تقلیدکی معقو لیت

سوال ۲۰:تقلیدکا مطلب بغیردلیل کے قو ل مجتہد کو قبو ل کر نا ہے جب کہ عقل انسا نی بغیر دلیل کے کو ئی چیز قبو ل نہیں کر تی، لہٰذا احکا م ِشر عی کو بھی عقل و منطق کی بنیا د پر انجا م دینا چاہیے ؟
درست ہے انسا نی عقل کو ئی چیز بغیردلیل کے قبو ل نہیں کر تی لیکن دینی احکا م میں جس تقلید کی ہم با ت کر رہے ہیں اس کا مطلب بغیر دلیل کے ما ننا نہیں ہے مثلا ً مجتہد وجوب خمس کا فتو ی دیتا ہے اور اس کی دلیل سورہ انفا ل کی آیت نمبر ۴۱ اور وایا ت بھی ہیں جو اس با رے وارد ہیں، اس کامقلد یہ فتویٰ ہر گز بغیر دلیل کے نہیں ما نتا کیو نکہ وہ یہ با ت جا نتا ہے کہ خدا وند عالم نے انسا ن پر کچھ تکا لیف معّین فر ما ئی ہیں، یعنی اس پر بعض کا م واجب یا حرا م کئے ہیں اور وہ احتما ل دیتا ہے کہ ان احکا م میں سے ایک وجو ب خمس ہو، احکا م کے بارے میں اس کا یہی اجمالی علم اسے احکا م کے مقا بل ذمہ دا ر بنا دیتا ہے اور اس پر ان احکا م کی معرفت لا ز م ہو جا تی ہے، اب اسے جا ننا ہو گا کہ آیا خمس واجب ہے یا نہیں ؟اگر واجب ہے تو کن شر ائط کے ساتھ ؟ ان احکا م کو قرآن ، سنت اجما ع اور عقل سے جاننے کے لئے بہت سے مقد ما ت اور بہت سے علو م کی معرفت ضروری ہے اور وہ خود تو ان علوم کا ما ہر نہیں ہے ،اب اس کے پا س احکا م کی معرفت کا دوسرا طریقہ ہو نا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ ان علو م کے ماہرین کی طرف رجو ع کرے، اس بنیا د پر وہ دلیل کے ساتھ مجتہد کے فتوی پر عمل کر تا ہے جیسا کہ ڈاکٹر شر یعتی لکھتے ہیں:
تقلید نہ صرف یہ کہ عقل کے ساتھ کو ئی منا فا ت نہیں رکھتی بلکہ بنیا دی طور پر یہ عقل کا ہی کا م ہے کہ وہ حکم دے اور نہ جاننے والا جاننے والے کی تقلید کرے،عقل کا لازمہ یہ ہے کہ یہا ں اپنی نفی کر تے ہو ئے عالم عقل کی پیر وی کر ے ،عقل مند بیما ر وہ ہے جو ما ہر ڈاکٹر کے سامنے اپنی عقل مندی کامظاہر ہ نہ کر ے ،کیو نکہ یہا ں ایسی حر کت بے وقوفی شما ر ہو گی ،یہا ں عقل مند ی کا تقاضا تقلید کر نا اور دوسرے کی با ت ما ننا ہے، جو معا شر ہ جتنا زیا دہ تر قی یا فتہ ہو گا اس میں تقلید و مہارت کا مسئلہ اتنا ہی منظم و مر تب ہو گا۔(۱)
اس مسئلہ کی مزید وضا حت کے لئے ذیل کے دو نکا ت پر تو جہ بہت ضروری ہے۔
۱۔ یہ جو کہ کہا جا تا ہے کہ عقل بغیردلیل کے کوئی با ت قبو ل نہیں کرتی ،بالکل صحیح ہے، لیکن دلیل پذیر ہو نے کی مکمل وضا حت ہو نی چاہیے اور جو دلیل عقل کے لئے قا بل ِ قبو ل ہو اس کی دو قسمیں ہیں ۔
۱۔مستقیم دلیل
مستقیم دلیل یا بلا وسطہ دلیل کا یہا ں مطلب یہ ہے کہ عقل کسی دوسرے کے نظریے پراعتما د کئے بغیر خود تحقیق و جستجو کے ذریعے حقیقت تک پہنچ جا ئے، جیسا کہ ڈاکٹر بیما ر کے معائنے کے بعد اس کی بیماری اور دوا کو تجویزکرنا ہے ۔
۲۔غیرمستقیم دلیل
اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے فر د کے قول پر اعتما د کیا جائے جو عقل و عقلا ء کی نظرمیں قابل ِو ثوق و اعتما د ہو ۔
تما م لو گ جن امور میں ما ہر و صا حب نظر نہیں ہو تے وہ ان امور کے ما ہرین کی طرف رجو ع اور ان پر اعتما د کو کم از کم عملی معا ملا ت میں ایک معقول امر شمار کر تے ہیں اور اس کی بنیاد پر عمل کرتے ہیں اور خود اس موضوع پر بلاواسطہ استدلال کے پیچھے نہیں جا تے، پس معلو م ہو گیا کہ عقل امو ر میں ان کے ما ہرین کے مشو رے پر عمل کر نے کو ایک معقول طریقہ شما ر کر تی ہے ۔
۲۔ ویسے تو تقلید کی کئی اقسام ہیں لیکن بطور کلی اسے دو اقسام معقول اورنا معقول میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔معقول تقلید
ایسی تقلید کہ جس میں ایک غیرما ہر کسی ما ہر کی تقلید کر ے یعنی ایسے شخص کی تقلید کرے جو تما م ضروری اور قابل اعتما د مہا رتوں کا حا مل ہو، یہ درحقیقت علم و دانش اور دوسرے کی واقفیت سے استفادہ و پیر وی ہے۔
۲۔مخالف ِ عقل تقلید
ایسے شخص کی تقلید ہے کہ جس میںمتعلقہ موضوع کے بارے ضروری مہارت و صلا حیت یااخلاق موجود نہ ہو،قرآنِ کریم نے مختلف موا رد میں ایسی تقلید سے منع فرمایا ہے، جیسے جاہلانہ اطوارکی اندھی تقلید یا یہو دیو ں کا اپنے تحریف کرنے والے رہنماؤں کی تقلید کر نا با وجود اس کے کہ وہ ان کی رو ش کے غیر صحیح ہو نے کو جا نتے ہیں، اس کے مقابل قرآن مجید نے نیک عقل مند اور صحیح علماء کی تقلید کا حکم دیا ہے ۔

(حوالہ )
(۱) علی شر یعتی ۔ انتظا ر مذہب اعتراض /ص۱۳