مرتدکی سزا

سوا ل ۲۱:ارتدادکیا ہے ؟مرتدکی سزاکا کیا فلسفہ ہے ؟ کیا اسلام عقید ہ کی آزا دی کو نہیں مانتا؟اگرمانتا ہے تو پھر کیوں مرتد کے لئے اتنی سخت سزا مقرر کی ہے ؟ کیا اسلام دین حق اور عقل و برہا ن کے مطابق نہیں ہے ؟ تو پھر کیو ں مسلما نو ں کو اپنے دین پر زبر دستی باقی رکھنے کے لئے سخت سزاؤں کاسہا را لیتا ہے؟
مذہبی آزادی اور حقو ق کے با ب میں ارتدا د کا مسئلہ اہم ترین مو ضو عا ت میں سے ایک انتہائی حسا س مسئلہ ہے، اس با رے میں مکمل واقفیت کے لئے ہم پہلے اس کی تعریف، اس کے عوامل اور اقسا م کو بیا ن کریں گے پھر اس کے حکم اور فلسفے کو ذکر کریں گے ۔
ارتدا د کو رد سے لیا گیا ہے ، لغت میںاس کے معنی لوٹنے کے ہیں،دینی اصطلاح میں ارتدادکفر کی طرف لوٹنے کو کہتے ہیں اسے رد بھی کہتے ہیں ۔(۱)
البتہ ارتداد اوراس کے اوپر سز اؤں والے احکا م صرف اسلام کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں بلکہ بعض اور بڑے مذاہب بھی مرتد کو کا فر شما رکر تے ہو ئے اس کے لئے سزا معّین کر تے ہیں۔(۲)
اسلامی تعلقات میں اس لحا ظ سے کہ خدا وندعالم کے نز دیک حقیقی دین اسلام ہے (۳)اور جو بھی اصول دین میں سے کسی ایک کا منکر ہو اسے کافر شما ر کیا جا تا ہے(۴)اور تمام الٰہی ادیا ن کا اصلی جو ہرایک ہی ہے، اگر چہ حا لا ت و ما حول کے پیش نظر شر یعتیں بد لتی رہی ہیں لیکن ہر زما نے میں صرف ایک شر یعت بر حق ہو گی، با قی سب شریعتیں منسوخ ہو جائیں گی یا تو اس لئے کہ حالات بدل گئے اور وہ موجو دہ حالا ت میں مو ثر نہیں رہیں، یا اس لئے کہ سابقہ شریعتیں تحریف کاشکارہوچکی ہیں۔(۵)

مرتدکی اقسام
اسلامی فقہ میں مر تد کی دو قسمیں ہیں اوردونو ںکے الگ الگ احکا م ہیں ۔
۱۔مرتد ِفطری
یہ وہ شخص ہے کہ جب اس کا نطفہ منتقل ہو ا تو اس کے والدین، دونوں یا ان میں سے کوئی ایک مسلما ن ہو اوروہ شخص با لغ ہو نے کے بعد اسلا م کو قبو ل کر لے اب اگر وہ کا فرہو جا ئے تو وہ فطری مرتدکہلائے گا جیسا کہ سلما ن رشدی ہے جس کا با پ مسلما ن تھا ۔(۶)
۲۔مرتدملی
وہ شخص ہے کہ جس کے والدین اس کے نطفہ کے ٹھہرنے کے وقت کا فرہوں اوروہ بلوغ کے بعد کفر کا اظہا ر کر ے اور پھر مسلما ن ہو جا ئے ،اب اس کے بعد اگر وہ کفر اختیا ر کر تا ہے تو وہ ملی مرتد ہوگا،(۷)بعض فقہا نے والدین کے کفر کو بچے کی ولا دت کے وقت شر ط کیا ہے نہ کہ انتقالِ نطفہ کے وقت۔(۸)

ارتداد کی سزا
اگرمرتدمردہوتوبعض معا شر تی احکا م جیسے اس کے نکا ح کا با طل ہو جا نا ،بیو ی کا اس سے بغیر طلا ق کے جدا ہو جا نا اور اس کے اموا ل کا ورثا میں تقسیم ہو جا ناکے علا وہ اس کی سز امو ت ہے ،اگر مرتد ملی ہو تو اسے اسلام کی طر ف وا پسی کی دعو ت دے کر تین دن کی مہلت دی جا ئے گی (شیخ طو سی کے نزدیک اتنی مہلت دی جائے جتنی کی ضرورت ہو،اگراس مدت میں توبہ کرلے تو آزاد ہو گا ورنہ اسے بھی مو ت کی سز ا دی جا ئے گی اور اگر مر تد عورت ہو تو ملی ہو یا فطری اسے قتل نہیں کیا جا ئے گابلکہ اسے توبہ کے لئے کہا جا ئے گا اور اگر توبہ کر لے تو آزاد ہو گی ورنہ قید میں با قی رہے گی، نما زوں کے اوقات میں اسے کو ڑے مارے جا ئیں گے اور کھا نے پینے میں اسے تنگی دی جا ئے گی یہا ں تک کہ وہ تو بہ کر لے۔(۹)
