تقلید کی ضرورت

سوا ل ۱۹:تقلید کا مطلب ہے ،جا ہل کا عا لم کی طرف رجو ع کر نا ، چونکہ مجتہد حضرات عا م لوگوں کو جا ہل وا َن پڑھ سمجھتے ہیں اس لئے وہ تقلید کو لو گوں پر واجب قرا ر دیتے ہیں، اب جو لوگ پڑھے لکھے ہیں وہ اسی وجہ سے تقلید سے رو گر دان ہیں اور وہ کہتے ہیں اسلام ایک فطر ی دین ہے اور فطری چیز میں سب بر ابر ہو تے ہیں نہ کہ بعض کے سا تھ خا ص ہو لہٰذا مجتہد کی طرف رجوع کرنے کی کیا ضرور ت ہے ؟

تقلید اور جاہل کا عالم کی طرف رجوع کرنا
پہلا : تقلید کا معنی جا ہل کا عا لم کی طر ف رجو ع کر نا ہو تو اس سے مکلف کے لئے کو ئی منفی عنو ان پیش نہیں آتا، اس لئے کہ یہا ں جا ہل کے معنی ان پڑھ کے نہیں ہیں بلکہ جا ہل صرف شر عی احکام کی نسبت سے ہے، جا ہل نسبی یعنی وہ شخص جو شر عی احکا م میں مجتہد نہیں ہے ،اگر چہ کسی دوسر ی فیلڈ میں وہ ما ہر و متخصص ہو بلکہ اگر وہ فقہی مسا ئل کا فی حد تک جا نتا ہو تب بھی یہ عنو ان اس پر صاد ق آتا ہے اورخودمجتہددوسرے امور میںا ن کے ما ہر ین کی طرف رجو ع کر تاہے توا سے بھی ازبا ب ِرجوع جاہل الی العالم شما ر کیا جاتا ہے، امام خمینی ؒ کے معا لج ڈاکٹر کے یہ کلما ت تو بہت مشہو ر ہیں کہ میں نے اپنے معالج کے حکم کی پیر وی کر نے میں اما م خمینی ؒ سے بڑ ھ کر کسی کو نہیں پا یا ۔
دوسرا : لوگ اپنے روزمرہ کے جن کا مو ں میں مہا ر ت نہیں رکھتے ان میں اس کے ماہرین اور اہل خبرہ کی طرف رجو ع کر تے ہیں، ڈاکٹر اپنی گا ڑی ٹھیک کر وانے کے لئے اس کے ماہر مستری کی طرف رجوع کر تاہے ،ایک انجینئرعلا ج کے لئے ڈاکٹرکی طرف رجوع کر تا ہے اور ان میں سے کوئی بھی اس کام کے نہ جا ننے کو اپنے لئے تو ہین شمار نہیں کر تا کیو نکہ ہر شعبے میں ا س کے ما ہر کی طرف رجو ع کر نے کا مطلب یہ ہے کہ ما ہرین کے علم و دانش سے استفا دہ کیا جا ئے ،آج کے دور میں ایک شخص کے لئے تما م شعبو ں میں مہا ر ت حاصل کرنا نہ صرف نا ممکن کا م ہے بلکہ غیرضروری بھی ہے آج کے دور میں حتیٰ اکثر علما ء ، شر عی مسائل میں تقلید کرتے ہیں یاتواس لئے کہ وہ اجتہا د کے مرتبے تک نہیں پہنچے یا دوسرے اسلامی علو م میں مہا ر ت و تخصیص حا صل کر نے کی وجہ سے فقہی مسا ئل میں مہا رت حا صل نہیں کر سکے۔
