قضا و قدر

سوال ۷۸:۔کائنات پر حاکم نظام قضا و قدر اور جبر و اختیار کی وضاحت کریں؟
توحیدی نکتہ نظر سے جہان پر حاکم نظام یہ ہے کہ ایک لامحدود حقیقت جو کہ وجودِ محض، عینِ علم، حیات و ارادہ ہے اور وہ خدا ہے، اس نے خود جہان کو وجود عطا کیا ہے اور نظم و تدبیر کے ساتھ اسے چلا رہا ہے، قرآنِ کریم کائنات پر حاکم اس عمومی نظم کو اس طرح یاد کرتا ہے:۔
وَہُوَ الَّذِیْ فِیْ السَّمَاء إِلَہٌ وَفِیْ الْأَرْضِ إِلَہٌ (۱)
خدا وہ لامحدود حقیقت ہے جو آسمانوں اور زمین پر حاکم ہے
پھر فرمایا : فَأَیْْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْہُ اللّہِ (۲)
جس سمت رخ کرو گے آثار وجود خدا کو پائو گے
جس موجود کو دیکھو گے وہ تمہیں خدا کی طرف رہنمائی کرے گا، کیونکہ تم جس چیز کو دیکھو خواہ وہ زمینی ہو یا آسمانی، انسانی یا غیر انسانی وہ خود بخود قائم نہیں، اس کا وجود خدا کے وجودسے وابستہ ہے، حضرت امیر المومنین – کا نہج البلاغہ میں نورانی بیان اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔
آپ- نے فرمایا:
کُلُّ قَائِمٍ فِی سِوَاہُ مَعْلُولٌ(۳)
جود وسرے کے سہارے پر قائم ہو وہ علت کا محتاج ہے۔
یعنی ہروہ موجودجو اپنے غیر سے وابستہ ہو وہ معلول ہے اور علت رکھتا ہے، آپ جس سمت بھی دیکھیں تو کسی چیز کو خود بخود قائم نہیں دیکھیں گے کیونکہ ایک مرحلہ میں وہ ہوتی ہے اور دوسرے مرحلہ میں نہیں ہوتی، پس جو چیز غیر کے ساتھ وابستہ ہے وہ غیرِ خدا ہے، لہٰذا قرآنِ کریم فرماتا ہے:
فَأَیْْنَمَا تُوَلُّواْ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہ(۴)
جس سمت رخ کرو گے آثار وجود خدا کو پائو گے۔
اب جبر، قضا و قدر یہ ہے کہ خداوندِمتعال نے کلی و جزئی قوانین کا ایک سلسلہ پیدا کیا ہے، وہ قوانین ِکلی بعنوانِ قضا اور موارد جزئی بعنوانِ قدر ہیں، مثلاً :
کُلُنَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْت(۵)
ہر شخص ( ایک نہ ایک دن ) موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔
یعنی ہر کسی کو مرنا ہے، موت سب کے لیے ہے اور کوئی بھی تا ابد زندہ نہیں رہے گا، یہ قضائے الٰہی ہے۔
یہ کلی قانون افراد کی نسبت مختلف انداز میں جاری ہوتا ہے، یعنی ہر ایک کے لیے ایک خاص اندازہ مد نظر رکھا جاتا ہے، اس کو قدر کہتے ہیں، قدر تغیر پذیر ہے لیکن قضا تغیر پذیر نہیں، یعنی یہ کہ سب کو مرنا ضروری ہے، (قضا) یہ ناقابلِ تغیر ہے، لیکن یہ کہ کس طرح مریں گے (قدر) تغیر پذیر ہے، کوئی بھی تاابد نہیں ہو گا، کیونکہ دنیا مسافر خانہ اور محدودہ حرکت ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک چیز کی حرکت دائمی ہو، وگرنہ ہدف تک نہیں پہنچ سکتی، دنیا چونکہ دارِ فعالیت و حرکت ہے، یقینا اسے ختم ہونا چاہیے تاکہ انسان اپنے ہدف کو پا سکے اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا دیکھ سکے، اس بنا پر سب کے لیے موت کا ہونا قضاء الٰہی اور ناقابلِ تغیر ہے لیکن یہ کہ ہر شخص کس طرح مرے گا، قدر تغیر پذیر ہے، یہ قضا و قدر کا اجمالی خاکہ ہے ۔