ارتداد کے احکا م شر یعت میں اس حد تک واضح و رو شن ہیں کہ اصل حکم کے با رے میں کسی قسم کی کو ئی تردید نہیں پائی جاتی اور سب فقہی مذاہب اسے قبول کر تے ہیں،(۱۰) اگرچہ اس کی جزئیا ت میں اختلاف پا یا جا تا ہے ۔

ارتداد کے جرم کی ماہیت
ہرجرم قا نونی، مادی اور نفسیا تی تین عنا صر سے تشکیل پاتا ہے:
۱۔قا نو نی عنصر:یعنی دنیا میں اسے جرم کے طور پرجا نا جا ئے ،کو ئی عمل بھی اس وقت تک جرم شما رنہیں ہو گا جب تک پہلے اس کے انجام دینے یا چھوڑنے کو جرم شمار نہ کیا گیا ہو اور قانون نے اس کے لیے سزا معیّن نہ کر رکھی ہو ۔
۲۔مادی عنصر:یعنی وہ خا رجی و عنصر کہ جس کی وجہ سے ارتداد خا رج میں وقوع پذیرہوتاہے ، دوسروں لفظو ں میں ارتداد کے مو جب کا اظہار کرنا اس کے لئے ما دی عنصر شما رہوتاہے، البتہ دلی انکار سے بھی ارتداد حا صل ہو جا تا ہے، لیکن جس پر دنیاوی سزا دی جا سکتی ہے وہ ارتدادہے جس کا عمل یا قول میں اظہار کر دیا جا ئے۔(۱۱)
اس کے علا وہ اگر ایک مسلمان کفر کا اظہا ر کر ے، اس کے بعد وہ دعویٰ کرے کہ اس نے ایسا کسی دباؤیا مجبو ری کی بنا پر کیا تھا ،تو اگر ایسااحتمال اس کے حق میں دیاجاسکے، تو اس کی یہ بات ما ن لی جا ئے گی۔(۱۲)
۳۔نفسیا تی عنصر:یعنی مجر ما نہ قصد رکھتا ہو، قرآن کی بعض آیات (۱۳)سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام کے داخلی وخارجی دشمنوںکی طرف سے مسلمانوں کے عقا ئد میں تردیدستبہہ پیدا ایجا د کر نے کے لئے فتنہ ارتدادکوپیش کیا جاتا رہا ہے۔(۱۴)
ایک اور سبب بعض کمز ور ایما ن مسلما نو ں کی ہویٰ وہوس ہے، شیطا ن اس ناجائز کام کو ان کی نظروں میں اچھا بنا کر پیش کرتا ہے اور جاہ طلبی یا دوسرے پست دنیا وی مفادات سے انہیں لبھاتا ہے یا دشمنوں سے روابط کرانے میں ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔(۱۵)
ممکن ہے کہ ان آیا ت میںموجود قرائن و شوا ہد کے ذریعے روایات میں ارتداد کی سزا کو معا شرتی آثار کے سا تھ مقید کیا جا ئے یعنی اگرکسی کے دین میں خروج سے یا اس کے ارتداد کی تبلیغ کرنے سے لوگوں کے ایمان میں تردید و شبہ پیدا ہو یا معا شرے میں ایمانی جذبہ کمزور ہو جا ئے تو اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ (۱۶)
اس بنا پرارتدا د عمومی نظا م میں خلل اور شر انگیزی کے عنو ان سے جر م شما ر ہو گااور شرانگیزی وہ مجرمانہ قصد ہے جو ارتدادکے نفسیا تی عنصر کی تشکیل کرتاہے ،لیکن فقہا کے فتا ویٰ اکثر یا سب روایات کی طرح مطلق ہیں، لہٰذا ارتداد کا جر م صرف ما دی جرا ئم کے زمر ہ میں ہی آئے گا۔(۱۷)
اس جیسے موا رد میں قانو ن بنا نے والا صرف کسی کا م کے انجا م پا نے کو قا نو نی امارہ (نشانی)یا فرضیہ کوفا عل کے قصد سے دیکھتا ہے۔ (۱۸)
مثلا ً حرمت ِاجتماع نا محرم مرد وعورت کے با رے فقہا قا ئل ہیں کہ نا محر م عو رت ومر د کا ایک بند جگہ پر اکٹھے ہونا حرام ہے اگرچہ گناہ کا ارادہ نہ ہو۔
اس استنباط میں ارتداد کے ممنوع ہونے کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے کہ غیروں کے اثر ونفوذ اور کمزور ایمان مسلما نوں سے کو گمراہ ہونے سے روکا جاسکے، دوسرے لفظوں میں یہ طریقہ کا ر لوگوں کے دینی عقا ئد میں شک و شبہ پیدا کرنے کے لئے اس حد تک مؤثر ہے کہ قانون بنانے والا کسی کو اس طریقہ کا ر پر عمل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا چاہے اس کا قصد مجرمانہ ہو یا نہ ہو۔