تیسرا :یہ کہ جو آپ نے کہا کہ مجتہد ین نے تقلید کو لوگوں پر واجب قرا ر دیا ہے ،دو لحا ظ سے غلط اور با طل ہے۔
۱۔ تقلید کا ضرور ی ہو نا عقلی مسئلہ ہے اور ہر عقل مند ا س کی ضرورت کو سمجھ سکتا ہے، لہٰذا خود تقلید کا وجوب تقلید ی امر نہیں ہے، ہاں تقلید سے مر بو ط دوسر ے مسا ئل جیسے میت کی تقلید پر با قی رہ سکتے ہیں یانہیں ؟یااسی جیسے دوسرے مسا ئل یہ تقلید ی امورہیں ،لہٰذا مکلف جب تقلید کے وجوب یا جوازکوپا لیتا ہے اور ایک مجتہد کی تقلید کر لیتا ہے ،تو اس کے لئے اس مجتہد کے فتا وی حجت و معتبر ہو جاتے ہیں۔
۲۔ آیات و رو ایات سے بھی تقلید کی ضرور ت ثابت ہو تی ہے یعنی علم کی پیروی کا حکم قرآن و روایات میں بھی دیا گیا ہے، قرآن میں ارشا دہوتاہے:
فَاسْأَلُواْ أَہْلَ الذِّکْرِإِن کُنتُمْ لاَ تَعْلَمُون (ا)
اگرتم نہیں جانتے ہو توا ہل علم و دانش سے سوال کرو۔
امام صادقؑ نے فرمایا:
وامّا من کان من الفقہاصائنا لنفسہ حافظا لدینہ مخالفاًلھواہ مطیعاًلامر مولاہ فللعو ام ان یقلد وہ(۲)
جو فقیہ بھی اپنے آپ کو گناہ سے بچا نے والا ہو، اپنے دین کا محا فظ ہو ، اپنی خواہشا ت کا مخالف ہواوراپنے مولا کے حکم کا مطیع و فرمانبردارہوتوعوام پر اس کی تقلید کر نا ضروری ہے ۔
اس طرح کی باتیںکہ علما ء دین لوگو ں کو جا ہل و اَن پڑھ سمجھتے ہیں یہ وہ غلط پر و پیگنڈا ہے جو علماء کے مخا لف اس لئے کر تے ہیں تا کہ لوگو ں اور علما ء کے درمیا ن فاصلہ پیداکر سکیں۔(۳)

تقلید اور دین کا فطری ہونا
دین کا فطری ہونا اس با ت سے کو ئی منا فات نہیں رکھتا کہ ہر شعبے میں اس کے ما ہر کی طرف رجو ع کر نا ضرو ری ہے ،اسی طرح احکام شر عی کا استنبا ط بھی ہے ،جو شخص دینی مسا ئل میں ماہر نہ ہو اس کا دینی مسا ئل کے ما ہرین کی طرف رجوع کرنادین کے فطر ی ہونے سے کو ئی منافات نہیں رکھتا کیونکہ اول تو یہ کہ دین کے فطری ہو نے کی مختلف اقسا م ہیں ،دوسرایہ کہ فطری ہونے کا عا م معنی یہ ہے کہ دین کے اصول و کلیا ت فطری ہیں نہ کہ اس کے تما م مسا ئل حتیٰ کہ جزئیا ت بھی فطری ہیں ،تیسرایہ کہ فطر ی ہو نے کا قطعاً مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اپنے تما م پہلو ؤں میں کسی ما ہرومتخصص کی ضرور ت نہیں ہے کیو نکہ دین کا فطری ہو نا مختلف مو ار د میں مختلف معا نی دیتا ہے مثلاً!