جبر و اختیار کے بارے میں بھی کہنا چاہیے، ایک قسم کا جبر مسئلہ علت، معلول میں درپیش آتا ہے اور ایک قسم کا جبر مسئلہ فعلِ انسان و آزادی انسان ہیں، وہ جبر جو مسئلہ علت و معلول میں سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کہتے ہیں:
اَلشَّیْ ئُ مٰالَمْ یَجِبْ لَمْ یُوجَدْ
یعنی کسی چیز کا وجود جب تک سو فی صد ضروری نہیں ہوتا، پیدا نہیں ہوتی اس کو جبر عِلّی کہتے ہیں۔
معلول علت کے سامنے مجبور ہوتا ہے اور علت جابر ہوتی ہے، یعنی اگر علت سو فیصد کی حد تک نہیں پہنچتی تو ہر گز معلول وجود میں نہیں آ سکتا اور اگر سو فی صد کے نصاب تک پہنچ جائے تو معلول کا وجود ضروری و حتمی ہو جاتا ہے، یہ جبر عِلّی ہے، جبر عِلّی جبر و اختیار اورتفویض کی بحث میں پیش نہیں آتا، لیکن وہ جبر جو مسئلہ آزادی و فعل انسانی میں درپیش ہے، یہ ہے کہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ انسان اپنے افعال میں مجبورِ محض ہے، یعنی کوئی اور فعل کا فاعل ہے اور انسان اس کا آلہ اور اس کے حکم کا غلام ہے، اس کے مقابلہ میں کچھ لوگ کہتے ہیں کیونکہ انبیاء تشریف لائے ہیں اس لئے جزاء وسزا وانجام بر حق ہے، جنت و جہنم حق ہے، مدح و مذمت حق ہے، پس معلوم ہوتا ہے کہ انسان آزاد ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی لامحدود قدرت کو مد نظر رکھا انہوں نے کہا انسان مجبور ہے اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی جزاء، جنت و جہنم کو مدِ نظر رکھا انہوں نے کہا انسان آزاد و مفوض ہے، یعنی انسان کی آزادی بمعنی تفویض ہے، خدا نے انسان کے تمام کاموں کو اس کے سپرد کر دیا ہے اور اب اس سے اس کا کوئی تعلق نہیں، فقط روزِ قیامت میں اس کا محاکمہ و محاسبہ کرے گا، یہ معنی مختصر توضیح کے ساتھ معتزلہ کی طرف اور معنی اوّل اشاعرہ کی طرف نسبت دیا گیا ہے، لیکن حکمائے الٰہی ایک طرف سے عقل کی رہنمائی اور دوسری طرف سے روایات اہلِ بیت ؑ سے مدد حاصل کرتے ہوئے کہ جنہوں نے فرمایا:
لاٰجَبْرَ وَلاٰ تَفْویض بَلْ اَمْرَبَیْنَ اَمْرَیْن(۶)
نہ انسان مجبور ہے کہ آلہ کار ہو اور خود کوئی اختیار نہ رکھتا ہو اور نہ مستقل ہے کہ خداوندِمتعال نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہو، کیونکہ انسان، عقل و نقل اور قرآن کریم کے محضرمیں ایک کمزور اور محتاج موجود ہے، فقیر ہے جو اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، خداوندِمتعال جب انسان کا ذکر کرتا ہے تو فرماتا ہے:
یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَی اللَّہِ (۷)
لوگوں تم سب کے سب خدا کے(ہر وقت) محتاج ہو۔
تم سب اللہ کے مقابلہ میں فقیر ہو،
فقیر کا معنی یہ نہیں کہ جو کچھ نہ رکھتا ہو، فقیر اسے نہیں کہتے جو مالدار نہ ہو، وہ شخص جو مالدار نہیں وہ فاقد مال ہے، بلکہ فقیر اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کی کمر کے ستون ٹوٹے ہوئے ہوں اور کھڑے ہونے کی قدرت نہ رکھتا ہو، فقیر کا اصلی معنی یہ ہے کہ ذاتِ مقدس الٰہی کی درگاہ میں انسان کی کمر کے مہرے ٹوٹے ہوئے ہیں اگر کوئی نہ ہو جو اس کا ہاتھ تھامے تو وہ ہر گز کھڑے ہونے کی قدرت نہیں رکھتا۔