مرتد کی سزا کا فلسفہ
اسلام کی ارتداد کے جر م پر سخت سزا کی وجہ کے بیا ن کر نے سے پہلے چند نکا ت پر توجہ ضروری ہے:

پہلا : انسانی عقل کی محدودیت:
دینی احکا م لوگو ں کے حقیقی مصالح و مفاسد کے تا بع ہیں اور ارتداد کا حکم بھی اس قاعدے سے مستثنیٰ نہیں ہے ،لیکن کیا انسا نی عقل احکا م کے فلسفہ اوروجوہات کو مکمل کشف کر سکتی ہے ؟ مسلّم ہے کہ انسانی عقل محدود ہے، حیرت میں ڈال دینے والی کی ترقیوں کے باوجود ابھی تک لاعلمی و جہالت کا ایک عظیم سمندرٹھا ٹھیں ماررہا ہے جس کے سا منے عقل اپنے عجز و ناتوانی کا اعتراف کرتی ہوئی نظرآتی ہے، لہٰذا اگر عقل کسی حکم خدا کے فلسفہ کو پا نے سے عا جز ہو جائے،اس بات کو سا منے رکھتے ہوئے کہ یہ حکم خداوند دانا وحکیم کی طرف سے صادر ہوا ہے جو کہ انسان کا خیر خواہ ہے، تو اس کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیتی ہے، چہ جا ئیکہ کسی حکم کی مختلف حکمتیں اس کے لئے روشن ہو چکی ہوں البتہ ان حکمتوں کو اس حکم کی کلی علت نہیں سمجھ لینا چا ہیے بلکہ ہو سکتا ہے اس حکم کے لئے کچھ اور وجوہات بھی ہوںکہ جن تک عقل نہیں پہنچ سکی۔

دوسرا :حقوق اللہ اور انسان کے قدرتی حقوق
جدید مغر ب کے ہیو منیسٹی طرزِ تفکر میں انسا ن خدا کی جگہ لے چکا ہے اور تما م اقدار کا
مرکز و محور قرار پا چکا ہے، اس نظا م میں ہر قا نون و حکومت کاجواز و حقا نیت لوگو ں کی مرضی ہے۔(۱۹)
اس لحاظ سے انسا ن اپنی تقدیرپر حا کم ِ مطلق ہے اور دوسرا کو ئی بھی حتیٰ کہ خدا بھی اس کے لئے کسی چیز کے با رے میں فیصلہ نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ ہیوپنزم کا نتیجہ لبرل ازم اورمطلق العنانی کی صورت میں نکلتا ہے، اسی بنا پرہم جنس پرستی بھی انسان کا قدرتی حق ہونے کی بنا پرایسے ہی محترم و قابل دفاع ہے جیسے کہ مذہبی عقائد میں عبادت خدا مقدس و قابل دفاع ہے، (۲۰)اور عبادت خدا چونکہ غیر اہم شما ر کی جا تی ہے، لہٰذا مذہب کی تبدیلی اشخا ص کی مرضی کے تابع ہے اور کسی کو اسے روکنے کا حق نہیں ہے۔(۲۱)
جب کہ اسلامی فکر میں فکر ی تشکیل کی اصلی بنیا دیں بشر کی عقل مندی کی اسا س پر قا ئم کی گئی ہیں اور بشر کو عقلی فروغ ، بلندی ٔفکر اور صحیح فکری جد ل سے فا ئد ہ اٹھا نے کا حکم دیا گیاہے، اس لحاظ سے بشر کے ساتھ سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ شرانگیزی کے ذریعے معا شرے کی فکری فضا کو آلودہ کرتے ہوئے عمو می سو چ کو حق و با طل کی پہچا ن کے حوا لے پا ک و صا ف کرے اسی طرح اس کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ جب معا شرے کی فکری فضا زہرآلو د ہو جا ئے اور گمراہ کن نظریا ت پھیلنے لگیں تو اس کی پاکیزگی و صفائی کے لئے بھی کو شش کرے۔(۲۲)
