا وت اور ان کی تا ثیر کی حدو د کا مکمل ادراک کرناہما رے بس سے باہرہے ،لہٰذاوحی کی طرف رجوع کرناہوگا،دوسری طرف احکام مردوزن کے درمیا ن موجود فرق کی جو تفسیر و تو ضیح مختلف عقلی علوم،نفسیا ت،فزیالوجی اور اناٹومی کے علمی نتا ئج سے اخذ کی گئی ہے وہ حکمت کے طور پر ہو گی نہ کہ علت طورپر، مثلاً عورتوں کے حجا ب کا حکم یہ علم نفسیا ت کی رو سے بیا ن ہو ا ہے کہ عو رتوں میں چھو نے او ر لمس کا احسا س مرد وں سے زیا دہ ہو تا ہے جب کہ مردوں میں نظرکا احسا س زیا دہ ہو تا ہے ،با لغ مردنظرکے ساتھ شہوت کا جلدشکا رہوتے ہیں جب کہ عورتیں لمس کی صورت میں زیا دہ جذباتی ہوتی ہیں،یہ احساس کا فرق ابتدا ء ہی سے اندرو نی طورپر تشکیل پا تا ہے اور ’’چشم چر انی ‘‘یعنی آنکھ مارنے کی اصطلا ح مر دو ں کے لئے اس بنا پررائج ہو گئی چو نکہ مردنظروں کے محرکا ت سے جلدشہوت کا شکا رہوجا تے ہیں۔(۱۴)
مذکو رہ با لا بیا نا ت کی روشنی میں عورت و مرد کے در میا ن حقوقی فر ق کے مو ا رد یہاں بیان کئے جاتے ہیں ۔

پہلا مورد:حق ِطلا ق
دین میں حق ِ طلا ق مر د کو دیا گیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اجتما عی زند گی سر پرست و مدیر کی محتا ج ہے، اسلا م نے مردکو مشتر ک زند گی کا مدیر و منتظم قر ار دیا ہے جو جلد احسا سا ت و جذبات کا شکا ر نہیں ہوتے، زند گی چلانے کے اخرا جا ت اس کے ذمہ وا جب کئے ہیں اور جہاں مشترک زندگی جد ائی کے مرحلے پر پہنچ جائے تو ابتد ائی مر حلے میں فیصلے کا حق بھی اسے ہی دیا ہے ۔
طلا ق کا مسئلہ چند طرح سے قا بل ِتصور ہے
۱۔ حق ِ طلا ق صرف مرد کے ہا تھ میںہو ۔
۲۔ حق ِطلا ق صرف عورت کے ہا تھ میں ہو۔
۳۔ عورت اور مر د دونو ں کو ایک دوسرے کے مقا بل مستقل طور پر یہ حق حا صل ہو ۔
۴۔ یہ حق عو رت اور مر د دونو ں کو بطور مشر ک دیا جا ئے یعنی با ہمی اتفا ق و رضامندی سے ۔
۵۔ کسی کو بھی حق ِ طلا ق حا صل نہ ہو۔
۶۔ حق ِ طلا ق ابتد اء میں مر د کو حا صل ہو اور عورت کے لئے بھی ضر وری مور د میں معّین ومشخص کردیا جائے ۔
پہلی صورت: عورت کے لیے بند گلی کی صورت حا ل پید ا کر سکتی ہے کیو نکہ جس مور د میں عورت کے لئے طلا ق انتہا ئی ضرور ی ہو جا ئے وہ اس سے محر وم رہے گی ۔
دوسری صورت:عورت کی شدید جذبا تی کیفیت کو دیکھتے ہو ئے غیر ضر وری طلا قوں کی شر ح بہت زیا دہ کر دے گی کیونکہ اکثرمواردمیں طلا ق کا مطالبہ عورتوں کی طرف سے سامنے آتا ہے جس سے خاندانی نظا م میں بگاڑپیداہوجائے گاکیو نکہ اس سے مرد کا عورت پر اعتما د با قی نہیں رہے گا اور عورت کی محبت مردکے دل میں کم ہوجا ئے گی ۔
تیسری صورت:میں تو طلا ق کی شرح اور زیا دہ ہو جائے گی جیسا کہ بعض مغربی ممالک میں اس کا تجربہ بھی ہو چکا ہے ۔