یہ جو ہم نماز میں کہتے ہیں:
بِحَوْلِ اللّٰہ تَعٰالیٰ وَقُوَّتِہِ اَقُومُ وَاَقْعُدُ
یہ ایک بنیادی عقیدہ ہے جو نماز میں ذکر کی صورت میں ہم زبان پر لاتے ہیں، یہ عقیدہ صرف نماز کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہماری زندگی کی تمام اقسام میں جاری ہے، فقط نماز میں نہیں کہتےإِیَّاکَ نَعْبُدُ وإِیَّاکَ نَسْتَعِیْن یعنی تجھ سے مدد حاصل کرتے ہیں فقط نماز میں بلکہ إِیَّاکَ نَعْبُد تمام امور میں، وإِیَّاکَ نَسْتَعِیْن تمام امور میں، نماز کے تمام جملات اسی طرح ہیں، نماز ہماری زندگی کی تمام خصوصیات میں پروگرام منظم کرنے کے لیے ہے۔
یہ جو اٹھتے وقت کہتے ہیں، بِحَوْلِ اللّٰہ تَعٰالیٰ وَقُوَّتِہِ اَقُومُ وَاَقْعُد اس کا معنی یہ ہے کہ میرے تمام امور نماز، غیرِ نماز نشست و برخاست سب خدا کی قوت و قدرت سے ہیں، جس مجاہدوجانبازکا میدانِ جنگ میں حرام مغز قطع ہو گیا ہو یا اسکی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو، جب تک کوئی اس کا ہاتھ نہ تھامے تووہ اٹھ نہیں سکتا، انسان خود کو درگاہِ الٰہی کے سامنے اس طرح دیکھتا ہے، کہتا ہے: اے خدا! نہ صرف میرا اٹھنا تیری قوت و طاقت سے ہے، حتیٰ کہ میرا بیٹھنا بھی تیری قوت سے ہے، جب انسان خود کو فقیر سمجھتا ہے یعنی خدا کے مقابلہ میں اپنی ریڑھ کی ہڈی کو ٹوٹے ہوئے دیکھتا ہے تو طغیان سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے اور عرض کرتا ہے خدایا! نہ تنہا میرا کھڑا ہونا اور بیٹھنا بلکہ میرا سونا، کھانا، لباس پہننا، ہاتھ میں قلم پکڑنا اور ہر چیز تیری مدد سے ہے، ہم نماز میں اس ذکر کو کہتے ہیں تو لازم ہے کہ نماز سے باہر بھی اسی ذکر کے ساتھ زندگی بسر کریں، اس بناپر تفویض (انسان کو آزاد چھوڑنا اور اسے خود اس کے سپرد کرنا) دو دلیلوں کی بناپرمحال ہے۔
دلیلِ اوّل:۔ خدا کی قدرت لا محدود ہے اور انسان کے تمام کاموں میں حضور وظہور رکھتی ہے۔
دلیلِ دوم:۔ انسان فقیر ہے اوریہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے کام کو خود اس کے سپرد کیا جائے، کیا جسکی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو اس معذور شخص سے کہا جا سکتا ہے کہ میں تمہارے کام کو تمہارے سپرد کرتا ہوں؟ وہ کھڑے ہونے کی قدرت نہیں رکھتا، جب تک کوئی اسے سہارا نہ دے وہ بیٹھ نہیں سکتا، پس تفویض اس معنی میں محال ہے، لیکن جبر کیوں محال ہے؟ اس بارے میں بہت زیادہ دلائل ذکر ہوئے ہیں، ایک طرف سے تمام انبیاء آئے ہیں اور انہوں نے فرمایا کہ اگر کوئی پاک ہو تو جنت اس کی جگہ ہے، تباہ کار ہو تو دوزخ اس کی جگہ ہے، یہ جزاو سزا عدلِ الٰہی کیساتھ مناسبت رکھتی ہے، اگر پرہیز گار اپنے پرہیز میں اور بدکار اپنی بدکاری میں مجبور ہے تو کیوں ایک کو دوزخ میںاور دوسرے کو جنت میں ڈالیں گے، پھر جنت و جہنم میں دخول اس صور ت میں بامعنی ہوگا کہ جب اختیارو انتخاب بھی انسان کے ہاتھ میں ہو۔