دوسری طرف سے حقوق بشرسے متعلقہ عنو ان سے اس مسئلہ پر اشکا ل نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ انسانوں کے قدرتی حقوق کا تعلق انسا نی تعلقا ت کی حدتک ہے ،یہ حقو ق انسا نوں کے ایک د وسرے کے ساتھ روابط سے مربوط ہو تے ہیں کہ وہ ایک دوسرے پر تجا وز و سرکشی نہ کریں، لیکن اگر کوئی خدا اور دینی اقدار کے مقا بلے میں سر اٹھا تا ہے تو خدا کو یہ حق حا صل ہے کہ جو زندگی اس نے اسے دی ہے و ہ وا پس لے لے، لہٰذا ارتداد کی سز ا انسا نی تعلقا ت کے ز مرے میں آتی ہی نہیں ہے کہ اسے حقو ق ِبشر کی خلاف ورزی قرار دیاجا سکے بلکہ اس کا تعلق حقو ق و حدو دِ الٰہی سے ہے۔

تیسرا:دینداری و دین گریزی میں فرق
دین قبو ل کر نے میں آزاد ی کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ دین چھو ڑ نے میں آز ادی ہے، لہٰذا اگر کہا جا ئے کہ اگر کسی کو ایک دین کے اختیا ر کرنے کا حق حا صل ہے تو پھر ایک دین کو چھوڑنے کا حق کیو ں نہیں ہے؟ اس کا جوا ب واضح ہے یعنی:
۱: دین کو چھوڑ نے کا اگر یہ مطلب ہے کہ ایک منسو خ و با طل دین کو چھوڑکر دین ِ حق کو اختیا ر کرے تو یہ حق ہے اور اس کے با رے میں تو حکم دیا گیا ہے اس سے رو کنا جا ئز نہیں ہے ۔
۲: اور اگر مرا دیہ ہے کہ دین حق کو ما ننا اور ما ن کر چھوڑ دینا بر ابر ہو اور آدمی دونوں کا بر ابر حقدا ر ہے تو یہ با ت غلط و باطل ہے، اس فکر و تصو ر کا مطلب یہ ہے کہ حق و باطل برابرہو ں اور انسان کی خداوندعالم کے سامنے کوئی ذمہ داری نہیں ہے،حقیقتِ مطلب یہ ہے کہ دین حق کی مقبولیت قبو لیت حقیقت ، ہدا یت اور ابدی سعاد ت کی طر ف حرکت کرناہے، اس چیزکا حکم انتہا ئی ہے اور دین وشریعت اس کی تا ئید و تا کید کر تے ہیں ،جب کہ اسلام سے دوری ہلا کت اور گمر اہی کی طرف جانا ہے ،لہٰذا اس سے روکنابالکل معقول و منطقی ہو گا، ہا ں اگر کو ئی اعتقادی شبہ یا دوسرے دین کو بر تر سمجھتے ہو ئے منحرف ہوتاہے تویہ ایک دوسری صورت حا ل ہے اور بعض فتا ویٰ کے مطابق اس پر ارتداد کا حکم لاگو نہیں ہو گا بلکہ اسے مزید مطا لعہ اور تحقیق کی مہلت دی جا ئے گی ۔(۲۳)
اس کے علا وہ حقو قی لحا ظ سے اگر کو ئی آزادی و شعو ر و علم کے ساتھ اسلا م کو قبو ل کرے جیساکہ اسلام خودبھی یہی کہتا ہے اور اس کے تما م پہلوؤں کو تسلیم کرے تو اس نے اسلام کے مقا بل ایسا عہد و ذمہ دا ری لی ہے کہ اسلام قبو ل کرنے سے پہلے ایساوعدہ اس نے نہیںدیا تھا، پس جیسے اس کے مسلما ن ہو نے کے بعد اسلام کے دوسرے حدو د کا جا ری کر نا اس کی شخصی آزا دی کے منا فی شما ر نہیں ہو تا مثلا ً یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام لا نے سے پہلے جیسے اسے ما ہ رمضا ن میںدن کے وقت کھانے پینے کی آزادی حا صل تھی اب ویسی کیوں حا صل نہیں ہے، جیسے یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ارتداد کی سزا کا بھی یہی حکم ہے۔ (۲۴)

سخت سزا کی وجہ
۱۔مرتد کی شخصی مصلحت اور معاشرہ