چوتھی صورت:بھی معقول نہیں ہے اور قانو ن کی حکمت سے متصادم رکھتی ہے کیونکہ اس سے طلا ق کا را ستہ بند ہو جا ئے گا ،اگر چہ اسلام نے با ہمی مشاورت کے ساتھ طلا ق کو قبول کیا ہے لیکن طلا ق کوبا ہمی اتفاق کی صورت سے مشروط کر نا سخت مشکل پیدا کر سکتا ہے ۔
پانچویں صورت:بھی صحیح نہیں ہے کیو نکہ بسا اوقا ت جدائی دونوں کی مصلحت میں ہے ،پس بہترین صورت چھٹی صورت ہی ہے کیو نکہ اس سے جہا ں بے محا باطلا قوں کو رو کا جا سکتا ہے وہاں اس سے عورتوں کے حقو ق بھی ضا ئع نہیں ہوں گے ،اس صورت میں عورتوں کے لئے بھی حق طلاق کابند و بست مو جو د ہے جو کہ وکا لتی طلا ق، عدالتی طلاق البتہ شرعی عدا لت،نہ کہ موجودہ عدالتیں جو ہمارے ملک میں را ئج ہیں اور تو افقی طلا ق ،لہٰذا ایسا نہیںہے کہ عورت کا با لکل حق ِ طلا ق ہی نہ ہو۔
دوسرامورہ:دیت اورمیراث
اس با رے میں ذیل کے چند مو رد قا بل تو جہ ہیں ـ:
۱: دیت انسا ن کی جا ن کی قیمت نہیں ہے، لہٰذا اسے انسا ن کی قیمت شما ر نہیں کیا جا نا چاہیے بلکہ یہ صرف اس مادی نقصا ن کا ازالہ ہے جو اس شخص اور اس کے متعلقین کو پہنچا ہے ،کیو نکہ اگردیت انسا ن کی جا ن کی قیمت ہو تی ہے تو پھر عا لم و جا ہل ، مو من و فا سق اور معا شرے کے لئے کا رآمد انسان ا وربے کار انسا ن کے دیت میں فر ق ہو نا چاہیے تھا جبکہ ایسا نہیں ہے ۔
۲: عموما ً مردگھریلو اقتصا دیا ت اور معاشی اخراجات کا کفیل ہوتاہے،اس کے چلے جا نے سے خاندان کو بہت زیا دہ نقصا ن اٹھانا پڑتا ہے، اس وجہ سے اسلا م نے خاندان،عورت اور اس کی اولا د کی حما یت کے طورپرمردکی دیت دو گنا مقررکی ہے اور روایات وفقہ میں یہ با ت ثابت ہے کہ دیت مقتول کے ورثا کا حق ہے نہ کہ خو د مقتو ل کا، لہٰذا مقتو ل مردکی دیت اس کی اولا د اور بیو ی کوملتی ہے نہ کہ خو د اسے، معلو م ہو ا کہ یہ حکم تو بیو ی کو اولا د کی حما یت میں قراردیا گیا ہے نہ کہ خو د شق مقتو ل کے لئے ہے، جیسا کہ عورت مقتو ل ہو تو اس کی دیت اس کے شوہراوراولادکوملتی ہے اور یہ مردو اولا د کے لئے مردکی نسبت کم ترقراردی گئی ہے ،کیو نکہ شوہراوراولاداس مقتو لہ کے ذریعے توخرچہ حا صل نہیں کر رہے تھے اور وہ ان کے زند گی کے اخراجات کی کفیل نہیں تھی ،جن مواردمیں خاندان کی ما لی کفا لت عورت کر تی ہے تو بھی قا نو نی و حقو قی طو رپر یہ اس کی ذمہ دا ری نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ دار ی مردکی ہے یعنی اسلامی قا نو ن معا شیات کے حو الے سے صرف مرد کو ذمہ دا رقراردیتاہے ، دوسرے لفظوں میں اسلام یہ چا ہتا ہے کہ گھریلواخراجات پورے کرنے کادباؤاوربوجھ عورتوں کے ذمہ نہ ہوتاکہ عورتیں کام اورنوکری سوائے ضرو ری مواردکے،جسمانی وروحانی دباؤسے آزادہوکرماںاور بیو ی کا کردار بطریق احسن اداکرسکیںاورخا ندان ومعا شرے کواپنے معنوی آثارسے بہرہ مندکر سکیں اس بنا پر اسلا م کی نظر میں مر د خا ندا ن کا خد مت گزا ر ہے اور ان کے اخراجات کا ذمہ دار۔