۱۔ بعض موا ر د میں دین کے فطر ی ہو نے کا مطلب دینی اعتقا د و دینی میلان ہے، اسے مذہبی احساس بھی کہا جا تا ہے، (۴)یہا ںدین کے فطری ہو نے کامطلب یہ ہو گا کہ سب لو گوں میں ذا تی طور پر دین کی کشش و میلان پایا جا تا ہے، اس نظرئیے کے مطا بق دین یا خا ص ما حو ل ومعا شرے سے متا ثر ہو کر دینی میلا ن پیدا ہوتا ہے، اب فطری ہو نے کا یہ معنی ملاحظہ کریں اس کا احکا م دین کے تقلید ی ہو نے سے کو ئی ربط نہیں ہے ،نہ اس کے مو افق ہے نہ مخا لف کیو نکہ دونوںبالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں،ذاتی میلان ایک تکوینی وغیر اختیاری امرہے جب کہ تقلیدانسان کا اختیاری عمل ہے اسی وجہ سے مہارت تخصّص کی شکل میں وا قع ہو سکتی ہے ۔
۲۔ کبھی فطری ہو نا عقا ئد جیسے معر فت ِ خدامیں استعما ل کیا جا تا ہے اور اس استعما ل میں فطری ہونامختلف معا نی پر حملہ کیا گیا ہے۔
۱۔ خدا کا وجود اولی و یقینی بد یہیات میں سے ہے اور دلیل کا محتا ج نہیں ہے۔
۲۔ خدا کا وجود منطقی فطریا ت میںسے ہے کہ یہ بد یہیا ت میں سے ہے اس کی دلیل ہمیشہ ان کے سا تھ ذہن میں موجو د ہو تی ہے۔
۳۔ وجودِ خدا کے با رے میںانسا ن کا علم حضوری اور بلا واسطہ ہے یعنی صورتِ ذہنی بیچ میں واسطہ نہیں ہو تی ۔
۴۔ انسان نے عالم ذر میں خدا وند عالم کی اس کی جلا لی وجما لی صفات کے مشا ہدے کے ساتھ خدا ئی کا اقرا ر کیا۔(۵)
۵۔ انسان وجو د خدا کے با رے میںوجد انی علم رکھتا ہے۔ (۶)
۶۔ خد ا وند کا وجود بنیا دی عقید ہ ہے۔ (۷)
۷۔ انسا ن خدا شنا س ہو نے کے علا وہ خدا جو اور خدا کوچا ہنے والا خلق ہو ا ہے، یہ معنی وہی ہیں جو فطرت کے پہلے معنی کے طور پر بیا ن ہو چکے ہیں یعنی انسا ن میں مذہبی احسا س کا ہو نا، البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ خدا کے با رے میں علم یا میلان کا فطری ہونایعنی خدا کی معرفت کے بارے میں دوسرے دقیق اور علمی مباحث سے مستغنی نہیں کر تا اور اس پر متعدد دلیلیں مو جو دہیں جیسے غفلت یا شبہات یا اوصاف و افعا ل خدا کے بعض مشکل و پیچیدہ مباحث۔(۸)
یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے دا نش وروں ، مفّکر وں ، فلسفیوں اور علم ِ کلا م والوں نے کلا می مباحث کی گتھیاں سلجھانے کے لئے بڑی دقیق بحثیں کرتے ہوئے علم ومعرفت کے عظیم خزانے یادگا ر چھوڑے ہیںاور دینی نصو ص بھی ایسے عمیق مطا لب و معا رف سے بھر ی پڑی ہیں کہ جنھیں عالمانہ و محققانہ دقتوں کے بغیر سمجھنا نا ممکن ہے ، ان دقیق معا رف کے نمو نے قرآن کریم ، نہج البلا غہ اور صحیفہ سجا دیہ کے تو حید ، صفات ِخدا اور قضا ء و قدر کے مبا حث میں جا بجا ملتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن ِ کریم کی آیات میں غور وفکر(۹)دانش وروں سے سوال وجواب(۱۰)اور دین کے بارے میں چندافرادکی تفقہ حا صل کرکے لوگوں کو اس کی تعلیم دینے پر بہت زور دیتا ہے۔(۱۱)