سا رے کے سارے احکا م ِشریعت انسا نوں کی حقیقی و وا قعی مصلحتوں کی بنیا د پر تشریع کئے گئے ہیں اور انسا ن میں دو پہلو مو جود ہیں اس کا حیوانی اور دوسرا ملکی پہلو ہے اور اس جہان کے بعد اگلے جہا ن میں حیات ِ ابدی رکھتاہے، لہٰذا جوبھی اس کی ابدی سعاد ت سے روکنے والی چیزہو وہ اس کے خسا رے کی موجب ہے اور جو چیزاسے ابد ی عذاب سے نجات دے اور عا قبت بخیرکر ے وہ اس کے لئے خیرہے ،مرتدشخص جو راہ خدا و رسو ل ؐ سے ہٹ جا تا ہے اور دین خدا سے دشمنی کر تا ہے وہ بسا اوقات دوسروں کی گمر اہی کا بھی با عث بنتا ہے، وہ اپنی زندگی کا ہرہرلمحہ بد بختی میں گذا رتا ہے اوراپنے لئے زیادہ سے زیادہ عذا ب ذخیرہ کرتاچلاجاتاہے،لہٰذااس کی زندگی کا لمبا ہو نا خود اس کے لئے بھی نقصا ن دہ ہے اور معاشرے کے لئے بھی سخت نقصان دہ ہے اور اسلا می سزائیں بعض کو رو کنے کا با عث بھی بنتی ہیں کہ اگر کسی کے ذہن میں ایسی پلید فکر پر ور ش پا رہی ہے تو وہ اس سے باز آجا ئے اور اگر کو ئی ایسا کر لیتا ہے تو اسلا می سزائوں کی وجہ سے خود مزید بدبختی سے چھٹکارا پا لیتا ہے اور معاشر ہ بھی اس کے بر ے اثرا ت سے محفو ظ ہو جا تا ہے ۔

دینی ڈھانچے کی حفاظت
اسلام و ایما ن کے ڈھانچے کی حفا ظت چندلحاظ سے لحا ظہ مرتد کی سزا میں مو ثر ہو سکتی ہے جیسے:
۱:دین کی تحقیرسے روکنا
دین اسلام نے انسا نوں کی شرا فت و احترا م کی بہت زیاد ہ تا کید کی ہے اوروہ انسا نوں کی تحقیر کی اجازت نہیں دیتا ،جس دین کا نظریہ یہ ہے وہ قطعاً اس بات کی بھی اجا زت نہیں دے گا کہ دینِ خدا جو کہ تنہا راہ سعادت ہے کی تحقیر کی جا ئے اور اس کی عز ت و شر ف سے کھیلا جائے چو نکہ دین میں دخو ل و خرو ج کی بے قا عدگی وبد نظمی اس دین کی تحقیر کا سبب بنتی ہے اور اگر یہ کا م دشمنوں کی سازش کے ساتھ ایک حر بے کے طورپر انجا م پائے تو اوربھی زیادہ تخریبی اثرات کا باعث بنتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سعا دت بخش دین مقبولیت اسلام کو جبر و اکر اہ میں شما ر نہیں کر تا بلکہ مکمل تحقیق و شعو ر کے ساتھ اسلام قبو ل کرنے کی دعوت دیتا ہے ،اب اگر کوئی اس طر یقے سے اسلام کو قبول کر لیتا ہے تو اسلام دین سے اس کے خر و ج کو ممنو ع قرا ر دیتا ہے اورا س کی سخت سزا معّین کرتا ہے تا کہ اس طریقے سے یہ دین ِ حق دنیا پر ستوں اور ہو یٰ و ہو س کے پیر و کا روں کی طرف سے مور د تحقیر قر ار نہ پائے۔ (۲۵)
۲:عقائد کے کمزور کرنے والوں کے خلاف جنگ
قرآن کریم نے ایسے افرادکا ذکر کیا ہے کہ جو اسلام کو کمزور کر نے اور نئے قا ئم ہونے والے اسلامی معاشرے کی ایما نی بنیادیں کھو کھلی کر نے کی سازش کر رہے تھے، انہوں نے لوگوں کو اسلام سے بددل کرنے کے جوطریقے اپنا ئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ وہ مسلما ن ہونے کا مصنو عی اظہا ر کر تے اور پھر اسلا م تر ک کر نے کا اعلا ن کر دیتے، اس حر کت کے اصلی مر تکب اہل کتا ب ہو تے تھے، خداوندِ عالم نے ان کی اس ناپاک سا ز ش سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرما یا: بعض اہل کتا ب نے کہا جو کچھ مو منین پر نا زل ہو ا ہے اس پر صبح ایما ن لے آؤ اورشا م کو انکا ر کر د و (آ ل عمرا ن / ۷۲)اس آیت کے شا ن نز ول میں وا رد ہے کہ بعض علما ء یہو د نے ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مشاورت سے سازش تیار کی کہ صبح کے وقت اسلا م کا اظہا ر کر یں گے اور دن کے آخر میںیعنی شا م کے وقت اسلام سے انحرا ف کر کے یہ بات کہیں گے کہ ہم نے محمد ؐکی صفات قریب سے مشا ہد ہ کر لی ہیں ،اس طریقے سے لوگو ں کے دلو ں سے اسلام کے بارے میں شبہ و تردید پیدا ہو جا ئے گی، وہ کہیں گے کہ جب اہل ِکتا ب جو کہ ہم سے زیا دہ عالم ہیں اسلام و پیغمبر ؐ کے با رے اس طرح کہہ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین الٰہی نہیں ہے۔(۲۶)