۳۔ عورت کی دیت اور میراث سب مواردمیں مردسے کم نہیں ہے بلکہ بعض مواردمیں مکمل برابراوربعض مواردمیںتوعورت کی میراث مردسے زیا دہ ہے جیسے :
الف: عورت کی دیت ثلث سے کم ترہوتومردکے برابرہے ۔
ب: ما ں با پ کی میراث یا میت کے ما دری رشتہ دا روں کی میر اث میں عورت و مردبر ابر ہیں، اسی طرح ما دری بھا ئی یا بہن ما دری پدری طرف پرمقدم ہیںاور اگر عورت میت کے مردکی نسبت زیا دہ قریب ہوتوعورت کو میراث ملے گی اورمردکونہیں ملے گی ۔
۳: اگربعض مواردمیں عورت کی میراث یادیت مرسے کم ترہے تو اس کیوجہ وہ مصالح ہیں جوخا ندانی نظام اور عو رت و مرد کے رو ابط میں مد ِ نظر ہو تے ہیں، اس میں نہ صرف اس کمی کا بطریق احسن ازالہ ہو ا ہے بلکہ عورت کے حقوق اس نظا م میں مرد سے کہیں زیاد ہ ہیں اور اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جو مغربی فیمپنزم میں مو جو د ہے، اس کی وضا حت کچھ یو ں ہے کہ:
الف: اسلام نے عورت کو ان حا لا ت میں حق ِ ارشا دعطا کیا جہا ں وہ اس حق سے محروم تھی بلکہ وہ خو د بھی وراثتی چیز وں کی طر ح میر اث میں منتقل ہو تی تھی ۔
ب: اسلا م نے عورت کو اقتصا دی استقلا ل عطا کیا اور اسے اپنی املاک میں تصرف کرنے کا اختیا ر دیا ۔
ج: اسلام نے کسی حا لت میں بھی عورت کواپنے اور خا ندا ن کے اخرا جا ت اٹھا نے کی ذمہ دار ی نہیں دی، لہٰذا وہ اپنی ملکیتی اشیاء کوہرشرعی راستے پرخرچ کرسکتی ہے،اس کے باوجوداس کی ضروریات کی ذمہ داری یعنی اس کانا ن ونفقہ ہرصورت میںمردکے ذمے قراردیاگیاہے،اگر عورت خود بھی کما ئی کر تی ہے ،توبھی وہ اپنی کما ئی کی خو د ما لک ہے اور اس پر لا زم نہیں ہے کہ اپنی کما ئی میں سے خا ندا نی ضروریات حتیٰ اپنی ضر وریا ت پر خرچ کرے ۔
اس لیے زندگی کے جد ید تقاضے احکا مِ اسلامی سے متصادم نہیں اگر مو جو دہ دور میں اکثر عو رتیں خو د کا م کر تی ہیں اور کمارہی ہیں تو اپنی کما ئی کی خو د ما لک بنتی ہیںاور اس سے اضا فہ دیت اور ورا ثت بھی انہیں ملتی ہے ۔
ھ۔ اسلام نے خاندانی تعلقا ت کے حو الے سے مردکے ذمے دواقتصادی حق قراردئیے ہیں ۔
۱۔ حق مہرکہ جس کی مقد ار کے تعیّن کا اختیا ر بھی عورت کو دیا گیا ہے۔
۲۔ عورت کی تما م ما لی ضرو ریا ت اوراس کے معیارزندگی کے شایان شا ن نان ونفقہ بھی مردکی ذمہ داری ہے ، اس کے مقابل مغربی مما لک جن میں فمینسٹی طرزِ فکر را ئج ہے وہا ں کیا ہورہا ہے؟ وہا ں
الف: مغربی ممالک میں ایک شخص وصیت کر سکتا ہے کہ اس کی پوری جا ئیدا د کا وا رث صرف ایک شخص ہے اور اپنی بیو ی کو کچھ بھی نہ دیاجائے، تعجب کی با ت یہ ہے کہ کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے ما ل دا ر افرا دنے اپنی جا ئید اد ایک بلّی یا کتے کے نا م وصیت کر دی اور اپنے ا ندا ن کو اس سے محروم کردیا،جب کہ اسلامی حقو ق میںمیت کی میراث خدا و ندِعالم کے معیّن حکم کے مطابق ورثا کے در میا ن تقسیم ہو تی ہے اور کو ئی اپنی بیو ی یا اولا د کو اس سے محرو م نہیں کر سکتا ۔