خداوندِسبحان جو کہ عادل محض ہے، قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَداً(۸)
اور تیرا پروردگار کسی پر (ذرا برابر) ظلم نہ کرے گا۔
تیرا خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا اور پھر فرمایا ہر شخص جو کام انجام دے گا، اگر ایک چھوٹے سے ذرہ کے برابر بھی ہو، وہ ہمارے حساب سے مخفی نہیں اور ہم سوئی برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتے، بہرحال جنت و جہنم کی تحقیق اس بات کو ثابت کرنے کا بہترین راستہ ہے کہ انسان مجبور نہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر ہم اپنے آپ کی طرف رجوع کریں تو ہم دیکھیںگے کہ ایک اہم کام کو انجام دینے کے لیے مدتوں فکر کرتے ہیں، مشورہ کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں کہ کیا یہ کام اچھا ہے یا برا؟ انجام دیں یا نہ دیں؟ انجام دینے کے دلائل اور ترک کرنے کے شو اہد کی جمع بندی کرتے ہیں کہ یہ کام انجام دیں یا نہیں؟ اگر اچھا نکل آیا تو خود ستائی کرتے ہیں اور دوسرے بھی ہماری تعریف کرتے ہیں اور اگر برا نکل آئے تو پشیمان ہوتے ہیں اور دوسروے بھی ہماری مذمت کرتے ہیں۔

ہماری ندامت اور دوسروں کی تقبیح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم مختار ہیں، یہ سب مقدمات یعنی فکر کرنا، مشورہ کرنا تحقیق اور دونوں اطراف کو ایک دوسرے کے مقابل قرار دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہم آزاد و خود مختار ہیں۔
اس جبر میں جو شبہات رکھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں: کیا خداوندِمتعال ازل میں جانتا تھا کہ فلاں شخص فلاں برائی کو انجام دے گا یا نہیں، فلاں شخص فلاں مقطع زمانی میں فلاں گناہ کی طرف دست دراز کرے گا یا نہیں؟ اگر خدا جانتا تھا تو اس شخص کے لیے لازم ہے کہ اس گناہ کو انجام دے، وگرنہ علمِ خدا جہالت میں تبدیل ہو گا۔
می خوردن من حق ز ازل می دانست
گر می نخورم علم خدا جھل بود
حکماء(خصوصاً محققِ طوسی) نے اس شبہ کا جو جواب دیا ہے وہ یہ ہے کہ:
۱۔ خدا ازل میں تمام اشیاء کا عالم ہے کیونکہ اس کا علم لا محدود ہے۔
۲ ۔ ان اشیاء کے تمام افعال و آثار کا بھی عالم ہے۔
۳ ۔ ان اشیاء کے فعل کے تمام مبادی، مبانی، علل اور دورو نزدیک کا بھی عالم ہے۔
مثلاً حق تعالیٰ ازل سے جانتا ہے کہ فلاں پہاڑ کے دامن میں فلاں خاک چند قرنوں کے بعد (لعل گرد در بدخشاں یا عقیق اندر یمن)کہاں پر لعل و جواہر میں او ر کہاںپر عقیق میںتبدیل ہو جائے گی۔
خدا اس کو جانتا تھا، حتیٰ کہ ان کے معدن میں تبدیل ہونے کی کیفیت کو بھی جانتا ہے کہ یہ خاک خاص جاذبہ اور خصوص استعداد کے نتیجے میں چند صدیاں گزرنے اور تابش و بارش کو دیکھنے سے جواہر میں تبدیل ہو جائے گی، (لعل گردو در بدخشانی یا عقیق اندریمن) یہ جمادات سے مربوط ہے۔