اسلامی نظا م کی پا سد اری و حفا ظت
مر تد کی سز ا کا اسلامی نظا م اور اسلامی معا شرہ کی حفا ظت سے بلاواسطہ کئی جہا ت سے تعلق بنتا ہے ،ان میں سے بعض درج ذیل ہیں :
۱:اسلامی نظا م کی حیثیت
رہبرمعظم آیۃ اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ای اس با رے میں فر ما تے ہیں مرتداور دین سے خا رج ہونے والوںپر خدا کے غیظ و غضب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا وی عیش و عشرت اور نفسا نی خواہشات کو معنو ی وقلبی خوا ہشا ت اور انسا نی فطرت وآخرت پر ترجیح دی ہے، لہٰذا با ت صرف عقا ئد کی تبد یلی کی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنہو ں نے صرف اپنے مادی فوا ئد اور نفسانی خواہشات کی خاطر اسلامی نظا م کی حیثیت کو خطرے میں ڈالتے ہو ئے ہے، اسے پس پشت ڈا ل دیا ہے اور اسلامی ایما ن کو چھو ڑ دیا ہے یہ با لکل ایک دوسر ی چیز ہے اور اسلام کی طرف سے سخت ترین سزا بھی اس دوسر ی جہت کی وجہ سے ہے۔ (۲۷)
۲:امت کی وحدت و پیو ستگی
جینو ا کی یونیو رسٹی میںقا نو ن کے پر وفیسرما رشل بوا زر کہتا ہے ’’کہ اسلام میں مرتد کی سخت سزا کی شا ید وجہ یہ ہو کہ اسلامی مما لک میںحکو متی نظا م اور اداروں کے سسٹم میں خدا پر ایما ن صرف روحا نی و معنو ی پہلو ہی نہیں رکھتا بلکہ امت کی وحدت اور حکو مت کی بنیا دوں کے اصول میںسے ایک ہے ،وہ اس طرح کہ اس کے ختم ہو نے سے اسلا می معا شرے کی بنیادیں ختم ہو سکتی ہیں یہ بھی انسا نی قتل اور فسا د کی طرح نا قابل قبو ل ہے۔(۲۸)
۳:نظا م کے خلا ف سازشوں کا مقابلہ
ارتداد اگر جا ئز ہو تو اس سے اسلام کی چھا ؤنی میں دشمنو ں کے داخلے کا راستہ کھل جا ئے گا اور وہ مسلما نوںکی صفوں میں گھس کراپنے خبیث مقا صدپو رے کر لیں گے اور پھرواپس اپنے مذہب کی طرف لوٹ جا ئیں گے، خد اوند ِعالم نے اسی گر وہ کے افراد کو بے نقاب کیا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰی اَدْبَارِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدَی الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ۔ وَاَمْلٰی لَھُمْo ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِھُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِوَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمٍ (۲۹)
جولو گ ہدایت کے رو شن ہو جانے کے بعد مرتدہو گئے شیطا ن نے ا ن کے لئے ان کے اعمال اچھے بنا کر پیش کئے اور انہیں گمراہی میں متوقف کردیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گرو ہ جو آیات خدا کو نا پسند کر تے تھے وہ کہتے تھے ہم تمہارے بعض کا موں میں مطیع ہیں خدا نے ان کے را ز آشکار کر دیے۔
عبد القادرعودہ ارتدا د کو اس جہت سے دیکھتے ہو ئے کہتے ہیں کہ ارتدا د اسلامی حکومت کیلئے خطرناک ہے اورا س کی بنیا دیں ہلا سکتا ہے اور جتنے بھی نظا م حکو مت دنیا میں را ئج ہیںسب میں دینی عقید ہ اس نظا م کی بنیا دیں تشکیل دیتا ہے، لہٰذا ارتدا د اس نظا م کی تبا ہی و بر با دی پر اقدا م شمار ہو گا۔