۳۔ فطری ہو نا کبھی اخلا قی اقدار اور عملی مسا ئل جیسے اخلا قیا ت و فقہی احکا م میں استعما ل کیا جاتاہے ،یہا ں فطری ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اخلا قی اقدا ر اور فقہی احکا م کا کما ل و فضیلت اور خیر کی طلب انسا نی فطرت کے سا تھ مکمل ہم آہنگی اورمو افقت رکھتے ہیں یعنی شر یعت انسا ن کی حقیقی ضروریا ت کے موافق ہے یایوں کہہ لیں کہ یہا ں فطری ہو نے کا معنی نظام ِتشر یع کا نظام تکوین اور غر ض خلقت ِ انسا ن سے مو افق و ہم آہنگ ہو نا ہے، لیکن اس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ ان احکا م شر یعت کو کسی مہارت کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ان میں تقلید کی ضرورت نہیں ہے۔ کیو نکہ:
پہلا :یہ کہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض قطعی نصوص جن کی دلا لت واضح و رو شن ہے کے علا وہ دینی ا حکا م کی اکثر جز ئیا ت استنبا ط واجتہا د کے پیچید ہ طریقہ کا ر اور فہم دین کے مخصوص طریقہ کا رجو کہ ما ہرین کے علاوہ کسی سے امکا ن پذیر نہیں ہے ،کے بغیر قابل ِدسترس نہیں ہیں ۔
دوسرا :یہ کہ قرآن و دین کے حکم کے مطا بق معا شرے کے بعض چیدہ افراد کے لئے دین کے عمیق فہم یعنی دین میں تفقہ کو ضرور ی سمجھاگیا ہے تا کہ اس کے بعد دوسر وں کو اس کی تعلیم دینی اور دینی معا رف و قو انین میںلوگوں کی عملی و علمی رہبریت و مر جعیت کی ذمہ دار ی سنبھا لیں ،آیات کے علا وہ مختلف روایا ت میں علما ء دین پرتفقہ اور دوسروں کو ان کی پیروی کا حکم دیاگیاہے ، جیسا کہ امام زمانہ(عج )نے ایک تو قیع مبا رک میں اسحا ق بن یعقو ب کلینی کو حکم دیا :
وامّامن کا ن من الفقہا ء صا ئنا لنفسہ حا فظا لدینہ مخالفاً لھو اہ مطیعا ً الامر مو لا ہ فللعو ام ان یقلدوہ(۱۲)
اور فقہا میں سے جو اپنے نفس کو گناہ سے دوررکھنے والے،دین کی حفاظت کرنے والے،اپنی خواہشات کی مخالفت کرنے والے اور اپنے مولا و آقا کی اطاعت کرنے والے ہیں ،عوام پر ان کی تقلید کرنے لازم و ضروری ہے۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ نحل آیت ۴۲
(۲) وسا ئل الشیعہ ج ۲۷/ص ۱۳۱
(۳) مزید تفصیلا ت کے لئے دیکھیں محمد تقی مصبا ح یزدی ، نقش تقلید در زند گی
(۴) جعفر سبحانی ، مدخل مسا ئل جدید در علم کلا م
(۵) مزید معلو مات کے لئے دیکھیں : محمد سعید ی مہر، آمو زش کلا م اسلامی ج۱ /ص ۳۰ ۔ ۳۴،
(۶) وجدا نی علم یا وجدا نیا ت سے مرا د وہ قضا یا ہیں جو علم حضوری کے انعکا س سے ذہن میں حاصل ہو تے ہیں دوسرے لفظوں میںوجدانیات یعنی یہ عقید ہ کہ خدا وجود رکھتا ہے اگر چہ اس لحا ظ سے دیکھیں کہ یہ قضیہ ہے اورقضیہ جن مفا ہیم سے تشکیل پا تا ہے وہ حصو لی ہو تے ہیں لیکن اس عقید ہ کی پہلی بنیا د خدا کے با رے انسا ن کا علم حضور ی ہی بنتا ہے ۔اس علم حضور ی کے بعد مفہو م سا زی اور تشکیل قضیہ کاعمل انجا م پا تا ہے نیز دیکھیں محمد حسین زادہ ،معرفت شنا سی
(۷) الوین پلا نٹنجا ، ایما ن و عقلا نیت ۔ ترجمہ بہنا ز صغری
(۸) اصول فلسفہ و روش ریا لسیم ج۵ / ص ۶۸۶۸، جعفر سبحا نی مد خل جدید در علم کلا م /ص ۱۷۶ تا ۱۹۹
(۹) نسا ء آیت۸۲، محمدآیت ۲۴ ، ص آیت ۲۶
(۱۰) نمل آیت۴۳
(۱۱) سورہ توبہ /آیت ۱۲۲
(۱۲) وسا ئل الشیعہ ج ۲۷ / ص ۱۳۱