نباتات کے بارے میں بھی اس طرح کہ حق تعالیٰ ازل سے جانتا ہے کہ کئی صدیاں بعد فلاں حصہ میںنہر ایجاد ہو گی یا چشمہ پھوٹے گا اور فلاں بیج اس جگہ میں کاشت کیا جائے گا اور فلاں گھاس اُگے گی اور وہ درخت پھل دے گا اور دوسرا پھل نہیں دے گا، فلاں درخت کا پھل میٹھا اور دوسرے کا پھل تلخ ہو گا، ان سب باتوں کو حقِ تعالیٰ ازل سے جانتا تھا یا حیوانات کے بارے میں خداوندمتعال ازل سے جانتا ہے کہ فلاں حیوان، فلاں پہاڑ کے دامن میں متولد ہو گا، فلاں کھانے کھائے گا، فلاں چیز کو شکار کرے گا اور بالآخر خود فلاں شکاری کا شکار بن جائے گا، ان تمام باتوں کو خداوندمتعال جانتا ہے۔
چوتھے حصے میں انسان ہیں، حقِ تعالیٰ ازل سے جانتا ہے کہ فلاں زمانہ میں کون سی جمعیت زندگی بسر کرے گی؟ انسان دنیا میں آئیں گے، ایک تباہ کار ہو جائے گا اور ایک پرہیز گار ایک ہی گھر میں دو بھائی میں سے ایک حسن انتخاب کے نتیجے میں راہ خیر پر چلے گا اور دوسرا برے انتخاب کے نتیجے میں برے راستے پر چلے گا، درحالانکہ اچھا بد ہو سکتا تھا اور بد اچھا۔
خداوند ِمتعال ازل سے جانتا ہے، فلاں شخص میل و ارادہ سے نماز پڑھے گا اور فلاں شخص گناہ کرے گا اور فلاں تباہ کار خود پرہیز گار بن سکتا ہے لیکن اپنے ارادہ سے نہیں اور بالعکس، خداوندِمتعال ان افعال اور ان کے مبادی اور ان کے قابلِ تبدیل و تغیر ہونے اور شخص کے تبدیل نہ کرنے کو بھی جانتا تھا اور جانتا تھا کہ انسان ان کو تبدیل کر سکتا ہے۔
ایسا نہیں کہ جب انسان شراب پیتا ہے تو خدا جانتا ہے لیکن ان پہلے والے مبادی کو نہیں جانتا، آئمہ معصومین ؑ کے بیانات میں (یہ مضمون) آیا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
وَاعْلَمُوا عِبَادَ اللّٰہ اَنَّ عَلَیْکُمْ رَصَداً مِنْ اَنْفُسِکُم وَعُیوناً مِن جَوارِحِکُم(۱۰)
جو تمہارے اندر اور تمہاری طبیعت میں ہے وہ خدا کو معلوم ہے
وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ أَنفُسِکُمْ فَاحْذَرُوہُ۔(۱۱)
جو کچھ تمہارے دل میں ہے خدا اس کو ضرور جانتا ہے تو اسے سے ڈرتے رہو۔
یعنی جان لو کہ جو کچھ تمہاری فکر میں ہے خدا اسے بھی جانتا ہے، جب انسان برے کام کا ارادہ کرتا ہے لیکن دوست اسے نصیحت کرتا ہے کہ اس کام کا نتیجہ سقوط اور تباہی ہے، ایسا نہ کرو اور وہ انسان رک جاتا ہے، اس کو بھی خدا جانتا ہے۔
تباہ کارانسان کی مے نوشی کے تمام مبادی اور اس کی شروعات کویا پاک انسان کی غمگساری اور اس کی شروعات کے تمام مبادی کو خدا جانتا ہے، خلاصہ حق تعالیٰ ازل سے جانتا ہیکہ فلاں شخص شراب پئے گا، فلاں شخص شراب نہیں پی سکتا لیکن وہ اپنے ارادہ اور رغبت سے شراب خور بنتا ہے اور اس کا دوست، بھائی اور ساتھی جو شراب کو منہ نہیں لگاتا، وہ بھی شراب خور ہو سکتا ہے لیکن نہیں ہوا ہے، خدا ان سب کو جانتا ہے یہ کہ وہ اپنے ارادے کو تبدیل کر دے گا اسے بھی خدا جانتا ہے،لہٰذا انجام کار کا علم انسان کو مجبور نہیں کرتا اور عدم اختیار کی دلیل بھی نہیں۔

(حوالہ جات)
(۱) سورہ زخرف آیت ۸۴
(۲) سورہ بقرہ آیت۱۱۵
(۳) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۴
(۴) سورہ بقرہ۱۱۵
(۵)سورہ عنکبوت آیت ۵۸
(۶)اصول ِ کافی ج ۱،ص ۱۶۰
(۷) سورہ فاطر آیت ۱۵
(۹) سورہ کہف آیت ۴۹
(۱۰)۔بحارالانوار ج۵،ص ۲۳۴
(۱۱)سورہ بقرہ آیت ۲۳۵