درحقیقت سب حقوقی نظا م بشمول اسلام کے اس با ت پر متفق ہے کہ اس نظا م کے گرانے پر اقدام کرنا جر م ہے اور سخت سزا کا موجب ہے ،اسلام اور دوسرے نظاموں میں فرق صرف موضوع ارتداد کی تعریف کے حوا لے سے ہے، اسلامی فقہ کی رو سے ارتداد نظا م گر انے کا مصداق ہے ، کیو نکہ عقیدہ و مکتب ِ اسلا می نظا م کی بنیا د ہے، لہٰذا اسلامی نظا م کو ڈھانچے کی بقا ء کی خاطر ارتداد کا راستہ رو کنا ہو گا ، لیکن دوسرے سیا سی نظا موں میں چونکہ دین و عقید ہ کو معا شر تی نظا م میں کو ئی مداخلت کا اختیار نہیں ہوتابلکہ حکو مت صرف بشری قوانین ہی کی بناپرتشکیل پاتی ہے، لہٰذا ان میں عقیدہ و مذہب کے بدلنے سے اصل نظا م کا سقو ط لازم نہیں آتا ہے، لہٰذا قا نو نا ً اس سے روکا بھی نہیں گیاالبتہ ان نظاموں میں بھی ایسی فکر جو مقبو ل اجتما عی نظا م کے لئے نقصان دہ ہواسے جرم شما ر کیا جا تا ہے اوراسے سختی سے دبادیا جا تا ہے ۔(۳۰)

۴:اندھا دھند انتخاب سے روکنا
دین مبین اسلام مذہبی آزادی کا علم بر دا ر ہے اور ’’لاا کر اہ فی الدین ‘‘ کے نعرے کے ساتھ عقیدے میں ہر طرح کی زبردستی کا راستہ کو رو کتا ہے، اسلام نے اپنی دعوت کی بنیا د شعو ر و عقل پر رکھی ہے اورا ند ھی تقلید کی بنا پر دین کے رجحان کی سخت مذمت فر ما ئی ہے ،قرآن میں ارشا د ہوتاہے :
فَبَشِّرْ عِبَادِالَّذِیْنَ یَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُونَ أَحْسَنَہُ(زمر / ۱۸ )
بشا رت دو میرے ان بندوں کو جو با تیں سن کر ان میں سے اچھی با ت کی پیر وی کر تے ہیں ۔
لہٰذا اسلا م کسی کو اپنے پیر و کار کے طور پر قبو ل کر نے سے پہلے اسے وا رننگ دیتا ہے کہ خو ب آنکھوں اور کانو ں کو کھو ل کر اس دین کے با رے میں آزاد ی کے سا تھ تحقیق و فکر کر و جسے تم اختیار کرنے جارہے ہو، اگر دلیل نے تمہیں مطمئن کر دیا اور یقینا کر دے گی تو اس کے پیر و کاروں میں داخل ہو جاؤ ورنہ جب تک مطمئن نہ ہو جاؤ مزید تحقیق کرو، خدا وندعالم اپنے رسول ؐسے ارشا د فرما تا ہے ۔
اگر مشرکین میں کوئی ایک تمہاری پنا ہ مانگے تو اسے پنا ہ دو تا کہ وہ خدا کا کلا م سنے اس کے بعد اسے امان کی جگہ پہنچاؤ یہ سب ا س لئے کہ وہ نا دا ن لو گ ہیں۔ (سور ہ تو بہ / ۶)
اس حکم کے بعدصفوان ’’نا می شخص خدمت پیغمبر اکر م ؐ میں حاضر ہو ا اور آنحضرت ؐسے مکہ میں دو ما ہ رکنے کی اجا زت طلب کی تا کہ اسلا م کے با رے میں تحقیق کر سکے، اگر اسلام کے بارے میں مطمئن ہو جائے تو مسلما ن ہو جا ئے گا،حضور اکر م ؐ نے فر ما یا د و ما ہ کے بجا ئے تمہیں چا ر ما ہ کی مہلت دیتا ہوں اور اما ن دیتا ہوں،(۳۱) اسلا م نے جہاں ایسی کھلی و معقو ل دعو ت دی ہے وہاں یہ وا رننگ بھی دی ہے کہ جب تم اسلا م کی حقا نیت سے مطمئن ہو کر مسلما ن ہو گئے تو پھر اسلام سے دو با رہ منحرف نہیں ہو سکو گے، اسلا م کی یہ سختی مو جب بنے گی کہ لوگ دین کو صرف سا دہ اور تکلیفا تی امرنہ سمجھیں بلکہ اس کی قبو لیت و انتخاب میں خو ب غو ر و فکر کریں، اس سے خو د غر ضوں اور موقع پرستوں پرلاکھوں مسلمانو ں کو اپنی خو اہشا ت کامجموعہ اورکھلوناقراردینے کا راستہ بھی بند ہو جا ئے گا اور وہ سلام کو لوگو ں کی نظروں میں بے اعتبا ر بھی نہیں کر سکیں گے یادوسرے لفظوں میں مذہبی آزاد ی اور صحیح و سا لم مذ ہبی فضا سے منا سب استفا دے کا مو قع فر اہم ہو جا ئے گا ۔