اس بناپراگربعض مواردمیں یہ بات دیکھی جاتی ہے کہ عورت کی دیت یا میراث مرد کی نصف ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اپنی جا ئید اد کو عورت کے اوپر خر چ کر ے جب کہ عورت کے لیے ایسا حکم جاری نہیں کیا گیا ،علا مہ طبا طبا ئی تفسیر المیزا ن میں لکھتے ہیں ’’مردوعورت کے درمیان اس طرح کی تقسیم میراث کا نتیجہ یہ ہے کہ ملکیت پا نے میں مر د وعو رت بر ابر ہیں جبکہ خر چ کر نے میں عورت مرد سے دگنے فائدے میں رہتی ہے کیونکہ عورت اپنی ملکیت کو اپنے لئے بچا لیتی ہے جبکہ مرد کو عورت کا نفقہ دینا پڑتا ہے یعنی وہ اپنی نصف ملکیت عورت پر خر چ کرتا ہے۔(۱۵)

(حوالہ جات)
(۱)زین العابدین قربانی الاسلام حقو ق بشر
(۲) نسا ء / ۱، شوریٰ / ۱۱، حجرا ت/ ۱۳ ، اعراف / ۱۸۹
(۳) نسا ء / ۱۲۴ ، نحل / ۹۷ ، توبہ / ۷۲، احزا ب / ۳۵
(۴) توبہ /۶۷ ،۶۸، نو ر / ۲۶، آلعمرا ن / ۴۳
(۵) بقرہ / ۱۸۳ ، نور / ۲،۳۱، ۳۲
(۶) ممتحنہ /۱۰ ، ۱۲
(۷) نسا ء / ۳۳
(۸)عنکبو ت / ۸ ، اسرا ء / ۲۳ ، ۲۴۵، بقرہ / ۸۳،مریم / ۱۴ ، انعا م / ۱۵۱، نسا ء / ۳۶،لقما ن / ۱۴،۱۵احقاف / ۱۵
(۹) شہید مر تضیٰ مطہر ی ، نظا م حقو قی زن در اسلام /ص ۱۷۰ ۔ ۱۷۲
(۱۰) حوالہ سابق، نقل از مجلہ زن شما ر ہ ۹۰ /۱۷۸
(۱۱) ہما رے نز دیک یہ عورتوں کے لئے نقطہ ضعف نہیں ہے بلکہ ہد ف خلقت نے اس تفا و ت کو ضرور ی قر ار دیا ہے مشہو ر دا نش ور محمد قطب
کہتے ہیں اگر عورتیں ماں بننا چاہیں تو جذبا تیت و شفقت اس کے لئے ضر وری ہے اور انسانی نسل کی بقا ء کا لا زمہ ماں کا وجود عورت مرد میں رو ابط اور ان کے مخصوص کا م کا ہو نا ضرور ی ہے ( محمد قطب ، شبہا ت حو ل الاسلام / ص ۱۱۲ ، ۱۱۵
(۱۲) نظام حقو ق زن درا سلا م / ص ۱۸۳ ۔ نقل از مجلہ زن رو ز شما رہ ۱۰۱
(۱۳)بر گ ۔ آٹو کال ئن روان شنا سی اجتما عی ج ۱ / ص ۳۱۳
(۱۴) غلام علی ۔ حد اد عا دل م فر ہنگ بر ہنگی وفبر ہنگی / ص ۶۳
(۱۵) المیزا ن فی تفسیر القرآن ج ۴ / ص ۲۱۵ ، مز ید تفصیلا ت دیکھیں : الف : مرتضیٰ مطہری ، نظا م حقو ق زن در اسلام ۔ ب : عبدا للہ جو اد ی آملی زن در آئینہ جلا ل و جما ل ، پ : سید علی کما ل قرآن و مقا م زن ۔ ت: حسین مہر پور بر ا س میراث زوجہ در حقو ق اسلام و ایرا ن ، ث : صبحی ،محمدصانی ، قوانین فقہ اسلا می ج۱ ، ترجمہ جما ل الدین ، ج : دا ود الہا می ،ر و شفکر و رو شن فکر نما ، ح ر با ل خلخا لی زن از دیدہ گا اسلا م ۔ خ : محمد رضا زیبا ئی نژا د و محمد تقی سبحا نی ، د ر آمدی بر نظا م شخصیت زن در اسلام