(حوالہ جات)

(۱)راغب اصفہا نی ، المفر دات فی غریب القرآن ص/ ۱۹۲، ۱۹۳
(۱) عہد قدیم ، سفر توریہ مثنی فصل ۱۳ ، عہد جدید نا نمہ بہ مسیحیا ن یہو دی نژاد عبر ائیان بند ۱۰ ص ۲۶ ۔ ۳۲
(۳) آلعمرا ن / ۱۹
(۴) ابو علی مہبر س ، تفسیر مجمع البیا ن ج ۱،۲/ص ۱۲۸
(۵) تفسیر المنا ر ج ۶ /ص ۴۱۶
(۶) بعض فقہا جیسے شہید ثانی مسالک الافہا م ارتداد فطری کے لئے بلو غ کے بعد حکمی اسلام کو کا فی سمجھتے ہیں،حکمی اسلام کا مطلب یہ ہے کہ با لغ بچہ اسلام وکفر میں اپنے والدین کے تابع ہے اگر والدین میں سے کو ئی ایک مسلما ن ہو تو ہو بچہ حکم مسلم میں ہوگا ۔لیکن اکثر فقہا ء اس نظریے کہ مخا لف ہیں اورحکمی اسلام کو ارتد اد فطری کے حکم کو جا ری کر نے کے لئے کا فی نہیں سمجھتے ہیں ،مزید تفصیلا ت کے لئے دیکھیں الف : محمد حسن نجفی ، جوا ہر الکلا م ، ۴۱ ۔ /ص ۶۲ ۔ ب امام خمینی ؒ تحریر الوسیلہ ج ۲ / ص ۴۹۸ پ ۔ عبد الکریم ۔ موسو ی ارد بیلی ، فقہ الحدوودالتغریرا ت /ص ۸۶۳
(۷)امام خمینی ؒ تحریر الوسیلہ ج ۱ / ص ۴۹۹
(۸) سید ابو القا سم خوئی ، مبا نی تکملۃ المنہاج ا /ص ۳۲۵
(۹) امام خمینی ؒ تحریر الوسیلہ ج ۲ / ص ۶۲۴ محمد حسین نجفی جو اہر الکلام ج ۴۱ / ص ۶۰۵۔ ۶۱۶
(۱۰) عبد الکریم موسوی ارد بیلی فقہ الحدود والتغزیرا ت /ص۸۳۶، ابن قدا مہ، المغنی ج۱۰ /ص ۶۴
(۱۱۔۱۲) فقہ الحدودد والتغریرات /ص ۸۵۹
(۱۳) جیسے سو رہ بقرہ / ۲۱۷ آلعمرا ن / ۷۲
(۱۴) آل عمرا ن / ۷۲، بقرہ / ۱۰۹
(۱۵) سورہ محمد /۲۵۔۳۰
(۱۶) محمد تقی مصبا ح ، یزدی ، جز و ہ دین وآزا دی
(۱۷) محمد صالح ولیدی حقوق جز ای عمو می/ص ۳۲۳
(۱۸) قا نو نی اما رہ میں خلا ف اما رہ کا اثبات ممکن ہو تا ہے اس صورت میں اثر رفع ہو جا ئے گا لیکن اگر قا نو ن بنا نے والا کسی چیز کو فر ض قانوں کے طور پر لحا ظ کرے تو اس کے برخلا ف اثبا ت کی صورت میں اس کے حقو قی اثرا ت بھی مر تفع ہو جا ئیں گے ۔ دیکھیں ، عبد الر زا ق ، سنہو ری الواسطہ ج ۱ ، نیز اثبا ت دعوی لی کتا بیں دیکھیں
19)The will of people shall be the basis of the a uthority if govornment (Art.21/3/ universal Dec. of human Rights.)
(20)Altman Andrew; Arguing about law, An Itroduction to legal philosphy U.S.A; Wadsworth Publishing company 1996,p146.
(۲۱) ما دہ ۱۸ اعلا میہ جہا نی حقو ق بشر
(۲۲) ہفتہ نا مہ پر تو ، سخزانی آیۃ اللہ مصبا ح یز دی تا ریخ
(۲۳) مزید تفصیلا ت کیلئے دیکھیں ۔ محمد حسن قدر دان ۔ کلا م فلسفی /ص ۵۱۴ ۔ ۵۱۳
(۲۴) دیکھیں عیسی ۔ ولایتی ۔ ارتداد / ص ۲۰۵
(۲۵) دیکھیں عیسی ۔ ولایتی ۔ ارتداد/ص ۲۴۸
(۲۶) مجمع البیا ن فی تفسیر القرآن ج ۲ ذیل آیت مذکو رہ / ص۷۷۴
(۲۷) آزادی ِ از نظر ِ اسلام و غرب آیۃ اللہ سید علی خامنہ ای
(۲۸) دینداری و آزادی ،ص۱۳۵، مہدی بزرگان
(۲۹)سورہ محمد /۲۵۔ ۲۶
(۳۰)عبد القا در عودہ ، الشریع الجنا ئی الاسلامی ج ۱ /۵۳۶، ۶۳۱نیز عیسی ولا یتی ، ارتدا د /ص ۲۵۲
(۳۱)اس الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ،ج۳، ص۲۲،(مصر : داراالشعب)